• ستمبر 8, 2026
  • Last Update ستمبر 8, 2026 10:50 صبح
  • Australia

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)

دوست کو بائیک خرید کر دینے کیلیے لڑکی نے جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیا

2 چوہے سر عام لڑ پڑے (دلچسپ ویڈیو وائرل)

ٹریفک قوانین سے آگاہی

روڈ سیفٹی کے حوالے سے پاکستان کا شمار بد ترین ممالک کی فہرست میں نمایاں ہے۔ نیشنل ٹرانسپورٹ ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق ڈرائیور حضرات کو ٹریفک قوانین کی آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب کہ ماہرین حادثات سے بچاؤ کے لیے ملک گیر سطح پر انقلابی اقدامات پر زور دیتے ہیں۔

نیشنل ٹرانسپورٹ ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر ٹریفک حادثات انسانی غلطی کی وجہ سے ہوتے ہیں، ڈرائیورز کو ٹریفک قوانین کی آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔ تیز رفتاری، لاپرواہی سے ڈرائیونگ، اور ٹریفک قوانین پر عمل نہ کرنا ان حادثات کی بڑی وجوہ ہیں۔

2030 تک حادثات میں 200 فی صد تک اضافے کا خدشہ

ماہرین ملکی سطح پر عوام کو ٹریفک قوانین کی آگاہی کے لیے تعلیمی اداروں میں نصاب کا حصہ بنانے پر زور دیتے ہیں۔ نیشنل روڈ سیفٹی کے اندازے کے مطابق اگر حادثات کو روکنے کی کوئی حکمت عملی پیش نہ کی گئی تو پاکستان میں ان حادثات کی تعداد 2030 میں 200 فی صد تک بڑھنے کا خدشہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال سڑکوں پر ہونے والے حادثات کی وجہ سے زخمی ہونے والے افراد کی طبی امداد اور تباہ حال گاڑیوں کی مرمت پر 9 ارب ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ پاکستان آئی ایم ایف سے 6 ارب لیتا ہے جب کہ حادثات میں خرچ ہونے والی رقم اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ہر 5 منٹ بعد حادثہ

ٹریفک پولیس کے مطابق کراچی میں 65 فی صد حادثات ہیوی گاڑیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق موٹر سائیکل سوار بھی ڈرائیونگ کرتے ہوئے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں، جو حادثات کا ایک بڑا سبب ہے۔ حکومتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر 5 منٹ کے بعد ٹریفک حادثہ پیش آتا ہے جس میں کوئی نہ کوئی شخص زخمی یا جاں بحق ہو جاتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں ٹریفک حادثات کے باعث سالانہ 28 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہر پانچ منٹ میں ایک شخص ٹریفک حادثے کا شکار ہو جاتا ہے، اور 50 ہزار سے زائد افراد زخمی اور عمر بھر کی معذوری سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ حادثات میں مرنے یا معذور ہونے والوں میں 60 فی صد افراد 15 سے 44 سال کی عمر کے ہوتے ہیں۔

سڑکوں پر زیبراکراسنگ بھی نہیں

پاکستان کے بڑے شہروں میں 84 فی صد سڑکیں ایسی ہیں جہاں زیبرا کراسنگ، پل اور پگڈنڈی سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ سہولیات کے نہ ہونے کی وجہ سے پیدل چلنے والے اپنی جان خطرے میں ڈال کر سڑک پار کرتے ہیں۔ اکثر و بیش تر تو دیکھا بھی گیا ہے کہ ڈرائیور حضرات پیدل چلنے والے افراد کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جہاں سڑک پر زیادہ رش ہو ڈرائیور حضرات شارٹ کٹ کے چکر میں فٹ پاتھ یا پگڈنڈی کا استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے حادثات رونما ہوتے ہیں۔

کم عمر لڑکوں کی ڈرائیونگ

پاکستان میں کم عمر نوجوانوں کا موٹر سائیکل اور گاڑی چلانے کا رجحان بڑھتا چلا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے خطرناک حادثات پیش آتے ہیں۔ اس لیے 24 فی صد لوگ ایسے ہیں جو بغیر لائسنس گاڑی چلاتے ہیں اور یہ لوگ سڑکوں پر کسی دہشت گردوں سے کم نہیں ہیں۔

ٹریفک قوانین کے لیے آرڈیننس

پاکستان میں ٹریفک قوانین کے جو آرڈیننس موجود ہیں ان میں سے قومی وہیکل آرڈیننس 2000، موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 اور موٹر وہیکل آرڈیننس 1969 شامل ہیں۔ یہ آرڈیننس ملک میں ٹریفک کا نظام منظم کرنے کے لیے بنائے گئے تھے جو اب بہت پرانے ہو چکے ہیں۔ ان میں موجود اکثر و بیش تر قوانین کو لاگو ہی نہیں کیا جاتا اور یہ صرف ان آرڈیننس کی حد تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔

پلوں کے نیچے، سڑک کنارے اور جھونپڑیوں میں زندگی؛ کراچی میں بے گھری میں تشویش ناک اضافہ

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے