ایرانی عہدیدار کی دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں بحری آمدورفت پہلے ہی شدید متاثر ہے
تہران: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے خلاف معاشی جنگ جاری رکھی تو تہران خلیج فارس میں بحری اخراجی زون قائم کرسکتا ہے۔
محسن رضائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایران کے خلاف معاشی جنگ کا جواب خلیج فارس میں اس علاقے تک بحری اخراجی زون قائم کرکے دیا جائے گا جہاں امریکی ناکا بندی کی حدود موجود ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں نئے میزائلوں کے ذریعے امریکا کو واضح پیغام دیا ہے۔ رضائی کے مطابق تہران نے امریکی جنگی بحری جہازوں اور فوجی اڈوں کے حوالے سے اپنی فوجی حکمت عملی میں بھی بنیادی تبدیلی کی ہے۔
ایرانی عہدیدار کی دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں بحری آمدورفت پہلے ہی شدید متاثر ہے اور امریکا و ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
In recent days,Washington has received a clear warning from Iran’s new missiles. Economic warfare will be met by a maritime exclusion zone across the Persian Gulf to the blockade perimeter.The operational posture toward U.S. warships and bases has been fundamentally recalibrated. — محسن رضایی (@ir_rezaee) September 7, 2026
In recent days,Washington has received a clear warning from Iran’s new missiles. Economic warfare will be met by a maritime exclusion zone across the Persian Gulf to the blockade perimeter.The operational posture toward U.S. warships and bases has been fundamentally recalibrated.
رائٹرز کے مطابق ایران نے ایک نئی بحری پابندی والے علاقے کے قیام کی بھی دھمکی دی ہے، جس میں داخل ہونے والے غیرمجاز بحری جہازوں کو پابندیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اس لیے خلیج میں کسی نئے بحری اخراجی زون کے قیام سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

