<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>کرپشن &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%da%a9%d8%b1%d9%be%d8%b4%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Thu, 05 Nov 2026 16:28:28 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>کرپشن &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لاہور: شہری سے کھانے کے پیسے مانگنے والے تین پولیس اہلکار گرفتار، مقدمہ درج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/5121/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/5121/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 05 Nov 2026 16:28:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[برکت_مارکیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[بھکاری_ایکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_آئی_جی_آپریشنز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فیصل_کامران]]></category>
		<category><![CDATA[کرپشن]]></category>
		<category><![CDATA[گارڈن_ٹاؤن]]></category>
		<category><![CDATA[گرفتاری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/lahore/5121/</guid>

					<description><![CDATA[برکت مارکیٹ میں تعینات اہلکاروں نے شہری کو روک کر پیسوں کا مطالبہ کیا تھا، ملزمان کے خلاف بھکاری ایکٹ کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے علاقے گارڈن ٹاؤن کی برکت مارکیٹ میں دورانِ ڈیوٹی ایک شہری سے کھانے کے لیے پیسوں کا مطالبہ کرنے والے تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزمان نے ڈیوٹی کے دوران شہری کو روک کر ہراساں کیا اور رقم کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کے مطابق گرفتار کیے جانے والے اہلکاروں کی شناخت فیاض، فرحان اور احمد مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ان تینوں اہلکاروں کے خلاف &#039;بھکاری ایکٹ&#039; (Vagrancy Act) کے تحت باضابطہ مقدمہ درج کر کے تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی عزتِ نفس اور پولیس فورس کے وقار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدعنوانی میں ملوث کسی بھی اہلکار کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کا مزید کہنا تھا کہ پولیس کی وردی کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی اور محکمے میں احتساب کا عمل بلا امتیاز جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی اطلاع ملتے ہی اعلیٰ حکام نے فوری نوٹس لیا جس کے بعد متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں کا کام شہریوں کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ انہیں ہراساں کرنا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرفتار کیے گئے تینوں اہلکار اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں اور ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ تفتیش کے دوران یہ تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ اہلکار اس طرح کی دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برکت مارکیٹ لاہور کا ایک مصروف کاروباری مرکز ہے جہاں شہریوں کی بڑی تعداد خریداری کے لیے آتی ہے۔ اس واقعے کے بعد مقامی شہریوں نے پولیس کے اس اقدام کو سراہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کے مطابق اس کیس کو ایک مثال بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں کوئی بھی اہلکار وردی کا غلط استعمال نہ کر سکے۔ محکمہ پولیس میں احتساب کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ شہریوں کا پولیس پر اعتماد بحال رکھنا اولین ترجیح ہے۔ کسی بھی اہلکار کی جانب سے بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی صورت میں فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کے اندراج کے بعد اب ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں سے ان کا مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق بھکاری ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہونا اہلکاروں کے لیے سنگین قانونی نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے ترجمان نے مزید بتایا کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ کسی بھی قسم کی سفارش یا دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر قانون کے مطابق کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی پولیس اہلکار کی جانب سے غیر قانونی مطالبے کا سامنا ہو تو وہ فوری طور پر اعلیٰ حکام کو رپورٹ کریں۔ پولیس فورس کے اندر کالی بھیڑوں کی نشاندہی کرنا عوام کا حق اور ذمہ داری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/5121/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نیب اور ایف آئی اے کا اسعد محمود کو غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر طلب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/4970/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/4970/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 04 Nov 2026 12:58:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسعد_محترم]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آئی_اے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_پوسٹ_آفس]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیقات]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_بھرتیوں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راولپنڈی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کرپشن]]></category>
		<category><![CDATA[نیب]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_وزارت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/politics/4970/</guid>

					<description><![CDATA[سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کو پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ بے ضابطگیوں پر نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے سابق وفاقی وزیر مواصلات اسعد محمود کو پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے پر نوٹس جاری کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب راولپنڈی کے جاری کردہ نوٹس کے مطابق اسعد محمود کو 10 نومبر 2026ء کو صبح 11 بجے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ دستاویزات کے مطابق یہ تحقیقات اسعد محمود کے دورِ وزارت یعنی سال 2022ء اور 2023ء کے دوران پاکستان پوسٹ آفس میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب کے نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے پاکستان پوسٹ آفس میں 3 ہزار 938 آسامیوں پر بھرتیوں کی باضابطہ اجازت دی گئی تھی، تاہم اس کے برعکس مبینہ طور پر 4 ہزار 252 افراد کو بھرتی کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دستاویزات کے مطابق کابینہ کمیٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 2 ہزار 646 ایسی آسامیوں پر بھی بھرتیاں کی گئیں جنہیں ختم کیا جا چکا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب کا یہ بھی کہنا ہے کہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر ٹیسٹنگ ایجنسی کے ذریعے بھرتیوں کی واضح سفارش کی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں مستقل تقرریاں عمل میں لائی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقاتی ادارے کے نوٹس میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ ان تقرریوں کے دوران بعض منتخب امیدواروں کی مبینہ سیاسی وابستگیوں کا خیال رکھا گیا، جبکہ جعلی اور بوگس دستاویزات، زائد العمر امیدواروں کی بھرتی اور ڈومیسائل کوٹے کی خلاف ورزیاں بھی کی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب حکومتی ادارے کے مطابق ان تمام بے ضابطگیوں اور غیر قانونی تقرریوں کی وجہ سے پاکستان پوسٹ آفس کے قومی ادارے پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا شدید خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب نے اپنے نوٹس میں یہ قانونی انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ طلبی کے باوجود پیش نہ ہونے کی صورت میں قومی احتساب آرڈیننس 1999ء کی دفعہ 31 کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے بھی اسی معاملے میں اسعد محمود کو طلبی کا نوٹس جاری کیا تھا جس کے تحت انہیں 2 نومبر 2026ء کو صبح 11 بجے اپنا بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایف آئی اے کی جانب سے انکوائری نمبر 197/2026 کے تحت پاکستان پوسٹ آفس میں ہونے والی بھرتیوں کے دوران مبینہ سنگین بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/4970/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ٹک ٹاکر سامیہ مبارک کو پروٹوکول دینے پر ایس ایچ او ڈیفنس بی سمیت 3 اہلکار معطل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/2086/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/2086/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 02:57:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ٹک_ٹاکر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_آئی_جی_آپریشنز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیفنس_بی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سامیہ_مبارک]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کرپشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%b9%da%a9-%d9%b9%d8%a7%da%a9%d8%b1-%d8%b3%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%d9%85%d8%a8%d8%a7%d8%b1%da%a9-%da%a9%d9%88-%d9%be%d8%b1%d9%88%d9%b9%d9%88%da%a9%d9%88%d9%84-%d8%af%db%8c%d9%86%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[پولیس حکام نے ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کی بہن سامیہ مبارک کو مبینہ طور پر غیر قانونی سہولیات فراہم کرنے اور رشوت لینے کے الزامات پر کارروائی کی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں پولیس نے اپنے ہی تین اہلکاروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کرتے ہوئے انہیں عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ٹک ٹاکر سامیہ مبارک کو مبینہ طور پر پروٹوکول دینے اور رشوت کے عوض چھوڑنے کے الزامات کے بعد سامنے آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کے مطابق معطل ہونے والوں میں ایس ایچ او ڈیفنس بی، تھانے کا محرر اور ایک لیڈی کانسٹیبل شامل ہیں۔ ان اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قواعد کی خلاف ورزی کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعہ اس وقت پیش آیا جب سامیہ مبارک کو ایک بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑی میں سفر کرتے ہوئے روکا گیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، پولیس اہلکاروں نے ضابطے کی کارروائی کرنے کے بجائے مبینہ طور پر ملزمہ کو پروٹوکول فراہم کیا اور رشوت لے کر چھوڑ دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام نے فوری نوٹس لیا اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے واضح کیا کہ کسی بھی اہلکار کو قانون ہاتھ میں لینے یا بدعنوانی میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات کو غیر جانبدارانہ اور شفاف بنانے کے لیے تینوں اہلکاروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر کلیدی ذمہ داریوں سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے کی مکمل انکوائری اب ایس ایس پی آپریشنز کی نگرانی میں کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سامیہ مبارک معروف ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کی بہن ہیں، جس کی وجہ سے یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف مزید محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ قانون کی بالادستی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ کسی بھی قسم کی غفلت یا رشوت ستانی میں ملوث پائے جانے والے اہلکاروں کے خلاف سخت ترین تادیبی اقدامات کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ذرائع کے مطابق، ایس ایس پی آپریشنز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام شواہد کا بغور جائزہ لیں اور حقائق کو سامنے لائیں۔ تحقیقاتی ٹیم اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا اہلکاروں نے واقعی پیسے لے کر ملزمہ کو رہا کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد پولیس کے اندرونی احتساب کے عمل کو مزید تیز کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے بھی پولیس کے اس اقدام کو سراہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جو قانون کا مذاق اڑاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹک ٹاکرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے حوالے سے پولیس کا رویہ اکثر تنقید کی زد میں رہتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا بااثر افراد یا سوشل میڈیا شخصیات کو قانون سے استثنیٰ حاصل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی کو بھی بغیر نمبر پلیٹ گاڑی چلانے یا ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ پولیس اہلکاروں کا فرض ہے کہ وہ قانون کا نفاذ بلا امتیاز کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کی جانب سے گشت اور چیکنگ کے نظام کو مزید بہتر بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اعلیٰ افسران نے فیلڈ میں تعینات عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ایمانداری کا مظاہرہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توقع کی جا رہی ہے کہ ایس ایس پی آپریشنز کی جانب سے مکمل تحقیقاتی رپورٹ جلد ہی اعلیٰ حکام کو پیش کر دی جائے گی۔ اس رپورٹ کی روشنی میں ہی معطل ہونے والے اہلکاروں کی ملازمت کے مستقبل کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/2086/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: کے ڈی اے کے 3 ملازمین کو پلاٹ کی غیر قانونی تبدیلی پر شوکاز نوٹس جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/karachi/360/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/karachi/360/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 22:17:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پلاٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زمین]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[شوکاز_نوٹس]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی_ڈویلپمنٹ_اتھارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[کرپشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%a9%db%92-%da%88%db%8c-%d8%a7%db%92-%da%a9%db%92-3-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86-%da%a9%d9%88-%d9%be%d9%84%d8%a7%d9%b9-%da%a9%db%8c-%d8%ba%db%8c%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[کلفٹن میں رہائشی پلاٹ کو کمرشل کرنے کے معاملے پر کے ڈی اے حکام نے ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ سمیت 3 افسران سے وضاحت طلب کر لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) میں زمینوں کے انتظام اور الاٹمنٹ کے معاملات میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے کلفٹن کے ایک قیمتی پلاٹ کی حیثیت تبدیل کرنے کے معاملے پر 3 ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ معاملہ کلفٹن میں واقع کے ڈی اے اسکیم 5 کے پلاٹ نمبر D-21، بلاک 8 سے متعلق ہے، جس کا رقبہ 1559.77 مربع گز ہے۔ اس رہائشی پلاٹ کو مبینہ طور پر کمرشل میں تبدیل کرنے کی کارروائی نوٹ شیٹ کے ذریعے انجام دی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے ڈی اے سیکریٹریٹ کی جانب سے 12 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے نوٹسز میں ڈائریکٹر لینڈ مینجمنٹ سید عاطف حسین نقوی، ایڈیشنل ڈائریکٹر لینڈ راشد حسین اور جونیئر کلرک حماد سالار کو مخاطب کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے ڈی اے انتظامیہ نے ان تینوں افسران سے تحریری وضاحت طلب کی ہے کہ رہائشی پلاٹ کو کمرشل میں تبدیل کرنے کا عمل کن قوانین اور ضوابط کے تحت کیا گیا اور اس میں کن قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ حکام نے ان ملازمین کو جواب جمع کرانے کے لیے 3 دن کی مہلت دی ہے۔ نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت کے اندر تسلی بخش جواب موصول نہ ہوا تو ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان شوکاز نوٹسز کی نقول ڈائریکٹر جنرل کے ڈی اے اور سیکریٹری کے ڈی اے سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو بھی ارسال کر دی گئی ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے ڈی اے کے لینڈ مینجمنٹ نظام میں اس طرح کی بے ضابطگیوں پر اٹھنے والے سوالات کے بعد اب انتظامیہ کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچے اور ذمہ داروں کا تعین کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب ریکارڈ کی جانچ پڑتال اور متعلقہ افسران کی وضاحت کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کیا یہ تبدیلی قواعد کے مطابق تھی یا اس میں کسی قسم کی ملی بھگت یا اختیارات کا غلط استعمال کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہری حلقوں میں اس اقدام کو کے ڈی اے میں شفافیت لانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم حتمی نتائج انکوائری مکمل ہونے اور دستیاب ریکارڈ کی جانچ کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے ڈی اے کی جانب سے جاری کردہ یہ نوٹسز اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ادارے میں زمینوں کے معاملات پر اب سخت نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ قیمتی سرکاری اراضی کو کسی بھی غیر قانونی اقدام سے محفوظ رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں زمینوں کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پوش علاقوں میں پلاٹوں کی حیثیت تبدیل کروانا ایک حساس معاملہ بن چکا ہے، اور کے ڈی اے انتظامیہ اب اس طرح کے معاملات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پرعزم دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے کے ترجمان کے مطابق، کسی بھی ملازم کو قوانین سے بالاتر ہو کر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر تحقیقات میں کوئی بھی بے ضابطگی ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/karachi/360/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
