• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 3:58 شام
  • Australia

این سی سی آئی اے کی جانب سے ریکارڈ سی ڈی آر طرز پر جوڈیشل کمیشن کو فراہم کیا گیا، ذرائع

کراچی میں قتل ہونے والے نوجوان میررضا کے کیس میں نیشنل سائبرکرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)نےگزشتہ 6ماہ پر مشتمل بائنانس اور کرپٹوڈیٹا حاصل کرلیا اور جوڈیشل کمیشن کو بھی فراہم کردیا گیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ تفتیشی اداروں کی جانب سے میررضا کےحوالے این سی سی آئی اے سے6ماہ کا ڈیٹا حاصل کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جو این سی سی آئی اے کوموصول ہواہے اور یہ ڈیٹا کئی صفحات پرمشتمل ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس ریکارڈ کو ڈی کوڈ کرنے کے بعد سی ڈی آر کی طرز پر جوڈیشل کمیشن کو فراہم کر دیاگیا، چونکہ یہ ڈیٹا ایک خاص عددی انداز پر مشتمل ہے،اسی وجہ سےاین سی آئی اے سےڈیٹا کا تجزیہ کرنے کی درخواست کی گئی کیونکہ بائنانس کا ٹیکنیکل ڈیٹا سمجھنا عام فہم انداز میں ممکن نہیں ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اسی وجہ سےتحقیقاتی اداروں کی جانب سےاستدعا کی گئی ہےکہ بائنانس ڈیٹا کی تفصیل سادہ الفاظ میں ڈی کورڈ کرکے دی جائے تاکہ یہ معلوم ہوسکےکہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران روزانہ کی بنیاد پر کتنی ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس قسم کا ڈیٹا بیرون ملک سےآتا ہے، جس کا تجزیہ این سی آئی اے خود کرتی ہےکیونکہ ان کےپاس فرانزک لیب کے اندر کوڈنگ کے ماہرین موجود ہیں، ممکنہ طور اگلے 24سے 36 گھنٹوں کےدوران پولیس کوڈیٹا کا تجزیہ کرکےدے دیا جائے گا اور حاصل کردہ ڈیٹا کی سافٹ کاپی متعلقہ حکام کوبھی فراہم کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق کرپٹو کرنسی کو عموماً ایک ایسی ڈیجیٹل دنیا سمجھا جاتا ہے، جہاں رقم کی منتقلی میں شناخت چھپی رہ سکتی ہے، تاہم پبلک بلاک چینز پر ہونےوالی ٹرانزیکشنز کا مستقل ریکارڈ موجود رہتا ہے، جس سے جدید ٹیکنالوجی اور بلاک کے ذریعے ٹریس کیا جاسکتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس طرح کی ٹرانزیکشن کے لیے آئی ڈی کےلیے ڈی ایکس آئی ڈی اور ٹرانزیکشن ہیش حاصل کیا جاتا ہے، تاکہ متعلقہ ٹرانزیکشنز کا بلاک چین ریکارڈ تلاش کیا جاسکے اور تحقیقات میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ مشتبہ رقم کس والٹ سےنکلی، کس والٹ میں منتقل ہوئی اور کن کن ایڈریسزتک پہنچی، اس عمل کوفلوآف فنڈ کہا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مالیاتی ادارے بلاک چین اینالیٹکس کومنی لانڈرنگ، فراڈ، چوری شدہ کرپٹو اثاثوں اور مشتبہ مالیاتی نیٹ ورکس کی تحقیقات کےلیےاستعمال کررہے ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے