• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 11:23 صبح
  • Australia

کمیشن کے مطابق اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کے باعث مقامی آبادی کی نقل مکانی بھی ہوئی ہے

جنیوا: شام میں تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن نے اسرائیل کی فوجی کارروائیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شہریوں کی گرفتاری سمیت بعض اقدامات جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کمیشن کی رکن فیونوالا نی اولین نے کہا کہ جنوبی شام میں اسرائیلی فوجی سرگرمیاں مسلسل اور وسیع ہوتی جارہی ہیں، جہاں زمینی دراندازی، گشت، چھاپے اور تلاشی کی کارروائیاں شہریوں کو متاثر کررہی ہیں۔

کمیشن کے مطابق جون تک اسرائیلی فوج نے شام کی سرزمین سے 49 شامی شہریوں، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، کو حراست میں لیا اور بعض کو سرحد پار منتقل کیا گیا۔ کمیشن نے کہا کہ ان میں سے کچھ افراد کو بیرونی دنیا سے رابطے کے بغیر رکھا گیا، جس سے تشدد یا بدسلوکی کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے کمیشن نے شام کے صوبوں قنیطرہ اور درعا میں اسرائیلی فوج کی جانب سے عارضی چیک پوسٹوں اور مستقل فوجی تنصیبات کے قیام کی بھی نشاندہی کی۔ کمیشن کے مطابق اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کے باعث مقامی آبادی کی نقل مکانی بھی ہوئی ہے۔

اسرائیل نے اقوام متحدہ کے کمیشن کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’اسرائیل مخالف‘‘ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی مؤقف کے مطابق شام میں محدود بفر زون کا مقصد شہریوں کو سکیورٹی خطرات سے محفوظ رکھنا ہے اور اسرائیل کی شام میں کوئی علاقائی خواہش نہیں۔

شامی حکومت نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو ملکی خودمختاری اور 1974 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے