• ستمبر 7, 2026
  • Last Update ستمبر 7, 2026 9:03 شام
  • Australia

وزیراعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ نے نوٹس لیا جبکہ آئی جی سندھ نے تحقیقات کیلیے کمیٹی تشکیل دی تھی

شہر قائد کے علاقے گلبرگ میں قائم سہراب گوٹھ ایدھی سینٹر میں 65 لاکھ روپے ڈکیتی کی واردات کو ایک ماہ گزر گیا مگر پولیس ڈکیتی کی واردات میں ملوث ملزمان کا تاحال سراغ نہیں لگا سکی جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ کا نوٹس بھی کام نہ آسکا۔

سربراہ ایدھی فاؤنڈیشن فیصل ایدھی نے وزیر اعلیٰ سندھ کو پولیس کی تفتیش سے متعلق خط بھی ارسال کر دیا جبکہ ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل نے واردات میں ملوث ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے لیڈی پولیس افسر گلبرگ ڈویژن کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق سہراب گوٹھ پر قائم ایدھی سینٹر میں ڈکیتی کی واردات کو ایک ماہ گزر گیا، پولیس ڈاکوؤں کا تاحال سراغ نہیں لگا سکی، گزشتہ ماہ 7 اگست بروز جمعے کی سہ پہر 4 ڈاکوؤں نے سہراب گوٹھ ایدھی سینٹر میں داخل ہو کر اسلحے کے زور پر عملے کو یرغمال بنا کر ملازمین کی تنخواہ اور لاوارث بچوں میں وظائف کی تقسیم کے لیے بینک سے نکلوا کر لائی گئی 65 لاکھ روپے نقدی لوٹ لی تھی جبکہ ڈاکو واردات کے بعد ناگن چورنگی کی جانب فرار ہوگئے تھے۔

واردات کی اطلاع ملنے پر وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے نوٹس لیتے ہوئے ڈاکوؤں کی گرفتاری کا بھی حکم جاری کیا تھا جبکہ ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل نے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے ایس ڈی پی او گلبرگ ڈویژن اے ایس پی منیشا روپیٹا کی سربراہی میں 5 رکنی خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی جس میں ایس ایچ او سمن آباد ، ایس ایچ او فیڈرل بی صنعتی ایریا ، ایس ایچ او شارع نور جہاں اور ایس ایچ او تیموریہ شامل بھی تھے۔

تاہم ایک ماہ گزر جانے کے باوجود سہراب گوٹھ ایدھی سینٹر میں 65 لاکھ روپے کی ڈکیتی میں ملوث ڈاکوؤں کا تاحال سراغ نہیں لگایا جا سکا جبکہ ڈکیتی کی واردات کے 2 روز کے بعد 9 اگست بروز اتوار کراچی پریس کلب کے باہر ایدھی کے رضاکاروں و اہل خانہ، مزدور تنظیموں، سول سوسائٹی اور شہریوں نے مظاہرہ بھی کیا تھا۔

اس موقع پر مظاہرین نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے، مظاہرے میں ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا کہ فلاحی ادارہ ایدھی انسانیت کی خدمت کر رہا ہے، ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے ، ایدھی مرکز پر ڈکیتی کا واقعہ افسوسناک واقعہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس مرکز پر ملازمین کی تنخواؤں کی مد میں موجود 65 لاکھ روہے کی رقم کو مسلح ڈاکو اسلحے کے زور پر لوٹ کر لے گئے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ واردات میں ملوث ڈاکوؤں کو فوری گرفتار کر کے لوٹی گئی برآمد کرائی جائے۔

ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن سعد ایدھی نے بتایا کہ ایک ماہ گزر جانے کے باوجود پولیس کی تفتیش میں کوئی اہم پیش رفت سامنے نہیں آسکی جبکہ واردات میں ملوث ڈاکوؤں کا تاحال سراغ لگایا جا سکا۔

اس حوالے سے انویسٹی گیشن پولیس اور اس واردات کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی انکوائری کیمٹی کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ سعد ایدھی نے بتایا کہ ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے گزشتہ ماہ 31 اگست کو وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو خط ارسال کیا جس کی ایک ، ایک کاپی وزیر داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ کو بھی ارسال کی گئی۔

خط میں وزیر اعلیٰ سندھ سے درخواست کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ 7 اگست کو سہراب گوٹھ ایدھی سینٹر میں 4 ڈاکو 65 لاکھ روپے لوٹ کر لے گئے تھے، لوٹی گئی نقدی فاؤنڈیشن کے عملے کی تنخواہوں کے لیے تھی ، واردات کا مقدمہ سمن آباد تھانے میں درج کرایا گیا ہے تاہم اب تک واردات میں ملوث ڈاکوؤں کا تاحال کوئی سراغ نہیں لگایا جاسکا۔

خط میں وزیر اعلیٰ سندھ سے درخواست کی گئی ہے کہ متعلقہ پولیس حکام کو ہدایات دی جائے کہ ڈاکوؤں کا سراغ لگا کر لوٹی گئی نقدی 65 لاکھ روپے برآمد کی جائے۔

فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ ایدھی فاؤنڈیشن ایمبولینس سروس، یتیم خانے، شیلٹر ہومز اور اسپتال چلاتی ہے اس لیے یہ ان کے عملے کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔ اس حوالے سے قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہ اور ایس ڈی پی او گلبرگ ڈویژن اے ایس پی منیشا روپیٹا نے بتایا کہ پولیس کی تحقیقات کا عمل جاری ہے اور اس میں جو بھی ٹیکنیکل سپورٹ کے حوالے سے معلومات تھیں وہ پولیس نے حاصل کرلی جبکہ واردات میں ملوث ڈاکوؤں کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے