رپورٹس کے مطابق خاتون کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ اصل تصویر بھی ان کی رضامندی کے بغیر لی گئی تھی
فرانس میں انتہا پسند جماعت نیشنل ریلی کے رکن پارلیمنٹ جولین اوڈول مسلم خاتون کی تصویر کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تبدیل کرنے پر شدید تنقید کی زد میں آگئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اصل تصویر میں ایک نوجوان مسلم خاتون حجاب اور لمبا گلابی لباس پہنے سڑک پار کرتے دکھائی دیتی ہیں۔ تصویر میں خاتون نے ہیڈ فون اور ایڈیڈاس کے جوتے بھی پہن رکھے ہیں۔
یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو فرانسیسی رکن پارلیمنٹ ایلی دیوارا نے اسے ’آزادی‘ کے کیپشن کے ساتھ شیئر کیا۔
LIBERTÉ FRANÇAISE ! https://t.co/M1qJmqQ8Yq pic.twitter.com/yh7OFG8Lpr .related-stories-inner .col-md-2 { width: 100%; max-width: 100%; flex: 0 0 100%; margin-bottom: 12px; } .related-stories h4{ font-size: 25px !important; } .related-stories-items { display: flex; align-items: center; gap: 10px; padding: 8px 0; } .related-str-bx img { width: 100px; height: auto; object-fit: cover; border-radius: 4px; } .related-stories-items p a { font-size: 23px !important; font-style: normal !important; } — Julien ODOUL (@JulienOdoul) September 5, 2026
LIBERTÉ FRANÇAISE ! https://t.co/M1qJmqQ8Yq pic.twitter.com/yh7OFG8Lpr
بعد ازاں جولین اوڈول نے اسی تصویر کا اے آئی سے تیار کردہ تبدیل شدہ ورژن شیئر کر دیا جس میں خاتون کا حجاب ڈیجیٹل طور پر ہٹا کر بال دکھائے گئے جبکہ ان کے طویل لباس کو بھی تبدیل کر کے سفید ٹینک ٹاپ اور پینٹ میں دکھایا گیا۔ اوڈول نے اس تصویر کے ساتھ ’فرانسیسی آزادی‘ لکھا۔
تصویر سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے فرانسیسی سیاستدان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کسی حقیقی خاتون کی ظاہری شکل اور لباس کو ان کی اجازت کے بغیر اے آئی سے تبدیل کرنے پر سوالات اٹھائے۔
رپورٹس کے مطابق خاتون کے اہلِ خانہ نے بتایا کہ اصل تصویر بھی ان کی رضامندی کے بغیر لی گئی تھی اور وہ اپنی شناخت پوشیدہ رکھنا چاہتی ہیں جس کے بعد متعلقہ فرانسیسی میڈیا ادارے نے تصویر اپنے پلیٹ فارمز سے ہٹا دی۔
View this post on Instagram
