<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>یوکرین &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Tue, 03 Nov 2026 15:58:58 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>یوکرین &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>میل نیا ٹرمپ روس اور یوکرین کے نمائندوں کی میزبانی وائٹ ہاؤس میں کریں گی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4859/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4859/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 15:58:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[امن_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فائر_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[میلنیا_ٹرمپ]]></category>
		<category><![CDATA[وائٹ_ہاؤس]]></category>
		<category><![CDATA[واشنگٹن]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false"></guid>

					<description><![CDATA[وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکہ کی خاتونِ اول جنگ زدہ فریقین کے مابین ملاقات کی میزبانی کریں گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکہ کی خاتونِ اول میل نیا ٹرمپ واشنگٹن میں روس اور یوکرین کے نمائندوں کی میزبانی کے فرائض انجام دیں گی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے منگل کے روز جاری کردہ بیان کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک کے فریقین کو مدعو کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس نے یوکرین کے ساتھ نئے امن مذاکرات کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ یہ ملاقات فائر بندی کے امور پر تبادلہ خیال کے لیے واشنگٹن میں منعقد کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائٹ ہاؤس نے اس پیش رفت کو امریکی تاریخ کا ایک غیر معمولی لمحہ قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات کا مقصد دونوں جنگ زدہ ممالک کے درمیان جاری تنازع کو حل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تقریب کے انعقاد کے لیے تاحال کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے شرکاء کے ناموں یا اس اجلاس میں شرکت کرنے والی شخصیات کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی حکام اور سفارتی ذرائع کی جانب سے بھی اس سلسلے میں تصدیق سامنے آ چکی ہے کہ فریقین کے درمیان رابطے جاری ہیں۔ امریکی صدر کے دفتر سے جاری بیان میں اس ملاقات کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ماسکو کی طرف سے یوکرین میں مسافروں کو نشانہ بنانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان حملوں کے باوجود سفارتی سطح پر رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی خاتونِ اول کو اولیشکی میں ریلیف کے لیے طے پانے والی عارضی فائر بندی کے معاملے پر بھی سراہا گیا ہے۔ اس امدادی فائر بندی کو دونوں فریقین کے مابین کشیدگی کم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس اور یوکرین کے درمیان جاری مسلح تنازع کے باعث خطے میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والی اس متوقع ملاقات کو بین الاقوامی سطح پر بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران فائر بندی کے نفاذ اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی کے امور پر بات چیت کی توقع ہے۔ ماہرین اور مبصرین اس پیش رفت کو ایک اہم سفارتی قدم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ اس ملاقات کی تیاریوں کے حوالے سے مزید معلومات وقت آنے پر شیئر کی جائیں گی۔ انتظامیہ اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے پرامید دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے بحران کے حل کے لیے ماضی میں بھی متعدد بین الاقوامی کوششیں کی جا چکی ہیں جن کے دوران مختلف ممالک نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ اب واشنگٹن میں ہونے والا یہ اجلاس اس سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روس کی جانب سے امن مذاکرات کی تصدیق کے بعد عالمی منڈی اور سیاسی حلقوں میں اس کے مثبت اثرات کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے نمائندگان اس ملاقات میں اپنے اپنے مؤقف کی ترجمانی کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ میں ہونے والے اس اعلیٰ سطح کے رابطے کا مقصد فریقین کے درمیان پائی جانے والی خلیج کو کم کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس تمام عمل کے دوران سکیورٹی اور دیگر پروٹوکول کے امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ملاقات کے انعقاد سے قبل دونوں ممالک کے درمیان مختلف محاذوں پر کشیدگی میں کمی بیشی دیکھی گئی ہے۔ تاہم واشنگٹن کا یہ اقدام امن کی بحالی کی جانب ایک انوکھا اور غیر معمولی قدم سمجھا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4859/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یوکرین اور روس میں ایئر الرٹ ایپس ہیک، جعلی ایٹمی و کیمیائی وارننگز جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4744/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4744/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Nov 2026 18:44:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایٹمی_وارننگ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روس_یوکرین_جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[سائبر_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[صوفیہ_کوچمار]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فضائی_الرٹ]]></category>
		<category><![CDATA[کیف]]></category>
		<category><![CDATA[لویو]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/4744/</guid>

					<description><![CDATA[سائبر حملے کے دوران یوکرینی ایپس پر ایٹمی حملے اور سڑکوں پر لڑائی کے جھوٹے پیغامات بھیجے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یوکرین اور روس میں فضائی الرٹ فراہم کرنے والی اہم موبائل ایپلیکیشنز کو نامعلوم ہیکرز کی جانب سے سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اتوار کی رات ان سسٹمز سے شہریوں کے سمارٹ فونز پر انتہائی خوفناک اور غیر معمولی نوعیت کے جعلی انتباہات موصول ہونا شروع ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان پیغامات میں دعویٰ کیا گیا کہ ملک پر مبینہ طور پر ایٹمی حملے، کیمیائی حملے اور دارالحکومت کی سڑکوں پر جنگ شروع ہونے والی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے مختلف شہروں میں بسنے والے شہریوں کے فونز پر یہ اطلاعات چند منٹوں کے اندر اندر تیزی کے ساتھ پھیل گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں جاری طویل جنگ کے تناظر میں ان الرٹس کو دیکھ کر شہریوں میں ابتدائی طور پر شدید تشویش اور خوف کی لہر دوڑ گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مغربی شہر لویو کی رہائشی چونتیس سالہ صوفیہ کوچ مار نے اس واقعے پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ &quot;پہلی چیز جو میں نے دیکھی وہ &#039;ایٹمی&#039; کا لفظ تھا اور اس نے مجھے کافی گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا کر دیا، تو میرا پہلا خیال یہی تھا کہ کوئی ایٹمی چیز واقعی ہماری طرف اڑ کر آ رہی ہے۔&quot;</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید بتایا کہ &quot;مگر پھر نوٹیفکیشن میں &#039;کیف میں اسڑکوں پر لڑائی&#039; کا ذکر آگیا، اور میں نے سوچا کہ انتظار کرو، نہیں، یہ ناممکن ہے۔&quot;</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیف کی انتیس سالہ بیلارینا اینستاسیا رومانیتسکا نے بتایا کہ انہوں نے اپنے فون میں الرٹ ایپ انسٹال نہیں کر رکھی تھی لیکن دوستوں نے انہیں یہ پیغامات فارورڈ کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ &quot;میرا پہلا ردعمل یہ تھا کہ کیا یہ کسی قسم کا مذاق ہے، لیکن پھر میرے جسم نے ایسے ردعمل دیا جیسے میں دباؤ میں ہوں، میرا دل تیز دھڑکنے لگا اور معدہ جکڑ گیا۔&quot;</p>
<p class="wp-block-paragraph">بعض جعلی پیغامات میں روسی زبان کے الفاظ استعمال کیے گئے تھے جبکہ ایک پیغام میں مبینہ طور پر ہیکر گروپ کے ٹیلی گرام چینل کا لنک بھی درج تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صورتحال کے فوراً بعد یوکرین کی فضائیہ نے پندرہ منٹ کے اندر ایک باضابطہ بیان جاری کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فضائیہ کے بیان میں واضح کیا گیا کہ الرٹ ایپ کو کسی نے ہیک کر لیا ہے اور ریڈی ایشن کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم تمام متعلقہ علاقوں میں &quot;آل کلیئر&quot; کے باضابطہ پیغامات جاری کرنے میں ایک گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگ گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیف اسکول آف اکنامکس کے سائبر سیکیورٹی ماہر ییوجین بالیوتوف نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے بی بی سی کو تفصیلات بتائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہر کے مطابق یہ بات بالکل واضح تھی کہ یوکرین کے الرٹ سسٹم کو روسی عناصر یا ہیکرز نے نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے وضاحت کی کہ بہت سے شہریوں نے الرٹس میں موجود لنک پر کلک کیا جو روسی ٹیلی گرام چینل کی طرف جاتا تھا، جس سے وہ مزید غلط معلومات اور فشنگ حملوں کی زد میں آسکتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس طرح کے حربے جنگی حالات میں پروپیگنڈا اور نفسیاتی دباؤ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، یوکرین کے شہریوں نے اس خوفناک صورتحال کے فوراً بعد اس پر ہلکا پھلکا انداز اپناتے ہوئے مذاق کرنا شروع کر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوفیہ کوچ مار نے بتایا کہ کام کے تمام گروپ چیٹس میں فوری طور پر پیغامات کا طوفان آ گیا اور سب لوگ اس بات پر تبادلہ خیال کرنے لگے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ &quot;اور جو چیز مجھے حیران کن لگی وہ یہ تھی کہ کتنی جلدی ہم سب نے اس پورے معاملے کو ایک مذاق میں تبدیل کر دیا۔&quot;</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین نے تنبیہ کی ہے کہ اگرچہ اس واقعے کے فوری اثرات محدود رہے لیکن اس نے اہم ترین سرکاری سسٹمز کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ ساڑھے چار سالہ جنگ کے دوران پہلے ہی عوام کو مسلسل خطرات سے باخبر رکھنا ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب حکام کے لیے یہ بھی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ شہریوں کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ ان کے حفاظتی نظام مضبوط اور قابلِ اعتماد ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4744/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یوکرین میں روسی حملوں سے بجلی کا نظام درہم برہم، درجنوں علاقے تاریکی میں ڈوب گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4551/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4551/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 20:58:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اولیشکی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹریاٹ_میزائل]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ]]></category>
		<category><![CDATA[خیرسون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرون_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[روسی_حملے]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[نزنی_نووگوروڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ولادیمیر_زیلنسکی]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%db%8c%d9%88%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%d9%88%d8%b3%db%8c-%d8%ad%d9%85%d9%84%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%a8%d8%ac%d9%84%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%86%d8%b8%d8%a7%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[یوکرین کے چار علاقوں میں توانائی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ روس کے علاقے نزنی نووگوروڈ میں ڈرون حملے سے صنعتی تنصیب کو نقصان پہنچا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بتایا ہے کہ گزشتہ رات روس کی جانب سے کیے گئے شدید فضائی حملوں کے نتیجے میں ملک کے چار مختلف علاقوں میں بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے، جس سے لاکھوں گھروں کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کی ریاستی ایمرجنسی سروس کے مطابق، ونیٹسیا کے علاقے میں ہونے والے ایک حملے میں 13 سالہ بچی سمیت دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی تنصیبات پر مسلسل حملوں کے باعث ملک بھر میں ہنگامی بنیادوں پر بجلی کی کٹوتی کی جا رہی ہے اور دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں میں پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں روس کے علاقے نزنی نووگوروڈ میں ایک صنعتی تنصیب کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔ مقامی گورنر گلیب نکیتن نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں کو ایندھن کی خریداری میں احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ متاثرہ تنصیب تیل یا ایندھن کی سپلائی سے منسلک تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ رات یوکرین کے 235 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔ یوکرین کی فضائیہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز سے اب تک روس کے 433 میں سے 371 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کو مار گرایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے صدر نے ٹیلی گرام پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ روس بیلسٹک میزائلوں کو روکنے والے انٹرسیپٹرز کی کمی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کو پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ روسی حملوں کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دریں اثنا، خیرسون کے علاقے اولیشکی میں جاری مقامی جنگ بندی کا وقت اتوار کی رات ختم ہو رہا ہے۔ یہ عارضی جنگ بندی گزشتہ ہفتے شروع ہوئی تھی جس کا مقصد محصور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کے انسانی حقوق کے محتسب دمیترو لوبینٹس کے مطابق، اس جنگ بندی کے دوران 94 سالہ بزرگ سے لے کر ایک سال کے بچے تک، سینکڑوں افراد کو اولیشکی سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ یہ شہر فروری 2022 سے روسی قبضے میں ہے اور وہاں خوراک اور بجلی کی شدید قلت پائی جاتی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین نے روس کے روستوو ریجن میں واقع کا مین سکی پلانٹ کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جو مبینہ طور پر روسی میزائلوں کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ تاہم ماسکو کی جانب سے اس مخصوص حملے کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یوکرین کی جانب سے روسی ریفائنریز پر حملے عالمی ایندھن کی منڈی میں عدم توازن پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان کارروائیوں سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یوکرین کا مؤقف ہے کہ وہ توانائی کے اہداف پر مکمل جنگ بندی کے حق میں ہے، تاہم ان کا الزام ہے کہ ماسکو اس معاہدے پر آمادہ نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کا تبادلہ جاری ہے جس سے فرنٹ لائن کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4551/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بحیرہ اسود میں محدود جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششیں تیز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/4425/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/4425/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 12:58:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[اناج_کی_ترسیل]]></category>
		<category><![CDATA[بحیرہ_اسود]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ترکیہ]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[جنگ_بندی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[روس]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_تجارت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کینیڈا]]></category>
		<category><![CDATA[مارکو_روبیو]]></category>
		<category><![CDATA[یوکرین]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%d8%ad%db%8c%d8%b1%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%88%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d8%ad%d8%af%d9%88%d8%af-%d8%ac%d9%86%da%af-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ اناج اور توانائی کی بلا تعطل ترسیل کے لیے ترکیہ اور بھارت کی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز اٹلانٹا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ عالمی برادری بحیرہ اسود میں ایک محدود جنگ بندی کے قیام میں گہری دلچسپی لے رہی ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود توانائی اور اناج کی عالمی منڈیوں تک بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مارکو روبیو نے واضح کیا کہ امریکہ اس وقت ترکیہ اور بھارت کی جانب سے پیش کردہ مختلف تجاویز کا بغور جائزہ لے رہا ہے تاکہ اناج کی ترسیل کے عمل کو دوبارہ فعال کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ان تجاویز پر غور کا مقصد سپلائی چین میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگرچہ بحیرہ اسود میں محدود جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت بڑھ رہی ہے، تاہم امریکہ اس طویل تنازعے کے ایک وسیع تر اور جامع مذاکراتی حل کے لیے بھی اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکہ اور کینیڈا سمیت دیگر عالمی قوتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ جنگی حالات کے باوجود انسانی بنیادوں پر اناج کی ترسیل کا تسلسل برقرار رہنا چاہیے۔ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کا یہ مطالبہ ہے کہ بحیرہ اسود کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے محفوظ بنایا جائے تاکہ دنیا بھر میں غذائی قلت کے خدشات کو کم کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/4425/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
