• ستمبر 8, 2026
  • Last Update ستمبر 8, 2026 4:24 شام
  • Australia

چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل

دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا

’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)

دوست کو بائیک خرید کر دینے کیلیے لڑکی نے جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیا

سنگاپور : امریکا ایران جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کی جزوی بندش اور سپلائی میں تعطل کے باوجود عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر کا ہندسہ تاحال عبور نہیں کرسکی۔

تاہم آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر امریکا اور ایران کے تازہ حملوں کے بعد عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں طویل تعطل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز برینٹ خام تیل کی قیمت 0.54 فیصد اضافے کے بعد 96.80 ڈالرز فی بیرل رہی۔

رواں ماہ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھنے کے باوجود 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے نیچے ہے، حالانکہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی میں اضافے کے باعث آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر کے ذریعے خلیجی ممالک کی تیل برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق توانائی کے شعبے کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے ادارے آرگس کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے اس وقت تقریباً 11 ملین بیرل یومیہ خام تیل کی ترسیل ہو رہی ہے جو ایران جنگ شروع ہونے سے قبل 18 ملین بیرل یومیہ تھی۔

اس حوالے سے عالمی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمتوں کو 100 ڈالر سے نیچے رکھنے میں کئی عوامل اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل

رائسٹڈ انرجی کے چیف اکانومسٹ کلاڈیو گالمبرتی کے مطابق 30 اگست کو دوبارہ لڑائی شروع ہونے سے ایک ہفتہ قبل آبنائے ہرمز سے تقریباً 8 سے 9 ملین بیرل یومیہ تیل گزر رہا تھا، جو اس سے پچھلے ہفتے کے مقابلے میں تقریباً دوگنا تھا۔

اگرچہ بعد میں یہ ترسیل کم ہو کر 2 ملین بیرل یومیہ سے بھی نیچے آگئی، تاہم یومیہ اوسط اب بھی تقریباً 4سے 5 ملین بیرل ہے، ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ترسیل کو دیکھتے ہوئے برینٹ کی مناسب قیمت تقریباً 95ڈالر فی بیرل بنتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2 ستمبر کے بعد سے آبنائے ہرمز سے کسی بڑے خام تیل بردار جہاز کے نکلنے کے شواہد بھی سامنے نہیں آئے۔ تاہم جولائی میں امریکا اور ایران کے درمیان عارضی امن معاہدے کے دوران ہرمز سے تیل کی ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح یعنی 16 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔

خلیجی ممالک کے متبادل راستے

خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک نے برآمدات جاری رکھنے کے لیے متبادل راستے اور طریقے اختیار کرلیے ہیں۔ توقع ہے کہ آبنائے ہرمز سے باہر ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقل کرنے کا عمل بھی جاری رہے گا، جس سے سپلائی میں کمی کے اثرات کسی حد تک کم ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی آرامکو نے اگست میں خلیج کے اندر واقع راس تنورہ بندرگاہ سے تیل کی لوڈنگ دوبارہ شروع کردی، تاہم بحیرۂ احمر کی بندرگاہ ینبع سے برآمدات ایران کے حامی یمنی حوثیوں کی بحری ناکہ بندی کے باعث دباؤ میں ہیں۔

ینبع سے اگست میں تیل کی برآمدات کم ہو کر 1.429 ملین بیرل یومیہ رہ گئیں، جو اس سے قبل کے تین ماہ کی اوسط 3.9 ملین بیرل یومیہ تھی۔

دوسری جانب مصر کی متبادل بندرگاہ سیدی کریر سے اگست میں برآمدات بڑھ کر 2.139 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، جو جون کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہیں۔

عراق کی تیل برآمدات بھی اگست میں بڑھ کر تقریباً 2.34 ملین بیرل یومیہ ہوگئیں، جبکہ متحدہ عرب امارات کی برآمدات جولائی اور اگست میں تقریباً 2.9 ملین بیرل یومیہ رہیں۔

کویت کی خام تیل برآمدات بھی تقریباً 1 ملین بیرل یومیہ تک بحال ہوچکی ہیں، تاہم امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کی تیل برآمدات میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

امریکا، کینیڈا اور گیانا کی پیداوار میں اضافہ

اوپیک سے باہر کے ممالک بھی عالمی منڈی میں سپلائی کا خلا پُر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

رائسٹڈ انرجی کے مطابق امریکا، کینیڈا اور گیانا رواں سال مجموعی طور پر اپنی تیل پیداوار میں 1.4 ملین بیرل یومیہ اضافہ کرسکتے ہیں۔

روس کی خام تیل برآمدات بھی جولائی اور اگست میں تقریباً 5.5 ملین بیرل یومیہ رہیں، جو جون کی 6.4 ملین بیرل یومیہ کی بلند ترین سطح سے کم ہیں، تاہم فروری کے مقابلے میں اب بھی 23 فیصد زیادہ ہیں۔

عالمی طلب میں نمایاں کمی

تیل کی قیمتوں کو محدود رکھنے والا ایک اہم عنصر عالمی طلب میں کمی بھی ہے۔ رائسٹڈ انرجی کے مطابق رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں پیٹرو کیمیکل اور ٹرانسپورٹ ایندھن کی طلب میں تقریباً 3.5 ملین بیرل یومیہ کمی ہوئی، اگرچہ دوسری سہ ماہی میں یہ کمی 4.5 ملین بیرل یومیہ تھی۔

دنیا کے سب سے بڑے تیل درآمد کنندہ چین کی سمندری راستے سے خام تیل کی درآمدات جولائی اور اگست میں کم ہو کر تقریباً 7 ملین بیرل یومیہ رہ گئیں، جبکہ فروری میں یہ 11 ملین بیرل یومیہ سے زیادہ تھیں۔

چین کے بڑے تیل ذخائر بھی عالمی منڈی کو کسی حد تک سہارا دے رہے ہیں۔ کیپلر کے اندازے کے مطابق چین کے پاس تقریباً 1.17 ارب بیرل تیل کے ذخائر موجود ہیں۔

خام تیل کی قلت کے آثار

اگرچہ عالمی بینچ مارک برینٹ 100 ڈالر سے نیچے ہے لیکن حقیقی یا فزیکل تیل مارکیٹ کی صورت حال مختلف تصویر پیش کر رہی ہے۔

رائٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق اسپاٹ پریمیم اپریل کی سطح تک واپس پہنچ گئے ہیں، جبکہ دبئی اور عمان کے خام تیل کی نومبر میں لوڈنگ کے لیے قیمتیں دبئی کوٹس سے 19 سے 20 ڈالر فی بیرل زیادہ ہیں۔

پیر کو عمان فیوچرز کی قیمت 104.54 ڈالر جبکہ کیش دبئی 105.10 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا تھا۔

آرگس کے چیف اکانومسٹ ڈیوڈ فائف کے مطابق فزیکل مارکیٹ اس وقت شدید قلت کی نشاندہی کر رہی ہے، جبکہ ڈیزل مارکیٹ میں بھی سپلائی کی کمی کے واضح آثار ہیں۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی خلیجی تیل برآمدات کو مزید محدود کرسکتی ہے، جبکہ ریفائنریز کی جانب سے ڈیزل کی پیداوار بڑھانے کے باعث طلب میں اضافے کا امکان ہے۔

بڑے بینکوں کی پیش گوئیاں

دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں خام تیل کی سپلائی کے بحران کے باعث متعدد بڑے بینکوں نے تیل کی قیمتوں سے متعلق کے اپنے اندازے بیان کیے ہیں۔

مورگن اسٹینلے نے رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 100 ڈالر فی بیرل رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

دوسری جانب گولڈمین سیکس نے دسمبر 2026 اور 2027 کے لیے برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمتوں کے تخمینے میں 5 ڈالر فی بیرل اضافہ کیا ہے۔

بینک کے مطابق دسمبر 2026 میں برینٹ 85 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 80 ڈالر فی بیرل جبکہ 2027 میں برینٹ 80 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 75 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے