<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.30.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ڈپٹی_کمشنر_لاہور &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%da%88%d9%be%d9%b9%db%8c_%da%a9%d9%85%d8%b4%d9%86%d8%b1_%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:56 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ڈپٹی_کمشنر_لاہور &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لاہور: بیدیاں روڈ پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بڑا آپریشن، تین مارکیز مسمار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%8c%d8%af%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%b1%d9%88%da%88-%d9%be%d8%b1-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%8c%d8%af%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%b1%d9%88%da%88-%d9%be%d8%b1-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 08:56:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آپریشن_نشتر_زون]]></category>
		<category><![CDATA[بیدیاں_روڈ]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تجاوزات_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹاؤن_پلاننگ_ونگ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_رائے_امتیاز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%8c%d8%af%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%b1%d9%88%da%88-%d9%be%d8%b1-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ڈپٹی کمشنر لاہور کی ہدایت پر ٹاؤن پلاننگ ونگ نے کارروائی کرتے ہوئے بغیر اجازت تعمیر کی جانے والی مارکیز کو گرا دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے تاریخی اور اہم علاقے بیدیاں روڈ پر ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بھرپور کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے تین بڑی مارکیز کو مکمل طور پر مسمار کر دیا ہے۔ یہ کارروائی شہر میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے تاکہ تعمیراتی شعبے میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق یہ مارکیز کسی بھی مجاز ادارے سے منظور شدہ نقشے کے بغیر قائم کی گئی تھیں اور بلڈنگ بائی لاز کو پس پشت ڈالا جا رہا تھا۔ اس طرح کی غیر قانونی تعمیرات نہ صرف شہری ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہیں بلکہ قانون کا مذاق اڑانے کے مترادف بھی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر بھر میں غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں اور تعمیرات کے خلاف اس مہم کو ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن ریٹائرڈ علی اعجاز کی خصوصی ہدایات حاصل ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے سربراہ کی واضع ہدایات ہیں کہ قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی نرمی نہ برتی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ بالا آپریشن کی نگرانی نشتر زون کے ایم او پلاننگ ڈاکٹر رائے امتیاز نے خود کی۔ ان کی موجودگی میں بھاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی مارکیز کے مختلف حصوں کو منہدم کیا گیا تاکہ مستقبل میں دوبارہ تعمیر کی گنجائش باقی نہ رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آپریشن کے دوران میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موقع پر موجود رہے جنہوں نے کارروائی کو خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس عمل میں سی او ایم سی ایل کلیم یوسف کی ہدایات کو بھی عملی جامہ پہنایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی او ایم سی ایل کی خصوصی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایم او آر اور اسٹیٹ آفیسر نے بھی اس کارروائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ضلعی محکموں کی اس مربوط اور مشترکہ حکمت عملی کا مقصد غیر قانونی تعمیرات کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کا موقف ہے کہ بیدیاں روڈ پر کی جانے والی یہ کارروائی صرف ایک آغاز ہے اور شہر کے دوسرے زونز میں بھی اس طرح کے آپریشنز کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے۔ جن لوگوں نے نقشے منظور نہیں کروائے یا ضابطے توڑے ہیں، ان کے خلاف سخت قانونی اقدامات متوقع ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ منظور شدہ نقشوں کے برعکس یا اضافی تعمیرات کرنے والے افراد بھی قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔ شہر میں نظم و ضبط بحال رکھنے کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں تاکہ قانون کی پاسداری ہر صورت یقینی بنائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر رائے امتیاز نے مزید کہا کہ کمرشل مارکیز اور عمارتوں کے لیے پارکنگ، ٹریفک کی روانی اور دیگر ضوابط کو پورا کرنا لازمی شرط ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف کسی بھی قسم کی سفارش یا دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہری اور عوامی حلقوں کی جانب سے ضلعی انتظامیہ کی اس کارروائی کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس قسم کی غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے عام شہریوں کو ٹریفک کے مسائل اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عوام نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ مہم بلا امتیاز جاری رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارہ جاتی سطح پر یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ کوئی بھی شخص یا ادارہ نیا تعمیراتی کام شروع کرنے سے پہلے متعلقہ محکموں سے تمام ضروری اجازت نامے اور این او سی حاصل کرے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں بھاری جرمانوں اور مسماری کے عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لاہور میں تجاوزات اور غیر قانونی کمرشل تعمیرات کے خاتمے کے لیے جوابی حکمت عملی کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں تمام ٹاؤنز کے افسران کو اپنے اپنے علاقوں میں سروے کرنے اور فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%8c%d8%af%db%8c%d8%a7%da%ba-%d8%b1%d9%88%da%88-%d9%be%d8%b1-%d8%ba%db%8c%d8%b1-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب کابینہ نے بسنت کی تاریخیں تبدیل کرنے کی سمری کی منظوری دے دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%d8%a7%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81-%d9%86%db%92-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%d8%a7%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81-%d9%86%db%92-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 10:17:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت_2027]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_کابینہ]]></category>
		<category><![CDATA[تہوار]]></category>
		<category><![CDATA[جشن_بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%d8%a7%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81-%d9%86%db%92-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[لاہور میں جشنِ بسنت اب جنوری کے بجائے مارچ دو ہزار ستائیس میں تین روز کے لیے منایا جائے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کابینہ نے صوبے میں بسنت کے تہوار کی تاریخوں میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے اس حوالے سے پیش کی جانے والی نئی سمری کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب تاریخی روایتی تہوار جشنِ بسنت کے انعقاد کا شیڈول تبدیل ہو چکا ہے اور انتظامی امور نئے سرے سے طے کیے جا رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر ہونے والے اس فیصلے کا مقصد تہوار کو بہتر اور منظم انداز میں منانا ہے تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اب صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جشنِ بسنت رواں سال جنوری کے بجائے مارچ کے مہینے میں منعقد کیا جائے گا۔ نئی تاریخوں کے تعین کے بعد اب تمام متعلقہ محکمے اور ادارے اپنی تیاریاں اسی حساب سے حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں تاکہ ایونٹ کو شاندار بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معتبر ذرائع کا بتانا ہے کہ صوبائی کابینہ کی جانب سے جن نئی تاریخوں کی منظوری دی گئی ہے ان کے مطابق اب یہ ثقافتی تہوار 12، 13 اور 14 مارچ 2027 کو منایا جائے گا۔ پہلے اس تہوار کے لیے جو طویل شیڈول طے کیا گیا تھا اسے اب مختصر کر کے تین روز تک محدود کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بسنت کی تاریخوں میں اس تبدیلی کے حوالے سے ابتدائی طور پر ڈپٹی کمشنر لاہور کی طرف سے ایک خصوصی سمری تیار کی گئی تھی۔ اس سمری کو باضابطہ کارروائی کے لیے سب سے پہلے محکمہ داخلہ کو ارسال کیا گیا تاکہ اس کے تمام قانونی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ داخلہ نے ڈپٹی کمشنر لاہور کی طرف سے موصول ہونے والی اس سمری کا گہرائی سے جائزہ لیا اور تمام متعلقہ امور پر غور کیا۔ اس کے بعد محکمہ داخلہ نے اس سمری کو حتمی منظوری اور توثیق کے لیے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں پیش کر دیا جہاں اسے منظور کر لیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی کابینہ سے باضابطہ منظوری ملنے کے بعد اب لاہور میں جشنِ بسنت کے انعقاد کے لیے مارچ 2027 کی نئی تاریخوں پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ تیاریاں وقت پر مکمل ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس نئی تبدیلی سے قبل لاہور شہر میں 29 جنوری سے 7 فروری 2027 تک دس روزہ بسنت منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس پرانے شیڈول کے تحت طویل عرصے تک تقریبات جاری رہنے کا پروگرام تھا جسے اب حکومتی سطح پر نظرثانی کے بعد تبدیل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پرانے شیڈول میں بسنت کی تقریبات کا دورانیہ 10 دن رکھا گیا تھا جس پر شہریوں اور مختلف حلقوں کی طرف سے مختلف آراء سامنے آئی تھیں، تاہم اب کابینہ کے تازہ ترین فیصلے کے بعد یہ تہوار صرف تین روز تک محدود ہو گا جو مارچ کے وسط میں منایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بسنت کا یہ تہوار لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں اپنی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کی وجہ سے ہمیشہ سے خاص مقام رکھتا ہے۔ اس موقع پر روایتی کھانوں، پتنگ بازی اور دیگر ثقافتی سرگرمیوں سے جڑے لاکھوں شہری اس رنگا رنگ میلے میں بھرپور شرکت کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے اس تہوار کے موقع پر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور شہریوں کو پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ نئی تاریخوں کے اعلان کے بعد سیکیورٹی اور ٹریفک کے انتظامات کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ مارچ کے مہینے میں موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تاریخیں زیادہ موزوں قرار دی گئی ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق تمام اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بسنت کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے فول پروف انتظامات یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کی طرف سے بھی بسنت کی نئی تاریخوں کے اعلان پر مختلف قسم کے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور لوگ اس تاریخی تہوار کے انتظار میں ہیں۔ دوسری طرف انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے طے کردہ ضابطہ اخلاق کی مکمل پابندی کرائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کابینہ کی منظوری کے بعد اب لاہور میں جشنِ بسنت کے حوالے سے تمام ابہام ختم ہو چکے ہیں اور نیا شیڈول سرکاری طور پر نافذ ہو چکا ہے۔ تمام متعلقہ ادارے اب مارچ کے مہینے میں اس بڑے تہوار کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی حکمت عملی کے تحت عملی اقدامات کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%d8%a7%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81-%d9%86%db%92-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ڈینگی لاروا چھپانے یا غفلت پر کوئی گنجائش نہیں، ڈی سی لاہور</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%da%88%db%8c%d9%86%da%af%db%8c-%d9%84%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a7-%da%86%da%be%d9%be%d8%a7%d9%86%db%92-%db%8c%d8%a7-%d8%ba%d9%81%d9%84%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%da%88%db%8c%d9%86%da%af%db%8c-%d9%84%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a7-%da%86%da%be%d9%be%d8%a7%d9%86%db%92-%db%8c%d8%a7-%d8%ba%d9%81%d9%84%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 16:18:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_ڈینگی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈینگی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شالیمار]]></category>
		<category><![CDATA[شہر_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%88%db%8c%d9%86%da%af%db%8c-%d9%84%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a7-%da%86%da%be%d9%be%d8%a7%d9%86%db%92-%db%8c%d8%a7-%d8%ba%d9%81%d9%84%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ڈپٹی کمشنر لاہور نے شالیمار تحصیل کا دورہ کیا اور صفائی و ڈینگی سرویلنس کے انتظامات کا جائزہ لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز نے شہر میں ڈینگی کی روک تھام اور صفائی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے تحصیل شالیمار کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔ اس دورے کا مقصد انسدادِ ڈینگی مہم کی کارکردگی کو جانچنا اور فیلڈ میں کام کرنے والی ٹیموں کی کارکردگی کا مشاہدہ کرنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دورے کے دوران ڈپٹی کمشنر نے طارق شہید روڈ اور شیر شاہ روڈ کا خصوصی طور پر معائنہ کیا جہاں انہوں نے صفائی کے انتظامات اور روڈ واشنگ کے عمل کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ ان کے ہمراہ اسسٹنٹ کمشنر شالیمار رابعہ الطاف اور چیف آفیسر ایم سی ایل کلیم یوسف بھی موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی سی لاہور نے متعلقہ علاقوں میں صفائی کی مجموعی صورتحال کو تسلی بخش قرار دیا تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ موسمی حالات ڈینگی مچھر کی افزائش کے لیے انتہائی سازگار ہیں اس لیے غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے فیلڈ میں کام کرنے والی ڈینگی سرویلنس ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنائیں اور شہر کے تمام نامزد ہاٹ سپاٹس کی مکمل کوریج کو یقینی بنایا جائے۔ سرویلنس کے اس عمل میں مسلسل فالو اپ کو بھی لازمی قرار دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کے سربراہ نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر معائنے کے دوران کہیں بھی ڈینگی کا لاروا برآمد ہوتا ہے تو فوری طور پر ایس او پیز کے مطابق کارعمل کا آغاز کیا جائے۔ لاروا ملنے کی صورت میں متاثرہ مقام کے اطراف کے دس گھروں میں لازمی اسپرے کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز نے صفائی کے عمل کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہدایت کی کہ شہر کی صفائی کا روزانہ کا معمولاتی کام دن کا آغاز ہونے اور روزمرہ کی زندگی شروع ہونے سے پہلے مکمل کر لیا جائے۔ صفائی اور روڈ واشنگ کے بعد بھی اس کی مسلسل نگرانی کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈینگی سرویلنس پر مامور عملے کو سختی سے ہدایت کی گئی کہ وہ فیلڈ میں ہمہ وقت متحرک رہیں اور کسی بھی جگہ لاروا کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر فوری طور پر اعلیٰ حکام کو رپورٹ کریں تاکہ بروقت کار عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ ایک صاف ستھرا ماحول اور ڈینگی جیسی بیماری سے تحفظ فراہم کرنا شہر کے ہر ایک شہری کا بنیادی حق ہے اور اس فریضے کی انجام دہی میں کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے مکینوں سے اپیل کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ وہ اپنے گھروں کے اندر اور اردگرد پانی کو زیادہ دیر تک جمع نہ ہونے دیں اور حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی ڈینگی سے بچاؤ کی کوششوں میں انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ لاہور شہر میں صفائی ستھرائی اور ڈینگی کے خاتمے کے لیے سرویلنس کا یہ عمل کسی عارضی مہم کے تحت نہیں بلکہ ایک مسلسل اور مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے گا تاکہ شہریوں کو محفوظ ماحول مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضلعی انتظامیہ کے افسران کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنے اپنے علاقوں میں فیلڈ وزٹس کریں اور صفائی کے عملے کی حاضری اور کارکردگی کو خود مانیٹر کریں تاکہ کسی بھی قسم کے نقائص کو فوراً دور کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں بڑھتے ہوئے انسدادِ ڈینگی اقدامات کے تناظر میں ضلعی انتظامیہ متحرک ہے اور عوام کو بھی اس وبا سے بچاؤ کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی مسلسل ترغیب دی جا رہی ہے تاکہ شہر کو ڈینگی سے مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%da%88%db%8c%d9%86%da%af%db%8c-%d9%84%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a7-%da%86%da%be%d9%be%d8%a7%d9%86%db%92-%db%8c%d8%a7-%d8%ba%d9%81%d9%84%d8%aa-%d9%be%d8%b1-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں بسنت کے انعقاد کے لیے 12 سے 14 مارچ کی تجویز پیش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%b9%d9%82%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-12-%d8%b3%db%92-14/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%b9%d9%82%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-12-%d8%b3%db%92-14/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 12:37:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامات]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_فروخت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تین_روزہ_بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%b9%d9%82%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-12-%d8%b3%db%92-14/</guid>

					<description><![CDATA[ڈپٹی کمشنر لاہور نے بسنت کے انعقاد اور حفاظتی انتظامات سے متعلق جامع سمری پنجاب حکومت کو ارسال کر دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں موسم بہار کے انتہائی مقبول اور تاریخی روایتی تہوار بسنت کے انعقاد کے حوالے سے ایک انتہائی اہم انتظامی پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں شہر کے اندر اس رنگا رنگ تہوار کو بحال کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے اس روایتی تہوار کے پرامن انعقاد اور اس کے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دینے کی غرض سے اپنی ایک تفصیلی سمری صوبائی حکومت کو ارسال کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور نے اس ضمن میں تمام ضروری قانونی و انتظامی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے تجاویز تیار کی ہیں جن پر اب حکومتِ پنجاب کی حتمی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ پلان کے تحت لاہور شہر میں بسنت کا تہوار آئندہ برس مارچ کے مہینے میں منعقد کرنے کی تجویز باضابطہ طور پر سامنے رکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بسنت کے لیے رواں برس مارچ کی بارہ سے چودہ تاریخیں تجویز کی گئی ہیں جن پر عمل درآمد کے لیے اب حکومتی سطح پر غور و فکر کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے سبز سگنل ملنے کے بعد ہی اس تہوار کے باقاعدہ انعقاد اور حتمی تاریخوں کا حتمی اور باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیش کی گئی اس نئی سمری کے مطابق شہر کے مخصوص ممنوعہ زونز کو چھوڑ کر باقی تمام ضلع لاہور کی حدود میں باقاعدہ اور قانون کے دائرے میں رہ کر پتنگ بازی کی اجازت دینے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔ اس بات کو خصوصی طور پر یقینی بنایا جا رہا ہے کہ تہوار کے دوران شہری کھلے آسمان تلے محفوظ ماحول میں اپنی روایتی تفریح سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات کے تحت پتنگ بازی کے لیے صرف قانون کے مطابق قابلِ اجازت اور منظور شدہ میٹریل کے استعمال کی سخت شرط عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانا اور ماضی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے انتہائی مؤثر تدابیر اختیار کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجوزہ سخت ضوابط کے تحت پتنگ اور ڈور تیار کرنے والے تمام کاریگروں اور کارخانوں کے لیے اپنی ڈیجیٹل رجسٹریشن کرانا لازمی قرار دیے جانے کی تجویز بھی اس پلان کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔ اس ڈیجیٹل رجسٹریشن کا مقصد پیداواری عمل پر کڑی نظر رکھنا اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو سختی کے ساتھ روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجویز کردہ شیڈول کے مطابق پتنگوں اور ڈور کی تیاری کا عمل پانچ ستمبر سے چودھائی مارچ تک جاری رہنے کی اجازت ہوگی تاکہ وقت پر مارکیٹ کی طلب کو احسن طریقے سے پورا کیا جا سکے۔ اس طویل مدت میں تیارکنندگان کو ضابطے کے اندر رہتے ہوئے اپنی تیاریاں مکمل کرنے کا پورا موقع فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب تیار شدہ سامان کی مارکیٹ میں خریداری، نقل و حمل اور اس کے محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کی اجازت یکم فروری سے دینے کی تجویز بھی زیرِ غور رکھی گئی ہے۔ اس مرحلے پر بھی متعلقہ حکام کی جانب سے نقل و حمل پر پوری نظر رکھی جائے گی تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عام شہریوں کو پتنگیں اور ڈور فروخت کرنے کا عمل شروع کرنے کے لیے دس فروری کی تاریخ تجویز کی گئی ہے تاکہ تہوار کے آغاز سے قبل مارکیٹ میں ایک بہترین نظم و ضبط قائم رہ سکے۔ اس تاریخ کے مقرر ہونے کے بعد ہی بازاروں میں عام خریداروں کے لیے سامان کی باضابطہ دستیابی ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضوابط کے انتہائی سخت نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت صرف اور صرف رجسٹرڈ دکانداروں کے توسط سے کی جائے گی۔ کوئی بھی غیر رجسٹرڈ شخص یا دکاندار یہ حساس اشیاء بیچنے کا کسی بھی صورت میں مجاز نہیں ٹھہرایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بغیر کسی باضابطہ رجسٹریشن کے پتنگ اور ڈور بنانے، خریدنے، اپنے پاس ذخیرہ کرنے یا مارکیٹ میں فروخت کرنے پر مکمل قانونی پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اس طرح کے سخت اقدامات کا مقصد بازار میں صرف معیاری اور قانونی سامان کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تمام مجوزہ ضوابط، تاریخوں اور ایس او پیز کا حتمی فیصلہ صوبائی حکومت کی باضابطہ منظوری کے ساتھ مشروط ہے اور حکومت ہی تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اس بابت آخری حکم صادر کرے گی۔ شہریوں اور متعلقہ تاجر برادری کی جانب سے بھی اس اہم حکومتی فیصلے کا شدت کے ساتھ انتظار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس تہوار کو محفوظ بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کے تحفظ کے تقاضوں کو بھی ہر صورت پورا کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%b9%d9%82%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-12-%d8%b3%db%92-14/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور ہائیکورٹ: ڈاکٹر عظمیٰ خان کو جیل میں دل کی ادویات دینے کی ہدایت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%b9%d8%b8%d9%85%db%8c%d9%b0-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%b9%d8%b8%d9%85%db%8c%d9%b0-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 10:58:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بانی_پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_عظمی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سی_سی_پی_ஓ_لاهور]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_ہائیکورٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%b9%d8%b8%d9%85%db%8c%d9%b0-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88-%d8%ac%db%8c%d9%84-%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے ڈپٹی کمشنر اور سی سی پی او لاہور کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظر بندی کے خلاف دائر اہم درخواست پر سماعت کی گئی۔ اس دوران عدالت عالیہ نے جیل حکام کو ہدایت کی کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کو دل کی ادویات بلا تعطل فراہم کی جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس عبہر گل نے اس کیس کی باقاعدہ سماعت کی جس میں درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈوکیٹ رانا مدثر عمر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ دورانِ سماعت وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ نظر بند خواتین کسی بھی قسم کی غیرمعمولی مراعات کی طالب نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ زیر حراست خواتین کی جانب سے جیل میں کسی خاص سہولت کا مطالبہ نہیں کیا جا رہا بلکہ وہ صرف بنیادی انسانی اور قانونی ضروریات کی فراہمی کی خواستگار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ نورین نیازی کو روزمرہ استعمال کے لیے کپڑے، ضروری ادویات اور نظر کی عینک فوری طور پر مہیا کرنے کے احکام جاری کیے جائیں۔ اس کے علاوہ ان کی اہل خانہ اور قانونی مشیر سے ملاقات کی اجازت دینے کا بھی پرزور مطالبہ کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران ڈاکٹر عظمیٰ خان کے شوہر احد خان روسٹرم پر آئے اور جج صاحب کو بتایا کہ ان کی اہلیہ پہلے ہی دل کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کو ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر تین اہم ادویات دینا لازمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احد خان نے عدالت سے پرزور استدعا کی کہ ان کی اہلیہ کی ادویات وقت پر روزانہ جیل کے اندر پہنچانے کی باضابطہ اجازت دی جائے تاکہ ان کی صحت کو مزید لاحق خطرات سے بچایا جا سکے۔ عدالتی کارروائی کے دوران یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی ان کا بنیادی حق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے یہ استدعا بھی کی کہ ڈپٹی کمشنر لاہور، سی سی پی او لاہور اور متعلقہ ایس پی کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیا جائے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ان افسران کو طلب کیا جانا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ زیر بحث نظر بندی کے نوٹیفکیشن سے متعلق عدالت میں آ کر وضاحت پیش کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے تمام فریقین کے دلائل غور سے سننے کے بعد ڈاکٹر عظمیٰ خان کو دل کی ادویات فوری اور باقاعدگی سے فراہم کرنے کے احکام جاری کر دیے۔ تاہم، ڈپٹی کمشنر اور سی سی پی او سمیت دیگر افسران کو ذاتی حیثیت میں طلب کرنے کی درخواست پر عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر حراست افراد اور سیاسی شخصیات کی بنیادی سہولیات اور طبی امداد کے حوالے سے درخواستیں دائر کی جاتی رہی ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالتیں عام طور پر قیدیوں کی صحت اور علاج معالجے کے معاملات پر خاص توجہ دیتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ کے اس حکم کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ متعلقہ جیل انتظامیہ ڈاکٹر عظمیٰ خان کی صحت کے حوالے سے عدالتی احکام پر فوری عملدرآمد کرے گی۔ عدالت کی طرف سے محفوظ کیے گئے فیصلے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ متعلقہ اعلیٰ افسران کو عدالت میں ذاتی حیثیت میں طلب کیا جاتا ہے یا نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے عدالتی نظام میں بنیادی انسانی حقوق اور قیدیوں کے علاج معالجے کے حوالے سے دائر ہونے والی رٹ پٹیشنز پر باقاعدگی سے سماعت کی جاتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے اس اقدام کو قانونی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے زیر حراست افراد کی طبی ضروریات کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نظر بندی کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی اس درخواست میں مزید قانونی کارروائی کا انحصار اس فیصلے پر ہوگا جو عدالت نے افسران کی طلبی کے حوالے سے محفوظ کیا ہے۔ اس فیصلے کے آنے کے بعد کیس کی اگلی سمت کا تعین کیا جائے گا اور فریقین کے دلائل کی روشنی میں مزید احکام صادر کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی جانب سے اس نوعیت کے احکام کا مقصد قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ حراست میں موجود تمام افراد کو ان کے بنیادی حقوق بلا امتیاز حاصل ہوں۔ جیل حکام کی جانب سے اس حکم پر عملدرآمد کی رپورٹ بھی آئندہ کی کارروائی میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%b9%d8%b8%d9%85%db%8c%d9%b0-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%da%a9%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
