• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 7:38 شام
  • Australia

روس اور شمالی کوریا کے درمیان ٹرین کے ذریعے رابطہ تھا لیکن گاڑیوں کی آمدو رفت میں مشکلات کا سامنا تھا

روس اور شمالی کوریا کے درمیان پہلی بار باقاعدہ سڑک رابطہ قائم ہوگیا ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور زمینی آمدورفت کے لیے ایک نیا راستہ کھل گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس اور شمالی کوریا کے درمیان پہلی بار جس سڑک کے ذریعے رابطہ قائم ہوا ہے وہ دریائے تیومِن پر تعمیر کیا گیا پل ہے۔

شمالی کوریا اور روس کو ملانے والے اس پُل کے نام یاکوف نووچینکو ہے جسے اب گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا۔ جو روس کے علاقے خسان سے شمالی کوریا کے شہر تمَنگانگ سے جا ملتا ہے۔

روس اور شمالی کوریا کے درمیان نیا پل تقریباً 1,005 میٹر طویل ہے۔ اس کا تقریباً 581 میٹر حصہ شمالی کوریا جبکہ 424 میٹر روس کی جانب واقع ہے۔

پل پر دونوں سمتوں کے لیے دو لینز ہیں اور سڑک کی چوڑائی تقریباً سات میٹر ہے۔ یہ نیا راستہ موجودہ کوریا-روس فرینڈ شپ برج سے تقریباً 415 میٹر مشرق میں تعمیر کیا گیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان موجود پرانا رابطہ دراصل 1959 میں قائم کیا گیا ریلوے پل ہے تاہم گاڑیوں کو اس کی پٹڑیوں سے گزرنے کے لیے لکڑی کے تختے رکھ کر خصوصی انتظامات کرنا پڑتے تھے۔

تاہم نیا پل کھلنے کے بعد اب اس عارضی انتظام کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ دونوں ملکوں کو پہلی بار ایک باقاعدہ، مستقل اور مخصوص سڑک کراسنگ فراہم کرتا ہے۔

ولادی ووستوک سے شمالی کوریا تک نیا راستہ

نئے پل کے ذریعے روس کے خسان کو شمالی کوریا کے تمَنگانگ سے ملایا گیا ہے یہ راستہ روسی شہر ولادی ووستوک کو شمالی کوریا کے شہر چونگ جن سے زمینی ٹرانزٹ کے ذریعے جوڑنے میں بھی مدد دے گا۔

روسی جانب خسان کے قریب تقریباً 2.4 کلومیٹر طویل نئی سڑک تعمیر کی جا رہی ہے، جو پل کو روس کے موجودہ سڑک نیٹ ورک سے منسلک کرے گی۔ دونوں اطراف سرحدی چیک پوسٹیں بھی قائم کی جا رہی ہیں۔

روسی حکام کے مطابق پل کو روس کے وفاقی شاہراہوں کے نظام سے بھی جوڑا جائے گا، جس سے یہ راستہ مستقبل میں ولادی ووستوک سے سینٹ پیٹرزبرگ تک پھیلے بڑے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کا حصہ بن سکتا ہے۔

روزانہ 300 گاڑیوں کی گنجائش

نیا پل روزانہ تقریباً 300 گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جبکہ اس کی گنجائش روزانہ تقریباً 2,323 افراد کی آمدورفت کی ہے۔

روسی حکام کے مطابق پل سے مال بردار ٹرکوں کی آمدورفت فوری طور پر شروع کی جائے گی جبکہ مسافروں کے لیے مکمل آپریشن 2026 کے اختتام تک شروع ہونے کی توقع ہے۔

اس سے روس اور شمالی کوریا کے درمیان تجارتی سامان کی زمینی ترسیل میں آسانی پیدا ہونے کے ساتھ دونوں ملکوں کے سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمی بڑھنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

پل کا نام یاکوف نووچینکو کے نام پر کیوں رکھا گیا؟

پل کا نام سوویت ریڈ آرمی کے افسر یاکوف نووچینکو کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہیں شمالی کوریا کی تاریخ میں خاص علامتی مقام حاصل ہے۔

پیانگ یانگ کے مطابق 1946 میں نووچینکو نے شمالی کوریا کے پہلے رہنما کم اِل سونگ کو قاتلانہ حملے سے بچایا تھا۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جب کم اِل سونگ پر دستی بم پھینکا گیا تو نووچینکو نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اسے روک لیا تھا۔

اسی واقعے کی وجہ سے نووچینکو کو شمالی کوریا میں ایک تاریخی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے