• ستمبر 10, 2026
  • Last Update ستمبر 10, 2026 4:25 شام
  • پاکستان

اسلام آباد میں محبت کی یادگار، صوبیہ محل کی دلچسپ داستان

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

کراچی: یونٹی فوڈز کیس میں گرفتار 4 موجودہ و سابق عہدیداروں کو ضمانت نہ مل سکی، گرفتار حکام کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 12 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

گرفتار افراد میں جلیس ایدھی، عامر شہزاد، صفدر سجاد اور عبدالمجید غازیانی شامل ہیں، ایف آئی اے نے یونٹی فوڈز کی سابق انتظامیہ کے خلاف مقدمہ ایس ای سی پی کے ریفرنس پر درج کیا تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق یونٹی فوڈز کیس میں 44 ارب 70 کروڑ روپے کے مبینہ مالی فرق کی تحقیقات جاری ہیں، کمپنی کے شائع شدہ مالی حسابات اور اندرونی ایس اے پی ریکارڈ میں مبینہ فرق سامنے آیا ہے، رائٹس ایشو کے 2 ارب 87 کروڑ روپے کے مبینہ غیر متعلقہ استعمال کی بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔

یونٹی فوڈز کی انوینٹری میں 5 ارب 20 کروڑ روپے کی مبینہ کمی کی تحقیقات بھی کی جا رہی ہیں، عہدے داروں پر تقریباً 5 ارب روپے کی وصولیوں کے مقابل اشیا کی ترسیل کے ثبوت نہ ہونے کا الزام ہے۔

22 سال تک قانون کی گرفت سے باہر رہنے والے قاتل اور ڈکیت شاہ زیب کو عدالت نے سزا سنا دی

سابق چیف ایگزیکٹو کی والدہ سے منسلک 5 ارب 31 کروڑ روپے کی مبینہ ادائیگیاں بھی زیرِ تفتیش ہیں، یونٹی فوڈز کے سابق چیف ایگزیکٹو فرخ امین اور دیگر افراد ایف آئی اے مقدمے میں نامزد ہیں۔

واضح رہے کہ یونٹی فوڈز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ کمپنی ہے اور اس کے 34 فی صد حصص عوام کے پاس ہیں، سنگاپور کی ولما انٹرنیشنل کے یونٹی فوڈز میں تقریباً 42 فی صد حصص ہیں، ولما نے سرمایہ کاری کے حوالے سے 15 کروڑ ڈالر کی پروویژن تسلیم کی ہے، کمپنی کے حصص میں مبینہ انسائیڈر ٹریڈنگ کی الگ تحقیقات بھی جاری ہیں۔

اس سلسلے میں ال شہیر کارپوریشن کے مجوزہ ٹیک اوور سے متعلق کارروائی بھی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے