• ستمبر 8, 2026
  • Last Update ستمبر 8, 2026 10:34 شام
  • Australia

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)

دوست کو بائیک خرید کر دینے کیلیے لڑکی نے جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیا

کراچی : میر رضا کیس میں پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے کمیشن میں بیان قلمبند کرادیا، جس میں انھوں نے بتایا کہ اے آئی جی کراچی سے بات ہوئی تو انہوں نے کہا یہ سیدھا خود کشی کا کیس ہے تو میں نے کہا مجھے ایسا نہیں لگتا۔

تفصیلات کے مطابق میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی جاری رہی، میر رضا کے والد اور بہن سمیت تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری، ایس ایچ او عدیل افضل اور ہیڈ محرر ذیشان کمیشن میں پیش ہوئے۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ اور میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر نسیم احمد بھی کمیشن کے سامنے پیش ہوئے، جہاں ڈاکٹر سمیعہ سید کا بیان قلمبند کیا گیا۔

ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ وہ 10 جون 2022 سے کراچی میں پولیس سرجن کے عہدے پر خدمات انجام دے رہی ہیں اور اب تک کراچی اور ٹھٹھہ میں 99 قبرکشائیاں کرچکی ہوں، پی آئی اے دہشت گردی کیس میں ایک روز میں 11 پوسٹ مارٹم بھی کیے۔

جوڈیشل کمیشن نے پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار سے متعلق سوالات کیے، جس پر ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ قانون کے تحت پوسٹ مارٹم کے دوران لاش کی تصاویر لینا لازمی ہے، پوسٹ مارٹم سے قبل لاش کی ظاہری حالت اور ڈی کمپوزیشن سے متعلق نوٹس لیا جاتا ہے، جبکہ سر سے پیر تک تمام زخموں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

پولیس سرجن کا کہنا تھا کہ ہر زخم کو ثابت کرنے کیلئے تصویر ضروری ہوتی ہے اور یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ زخم موت سے پہلے لگا یا بعد میں پوسٹ مارٹم کے دوران زیادتی، فریکچر اور دیگر شواہد کا جائزہ لینے کے ساتھ موت کے وقت کا بھی تعین کیا جاتا ہے، جبکہ کیمیکل تجزیے کے بعد حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کی جاتی ہے۔

کمیشن نے ڈاکٹر اسامہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ پوسٹ مارٹم کے دوران سویپر نے معاونت کی تھی، جس پر ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ ڈاکٹر اسامہ کا بیان درست نہیں، وہاں موجود شخص سویپر نہیں بلکہ لیب اسسٹنٹ تھا، لیب اسسٹنٹ شعیب راشد پوسٹ مارٹم کیلئے تربیت یافتہ ہیں۔

ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ جناح اسپتال میں روزانہ 15 سے 18 پوسٹ مارٹم ہوتے ہیں، اس لیے ان کیلئے تمام پوسٹ مارٹم میں شامل ہونا ممکن نہیں تاہم ہائی پروفائل یا مشکوک کیس کی صورت میں وہ خود پوسٹ مارٹم کی نگرانی کرتی ہیں۔

میڈیکو لیگل افسران سے متعلق سوال پر ڈاکٹر سمیعہ نے کہا کہ افسران کو تربیت اور پروٹوکول فراہم کیے جاتے ہیں، تاہم بعض افسران تربیت کے باوجود دلچسپی نہیں لیتے، محکمہ کے پاس 42 میڈیکو لیگل افسران ہیں، مسئلہ تعداد کا نہیں بلکہ دلچسپی کا ہے۔

میر رضا کیس کے حوالے سے ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ کیس کے میڈیکو لیگل افسر ڈاکٹر اسامہ کو باقاعدہ تربیت دی گئی تھی، 29 جولائی کو شام 5 بج کر 46 منٹ پر ڈاکٹر اسامہ سے بات ہوئی، جس میں انہوں نے گلستان جوہر سے دو روز پرانی لاش آنے سے متعلق بتایا۔

پولیس سرجن کا کہنا تھا کہ لاش کی شناخت، ہسٹری اور گولی کے نشان سے متعلق سوال کیا، جبکہ ڈاکٹر اسامہ نے پوسٹ مارٹم رجسٹر کی تصویر ٹکڑوں میں بھیجی، 30 جولائی کو دوپہر 2 بجے گولی کے ایگزٹ کے بارے میں بھی پوچھا گیا اور ڈاکٹر اسامہ سے پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تصاویر بھیجنے کا کہا گیا۔

Mir Raza Ali case – Latest News and Updates

کمیشن نے ڈاکٹر سمیعہ اور ڈاکٹر اسامہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کے اسکرین شاٹس کمیشن کو فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔

ڈاکٹر سمیعہ نے مزید بتایا کہ ان کی اے آئی جی کراچی، ایس ایس پی زبیر نذیر اور سمیع اللہ سومرو سے بھی بات ہوتی رہی، اے آئی جی نے اسے خودکشی کا کیس قرار دیا، جس پر میں نے جواب دیا کہ انہیں ایسا نہیں لگتا۔

دورانِ کارروائی میر رضا کے اہلخانہ کے وکیل جبران ناصر کے سوال پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو نے اعتراض کیا تو کمیشن نے اعتراض کو کارروائی میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کارروائی کچھ دیر کیلئے معطل کردی۔

جسٹس عمر سیال نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے کہا کہ وہ کمیشن کی کارروائی میں مداخلت کررہے ہیں، جس پر جواد ڈیرو نے جواب دیا کہ وہ مداخلت نہیں بلکہ معاونت کررہے ہیں۔

جبران ناصر کے سوالات کے حق میں جسٹس عمر سیال نے کہا کہ اہلخانہ کے وکیل سوال کرسکتے ہیں، جبکہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا مؤقف تھا کہ سوال وکیل کو نہیں بلکہ کمیشن کو کرنا چاہیے۔

بعد ازاں میر رضا جوڈیشل کمیشن نے وزیر داخلہ سندھ کو بھی طلب کرلیا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے