سو سال تک نظروں سے اوجھل مینڈک کی نئی نسل
چور کا خوف، شہری اپنی گاڑی چھت پر لے گیا، ویڈیو وائرل
دوران پرواز مسافر کو ہنگامہ کرنا مہنگا پڑ گیا
’’جیل جانے کے لیے‘‘ لڑکی کی سُنار کی دکان میں چوری (ویڈیو)
اسلام آباد : مغل بادشاہ شاہجہاں کی تقلید کرتے بوئے اسلام آباد کے رہائشی نے بھی اپنی بیوی کی یاد میں صوبیہ محل بنوا دیا۔
مغلیہ اور راجپوتانہ طرزِ تعمیر کے امتزاج سے سجا صوبیہ محل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں موجود ایک منفرد شاہکار ہے، جس کی بنیاد زاہد بٹ نے محبت اور اپنی شریکِ حیات کے لیے اظہارِ محبت کے جذبے کے تحت رکھی گئی۔
ملائکہ اسحاق کی رپورٹ کے مطابق صوبیہ محل کی تعمیر کا آغاز 1975 سے 1978 کے درمیان ہوا، جبکہ اسے زاہد بٹ نے اپنی اہلیہ سے محبت اور شادی کی سلور جوبلی کو یادگار بنانے کے لیے تعمیر کیا۔
محل کی تعمیر کا مقصد صرف ایک خوبصورت عمارت بنانا نہیں تھا بلکہ روایتی فنِ تعمیر اور دستکاری کو محفوظ رکھنا بھی تھا۔
زاہد بٹ کے مطابق ان کی شادی ابتدا میں ایک عام تقریب تھی، تاہم سلور جوبلی کے موقع پر انہوں نے اپنی اہلیہ کے لیے ایک شاہانہ تقریب کا اہتمام کیا۔
اس موقع پر ان کی اہلیہ کو دلہن بنا کر چاندی میں تولا گیا، ان کا کہنا تھا کہ یہی وہ موقع تھا جہاں سے اس منفرد شاہکار کی تعمیر کے ساتھ محبت کی ایک نئی داستان کا آغاز ہوا۔
صوبیہ محل میں داخل ہوتے ہی دیکھنے والوں کو ماضی کے کسی شاہانہ دور میں پہنچنے کا احساس ہوتا ہے، محل کے مختلف حصوں میں ہاتھ سے کی گئی نقاشی، باریک تراش خراش، گنبد اور روایتی تزئین و آرائش اس کی خوبصورتی کو نمایاں کرتے ہیں۔
محل کے احاطے میں مختلف اقسام کے مجسمے بھی موجود ہیں جو اس کی دلکشی میں مزید اضافہ کرتے ہیں، عمارت میں روایتی فنِ تعمیر کی جھلک نمایاں ہے اور اس کے مختلف حصوں میں کاریگروں کی مہارت اور محنت دکھائی دیتی ہے۔
صوبیہ محل اس بات کی مثال ہے کہ فنِ تعمیر جب محبت اور جذبے کے ساتھ جڑ جائے تو اینٹ، پتھر اور گارے سے بھی ایک ایسی یادگار تخلیق کی جاسکتی ہے جو برسوں بعد بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہے۔
یہ محل اب فوٹوگرافرز، تاریخ اور فنِ تعمیر کے شائقین اور سیاحوں کے لیے ایک پرکشش مقام بن چکا ہے۔ اسلام آباد میں موجود یہ منفرد عمارت نہ صرف اپنی تعمیراتی خوبصورتی بلکہ محبت سے جڑی اپنی دلچسپ داستان کے باعث بھی لوگوں کی توجہ حاصل کرتی ہے۔
