• ستمبر 8, 2026
  • Last Update ستمبر 8, 2026 11:58 صبح
  • Australia

یمن کے صوبوں تعز، البیضا اور الجوف میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے

صنعا: یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کے حامی فورسز نے حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی شروع کرتے ہوئے دارالحکومت صنعا واپس لینے کا اعلان کردیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق یمن کے صوبوں تعز، البیضا اور الجوف میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے۔ حکومتی فورسز نے حوثی ٹھکانوں کے خلاف راکٹ اور ڈرون حملوں کے ساتھ زمینی کارروائیوں کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

یمن کے نائب وزیر دفاع میجر جنرل سمیر الصبری نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ حکومت نے صنعا کو دوبارہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی فورسز کے ترجمان ماجد النزیلی کے مطابق کارروائی کا مقصد یمن کو حوثیوں کے کنٹرول سے نکالنا اور صنعا کو تمام یمنیوں کا دارالحکومت بنانا ہے۔

حکومتی فورسز نے الجوف میں اللبانات کے پہاڑی علاقے کی جانب زمینی پیش قدمی اور البیضا میں بھی پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے۔

دوسری جانب حوثیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومتی فورسز کی پیش قدمی روک دی ہے اور جوابی کارروائی میں سرکاری فورسز کے اہلکاروں کو ہلاک یا زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 23 اگست سے جاری حالیہ لڑائی میں کم از کم 728 افراد ہلاک یا زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ صرف تعز سے تقریباً 21 ہزار افراد بے گھر ہوئے ہیں۔

یہ لڑائی 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد یمن میں ہونے والی سنگین ترین کشیدگی میں شمار کی جارہی ہے۔ تازہ جھڑپوں نے ایک بار پھر ملک میں طویل جنگ کے خاتمے اور سیاسی حل کے امکانات کو متاثر کردیا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے