• ستمبر 8, 2026
  • Last Update ستمبر 8, 2026 1:29 شام
  • Australia

جسٹس راجہ انعام امین منھاس نے نجیع اللہ کی درخواست پر سماعت کی

اسلام آباد ہائی کورٹ نیب کیس میں جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کرنے کے صدارتی آرڈیننس کے اقدام کے خلاف کیس کی سماعت عدالت نے درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس راجہ انعام امین منھاس نے نجیع اللہ کی درخواست پر سماعت کی، وکیل درخواست گزار اظہر صدیق اور ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں فیصل عرفان عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل نے مؤقف اپنایا کہ پارلیمان کی جانب سے ریمانڈ کی مدت 14 دن مقرر کیے جانے کے باوجود صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اسے 40 دن تک بڑھانا آئینی اختیار سے تجاوز ہے، اس آرڈیننس کا مقصد صرف بانی پی ٹی کو طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کے لیے ریمانڈ کی مدت میں اضافہ کرنا تھا۔

وکیل نے کہا کہ یہ عمل پارلیمانی قانون سازی کو نظر انداز کرنے کے مترادف بھی تھا۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 2024 میں جاری ہونے والے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کرنا آئینی اختیار سے تجاوز تھا۔

وکیل نے مؤقف اپنیا کہ پارلیمان نے خود باقاعدہ غور و بحث کے بعد ریمانڈ کی مدت 90 دن سے کم کر کے 14 دن مقرر کی تھی، صدر کو یہ اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ آرڈیننس کے ذریعے اس پارلیمانی فیصلے کو تبدیل کرتے ہوئے ریمانڈ کی مدت 40 دن کر دیں۔

وکیل درخواست گزار کے مطابق آرڈیننس اسمبلی کے سامنے پیش ہوا مگر اسمبلی نے اسے منظور نہیں کیا بلکہ مسترد کر دیا، اس اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس اقدام کو پارلیمانی تائید حاصل نہیں تھی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کی جانب سے درخواست کی مخالفت متعلقہ آرڈیننس لاہور ہائی کورٹ میں ختم ہو چکا ہے، فیصلہ اچکا ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہیں، درخواست خارج کی جائے، ڈپٹی اٹارنی جنرل اصل سوال آرڈیننس کے ختم ہونے کا نہیں بلکہ صدر کے آئینی اختیار کا ہے، جس پر لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ نہیں دیا۔

نہ کوئی ایسی ہنگامی صورتحال موجود تھی اور نہ ہی غیر معمولی حالات جن کی بنیاد پر پارلیمان کے مقرر کردہ قانونی انتظام کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تبدیل کیا جا سکے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے