<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.8.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>کراچی_خبریں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c_%d8%ae%d8%a8%d8%b1%db%8c%da%ba/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 14 Oct 2026 00:38:36 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>کراچی_خبریں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کراچی میں غیر قانونی حراستی مراکز کا انکشاف، پولیس کے فرسودہ نظام پر سوالات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c-%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa%db%8c-%d9%85%d8%b1%d8%a7%da%a9%d8%b2-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c-%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa%db%8c-%d9%85%d8%b1%d8%a7%da%a9%d8%b2-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 00:38:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_ایکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تھانہ_کلچر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غیر_قانونی_حراست]]></category>
		<category><![CDATA[قانون_کی_عملداری]]></category>
		<category><![CDATA[کرائم_رپورٹنگ]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c-%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa%db%8c-%d9%85%d8%b1%d8%a7%da%a9%d8%b2-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی میں سول ڈیفنس کمپاؤنڈ سے 30 افراد کی بازیابی نے پولیس کے تفتیشی نظام اور تھانہ کلچر کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک کے تجارتی مرکز کراچی میں پولیس کے فرسودہ نظام اور غیر قانونی حراستی مراکز کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ حال ہی میں ایک عدالتی کارروائی کے دوران کراچی کے علاقے نبی بخش تھانے کی حدود میں واقع سول ڈیفنس کمپاؤنڈ سے 30 افراد کو بازیاب کرایا گیا، جنہیں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک شہری شیر زمان کی والدہ نے اپنے بیٹے کے لاپتہ ہونے پر عدالت سے رجوع کیا۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ نے مذکورہ کمپاؤنڈ پر چھاپہ مارا تو وہاں موجود افراد نے انکشاف کیا کہ انہیں مختلف مقامات سے اٹھایا گیا تھا اور ان میں سے کئی افراد کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ بازیاب ہونے والوں میں ایک کینسر کی مریضہ خاتون بھی شامل تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حیران کن طور پر، جب مجسٹریٹ نے وہاں موجود اہلکاروں سے ان افراد کی گرفتاری کا ریکارڈ طلب کیا تو کوئی بھی دستاویزی ثبوت پیش نہ کیا جا سکا۔ یہ کمپاؤنڈ پولیس تھانے کا حصہ نہیں تھا، جس کے باعث قانون کی سنگین خلاف ورزی کا یہ واقعہ سامنے آیا۔ تاہم، بعد ازاں درخواست گزار کی جانب سے کارروائی آگے نہ بڑھانے کی استدعا پر یہ معاملہ داخلِ دفتر کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں &#039;شارٹ ٹرم کڈنیپنگ&#039; یا مختصر دورانیے کے لیے اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اکثر متاثرین پولیس کے پاس جانے سے گریز کرتے ہیں، خاص طور پر جب ان کے ساتھ خواتین بھی موجود ہوں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجرمانہ عناصر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے محکمہ میں اصلاحات کا مطالبہ طویل عرصے سے کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق، سندھ میں پولیس ایکٹ 1861 کا نفاذ آج کے دور کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ قانون برطانوی دور میں بنایا گیا تھا جس کا مقصد عوام کو کنٹرول کرنا تھا، نہ کہ ان کی حفاظت کرنا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابقہ ادوار میں پولیس ایکٹ 2002 کے تحت سیفٹی کمیشن کا تصور متعارف کرایا گیا تھا، جس میں سول سوسائٹی، وکلاء اور منتخب نمائندوں کو شامل کر کے عوامی احتساب کا نظام وضع کیا گیا تھا۔ تاہم، بعد ازاں اس ایکٹ کو منسوخ کر کے دوبارہ پرانے قانون کو رائج کر دیا گیا، جس سے احتساب کا عمل کمزور پڑ گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا موقف ہے کہ محکمہ کے اندر احتساب کا اپنا نظام موجود ہے اور اب پڑھے لکھے نوجوانوں کی شمولیت سے بہتری کی امید ہے۔ تاہم، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ تفتیش کا انحصار اب بھی تشدد اور ملزمان کے رشتہ داروں کو حراست میں لینے پر ہے، جو کہ غیر قانونی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیشی افسران اکثر فنڈز کی کمی کا شکوہ کرتے ہیں، جس کے باعث پولیس کے نظام میں خود انحصاری کے نام پر کرپشن کے کلچر کو فروغ ملتا ہے۔ تھانوں کی نیلامی اور پولیس اہلکاروں کی جرائم پیشہ افراد کے ساتھ ملی بھگت کی شکایات بھی اکثر ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہروں میں کرپٹو ٹریڈرز اور بینک ملازمین کے اغوا کے حالیہ واقعات نے پولیس کی کارکردگی پر مزید سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کیسز میں بعض اوقات پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ میٹروپولیٹن پولیس کا قیام اور تفتیشی نظام میں شفافیت لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب تک پولیس کے نظام میں عوامی احتساب کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، تب تک چیرہ دستیوں کا سلسلہ نہیں تھمے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے غیر قانونی حراستی مراکز کا خاتمہ کریں اور تفتیش کے لیے جدید سائنسی طریقوں کو اپنائیں۔ پولیس کے نظام میں اصلاحات کے بغیر امن و امان کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کو چاہیے کہ وہ پولیس ایکٹ میں ایسی ترامیم لائے جو عوامی احتساب کو یقینی بنائیں اور پولیس کو ایک جدید، جوابدہ اور عوام دوست ادارہ بنائیں۔ صرف قانون سازی کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل درآمد کے لیے سخت نگرانی اور احتساب کا نظام ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں پولیس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پولیس افسران کی بھرتی اور تربیت کے عمل کو مزید شفاف بنایا جائے۔ جب تک پولیس کا محکمہ خود کو احتساب کے عمل سے نہیں گزارے گا، تب تک عوام کا اعتماد بحال کرنا ایک مشکل چیلنج رہے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c-%d8%ad%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa%db%8c-%d9%85%d8%b1%d8%a7%da%a9%d8%b2-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
