<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.16.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>کشمیر_میڈیا_سروس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%da%a9%d8%b4%d9%85%db%8c%d8%b1_%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7_%d8%b3%d8%b1%d9%88%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 21 Oct 2026 17:17:09 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>کشمیر_میڈیا_سروس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>نئی دہلی میں تاریخی ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کا نوٹس</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/religion/%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%b1%db%8c%d8%b3-%da%a9%d9%88%d8%b1%d8%b3-%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af-%da%a9%d9%88/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/religion/%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%b1%db%8c%d8%b3-%da%a9%d9%88%d8%b1%d8%b3-%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af-%da%a9%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 17:17:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[اقلیتوں_کے_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_مسلمان]]></category>
		<category><![CDATA[بھارتیہ_جنتا_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[جمعیت_علماء_ہند]]></category>
		<category><![CDATA[حج]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رمضان]]></category>
		<category><![CDATA[ریس_کورس_مسجد]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عید]]></category>
		<category><![CDATA[کشمیر_میڈیا_سروس]]></category>
		<category><![CDATA[مسجد]]></category>
		<category><![CDATA[مسجد_مسمار]]></category>
		<category><![CDATA[میرواعظ_عمر_فاروق]]></category>
		<category><![CDATA[نئی_دہلی]]></category>
		<category><![CDATA[وقف_ایکٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/religion/%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%b1%db%8c%d8%b3-%da%a9%d9%88%d8%b1%d8%b3-%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af-%da%a9%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[بھارتی دارالحکومت میں تاریخی ریس کورس مسجد کو تجاوزات قرار دے کر نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">نئی دہلی کی تاریخی ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کا نیا نوٹس جاری کیا گیا ہے جسے اقلیتی حقوق اور مسلم عبادت گاہوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی دارالحکومت میں پہلے ہی متعدد تاریخی مساجد کو مسمار کیا جا چکا ہے اور اب اس قدیم مقام کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی حلقوں کی جانب سے اس تاریخی مسجد کو تجاوزات قرار دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے جس کے بعد وہاں کے نمازیوں اور مقامی مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ حکام نے اس مقدس مقام کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم نامہ جاری کر رکھا ہے جس پر مختلف مذہبی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسجد کے امام نے حکومتی دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ دعویٰ محض حقائق کے منافی اور ایک مسلم کش سازش کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دو ہزار اکیس کے سرکاری سروے کے مطابق یہ تاریخی مسجد ایک قانونی طور پر تسلیم شدہ عبادت گاہ کی حیثیت رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امام مسجد کے مطابق انتظامیہ کی جانب سے اس تاریخی مقام پر دباؤ بڑھانے کے لیے رواں ماہ کی سات تاریخ کو اس کے پانی اور بجلی کے کنکشنز بھی منقطع کر دیے گئے تھے۔ اس اقدام کا مقصد نمازیوں کو مشکلات میں ڈالنا اور اس قدیم اسلامی ورثے کو اس کے اصل مالکان سے محروم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی سطح پر مسجد کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں مگر امام مسجد کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران بارہا تحریری درخواستیں دینے کے باوجود دہلی وقف بورڈ نے کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا۔ وقف حکام کی اس مجرمانہ خاموشی اور عدم دلچسپی پر بھی عوامی حلقوں کی طرف سے گہرے رنج کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معروف مذہبی تنظیم جمعیت علماء ہند نے اس کارروائی کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے حکومتی سرپرستی میں ہونے والی زیادتی قرار دیا ہے۔ تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ریس کورس مسجد ایک قانوناً محفوظ ورثہ ہے جسے بی جے پی حکومت اپنے مذموم مقاصد کے تحت ہتھیانا چاہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمعیت علماء ہند نے اس ریاستی جبر کے خلاف بھرپور احتجاج کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مسجد کو خالی کرنے کا نوٹس فوری طور پر واپس لیا جائے۔ تنظیم کا یہ بھی اصرار ہے کہ مسلم عبادت گاہوں کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے اور کاٹے گئے بجلی و پانی کے کنکشنز بحال کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقبوضہ کشمیر کے سرکردہ رہنما اور میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق بھی اس تاریخی مسجد کے تحفظ کے لیے میدان میں آ چکے ہیں۔ انہوں نے وقف حکام کی جانب سے بروقت اور مؤثر اقدامات نہ اٹھانے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میرواعظ عمر فاروق نے بھارتی حکومت سے اہم سوال کیا ہے کہ کیا ملک بھر میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے ساتھ اب یہی معمول بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قانون کے مطابق تسلیم شدہ مساجد بھی محفوظ نہیں رہیں تو پھر دیگر مسلم اقلیتی مقامات کے تحفظ کی کیا ضمانت ہو سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متنازع وقف ترمیمی ایکٹ دو ہزار پچیس دراصل بھارت میں مسلم شناخت اور اسلامی تاریخی ورثے کو مٹانے کا ایک موثر ہتھیار بن چکا ہے۔ اس نئے قانون کے نفاذ کے بعد مساجد کی رجسٹریشن کے تمام اختیارات ضلعی بیوروکریسی کو سونپ دیے گئے ہیں جس سے اوقاف کی خودمختاری مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ امورِ حیات کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی کے موجودہ دورِ اقتدار میں محض تین برس کے مختصر عرصے کے دوران آٹھ سو ساٹھ سے زائد مساجد، مدارس اور مزارات کو مسمار کیا جا چکا ہے۔ ان نشانہ بننے والی تاریخی عمارتوں میں سہارنپور کی ایک سو بیس سالہ قدیم مسجد اور مہراولی کی سات سو سالہ اخوندجی مسجد بھی شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح وارانسی کی دو سو سالہ قدیم مسجد اور اجین کی چھ سو سالہ شاہی مسجد کو بھی ہندوتوا کی انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ سیاسی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکمراں جماعت کے زیرِ اثر نو ریاستوں میں لاکھوں ایکڑ پر پھیلی وقف املاک کو شدید خطرات لاحق ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی اس صورتحال پر بارہا تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقلیتوں کے خلاف جاری غیر قانونی اور انتقامی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا کہنا ہے کہ مذہبی آزادیوں کا احترام ہر جمہوری ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی مساجد کے انہدام اور نوٹسز کے اس سلسلے نے بھارتی مسلمانوں کے اندر عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس ریاستی جبر کو نہ روکا گیا تو ملک میں بین المذہب ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچے گا اور اقلیتوں کے حقوق پامال ہوتے رہیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مسلمانوں کے دینی اور تاریخی ورثے کو بچانے کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے آواز اٹھانا ہو گی۔ ریس کورس مسجد کا یہ مقدمہ اب بھارتی اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کی بقا کی ایک بڑی علامت بنتا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/religion/%d9%86%d8%a6%db%8c-%d8%af%db%81%d9%84%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%d8%b1%db%8c%d8%b3-%da%a9%d9%88%d8%b1%d8%b3-%d9%85%d8%b3%d8%ac%d8%af-%da%a9%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
