<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>کوئٹہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 22:26:29 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>کوئٹہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کوئٹہ میں گیس بلوں میں اضافے کی وجوہات اور شکایات کے ازالے کیلئے اقدامات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/4562/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/4562/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 01 Nov 2026 21:28:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_ایس_جی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_سدرن_گیس_کمپنی]]></category>
		<category><![CDATA[صارفین_کے_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کوئٹہ]]></category>
		<category><![CDATA[گیس_بل]]></category>
		<category><![CDATA[گیس_ٹیرف]]></category>
		<category><![CDATA[گیس_سپلائی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d9%81%db%92-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سوئی سدرن گیس کمپنی نے سرد موسم میں گیس کے زیادہ استعمال اور ٹیرف میں تبدیلی کو بلوں میں اضافے کی بنیادی وجہ قرار دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) نے کوئٹہ میں صارفین کو موصول ہونے والے گیس کے بھاری بلوں کے حوالے سے باضابطہ وضاحت جاری کر دی ہے۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی گیس کے استعمال میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث بلوں کی رقوم بڑھ گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کے مطابق، بلوں میں اضافے کی ایک اور بڑی وجہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی جانب سے مقرر کردہ گیس ٹیرف میں ردوبدل ہے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ شدید مالی نقصانات کے باوجود کوئٹہ کے صارفین کو گیس کی فراہمی کا سلسلہ مسلسل جاری رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایس ایس جی سی کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض صارفین بڑے بلوں سے بچنے کے لیے میٹرز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق ایسے ٹیم پر شدہ میٹرز کی بلنگ کنیکٹڈ لوڈ کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جس سے بلوں میں نمایاں فرق آ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ اگر انہیں اپنے میٹر کی ریڈنگ پر کسی قسم کا شک ہو تو وہ میٹر تبدیلی اور لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے باقاعدہ درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ اگر میٹر ٹیسٹ کے دوران اضافی چارجز یا ٹیمپرنگ ثابت نہ ہوئی تو صارفین سے وصول کی گئی اضافی رقم انہیں واپس کر دی جائے گی۔ اس عمل کو شفاف بنانے اور صارفین کی سہولت کے لیے کوئٹہ میں ایک خصوصی ہیلپ ڈیسک بھی قائم کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ہیلپ ڈیسک بلوچستان ریجنل آفس میں کام کرے گا اور کوئٹہ کے ریجنل منیجر کی براہِ راست نگرانی میں صارفین کی شکایات کا ازالہ کرے گا۔ کمپنی نے اس اقدام کا مقصد صارفین کے خدشات کو دور کرنا اور بلنگ کے عمل کو شفاف بنانا قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق کوئٹہ میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا کمپنی کی ترجیح ہے۔ شدید سردی کے موسم میں گیس کی طلب میں اضافے کے باوجود کمپنی اپنے وسائل کے مطابق فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمپنی نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ گیس کے محتاط استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ بلوں میں غیر ضروری اضافے سے بچا جا سکے۔ گیس کی بچت نہ صرف صارفین کے اپنے مالی مفاد میں ہے بلکہ اس سے سسٹم پر دباؤ بھی کم ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان کا کہنا ہے کہ میٹرز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ دیگر صارفین کے لیے بھی مسائل کا باعث بنتی ہے۔ کمپنی کی جانب سے میٹرز کی نگرانی کا عمل بھی جاری رہتا ہے تاکہ گیس کے ضیاع کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کوئٹہ میں قائم نیا ہیلپ ڈیسک صارفین کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے فعال کر دیا گیا ہے۔ صارفین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی شکایات کے اندراج کے لیے متعلقہ ریجنل آفس سے رابطہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا کے مقرر کردہ ٹیرف کے بارے میں کمپنی نے کہا کہ یہ ایک سرکاری عمل ہے جس پر عمل درآمد کرنا کمپنی کی ذمہ داری ہے۔ ٹیرف میں تبدیلی کے اثرات گیس کے بلوں پر براہِ راست مرتب ہوتے ہیں، خاص طور پر سردیوں کے دوران جب گیس کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/4562/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کا حصول اب انتہائی آسان، طریقہ کار جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2183/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2183/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 18:37:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_آئی_ڈی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رجسٹریشن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شادی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانونی_معلومات]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[کوئٹہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%ac-%d8%b1%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86-%d8%b3%d8%b1%d9%b9%db%8c%d9%81%da%a9%db%8c%d9%b9-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d8%b5%d9%88%d9%84-%d8%a7%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[شادی کے بعد نکاح کا باقاعدہ اندراج قانونی طور پر ضروری ہے، جس کے لیے یونین کونسل اور نادرا کی ڈیجیٹل سہولیات دستیاب ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں شادی کے بندھن میں بندھنے والے جوڑوں کے لیے نکاح کا باقاعدہ اندراج کروانا نہ صرف ایک اہم قانونی تقاضا ہے بلکہ مستقبل کی مختلف ضروریات کے لیے بھی انتہائی ناگزیر ہے۔ شادی کے بعد میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کا حصول ایک لازمی عمل ہے جو جوڑے کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے دلہا یا دلہن میں سے کوئی بھی ایک متعلقہ یونین کونسل سے رجوع کر سکتا ہے۔ اس عمل کے لیے کچھ بنیادی دستاویزات کی فراہمی ضروری ہے جن میں نکاح خواں کی جانب سے جاری کردہ اصل نکاح نامہ شامل ہونا لازمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کو دلہا اور دلہن کے قومی شناختی کارڈز کی کاپیاں فراہم کرنی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں فریقین کے والد کے شناختی کارڈز اور نکاح کے وقت بطور گواہ موجود افراد کے شناختی کارڈز کی نقول بھی دستاویزات کے ساتھ منسلک کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ یونین کونسل میں درخواست جمع کروانے کے بعد وہاں کا عملہ فراہم کردہ تمام معلومات اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔ تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعد نکاح کا اندراج یونین کونسل کے سرکاری ریکارڈ اور نظام میں باقاعدگی سے کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اندراج کے بعد درخواست گزار کو فراہم کردہ تفصیلات کا ایک پرنٹ آؤٹ دیا جاتا ہے تاکہ وہ پروف ریڈنگ کر سکیں۔ اس مرحلے پر جوڑے کو تمام معلومات کو غور سے دیکھنا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی غلطی یا املا کی کوتاہی کو بروقت درست کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کی جانب سے تفصیلات کی تصدیق اور پروف ریڈنگ پرنٹ پر دستخط کرنے کے بعد اسے یونین کونسل کے عملے کے حوالے کیا جاتا ہے۔ دستخط شدہ دستاویز موصول ہونے کے بعد یونین کونسل کی جانب سے باقاعدہ میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نادرا نے بھی اس عمل کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ مخصوص اضلاع میں اب یہ سہولت نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے بھی حاصل کی جا سکتی ہے، جس سے شہریوں کا کافی وقت بچتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جن اضلاع میں یہ ڈیجیٹل سہولت فی الحال دستیاب ہے ان میں جہلم، چکوال، ننکانہ صاحب، کوئٹہ اور کراچی شرقی شامل ہیں۔ ان علاقوں کے رہائشی اب گھر بیٹھے یا ایپ کے ذریعے اپنی درخواست کے عمل کو آگے بڑھانے کی سہولت سے استفادہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شادی شدہ جوڑوں کے لیے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ نکاح کے فوری بعد اندراج کا عمل مکمل کروا لیں۔ اس طرح شادی کا ایک مصدقہ سرکاری ریکارڈ بن جاتا ہے جو مستقبل میں پاسپورٹ، ویزا یا دیگر قانونی دستاویزات کے حصول میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نادرا کے ریکارڈ میں اپنی ازدواجی حیثیت کو اپ ڈیٹ کروانا بھی شہریوں کی اہم ذمہ داری ہے۔ اس سے نہ صرف نادرا کا ڈیٹا بیس درست رہتا ہے بلکہ خاندان کے افراد کو شناختی کارڈ یا دیگر دستاویزات بنواتے وقت کسی قسم کی پیچیدگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ نکاح کا بروقت اندراج نہ کروانے سے بعد ازاں قانونی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ لہذا، تمام شہریوں کو چاہیے کہ وہ یونین کونسل کے مقرر کردہ طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے اپنے میرج سرٹیفکیٹ کا حصول جلد از جلد یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہری کسی بھی قسم کی رہنمائی کے لیے اپنی متعلقہ یونین کونسل کے دفتر سے رابطہ کر سکتے ہیں جہاں عملہ انہیں رجسٹریشن کے مراحل کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کر سکتا ہے۔ درست معلومات کی فراہمی سرٹیفکیٹ کے جلد اور بروقت اجرا کو یقینی بناتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ عمل شفافیت اور قانونی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام دستاویزات مکمل ہوں اور درخواست گزار خود یا اپنے مجاز نمائندے کے ذریعے متعلقہ دفتر میں پیش ہو۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2183/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کوئٹہ میں موسم سرما کی چھٹیوں کی فیس وصول کرنے پر پابندی عائد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/299/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/299/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 12:36:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان_ہائی_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پرائیویٹ_اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_قوانین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر_کوئٹہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فیس_پابندی]]></category>
		<category><![CDATA[کوئٹہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%da%a9%d9%88%d8%a6%d9%b9%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85%d9%88%d8%b3%d9%85-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7-%da%a9%db%8c-%da%86%da%be%d9%b9%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d9%81%db%8c%d8%b3-%d9%88%d8%b5%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[ڈپٹی کمشنر ویسٹ کوئٹہ نے بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پرائیویٹ اسکولوں کے خلاف سخت اقدامات کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کوئٹہ میں تعلیمی اداروں کی جانب سے موسم سرما کی چھٹیوں کے دوران فیسوں کی وصولی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے تاکہ طلبا کے والدین کو مالی دباؤ سے بچایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈپٹی کمشنر ویسٹ کوئٹہ منیر احمد درانی نے تمام نجی اسکولوں کو عدالتی احکامات پر من و عن عمل درآمد کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوٹیفکیشن کے مطابق جو نجی تعلیمی ادارے چھٹیوں کے دوران فیس وصول کرنے میں ملوث پائے گئے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ خلاف ورزی کرنے والے اسکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رجسٹریشن کی منسوخی کے علاوہ ایسے نجی اسکولوں کی عمارات کو بھی سیل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں جو حکومتی اور عدالتی حکم نامے کی خلاف ورزی کریں گے۔ انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ والدین کے حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے اس سلسلے میں عوام بالخصوص والدین سے بھی ایک اہم اپیل کی گئی ہے۔ والدین سے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی اسکول چھٹیوں کی فیس کا مطالبہ کرے تو اس کی فوری اطلاع دی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شکایت درج کرانے کے لیے والدین ڈپٹی کمشنر آفس یا متعلقہ محکمہ تعلیم سے فوری رجوع کر سکتے ہیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔ انتظامیہ نے یقین دلایا ہے کہ شکایات موصول ہوتے ہی فوری ایکشن لیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بلوچستان کے محکمہ تعلیم میں تعلیمی اداروں کی تعطیلات کا نظام روایتی طور پر مختلف زونز میں تقسیم ہوتا ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں کو موسمی حالات کی مناسبت سے سرد اور گرم زونز میں رکھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرد علاقوں میں موسم سرما کی تعطیلات عام طور پر دسمبر کے وسط سے شروع ہوتی ہیں اور ڈھائی ماہ تک جاری رہتی ہیں۔ ان طویل تعطیلات کے دوران فیسوں کی وصولی کا معاملہ والدین کے لیے مالی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب گرم علاقوں میں نسبتا مختصر تعطیلات ہوتی ہیں جو عام طور پر 10 دن پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ان مختلف زونز کی وجہ سے تعلیمی کیلنڈر اور چھٹیوں کے اوقات کار بھی علاقے کے لحاظ سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی اداروں کی فیسوں کے حوالے سے عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ والدین کی دیرینہ مشکلات کا ازالہ کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس فیصلے سے کوئٹہ کے ہزاروں والدین کو ریلیف ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں پرائیویٹ اسکولوں کے امور کو ضابطے کے مطابق چلانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو پابند کیا جا رہا ہے کہ وہ قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والدین نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ضضلعی انتظامیہ سختی سے اس پر عمل درآمد کرائے گی۔ اسکول انتظامیہ کی جانب سے غیر قانونی فیسوں کی وصولی کے خلاف یہ ایک موثر قدم ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے تمام پرائیویٹ اسکولوں کے مینیجرز اور مالکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالتی حکم نامے کا احترام کریں اور چھٹیوں میں فیسوں کی بلنگ سے گریز کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی بلا امتیاز کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/299/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
