• ستمبر 9, 2026
  • Last Update ستمبر 9, 2026 8:36 شام
  • Australia

سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)

لندن : دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کی تیارکردہ امفِنزی، جس کا طبی یا جنرک نام ڈروالوماب ہے، پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج کے لیے ایک جدید اور انتہائی مؤثر امیونو تھراپی دوا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ دوا روایتی کیموتھراپی سے مختلف ہے کیونکہ یہ کینسر کے خلیات کو براہ راست مارنے کے بجائے قوت مدافعت کو کینسر کے خلاف لڑنے کے لیے مضبوط بناتی ہے۔

کمپنی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کی کینسر کی دوا امفِنزی کو امریکی کمپنی ایمجن کی ٹارگٹڈ امیونوتھراپی امڈیلٹرا (ٹرلاٹامب) کے ساتھ استعمال کرنے سے مریضوں کی صحت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔

یہ نتائج آخری مرحلے کے ڈیلفی 305 کلینیکل ٹرائل میں سامنے آئے۔ تحقیق میں ایسے مریض شامل تھے جن میں ابتدائی معیاری علاج کے بعد بیماری آگے نہیں بڑھی تھی، ان مریضوں کو امفِنزی کے ساتھ پلاٹینم کیموتھراپی اور ایٹوپو سائیڈ پر مشتمل ابتدائی علاج دیا گیا تھا۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق ابتدائی علاج کے بعد امفِنزی اور ٹرلاٹامب کو بطور مستقل علاج جاری رکھنے سے مریضوں کی صورتحال میں نمایاں بہتری نظر آئی۔

آسٹرا زینیکا کی آنکولوجی اور ہیماٹولوجی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کی ایگزیکٹو نائب صدر سوزن گالبریتھ نے کہا کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ امفِنزی پر مبنی ابتدائی علاج کے بعد امفِنزی اور ٹرلاٹامب کا امتزاج اس انتہائی خطرناک قسم کے پھیپھڑوں کے کینسر میں مجموعی بقا میں غیر معمولی بہتری لا سکتا ہے۔

ان کے مطابق یہ نتائج چھوٹے خلیوں والے پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں امفِنزی کے اہم کردار کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔

پھیپھڑوں کا کینسر کتنا خطرناک ہے؟

پھیپھڑوں کا کینسر دنیا بھر میں کینسر سے ہونے والی اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے اور عالمی سطح پر کینسر سے ہونے والی تقریباً 19 فیصد اموات پھیپھڑوں کے کینسر کے باعث ہوتی ہیں۔

اگرچہ امیونوتھراپی کی نئی ادویات کے باعث حالیہ برسوں میں علاج کے نتائج بہتر ہوئے ہیں، تاہم بیماری کی تشخیص کے بعد پانچ سال تک زندہ رہنے کی شرح اب بھی کم ہے۔

محدود درجے کے ایس سی ایل سی میں تقریباً 18.1 فیصد جبکہ وسیع درجے کے ایس سی ایل سی میں صرف 3.6 فیصد مریض پانچ سال بعد زندہ رہتے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے