• ستمبر 7, 2026
  • Last Update ستمبر 7, 2026 4:46 شام
  • Australia

شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ستمبر میں پاکستان میں ہوگا، سربراہان مملکت کی نقل و حرکت کیلیے گاڑیاں خریدی جائیں گی

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)نےشنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس کے دوران سربراہان مملکت کی نقل و حرکت کے لیے 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6.6 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دے دی۔

وزارت خزانہ کے مطابق کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی) کا اجلاس پیر کو وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کے علاوہ متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے وفاقی سیکریٹریز اور سینئر حکام شریک ہوئے۔

اجلاس میں مختلف وزارتوں کی جانب سے پیش کیے گئے اہم امور اور تجاویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں کابینہ ڈویژن کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس کے دوران سربراہان مملکت کی نقل و حرکت کے لیے بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری سے متعلق سمری پر تفصیلی غور کیا گیا۔

پاکستان ستمبر 2027 میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا، کابینہ ڈویژن نے گاڑیوں کی خریداری کے لیے 12.6 ارب روپے کے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (ٹی ایس جی) کی منظوری طلب کی تھی تاہم ای سی سی نے غور و خوض کے بعد 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6.6 ارب روپے کے ٹی ایس جی کی منظوری دے دی ہے۔

ای سی سی نے کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی کہ مزید ضرورت کی صورت میں جامع ضرورت کا تجزیہ کیا جائے اور ضرورت برقرار رہنے پر معاملہ دوبارہ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے تمباکو کی فصل کی کم از کم اشاری قیمتوں (ایم آئی پیز) اور مالی سال 2026-2027 کے لیے سیس کی شرحوں میں نظرثانی سے متعلق سمری بھی زیر غور لائی۔

تفصیلی بحث کے بعد ای سی سی نے قرار دیا کہ تجویز کے لیے مزید ٹھوس جواز اور تجزیے کی ضرورت ہے جس پر ایجنڈا مؤخر کرتے ہوئے وزارت کو قابل جواز تجزیے کے ساتھ سمری دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔

وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے گوادر فری زون سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد سے متعلق مسائل کے حل کے لیے قائم کمیٹی کی سفارشات بھی ای سی سی کے سامنے پیش کی گئیں۔

کمیٹی نے وزارت کی سفارش کردہ ضروری حفاظتی اقدامات کے ساتھ تجویز کی منظوری دے دی ہے ای سی سی نے فاطمہ فرٹ اور ایگری ٹیک کو موجودہ انتظام کے تحت 30 ستمبر 2026 تک گیس کی فراہمی جاری رکھنے کی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی تجویز بھی منظور کرلی ہے۔

اجلاس میں وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے دانش اسکولز اتھارٹی فنڈ کے لیے ٹی ایس جی کے ذریعے 5 ارب روپے بطور سیڈ منی فراہم کرنے کی سمری بھی منظور کی گئی۔ یہ رقم اینڈومنٹ فریم ورک کے تحت برقرار رکھی جائے گی۔

ای سی سی نے پاکستان اسکلز امپیکٹ بانڈ (پی ایس آئی بی) پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور وزارت وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو 30 ستمبر 2026 تک اقدام کے حوالے سے ٹھوس پیشرفت سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی اس اقدام کے لیے حکومت پاکستان کی ضمانت میں توسیع کی گئی تھی۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے