سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل
چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل
دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا
’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)
کراچی : جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف خان پر تشدد کے مرکزی ملزم جی ڈی اے کے لیڈر کے بھائی علی گوہر شاہ کا بیٹا ہے، وہ کتنا ہی با اثرکیوں نہ ہو، گرفتاری ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں جامعہ کے پروفیسر عارف خان پر تشدد کے واقعے میں پولیس نے 5 سے 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا، تاہم واقعے کا مرکزی ملزم تاحال قانون کی گرفت میں نہیں آسکا۔
اس حوالے سے ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے کہا پروفیسر پر تشدد کے مرکزی ملزم کا تعلق جی ڈی اے رہنما کے خاندان سے ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ مقدمہ کا مرکزی ملزم جی ڈی اے کے لیڈر کے بھائی علی گوہرشاہ کا بیٹا ہے، وہ کتنا ہی با اثرکیوں نہ ہو، گرفتاری ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے میں استعمال ہونے والا ڈبل کیبن پولیس نے تحویل میں لے لیا ہے اور متعلقہ ہوٹل کو بھی سیل کردیا گیا ہے۔
سعدیہ جاوید نے ملزم کے اہلخانہ سے مطالبہ کیا کہ وہ سامنے آکر استاد سے معافی مانگیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ تشدد میں ملوث دو گارڈز گل شیر اور تاج محمد کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے اور ملازمین نے جس کی ایما پر پروفیسر پر تشدد کیا، اسے بھی جلد گرفتار کیا جائے گا۔
یاد رہے گزشتہ روز صفورہ چورنگی کے قریب ڈبل کیبن کے مالک نے مسلح گارڈز کے ہمراہ پروفیسر عارف خان اور ان کے بھتیجے کو مبینہ طور پر ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
واقعے کے بعد پروفیسر اور ان کے بھتیجے کو قریب واقع ملزم کے ملکیتی ریستوران میں مبینہ طور پر حبس میں بھی رکھا گیا تھا۔
