• ستمبر 7, 2026
  • Last Update ستمبر 7, 2026 4:06 شام
  • Australia

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)

دوست کو بائیک خرید کر دینے کیلیے لڑکی نے جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیا

2 چوہے سر عام لڑ پڑے (دلچسپ ویڈیو وائرل)

بھارت کی دہشت گرد تنظیم راشٹریہ سیوک سنگ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے دورۂ امریکا میں ہندوتوا کے ماننے والے بھارتی نژاد امریکیوں نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا تو بھارتی میڈیا پر نفرت کے پرچارک اور انتہا پسند ہندو تجزیہ کاروں نے اسے کام یاب یاترا قرار دینے میں‌ دیر نہ لگائی۔ بھاگوت کا وہاں اپنے ہم وطنوں سے رابطوں اور بعض ملاقاتوں کو ہندتوا کے ان حامیوں نے خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا، مگر یہ تصویر کا وہ رخ تھا جو ان شدت پسندوں نے دیکھا جب کہ بھارت ہی کے سیکولر نظریات اور لبرل خیالات کے حامل حلقوں‌ کا کہنا ہے کہ اس دورے نے آر ایس ایس کے لیے بھارتی نژاد امریکیوں‌ کے کردار اور ہندتوا کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے منظّم طریقے سے فنڈنگ کو بے نقاب کیا ہے اور بھاگوت کی یہ یاترا امریکی سیاست کو ان کی مخالفت کا ایک اور جواز فراہم کرگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ معاملہ زور پکڑ لے گا۔

موہن بھاگوت کے دورۂ امریکا کے مقاصد کیا تھے اور کیا وہ اپنے مقصد میں کام یاب ہوسکے ہیں، یہ جاننے کے لیے نوّے کی دہائی سے آغاز کرتے ہیں۔ نوّے کی دہائی میں بھارت نے ایک امن پسند اور مہمان نواز ملک کی اپنی جو تصویر دنیا کے سامنے پیش کی تھی، اس کا چہرہ موجودہ حکومت کی ہندوتوا نواز پالیسی کے ساتھ ہی بے نقاب ہوگیا ہے۔ موجودہ حکم راں جماعت بھارتی جنتا پارٹی دراصل مسلمانوں، عیسائی، سکھوں، دلت اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت کی پرچارک اور تشدد کی حامی آر ایس ایس کی مکمل پشت پناہی کر رہی ہے اور اس کا یہ روپ دنیا سے پوشیدہ نہیں ہے۔

بظاہر موہن بھاگوت کے دورۂ امریکا کا مقصد براہ راست بھارتی نژاد امریکیوں سے رابطہ قائم کرنا اور آر ایس ایس کی صد سالہ تقریب میں شرکت تھا۔ اس دورے کا مرکزی پروگرام نیو یارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں عالمی بھائی چارے کے عنوان پر مکالمہ تھا۔ مگر حقیقت کچھ اور ہے۔ موہن بھاگوت کا مقصد امریکا کی مسلم مخالف لابی سے مراسم بڑھانے کے ساتھ ساتھ امریکی نژاد بھارتیوں کی سیاسی فنڈنگ کو بھارتی مسلمانوں، دیگر اقلیتوں اور پاکستان مخالف لابی کو مضبوط کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنا تھا۔

موہن بھاگوت کا دہرا مؤقف آر ایس ایس نے مغرب میں بڑھتی ہوئی مخالفت کو کم کرنے کے لیے میڈیسن اسکوائر گارڈن کے ایونٹ کو استعمال کرنا چاہا۔ اس تقریب میں موہن بھاگوت نے مسلمانوں کے خلاف اپنے روایتی مؤقف کو زائل کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں سے متعلق سوال پر انہوں نے یہ نہیں کہا کہ مسلمان بھارتی شہری ہیں اور مساوی حقوق رکھتے ہیں اور وہ بغیر کسی خوف کے بھارت میں رہ رہے ہیں بلکہ ایک گول مول جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ہندو یہ سوچتا ہے کہ بھارت میں مسلمان نہیں ہونے چاہئیں تو وہ سچا ہندو ہی نہیں ہے۔ تنوع کو قبول کرنا ہی ہندو فلسفہ ہے اور آر ایس ایس کی خدمات تمام انسانوں کے لیے بلا تفریق ہیں۔

موہن بھاگوت نے انڈیا فرسٹ کے فلسفے کی بھی نفی کی اور امریکا میں رہنے والے بھارتیوں کو پہلے امریکا کی خدمت کرنے اور وہاں کے قوانین کی پاسداری کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ بھارت کی مدد یا خدمت صرف اس وقت کریں جب آپ اپنی کرم بھومی کے فرائض انجام دے چکے ہوں اور قوانین کی پاسداری کی ہو۔

سیاست پر بات کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ آج کی سیاست خود غرضی کا کھیل بن چکی ہے۔ جہاں صرف میں اور میرا ہوگا وہاں مسائل کا حل نہیں نکل سکتا، مسائل کا حل ہم اور ہمارا میں ہے۔ سیاسی راستوں سے سماجی تبدیلی ممکن نہیں، اس لیے تبدیلی کی شروعات خود معاشرے کے اندر سے ہونی چاہیے۔

موہن بھاگوت کے اس مؤقف پر بھارت اور امریکا میں موجود آزاد خیال طبقے نے اسے دہرا معیار قرار دیا ہے۔ سنجیدہ اور باشعور طبقہ یہ سوال کررہا ہے کہ کیا موہن بھاگوت یہی بیان بھارت میں دے سکتے ہیں۔

بھارتی کاروباری اداروں کا سیاسی چندہ اور امریکی سیاست امریکی ریاست، معیشت، سیاست اور سماج میں بھارتی تارکینِ وطن کا کردار بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ امریکہ کی کل آبادی کا صرف 1.3 سے 1.5 فیصد یعنی تقریباً 50 سے 52 لاکھ بھارتی شہری ہیں۔ لیکن اپنے معیارِ تعلیم، فی کس آمدنی اور اہم نجی اور سرکاری عہدوں کی وجہ سے ان کا اثر و رسوخ آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔

یہ امریکا سب سے زیادہ کمانے والا نسلی گروہ ہے۔ ان کی اوسط گھریلو آمدن ڈیڑھ لاکھ ڈالر سالانہ سے زائد ہے جو کہ عام امریکیوں کی اوسط آمدنی سے تقریباً دگنی ہے۔ امریکا کی سرکردہ ٹیک اور بزنس کمپنیوں جیسا کہ مائیکرو سافٹ کے ستیا نادیلا، گوگل کے سندر پچائی، ایڈوبی کے شانتنو نارائن کی قیادت بھارتی نژاد سی ای اوز کے پاس ہے۔ اور ان کمپنیوں میں بھارتی نژاد امریکیوں کو ملازمت اور کاروبار کے لیے دوسرے گروہوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔ سلیکان ویلی کے ٹیک اسٹارٹ اپس میں ہر چار میں سے ایک کی بنیاد رکھنے والا بھارتی نژاد ہے۔ موہن بھاگوت نے انہی افراد سے ایک راؤنڈ ٹیبل ملاقات کی جس پر خود بھارت کے سیکولر فکر کے حامل تجزیہ کاروں اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے سربراہ کا مقصد بھارتی نژاد امریکیوں کے سرمائے کو استعمال کرکے امریکا میں بھارت کے لیے سیاسی گنجائش میں اضافہ کرنا اور پاکستان سمیت وہاں موجود مسلم مخالف لابی کو معاشی طور پر مضبوط کرنا ہے۔ ان کی کوشش ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ امریکی سیاستدانوں کو خرید کر اپنے حق میں کرسکیں۔

امریکی سیاست میں بھارتیوں کے فنڈز کی بہت اہمیت ہے اور یہ فنڈنگ اب امریکی سیاست میں مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی سیاست میں بھارتیوں کو چھوٹی آبادی، بڑی فنڈنگ سورس کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ امریکی الیکشن کمیشن اور مختلف اداروں کی تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق بھارتی تیزی سے پاور ڈونر بن گئے ہیں۔ وہ ہالی ووڈ یا وال اسٹریٹ کے روایتی فنڈ ریزنگ نیٹ ورکس کا مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔

اس سلسلے میں یونائیٹڈ اسٹیٹ انڈین پولیٹکل ایکشن کمیٹی اور انڈین امریکن امپیکٹ پروجیکٹ انڈین- امریکن ڈونرز صرف ایک پارٹی کو فنڈ نہیں دیتے، بلکہ وہ ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں پارٹیوں کے ایسے امیدواروں پر پیسہ لگاتے ہیں جو بھارت کے حوالے سے دوستانہ رویہ رکھتے ہوں۔ اسی چندے کی بنیاد پر بھارتی اپنے لیے سیاسی بنیادوں پر مراعات حاصل کر کے اپنی پوزیشن کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ چندے کے عوض بھارتی کام کرنے کے ویزے ایچ ون بی ویزا میں نرمی، گرین کارڈ کے اجرا میں تیزی، امریکہ کے دفاعی و معاشی تعلقات کو مضبوط بنانے اور منوانے کی کوشش کرتے ہیں۔

مغربی انسانی حقوق اور سول سوسائٹی آر ایس ایس کی مخالف کیوں؟ امریکا میں موہن بھاگوت کے دورے کی مخالفت کرنے والے گروپ بھی بہت متحرک رہے اور ان کی یہ مخالفت ٹھوس بنیادوں پر تھی۔ ہندوز فار ہیومن رائٹس، انڈین امریکن مسلم کونسل، اور ساٹھ سے زائد سیکولر تنظیموں کے اتحاد ایک نے بھی آر ایس ایس کے سربراہ کے دورے کی مخالفت اور اس پر احتجاج بھی کیا۔ نیویارک سٹی ہال اور میڈیسن اسکوائر گارڈن کے باہر سکھ، مسلم اور دلت تنظیموں نے مظاہرے کیے۔

اس حوالے سے سب سے زیادہ سخت مؤقف نیویارک شہر کے میئر ظہران ممدانی کی جانب سے آیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ آر ایس ایس کے ایجنڈے کی حمایت نہیں کرتے مگر ایک نجی پروگرام کو روکنا ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن نے اپنی حکومت سے موہن بھاگوت کا ویزا منسوخ کرنے اور پابندیاں لگانے کی سفارش کی۔

امریکا میں اس مخالفت کی اصل وجہ آر ایس ایس کی دہشت گردی، اقلیتوں کو دبانے کے لیے کارروائیاں ہیں اور ان کے لیے امریکا سے فنڈنگ کیے جانے پر انسانی حقوق کی تنظیوں نے متعدد تحقیقاتی رپورٹیں جاری کی ہیں۔ ان کی وجہ سے امریکی سول سوسائٹی میں بہت تشویش پائی جاتی ہے۔

گزشتہ چند سال کے دوران آر ایس ایس کی مسلم مخالف کارروائیوں، نفرت انگیز تقاریر اور اس کے نتیجے میں مسلم کش فسادات، ہجوم اور جتھوں کی صورت مسلمانوں پر حملہ، بدترین تشدد، قتل، ہندو رکھشا دل کا ہتھیار بند گشت، مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے افراد کا کاروباری بائیکاٹ اور اس میں بھارتی سرکار کی سرپرستی اور ریاستی پولیس کی ملی بھگت سب کے سامنے ہے اور اس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں متعدد رپورٹیں جاری کرچکی ہیں۔ امریکی سول سوسائٹی کے سامنے آر ایس ایس اور موجودہ بھارتی حکومت بے نقاب ہوچکی ہے۔

فنڈز اور ان کے استعمال سے متعلق تحقیقی رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکا میں مقیم بھارتی جو فنڈز مقامی فلاح بہبود کے لیے جمع کرتے ہیں کس طرح انہیں بھارت میں آر ایس ایس سے جڑی تنظیموں کو بھیج دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے سب سے اہم اور جامع رپورٹیں رٹگرز یونیورسٹی (Rutgers University) کے سینٹر فار سیکورٹی، ریس اینڈ رائٹس اور ساویرا الائنس (Savera Alliance / SACW) نے جاری کی ہیں۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں جمع کردہ چندہ کس طرح بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی، ان کو مذہبی طور پر پیچھے دھکیلنے اور معاشی طور پر کم زور کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

رٹگرز یورنیورسٹی کی تحقیقاتی رپورٹ ‘ہندوتوا ان امریکا’ میں انکشاف کیا گیا کہ امریکہ میں انتہا پسند ہندو تنظیموں نے نائن الیون کے بعد اسلامو فوبیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بیانیے کو ہوا دی۔ اور مسلمانوں کو مذہبی شدت پسند کے طور پر پیش کیا۔

اس وقت امریکا میں بھارتیوں سے تعلق رکھنے والی 107 ایسی تنظیمیں اور پلیٹ فارمز کام کررہے ہیں جن کا تعلق آر ایس ایس سے ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز جذبات بھڑکانے کے لیے بھارتی تنظیموں نجی فنڈنگ کے علاوہ امریکی حکومت کی فنڈنگ بھی دھوکے سے حاصل کی گئی۔ امریکا میں وفاقی سطح پر سال 2021ء کی انکوائری اور تحقیقاتی رپورٹوں میں انکشاف ہوا کہ آر ایس ایس سے منسلک وشو ہندو پریشد آف امریکا اور سیوا انٹرنیشنل سمیت پانچ تنظیموں نے امریکی حکومت سے کرونا وبا کے دوران 8 لاکھ 33 ہزار ڈالر حاصل کرکے بھارت منتقل کیے۔

ماضی میں نریندر مودی نے امریکا میں صدر ٹرمپ کے حق میں جو ریلی نکالی تھی موہن بھاگوت کے حالیہ دورے سے اس کے اثرات ماند پڑ گئے ہیں۔ امریکی قانون سازوں اور مقامی سیاست دانوں پر اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ بھارتی نژاد امریکی ووٹر اب یک طرفہ نہیں رہا۔ ہندوتوا مخالف امریکی گروپس اب زیادہ منظم ہو کر الیکشن اور کانگریس میں اپنا اثر و رسوخ قائم کر رہے ہیں۔

اب بھارتی نژاد امریکی بٹ گئے ہیں امریکا میں بھارتی تارکینِ وطن بہت منظم انداز میں کام کرتے رہے ہیں۔ مگر اب مقامی سیاست کی طرح امریکا میں ہندوتوا اور انتہا پسندانہ خیالات کو پروان چڑھانے پر یہ کمیونٹی تقسیم ہوتی نظر آتی ہے۔ بھارت کی سیاست میں پائی جانے والی کشیدگی اور نفرت اب امریکا منتقل ہوچکی ہے۔ موہن بھاگوت کے دورے پر امریکی میڈیا اور سول سوسائٹی میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں اور جمہوری اقدار کے زوال پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ سے امریکا میں ہندو برادری کو بھی بعض اوقات تنقید اور تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

موہن بھاگوت کے اس دورۂ امریکہ نے اندرونی تقسیم کو مزید واضح کر دیا ہے۔ موہن بھاگوت نے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں Universal Oneness (عالمی ایکتا) اور وسودھیو کٹمبکم کے نظریات پیش کر کے اور یہ بیان دے کر کہ مغرب اور انسانیت کی وحدت ہندو فلسفے میں موجود ہے، آر ایس ایس کو ایک منّظم و پُر امن بین الاقوامی تنظیم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، مخالفین نے اسے آر ایس ایس کا امیج واشنگ (PR Exercise) قرار دیا۔ اس دورے نے ہندوستانی تارکینِ وطن (Indian Diaspora) کو دو واضح دھڑوں میں تقسیم کردیا ہے۔ ایک گروپ جو کہ سنگھ حامیوں کا ہے اور وہ آر ایس ایس کو ہندو کلچر اور بھارت کے عروج کا ضامن مانتے ہیں۔ جب کہ دوسرا گروپ ترقی پسند اور سیکولر بھارتیوں کا ہے۔ جس کی نمائندگی ہندوز فار ہیومن رائٹس، انڈین امریکن مسلم کونسل اور سکھ تنظیمی اتحاد کرتا ہے۔ ان کی جانب سے بھاگوت کے دورے کی سخت مخالفت کی گئی ہے۔ انہوں نے میڈیا کے سامنے آر ایس ایس کے فاشسٹ ڈھانچے کی دستاویز پیش کرتے ہوئے موہن بھاگوت کی مخالفت کی۔

ہندتوا کے حامی اور نام نہاد تجزیہ کار آر ایس ایس کے صد سالہ یومِ‌ تاسیس پر موہن بھاگوت کے دورۂ امریکا اور وہاں بھارتی کمیونٹی سے رابطے کو ایک سنگِ میل قرار دے رہے ہیں، لیکن بھارت کے دانش ور اور سیکولر طبقات اس امر کی نشان دہی کررہے ہیں کہ بھاگوت نے ہندوتوا پر امریکی معاشرے اور سیاست میں تحفظات اور خدشات کو کم کرنے کے بجائے مزید نمایاں کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں آئندہ امریکہ اور بھارت کے روابط کے دوران انسانی حقوق اور اقلیتوں کے تحفظ کا نقطۂ نظر زیادہ شدت سے سامنے آئے گا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے