<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>گوگل_میپس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%da%af%d9%88%da%af%d9%84_%d9%85%db%8c%d9%be%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 13:26:44 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>گوگل_میپس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>گوگل میپس کی ایک عام غلطی جو سمارٹ فون کی بیٹری جلدی ختم کرتی ہے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/technology/2358/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/technology/2358/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 12:38:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[سائنس و ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسمارٹ_فون]]></category>
		<category><![CDATA[انٹرنیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[جی_پی_ایس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیتال_دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائنس_و_ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گوگل_میپس]]></category>
		<category><![CDATA[لوکیشن_سیٹنگ]]></category>
		<guid isPermaLink="false"></guid>

					<description><![CDATA[ماہرین کے مطابق گوگل میپس کی ترتیبات میں ایک معمولی سی تبدیلی کر کے فون کی بیٹری کو تیزی سے ختم ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسمارٹ فون کا استعمال آج کے دور میں دنیا بھر میں انتہائی عام ہو چکا ہے اور اس میں مختلف نوعیت کی ایپلی کیشنز کا استعمال روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ ان میں نیوی گیشن اور راستے تلاش کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ایپلی کیشنز کو نمایاں اہمیت حاصل ہے جن میں گوگل میپس سرفہرست ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دنیا بھر میں کروڑوں افراد روزانہ کی بنیاد پر اپنے موبائل فونز میں گوگل میپس کا استعمال کرتے ہیں تاکہ نامعلوم مقامات تک رسائی حاصل کی جا سکے اور سفر کو آسان بنایا جا سکے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ شکایت بھی عام پائی جاتی ہے کہ یہ ایپلی کیشن اسمارٹ فون کی بیٹری کو بہت تیزی سے ختم کرنے کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیٹری کے اس تیزی سے زائل ہونے کی بنیادی وجوہات میں جی پی ایس کا مسلسل استعمال، گرافکس کی ریڈ رنگ اور نیوی گیشن کے دوران اسکرین کا فعال رہنا شامل ہے۔ یہ عوامل فون کے پاور سورس پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں جس سے بیٹری کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ بھی ایک اور اہم وجہ ہے جس کی بنا پر یہ ایپلی کیشن استعمال نہ ہونے کے باوجود پس منظر میں بیٹری کی بڑی مقدار خرچ کرتی رہتی ہے۔ صارفین کی جانب سے کی جانے والی ایک عام سی غفلت اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وہ بنیادی غلطی گوگل میپس کے لیے لوکیشن تک رسائی کو ہر وقت کے لیے فعال رکھنا ہے جسے اکثر صارفین تبدیل کرنا بھول جاتے ہیں۔ فون میں اس ایپلی کیشن کی لوکیشن پرمیشن بائی ڈیفالٹ ہر وقت کی اجازت پر سیٹ ہوتی ہے جو بیٹری کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ڈیفالٹ سیٹنگ کی وجہ سے جی پی ایس ڈیوائس کے اندر مسلسل فعال رہتا ہے اور گوگل میپس کی جانب سے بار بار صارف کی پوزیشن کی جانچ کی جاتی ہے۔ چاہے وہ ایپلی کیشن مکمل طور پر بند ہی کیوں نہ کی گئی ہو، یہ عمل پس منظر میں جاری رہتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہی وجہ ہے کہ اگر صارف گوگل میپس کا استعمال نہیں بھی کر رہا ہو تب بھی یہ ایپ پس منظر میں بیٹری پاور کو مسلسل استعمال کرتی رہتی ہے جو کہ فون کی مجموعی کارکردگی اور بیٹری لائف پر اثرانداز ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خوش قسمتی سے اس مسئلے کا حل موجود ہے اور چند آسان اقدامات کی مدد سے اسمارٹ فون کی بیٹری کو اس غیر ضروری خرچ سے بچایا جا سکتا ہے۔ صارفین کو اس ضمن میں صرف اپنے فون کی ترتیبات میں کچھ تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مقصد کے لیے سب سے پہلے اپنے موبائل فون کی مرکزی ترتیبات یعنی سیٹنگز میں جانا ہوگا جہاں تمام ایپلی کیشنز کی فہرست موجود ہوتی ہے۔ اس فہرست میں سے گوگل میپس کو تلاش کر کے کھولنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گوگل میپس کی ترتیبات میں داخل ہونے کے بعد پرمیشنز کے سیکشن کا انتخاب کیا جاتا ہے جہاں مختلف اجزاء تک رسائی کی اجازت دی گئی ہوتی ہے۔ پرمیشنز کے اندر لوکیشن کے آپشن پر کلک کرنا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لوکیشن کی ترتیبات میں جا کر &#039;الاؤ آل دی ٹائم&#039; کے آپشن کو تبدیل کرنا لازمی ہے کیونکہ یہی وہ آپشن ہے جو پس منظر میں بیٹری کے زوال کا باعث بنتا ہے۔ اس کے بجائے &#039;الاؤ اونلی وائل زنگ دی ایپ&#039; کے آپشن کو منتخب کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ایک معمولی سی تبدیلی کو نافذ کرنے کے بعد گوگل میپس صرف اسی وقت لوکیشن ڈیٹا تک رسائی حاصل کرے گا جب صارف خود اس ایپلی کیشن کو استعمال کر رہا ہوگا۔ اس سے پس منظر میں ہونے والا غیر ضروری بیٹری کا استعمال رک جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیکنالوجی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اسمارٹ فونز میں دوسری ایسی ایپس کی ترتیبات کا بھی وقتاً فوقتاً جائزہ لیتے رہیں جو بلاوجہ بیٹری کی کھپت کا سبب بنتی ہیں۔ اس طرح فون کی بیٹری نہ صرف زیادہ دیر تک چلتی ہے بلکہ اس کی مجموعی عمر میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/technology/2358/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
