<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>گورنر_راج &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1_%d8%b1%d8%a7%d8%ac/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 10 Oct 2026 21:48:56 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>گورنر_راج &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج: سیاسی اتفاق رائے کا فقدان اور جمہوری تقاضے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/columns/26/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/columns/26/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ادارتی تجزیہ]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:48:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_ماہرین]]></category>
		<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوری_عمل]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رائے]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/columns/26/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی کوششوں کو اتحادی جماعتوں کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد سیاسی بحران گہرا ہو گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بازگشت نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے اس حساس معاملے پر اہم سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے گئے ہیں تاکہ کسی متفقہ لائحہ عمل تک پہنچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے وفاقی حکام کی ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل رہی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے لیے اے این پی کی حمایت مانگی تھی، تاہم ایمل ولی خان نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے جمہوری عمل کے تسلسل پر زور دیا اور اسے صوبائی حکومت کے لیے غیر مناسب قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وزیر داخلہ کی جانب سے اے این پی کے رہنما امیر حیدر ہوتی کو گورنر بنانے کی پیشکش بھی سامنے آئی، جسے سیاسی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، ایمل ولی خان کا دو ٹوک موقف یہ رہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ انتظامی اقدامات کے بجائے سیاسی مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں۔ اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے اس مخالفت نے وفاقی حکومت کے لیے فیصلہ سازی کا عمل مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی قدم ہے جو صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائے یا امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو۔ اس اقدام کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری اور پارلیمانی نگرانی کا عمل بھی ناگزیر ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ بیانات میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا موقف ہے کہ حکومت نے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، تاہم حالات کے پیش نظر سخت فیصلے ناگزیر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت کے کسی بھی ممکنہ اقدام کی سخت مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا کوئی بھی غیر آئینی اقدام عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوگا۔ یہ محاذ آرائی صوبے میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات کو مزید بڑھا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے گورنر راج کو جمہوری طور پر ناپسندیدہ قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں اسے ایک آئینی آپشن کے طور پر دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو دہشت گردی کے خلاف اپنا موقف واضح کرنا چاہیے تاکہ معاملات بہتر ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت وفاقی حکومت کو صوبائی معاملات میں مداخلت کے اختیارات حاصل ہیں، لیکن سپریم کورٹ ماضی میں یہ اصول طے کر چکی ہے کہ بدنیتی یا آئینی حدود سے تجاوز کی صورت میں عدالتی مداخلت ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ہر قدم انتہائی احتیاط اور قانونی مشاورت کے ساتھ اٹھانا چاہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں گورنر راج کا نفاذ دور رس سیاسی نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ اے این پی اور جے یو آئی (ف) کی مخالفت کے بعد وفاقی حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اب تمام تر نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ حکومت سیاسی مذاکرات کا راستہ اپناتی ہے یا کوئی اور لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کے مابین مشاورت اور اتفاق رائے ہی استحکام کی ضمانت ہے۔ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ امید ہے کہ تمام فریقین ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کسی ایسے نتیجے تک پہنچیں گے جو جمہوری اقدار کے منافی نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ خیبر پختونخوا کا مستقبل سیاسی تدبر اور آئینی پاسداری سے جڑا ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایسے اقدامات کرے جس سے صوبے میں امن بھی قائم ہو اور جمہوری عمل بھی متاثر نہ ہو۔ آنے والے چند روز ملکی سیاست کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/columns/26/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آئین کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج کا طریقہ کار: اہم قانونی نکات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آرٹیکل_232]]></category>
		<category><![CDATA[آرٹیکل_234]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[صدر_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/</guid>

					<description><![CDATA[ملک میں ہنگامی صورتحال یا آئینی بحران کے دوران آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت وفاقی حکومت کے اختیارات اور پارلیمانی منظوری کا طریقہ کار واضح ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے آئین میں ملک کی سلامتی، داخلی استحکام اور آئینی مشینری کی فعالیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے واضح طریقہ کار موجود ہیں۔ ان میں آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، جو وفاقی حکومت کو مخصوص حالات میں خصوصی اختیارات تفویض کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جنگ، بیرونی جارحیت یا کسی صوبے میں قابو سے باہر داخلی بدامنی کی صورت میں ایمرجنسی کا اعلان کر سکیں۔ اگر ایمرجنسی کا نفاذ کسی صوبے میں داخلی انتشار کی بنیاد پر کیا جا رہا ہو، تو اس کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد کا ہونا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمرجنسی کے اعلان کے بعد یہ لازم ہے کہ اسے 10 روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے۔ اس کے علاوہ، اعلان کے 30 روز کے اندر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا بھی آئینی تقاضا ہے تاکہ اس اقدام کی توثیق کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمرجنسی کے نفاذ کے دوران وفاقی حکومت کے انتظامی اختیارات میں وسعت آ جاتی ہے۔ وفاق صوبائی حکومت کو انتظامی امور کے حوالے سے ہدایات جاری کر سکتا ہے اور صوبائی حکومت کے بعض یا تمام فرائض اپنے ہاتھ میں لے سکتا ہے یا یہ ذمہ داری گورنر کو تفویض کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دوران پارلیمنٹ کو صوبائی معاملات پر قانون سازی کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی صوبائی قانون وفاقی قانون سے متصادم ہو، تو وفاقی قانون کو فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ تاہم، ایمرجنسی کے دوران بھی وفاقی حکومت ہائی کورٹ کے اختیارات کو اپنے قبضے میں نہیں لے سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر پارلیمنٹ سے ایمرجنسی کی مطلوبہ منظوری نہ مل سکے تو یہ اعلان دو ماہ کے بعد خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ ایمرجنسی کے دوران قومی اسمبلی کی مدت میں ایک سال تک کی توسیع کی جا سکتی ہے، لیکن یہ توسیع ایمرجنسی کے خاتمے کے 6 ماہ بعد تک برقرار نہیں رہ سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین کا آرٹیکل 233 ایمرجنسی کے دوران بنیادی انسانی حقوق پر اثرات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کے تحت صدر مملکت مخصوص بنیادی حقوق، جیسے نقل و حرکت، پرامن اجتماع، اظہار رائے اور جائیداد کے تحفظ کے حقوق کے نفاذ کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا حق معطل کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب آرٹیکل 234 صوبے میں آئینی مشینری کی ناکامی کی صورت میں گورنر راج کے نفاذ سے متعلق ہے۔ جب کسی صوبے میں آئین کے مطابق حکومت چلانا ممکن نہ رہے، تو گورنر کی رپورٹ پر صدر مملکت صوبے میں خصوصی آئینی اعلان جاری کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر راج کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے الگ الگ قراردادوں کی منظوری لازمی ہے۔ اس عمل کے تحت صدر صوبائی حکومت کے اختیارات خود سنبھال سکتے ہیں یا گورنر کو ہدایت کر سکتے ہیں کہ وہ صدر کی جانب سے ان اختیارات کا استعمال کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آرٹیکل 234 کے تحت نافذ کیے گئے گورنر راج کی مدت ہر دو ماہ بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانا ضروری ہے۔ آئینی شقوں کے مطابق، کسی بھی صوبے میں گورنر راج مجموعی طور پر 6 ماہ سے زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر راج کے دوران بھی ہائی کورٹ کے اختیارات کو معطل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی صدر یا گورنر ہائی کورٹ کے کسی اختیار کو اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔ یہ آئینی انتظام صوبے میں نظم و نسق کی بحالی تک محدود مدت کے لیے ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر قومی اسمبلی تحلیل ہو تو آرٹیکل 234 کے تحت خصوصی اعلان کے لیے الگ طریقہ کار لاگو ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں سینیٹ کی منظوری کو کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے تاکہ آئینی عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر، پاکستان کا آئین ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو پارلیمانی نگرانی کے تابع رکھتا ہے۔ کسی بھی غیر معمولی اقدام کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے پارلیمنٹ کی توثیق اور آئینی حدود و قیود کا پاس رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/22/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج: ایمل ولی خان نے حکومتی درخواست مسترد کر دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[امیر_حیدر_ہوتی]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[اے_این_پی]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اے این پی سربراہ سے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر حمایت مانگی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے اہم رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے رابطہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام نے سینیٹر ایمل ولی خان سے ملاقات اور رابطوں کے دوران خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو کا مرکزی نقطہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے لیے اے این پی کی سیاسی حمایت حاصل کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم، ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سینیٹر ایمل ولی خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کی حمایت کرنے سے واضح طور پر معذرت کر لی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے ایک اہم پیشکش بھی سامنے آئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی کو صوبے کا گورنر بنانے کی تجویز پیش کی تاکہ سیاسی معاملات کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پیشکش کے جواب میں اے این پی کے سربراہ نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے جمہوری عمل کے تسلسل پر زور دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں گزشتہ کچھ روز سے مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔ وفاقی حکومت صوبے کی داخلی صورتحال اور امن و امان کے معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اہم اتحادی جماعتوں کی جانب سے حمایت نہ ملنے کے بعد حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ دنوں میں صوبائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے، تاہم امن و امان کی صورتحال پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب صوبائی حکومت کے ترجمان اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے بھی وفاقی حکومت کے کسی بھی ممکنہ اقدام کی سخت مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا کوئی بھی غیر آئینی اقدام عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی قدم ہوگا جس کے دور رس سیاسی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے کوشاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اے این پی کی جانب سے اس معاملے پر اپنائے گئے دو ٹوک موقف کے بعد اب وفاقی حکومت کی حکمت عملی میں تبدیلی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقے اس پیش رفت کو حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق گورنر راج کا نفاذ صرف اس صورت میں ممکن ہوتا ہے جب صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائے یا صوبے میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز میں وفاقی حکومت کی جانب سے مزید سیاسی مشاورت متوقع ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ معاملات کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے یا پھر گورنر راج کے معاملے پر کوئی نیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/20/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ: ایمل ولی خان نے حمایت سے معذرت کر لی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:47:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[امیر_حیدر_ہوتی]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_نیشنل_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سے رابطہ کر کے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر مشاورت کی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک کے سیاسی منظرنامے میں خیبر پختونخوا کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی جانب سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے رابطہ قائم کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس رابطے کا مقصد خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے اے این پی کی حمایت حاصل کرنا تھا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومت کی کارکردگی اور موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر یہ مشاورت کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کے اعلیٰ حکام نے سینیٹر ایمل ولی خان سے درخواست کی کہ وہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے فیصلے کی تائید کریں۔ تاہم عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ نے اس تجویز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر ایمل ولی خان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرنے سے واضح طور پر معذرت کر لی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے سامنے اپنا اصولی موقف پیش کرتے ہوئے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات اور رابطے کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے اے این پی کے رہنما اور سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر ہوتی کو صوبے کا گورنر بنانے کی پیشکش بھی کی۔ یہ پیشکش سیاسی جوڑ توڑ کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمل ولی خان نے اس پیشکش کے جواب میں مشورہ دیا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ جمہوری عمل کو جاری رہنا چاہیے اور صوبے میں کسی بھی غیر معمولی اقدام سے گریز کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے ان موقف نے وفاقی حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس سے قبل اپنے حالیہ بیانات میں صوبائی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے حالات کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اور اب ایمرجنسی کے علاوہ کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ صوبے میں انتظامی امور کو چلانے کے لیے سخت فیصلوں کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گورنر راج کے نفاذ کے لیے اتحادی جماعتوں اور دیگر سیاسی قوتوں کا اتفاق رائے انتہائی ضروری ہے۔ اے این پی اور جے یو آئی (ف) کی مخالفت کے بعد وفاقی حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان جاری محاذ آرائی کے باعث صوبے میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات پائے جاتے ہیں۔ عوام کی نظریں اب وفاقی حکومت کے اگلے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں کہ وہ اس صورتحال سے کیسے نمٹتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے تحت گورنر راج کا نفاذ ایک سنگین قدم ہوتا ہے جس کے لیے صوبائی اسمبلی کی صورتحال اور وفاقی کابینہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مشاورت کا عمل جاری رہے گا تاکہ کسی متفقہ نتیجے پر پہنچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر جاری مشاورت ملک میں جمہوری تسلسل برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید اہم سیاسی پیش رفت متوقع ہے جس سے صوبے کا مستقبل وابستہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/19/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ حل نہیں، مولانا فضل الرحمان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:46:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[آئین_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جے_یو_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شہباز_شریف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[مراد_علی_شاہ]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/</guid>

					<description><![CDATA[سربراہ جے یو آئی نے وفاقی حکومت کو سیاسی مذاکرات پر زور دیا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے مشروط حمایت کا عندیہ دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اس حوالے سے سیاسی حلقوں میں بحث کا آغاز ہو چکا ہے کہ آیا وفاقی حکومت کو آئینی طور پر صوبائی معاملات میں مداخلت کرنی چاہیے یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی مخالفت کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدامات دہشت گردی کے خاتمے کا حل نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مابین بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسائل کا حل سیاسی بات چیت میں مضمر ہے، جس کے لیے وہ جلد اپنی پارٹی کی کور کمیٹی اور اپوزیشن رہنماؤں کو اعتماد میں لیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں گورنر راج کی مشروط حمایت کا اظہار کیا ہے۔ سکھر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ گورنر راج جمہوری طور پر ناپسندیدہ ہے، لیکن آئینی طور پر یہ غلط اقدام نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ سندھ نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنا موقف واضح کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی گورنر راج کی خواہشمند نہیں ہے، تاہم ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پی ٹی آئی کو سوچنا ہوگا کہ وہ ملک کو کس طرف لے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت صدر مملکت کو ملک یا کسی حصے میں داخلی انتشار کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے، جبکہ اس اعلان کو پارلیمنٹ سے بھی منظور کروانا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا نفاذ تب کیا جاتا ہے جب صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلنا ممکن نہ رہے۔ اس صورت میں وفاقی حکومت صوبے کے انتظامی اختیارات اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے، تاہم یہ اقدام پارلیمانی نگرانی کا پابند ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت صوبائی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر سکتی ہے۔ تاہم یہ اقدامات ہائی کورٹ کے آئینی اختیارات کو ختم نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کا نفاذ وفاقی کابینہ ازخود کر سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین کا آرٹیکل 236 ان صدارتی اعلانات کو ایک خاص حد تک تحفظ فراہم کرتا ہے، تاہم سپریم کورٹ ماضی میں پیر صابر شاہ کیس کے فیصلے میں یہ اصول طے کر چکی ہے کہ بدنیتی یا آئینی حدود سے تجاوز پر عدالتی مداخلت ممکن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر وفاقی وزیر داخلہ اور گورنر خیبر پختونخوا نے صدر مملکت سے ملاقات کر کے بریفنگ بھی دی ہے۔ اس ملاقات میں صوبے کے انتظامی امور اور سکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ گورنر راج کا فیصلہ ایک انتہائی اقدام ہوگا جس کے دور رس سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ وفاقی حکومت اس معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر ایمل ولی خان نے بھی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت سے معذرت کر لی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے مابین اس حساس معاملے پر تاحال کوئی متفقہ رائے موجود نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ وفاقی حکومت آئینی راستوں کا انتخاب کرتی ہے یا سیاسی مذاکرات کے ذریعے بحران کا حل نکالتی ہے۔ تمام تر نگاہیں اب حکومتی فیصلوں پر مرکوز ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/18/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
