<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ڈپٹی_کمشنر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%da%88%d9%be%d9%b9%db%8c_%da%a9%d9%85%d8%b4%d9%86%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Tue, 03 Nov 2026 23:12:57 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ڈپٹی_کمشنر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>مریم نواز کا چوہدری سالک حسین کو 5 ارب روپے کا ہتکِ عزت کا نوٹس</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/4911/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/4911/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 03 Nov 2026 23:12:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آر_وائی_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بدعنوانی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[چوہدری_پرویز_الہی]]></category>
		<category><![CDATA[چوہدری_سالک_حسین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_تنازع]]></category>
		<category><![CDATA[عظمی_بخاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانونی_نوٹس]]></category>
		<category><![CDATA[گجرات]]></category>
		<category><![CDATA[مریم_نواز]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_وزیر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/politics/4911/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب کی وزیر اعلیٰ نے وفاقی وزیر کی طرف سے مبینہ بدعنوانی کے الزامات پر قانونی نوٹس بھجوا دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین، ایک نجی ٹی وی چینل کے اینکر اور اس کے چیئرمین کو پانچ ارب روپے کا قانونی ہتکِ عزت کا نوٹس ارسال کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ نوٹس صوبے میں مبینہ وسیع پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد جاری کیا گیا ہے جس میں غیر مشروط معافی اور بیانات کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک تقریب کے دوران مریم نواز نے موقف اختیار کیا کہ اگر وفاقی وزیر کے پاس کوئی ثبوت موجود ہے تو اسے سامنے لایا جائے بصورت دیگر انہیں عدالت میں گھسیٹا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے بھجوائے گئے قانونی نوٹس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ وفاقی وزیر کی جانب سے لگائے گئے الزامات بے بنیاد، غیر مصدقہ اور ہتک آمیز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوٹس کے متن کے مطابق اس قسم کے عام الزامات سے وزیر اعلیٰ اور صوبائی انتظامیہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کی کوئی دستاویزی یا تصدیق شدہ بنیاد پیش نہیں کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے اپنے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ پنجاب میں بدعنوانی کے کیسوں کی فائلیں الماریوں میں بھری پڑی ہیں تاہم انہوں نے خود یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ ان کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی نوٹس میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ ایک ذمہ دار وفاقی وزیر کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ کسی دوسری آئینی حکومت پر بغیر کسی شواہد کے اس طرح کے الزامات عائد کرنے کے کیا سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کی وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ انہوں نے صوبے میں کھربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کیے ہیں اور اگر عوامی وسائل میں ایک پائی کی بھی بے ضابطگی ثابت ہو جائے تو وہ جوابدہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اصل تنازعہ گجرات میں ڈپٹی کمشنر کی تقرری سے جڑا ہوا ہے کیونکہ وہ سفارش یا مرضی کی بنیاد پر تقرریوں کی حامی نہیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چوہدری سالک حسین کی تنقید کا مقصد دراصل ان کی پسند کے افسر کی تعیناتی کی درخواست مسترد ہونے پر پیدا ہونے والی ذاتی ناراضگی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عظمیٰ بخاری نے مزید واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز تمام تقرریاں اور تبادلے صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر کرتی ہیں اور کسی کی سفارش کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری طرف وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے انٹرویو کے دوران پوچھے گئے سوالات کے دیانت داری سے جواب دیے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چوہدری سالک نے یہ بھی تبصرہ کیا کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو غرور و تکبر سے بچنا چاہیے اور عاجزی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سیاسی تنازع کے دوران یہ پہلو بھی اہم ہے کہ چوہدری سالک حسین کے بھائی چوہدری شافع حسین بھی پنجاب حکومت میں صنعت و تجارت کے صوبائی وزیر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ متعلقہ فریقین اپنے بیانات واپس لیتے ہوئے عوامی سطح پر غیر مشروط معافی مانگیں بصورت دیگر مزید قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چوہدری پرویز الٰہی کی سابقہ دورِ حکومت کے حوالے سے بھی انٹرویو میں بات کی گئی تھی جس پر صوبائی حکومت کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تمام قانونی کارروائی نجی ٹی وی چینل پر نشر کیے جانے والے ایک حالیہ ٹاک شو کے مباحثے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/4911/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>رینالہ خورد: سہولت بازار میں دکانوں کی مبینہ تقسیم پر احتجاج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/2528/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/2528/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 09:16:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[اوکاڑہ]]></category>
		<category><![CDATA[بھوک_ہڑتال]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[دکانیں_تقسیم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریڑھی_بان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b1%db%8c%d9%86%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%ae%d9%88%d8%b1%d8%af-%d8%b3%db%81%d9%88%d9%84%d8%aa-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%af%da%a9%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[رینالہ خورد میں سہولت بازار کی دکانیں امیروں میں بانٹنے کے خلاف ریڑھی بانوں نے کلمہ چوک میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگا دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">رینالہ خورد کے علاقے میں سہولت بازار کے معاملے پر غریب محنت کش طبقے اور ضلعی انتظامیہ کے مابین شدید کشیدگی پیدا ہو چکی ہے جہاں ریڑھی بانوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاجی کیمپ قائم کر رکھا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق تحصیل رینالہ خورد کے سہولت بازار میں دکانوں کی مبینہ طور پر غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف متاثرہ مزدوروں نے کلمہ چوک میں بھوک ہڑتالی کیمپ لگا دیا ہے۔ اس احتجاجی مظاہرے میں ریڑھی بانوں کے علاوہ ان کے اہل خانہ بھی بڑی تعداد میں شریک ہیں جنہوں نے مقامی انتظامیہ کے مبینہ امتیازی فیصلوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق اسسٹنٹ کمشنر رینالہ خورد صائمہ نذیر کی جانب سے چند روز قبل سہولت بازار کی دکانوں کی ایک فہرست جاری کی گئی تھی جس پر غریب طبقے کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام دکانیں مبینہ طور پر بغیر کسی شفاف قرعہ اندازی کے اور اخبارات میں باقاعدہ اشتہار جاری کیے بغیر بااثر اور امیر افراد میں تقسیم کر دی گئی تھیں۔ اس معاملے کے منظر عام پر آنے کے بعد مقامی محنت کشوں میں شدید بے چینی پھیل گئی تھی اور انہوں نے اس ناانصافی کے خلاف فوری طور پر آواز بلند کرنے کا عزم کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ ریڑھی بانوں نے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کی جانب سے غریبوں کے حقوق پر مبینہ ڈاکہ ڈالا گیا ہے اور حق داروں کو ان کا جائز مقام دینے کے بجائے اقربا پروری سے کام لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ طویل عرصے سے سڑکوں اور بازاروں میں دن رات محنت مزدوری کر رہے ہیں اور حکومت کی جانب سے قائم کردہ اس سہولت بازار میں سب سے پہلا حق ان کا ہی بنتا ہے۔ دکانوں کی اس مبینہ غیر قانونی تقسیم نے غریب محنت کشوں کو شدید مالی مشکلات اور ذہنی اذیت سے دوچار کر رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی سنگینی اور عوامی ردعمل کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ نے اس متنازع عمل اور الاٹمنٹ کے پورے پروسیس کو روکنے کا باضابطہ اعلان کر دیا تھا جس سے کچھ دیر کے لیے متاثرہ افراد کو کچھ ریلیف ملا تھا۔ تاہم ریڑھی بانوں کا دعویٰ ہے کہ ڈپٹی کمشنر کے احکامات کے باوجود اسسٹنٹ کمشنر آفس اور دیگر متعلقہ حلقوں کی سطح پر افواہوں کا بازار تاحال گرم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ مبینہ طور پر وہی دکانیں انہی مخصوص افراد کو دی جائیں گی اور صرف کاغذی کارروائی کے لیے نام تبدیل کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی مبینہ بے یقینی، غیر شفافیت اور انتظامی سستی کے خلاف بلیک ڈے کے موقع پر ریڑھی بانوں نے اپنے بچوں اور فیملیز کے ہمراہ کلمہ چوک میں باضابطہ طور پر بھوک ہڑتالی کیمپ لگا دیا۔ اس کیمپ کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے اور انتظامیہ کے رویے کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس احتجاجی دھرنے کے باعث سڑک پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی اور شہریوں کی بڑی تعداد نے موقع پر جمع ہو کر غریب مزدوروں کے مطالبات کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مظاہرین نے اس موقع پر اعلیٰ حکام بالخصوص ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ، کمشنر ساہیوال ڈویژن اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے فی الفور اس معاملے کا نوٹس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ان کا بنیادی اور پرزور مطالبہ ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر رینالہ خورد کی طرف سے جاری کردہ اس متنازعہ لیٹر کو باضابطہ طور پر منسوخ کیا جائے اور اس کا کینسلشن نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دکانوں کی الاٹمنٹ کے لیے مکمل شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے کھلے عام قرعہ اندازی کا عمل منعقد کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ نئی درخواستیں وصول کرنے کی تاریخ کا باقاعدہ اعلان کرے تاکہ شہر کے تمام مستحق، غریب اور محنت کش ریڑھی بان اس عمل میں برابری کی بنیاد پر حصہ لے سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک شفاف قرعہ اندازی کا عمل شروع نہیں کیا جاتا اور سابقہ متنازع لسٹ کو کلی طور پر منسوخ نہیں کیا جاتا، ان کا یہ بھوک ہڑتالی کیمپ انتہائی پرامن طریقے سے جاری رہے گا۔ غریب مزدوروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری توجہ نہ دی گئی تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احتجاجی کیمپ کے شرکاء نے انتہائی واضح الفاظ میں یہ باور کرایا ہے کہ اگر ضلعی انتظامیہ نے ان کے مطالبات کو سنجیدہ نہ لیا اور متنازع لسٹ کی منسوخی کا باضابطہ پروانہ جاری نہ کیا تو وہ مجبوراً اپنے بچوں کے ہمراہ لاہور کا رخ کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس اور سی ایم آفس لاہور کے سامنے مستقل طور پر بھوک ہڑتالی کیمپ لگا کر بیٹھ جائیں گے تاکہ حکومت تک ان کی آواز براہ راست پہنچ سکے۔ مظاہرین نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیں گی اور غریب ریڑھی بانوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتی کا فوری ازالہ کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مقامی سیاسی اور سماجی حلقوں نے بھی سہولت بازار رینالہ خورد کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فلاحی منصوبے غریب عوام کی سہولت کے لیے بنائے جاتے ہیں لیکن اگر ان میں بھی امیر اور بااثر افراد کو نوازا جائے تو اس سے ریاست کے فلاحی تصور کو شدید دھچکا لگتا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں اور ذمہ داران کے خلاف ضابطے کی کارعمل عمل میں لائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ اپنی محنت کی کمائی پر گزارا کرنے والے لوگ ہیں اور کسی کے حق پر ڈاکہ ڈالنا ان کا شیوہ نہیں ہے، تاہم وہ اپنے بچوں کے حق کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہولت بازار کے قیام کا اصل مقصد ریڑھی بانوں اور چھوٹے دکانداروں کو باعزت طریقے سے روزگار فراہم کرنا تھا لیکن اسسٹنٹ کمشنر کے مبینہ اقدامات نے اس مقصد کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک انہیں انصاف نہیں ملتا وہ اس سردی اور مشکلات کے باوجود اپنے کیمپ سے واپس نہیں جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رینالہ خورد کے اس سہولت بازار میں دکانوں کی الاٹمنٹ کا تنازع اب پورے ضلع میں بحث کا موضوع بن چکا ہے اور ہر طبقہ فکر اس پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہے۔ سماجی کارکنوں نے بھی ریڑھی بانوں کے اس احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر مزدوروں کے وفد سے مذاکرات کرے اور اس تنازع کا پرامن اور منصفانہ حل نکالے۔ ان کا ماننا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ احتجاج صوبائی سطح پر ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے جس سے حکومت کی بدنامی کا خدشہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ پچھلے کئی دنوں سے اس ناانصافی کے خلاف دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں لیکن کسی بھی سطح پر ان کی داد رسی نہیں کی جا رہی تھی۔ کلمہ چوک میں لگائے جانے والے اس بھوک ہڑتالی کیمپ میں شریک بچوں اور خواتین نے بھی حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کے والدين کی محنت کا احترام کیا جائے اور انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اپنے جائز حقوق مانگ رہے ہیں اور کسی بھی غیر قانونی مطالبے کی حمایت نہیں کرتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں تمام مظاہرین نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری تک پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری احکامات جاری کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ ہوش کے ناخن لے گی اور غریب ریڑھی بانوں کے ساتھ کی جانے والی مبینہ زیادتی کا فوری نوٹس لے کر لسٹ منسوخ کرنے کا باضابطہ اعلان کرے گی تاکہ علاقے میں امن اور انصاف کی فضا بحال ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/2528/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جھنگ تھل جیپ ریلی میں سرکاری گاڑی کا استعمال، ڈپٹی کمشنر ہٹا دیے گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2515/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2515/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 07:57:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامی_نظم_و_ضبط]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پیرا]]></category>
		<category><![CDATA[جھنگ]]></category>
		<category><![CDATA[جھنگ_تھل_جیپ_ریلی]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%da%be%d9%86%da%af-%d8%aa%da%be%d9%84-%d8%ac%db%8c%d9%be-%d8%b1%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%da%af%d8%a7%da%91%db%8c-%da%a9%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پیرا کی گاڑی کے غلط استعمال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جھنگ میں منعقدہ ایک جیپ ریلی کے دوران سرکاری وسائل کے غیر مجاز استعمال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ضلعی افسر کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ کارروائی انتظامی نظم و ضبط کی مبینہ خلاف ورزی اور طے شدہ پالیسی سے انحراف کے باعث عمل میں لائی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی تین روزہ جھنگ تھل جیپ ریلی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔ اس ویڈیو میں پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیرا کی ایک سرکاری گاڑی کو دیگر گاڑیوں کے ہمراہ اس تفریحی ریلی میں شریک دیکھا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاملے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے اتوار کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اس ویڈیو کا سختی سے نوٹس لیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کسی بھی ریگولیٹری ادارے کے وسائل کو اس کے سرکاری مینڈیٹ سے ہٹ کر غیر سنجیدہ مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے مزید وضاحت کی کہ قانون کے مطابق سیکیورٹی فراہم کرنے کی بنیادی ذمہ داری پولیس کے پاس ہوتی ہے، جبکہ ہنگامی حالات یا حادثات کی صورت میں امدادی کارروائیاں صرف ریسکیو 1122 کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں امور پیرا کے دائرہ کار کا حصہ نہیں بنتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے اس بات پر بھی گہرے خدشات کا اظہار کیا کہ آیا کس قانونی یا انتظامی بنیاد پر اس ادارے کی گاڑی کو اس جیپ ریلی کے دوران تعینات کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف اختیارات کا غلط استعمال ہے بلکہ سرکاری قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد پنجاب حکومت کے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے باضابطہ طور پر ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔ اس حکومتی نوٹیفکیشن کے مطابق گورنر پنجاب کے احکامات کی روشنی میں جھنگ کے ڈپٹی کمشنر کا فوری طور پر تبادلہ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تبادلے کے احکامات میں متعلقہ افسر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو کر مزید احکامات کے لیے متعلقہ صوبائی محکمے میں اپنی رپورٹ پیش کریں۔ حکومت کی جانب سے اس نوعیت کے اقدامات کا مقصد انتظامی امور میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تنازعے کے پس منظر میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اکیس اکتوبر کو پیرا کے ڈائریکٹر جنرل فرخ عتیق خان کی جانب سے ایک تحریری خط جاری کیا گیا تھا۔ اس خط میں تمام متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری بورڈز کے سربراہان کو تنبیہ کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریٹائرڈ کیپٹن فرخ عتیق کی جانب سے جاری کردہ اس خط میں اس بات کا مشاہدہ کیا گیا تھا کہ پیرا کے فیلڈ آپریشنز کے لیے خصوصی طور پر فراہم کردہ ڈبل کیبن گاڑیاں غیر مجاز سرگرمیوں میں استعمال ہو رہی ہیں۔ خط میں انتباہ جاری کیا گیا تھا کہ سرکاری وسائل کو ان کے مقررہ مقاصد کے علاوہ کہیں اور استعمال نہ کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ خط میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی تھی کہ بعض اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے یہ گاڑیاں اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کر دی گئی تھیں۔ ڈائریکٹر جنرل کے مطابق اس طرح کا اقدام اتھارٹی کی منظور شدہ سرکاری پالیسی کی صریحاً خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے اس واقعے پر اٹھائے گئے سخت اقدامات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ انتظامیہ سرکاری اثاثوں کے بے جا استعمال اور نظم و ضبط کی پامالی پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر گامزن ہے۔ انتظامی ماہرین کے مطابق اس طرح کے فیصلوں سے سرکاری اداروں میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جھنگ کے ضلعی انفارمیشن آفیسر ریاض مارتھ نے اس تین روزہ ایونٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ تقریب نجی معاونین کے اشتراک سے منعقد ہوئی تھی اور حکام نے اس کی کامیابی پر اظہارِ تشکر بھی کیا تھا، لیکن سرکاری گاڑی کی اس ریلی میں موجودگی نے انتظامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2515/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں انسداد ڈینگی: لاروا ملنے پر 10 گھروں میں سپرے کرنے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2429/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2429/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 08:17:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتیاطی_تدابیر]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_ڈینگی]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈویژنل_انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈینگی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%88%db%8c%d9%86%da%af%db%8c-%d9%84%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a7-%d9%85%d9%84%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1-10/</guid>

					<description><![CDATA[کمشنر لاہور کی زیر صدارت اجلاس میں انسداد ڈینگی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور اکتوبر و نومبر کے لیے ہدایات جاری کی گئیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ڈویژن میں انسداد ڈینگی کے اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک اہم اجلاس کمشنر لاہور ڈویژن نعمان یوسف کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں یکم جنوری سے چھبیس اکتوبر تک ڈینگی کی روک تھام کے لیے جاری تمام سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کی حکمت عملی طے کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران حکام کو بتایا گیا کہ لاہور میں سال کے آغاز سے اب تک ڈینگی کے ایک سو تین جبکہ پورے ڈویژن میں مجموعی طور پر ایک سو انیس مثبت کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ متعلقہ محکموں کے افسران نے اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دی کہ شہر میں انسداد ڈینگی کی مہم کس طرح جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ لاہور میں ڈینگی لاروا کی تدوین اور تلفی کے لیے ایک سو چوالیس ٹیمیں فیلڈ میں مکمل طور پر متحرک ہیں۔ ان فیلڈ ٹیموں نے اب تک کارروائیاں کرتے ہوئے دو لاکھ چون ہزار سے زائد مقامات سے ڈینگی لاروا کو تلف کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کی تئیس ہائی رسک یونین کونسلز میں صورتحال کے پیش نظر متعدد مرتبہ ڈیپ سرویلنس بھی کی جا چکی ہے تاکہ مرض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ انسداد ڈینگی کے ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے والے عناصر کے خلاف بھی کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر بھر میں انسداد ڈینگی اقدامات نہ کرنے پر اب تک آٹھ سو چونسٹھ مقدمات درج کیے جا چکے ہیں تاکہ غفلت برتنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے یہ طے کیا گیا کہ اگر کسی مقام پر مثبت لاروا برآمد ہوتا ہے تو اب قریبی پانچ کے بجائے دس گھروں میں لازمی سپرے کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ڈینگی مچھر کے پھیلاؤ کے دائرہ کار کو فوری طور پر محدود کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمشنر لاہور نعمان یوسف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اکتوبر اور نومبر کے مہینے انسداد ڈینگی سرگرمیوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں ہدایت کی کہ ان مہینوں کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی قطعی برداشت نہیں کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے ہدایت کی کہ انسداد ڈینگی ٹیمیں مسلسل فیلڈ میں متحرک رہیں اور تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کریں۔ فیلڈ عملے کو سختی سے پابند کیا گیا ہے کہ وہ گھروں کے دورے کے دوران شہریوں کو ڈینگی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر شہریوں میں احتیاطی تدابیر اور ضروری ہدایات پر مشتمل معلوماتی پمفلٹس بھی لازمی طور پر تقسیم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ عوامی آگاہی کے بغیر اس موذی مرض پر قابو پانا ممکن نہیں ہے، اس لیے تمام ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن ریٹائرڈ علی اعجاز، ڈپٹی کمشنر قصور آصف رضا، ڈپٹی کمشنر ننکانہ رعنا حمید اور ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ رانا عدیل تصور نے شرکت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے علاوہ اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر بلال حسن، سی ای او ہیلتھ اتھارٹی لاہور، ریلوے حکام، اور دیگر محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں ایل ڈبلیو ایم سی، واسا، پی ایچ اے، محکمہ زراعت، محکمہ ماحولیات اور سیف سٹیز اتھارٹی کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اور اپنے محکموں کی کارکردگی کا رپورٹ پیش کیا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2429/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب میں 20 کلو آٹے کے تھیلے کی فروخت پر پابندی عائد، 10 کلو کا تھیلا دستیاب ہوگا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2081/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2081/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 02:16:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آٹا]]></category>
		<category><![CDATA[اسمگلنگ]]></category>
		<category><![CDATA[اشیائے_خوردونوش]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-20-%da%a9%d9%84%d9%88-%d8%a2%d9%b9%db%92-%da%a9%db%92-%d8%aa%da%be%db%8c%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d9%88%d8%ae%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعلیٰ مریم نواز نے گندم اور آٹے کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بین الصوبائی بارڈرز پر سخت نگرانی کا حکم دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں آٹے کی دستیابی اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے 20 کلو آٹے کے تھیلے کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اب مارکیٹ میں صرف 10 کلو گرام کے آٹے کے تھیلے ہی دستیاب ہوں گے، جس کا مقصد ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کی روک تھام ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں صوبے میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دستیابی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران گندم اور آٹے کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے پر اتفاق کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بین الصوبائی بارڈرز پر کڑی نگرانی کی جائے تاکہ گندم کی اسمگلنگ کا راستہ روکا جا سکے۔ انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اپنے اضلاع میں گندم کی بوائی کے مقررہ اہداف کو ہر صورت مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں سرکاری اراضی پر گندم کی کاشت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں گندم کی پیداوار بڑھانے اور اسے عام آدمی تک مناسب قیمت پر پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ اجلاس میں 15 بنیادی اشیائے خوردونوش بشمول دالوں اور سبزیوں کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ مارکیٹ میں اشیاء کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے اور قیمتوں میں استحکام برقرار رکھا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے اضلاع میں موجود کولڈ اسٹوریج میں پھلوں جیسے کہ کی لا، سیب اور کھجور کی اسٹوریج کو یقینی بنائیں۔ اس اقدام کا مقصد پھلوں کی قلت کو دور کرنا اور مارکیٹ میں ان کی مسلسل فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ مریم نواز نے صوبے بھر میں &#039;منڈی مارٹ&#039; کے قیام کے لیے عملی اقدامات شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ منڈی مارٹ کے ذریعے عوام کو معیاری اشیاء سستے داموں فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پنجاب کا یہ فیصلہ گندم کے بحران سے نمٹنے اور آٹے کی قیمتوں میں توازن لانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ 10 کلو کے تھیلے کی دستیابی سے سپلائی چین میں شفافیت آئے گی اور عام صارفین کو آٹا خریدنے میں آسانی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی انتظامیہ نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ مارکیٹ کی صورتحال پر کڑی نظر رکھیں اور قیمتوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سرکاری نرخوں پر اشیاء کی فروخت یقینی بنانے میں تعاون کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گندم کی بوائی کے سیزن کے پیش نظر حکومت نے زرعی شعبے میں بہتری کے لیے خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔ کسانوں کو بیج اور کھاد کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بھی ضلعی سطح پر نگرانی کا نظام فعال کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں اور فیلڈ میں جا کر قیمتوں کی نگرانی کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اجلاس میں صوبائی وزراء اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور وزیراعلیٰ کو اشیائے خوردونوش کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔ حکومت نے عزم ظاہر کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2081/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ڈیرہ اسماعیل خان میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/540/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/540/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 06:37:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پابندی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دفعہ_144]]></category>
		<category><![CDATA[ڈبل_سواری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_آئی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%da%88%db%8c%d8%b1%db%81-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%b9%db%8c%d9%84-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d9%88-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c%d8%b4-%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[ضلعی انتظامیہ نے عوامی اجتماعات، ریلیوں اور موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر ایک ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ڈیرہ اسماعیل خان کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈپٹی کمشنر حکمت اللہ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق، یہ پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہیں اور ان کا اطلاق 11 نومبر 2026 تک برقرار رہے گا۔ انتظامیہ نے یہ فیصلہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے احکامات کے تحت ضلع بھر میں کسی بھی قسم کے عوامی اجتماعات، جلسے، جلوس، ریلیاں اور دھرنے دینے پر مکمل پابندی ہوگی۔ انتظامیہ کا مقصد شہر میں نظم و ضبط کو قائم رکھنا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پابندی کے دائرہ کار میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری بھی شامل ہے، جس پر ایک ماہ کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوٹیفکیشن کے مطابق، عوامی مقامات پر اسلحہ کی نمائش کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔ اس کے علاوہ شاہراہوں پر خیمے نصب کرنے یا کسی بھی قسم کے عارضی ڈھانچے قائم کرنے کی اجازت نہیں ہوگی جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایسی تمام سرگرمیاں جن سے امن و امان میں خلل پڑنے یا شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ہو، ان پر قانونی قدغن ہوگی۔ انتظامیہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 188 کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس کو اس حوالے سے ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان کے قیام میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ شہر میں پرامن ماحول کو برقرار رکھنا تمام شہریوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ معمولات زندگی بلا تعطل جاری رہ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیرہ اسماعیل خان میں سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے انتظامیہ وقتاً فوقتاً ایسے اقدامات اٹھاتی رہتی ہے۔ حالیہ پابندی کا مقصد بھی شہر میں کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر کے مختلف حصوں میں گشت بڑھا رہے ہیں تاکہ ان احکامات کی خلاف ورزی نہ ہو۔ ضلعی انتظامیہ صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور شہریوں کو پرامن رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ دفعہ 144 کا نفاذ پاکستان میں انتظامیہ کی جانب سے ایک معمول کا قانونی عمل ہے جو اکثر حساس مواقع یا امن و امان کے خدشات کے پیش نظر کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد عوامی جان و مال کا تحفظ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری احکامات پر توجہ دیں۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کا مقصد صرف اور صرف عوامی مفاد اور تحفظ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ ایک ماہ کے دوران ضلعی انتظامیہ کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لیا جاتا رہے گا۔ اگر حالات معمول پر رہے تو پابندیوں میں نرمی یا خاتمے کا فیصلہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دوبارہ جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/540/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
