<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ڈاکٹر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 15:26:31 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ڈاکٹر &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پنجاب میں جعلی ہارمونل دوا کی فروخت پر الرٹ جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/3175/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/3175/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 12:14:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ادویات]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_ادویات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈائیڈروجیسٹرون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرگ_کنٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رحیم_یار_خان]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d8%b9%d9%84%db%8c-%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%85%d9%88%d9%86%d9%84-%d8%af%d9%88%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%81%d8%b1%d9%88%d8%ae%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[ڈرگ کنٹرول حکام نے ڈائیڈروجیسٹرون 10 ملی گرام کے ایک مخصوص بیچ کو غیر معیاری اور جعلی قرار دے دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کے ڈرگ کنٹرول حکام نے صحتِ عامہ کے تحفظ کے پیشِ نظر ایک اہم الرٹ جاری کیا ہے جس میں شہریوں کو ہارمونل دوا &#039;ڈائیڈروجیسٹرون 10 ملی گرام&#039; کے استعمال سے خبردار کیا گیا ہے۔ حکام نے اس دوا کے ایک مخصوص بیچ کو جعلی قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی کوالٹی کنٹرول بورڈ کی جانب سے جاری کردہ پبلک نوٹس کے مطابق، ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری پنجاب نے اس دوا کے نمونوں کی جانچ پڑتال کی جس کے بعد اسے غیر معیاری اور جعلی ثابت ہونے پر فوری طور پر مارکیٹ سے ہٹانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ متاثرہ دوا کا نام &#039;ڈائیڈروجیسٹرون 10 ملی گرام&#039; ہے، جس کا بیچ نمبر DQ-010 اور میعادِ استعمال نومبر 2027 درج ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بیچ نمبر کی حامل دوا ہرگز استعمال نہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دوا کی پیکنگ پر کراچی کی ایک کمپنی &#039;میرک فارماسیوٹیکلز&#039; کا نام درج ہے، تاہم حکام نے اپنی تحقیقات میں اس کمپنی کو فرضی قرار دیا ہے۔ یہ جعلی دوا رحیم یار خان کے علاقے بنگلہ مانتھر میں واقع سلمان سعید میڈیکل اسٹور سے برآمد کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکام نے صوبے بھر کے تمام فارمیسی مالکان، میڈیکل اسٹورز، ہول سیلرز اور ادویات تقسیم کرنے والے اداروں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ مذکورہ دوا کی فروخت اور فراہمی کو فوری طور پر بند کر دیں اور موجودہ اسٹاک کی تفصیلات متعلقہ حکام کو فراہم کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ادویات کی خریداری کے وقت انتہائی احتیاط سے کام لیں اور صرف مستند اور لائسنس یافتہ میڈیکل اسٹورز سے ہی ادویات خریدیں۔ جعلی ادویات کا استعمال انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس جعلی دوا کی سپلائی چین کا سراغ لگایا جا سکے اور اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈرگ کنٹرول حکام کی جانب سے تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں نگرانی بڑھائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ مذکورہ بیچ کی کوئی بھی دوا مارکیٹ میں دستیاب نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت کے ماہرین کے مطابق ہارمونل ادویات کا استعمال ڈاکٹر کی سخت نگرانی میں کیا جاتا ہے، اور اگر ایسی ادویات جعلی یا غیر معیاری ہوں تو یہ مریض کے ہارمونل توازن کو بری طرح متاثر کر سکتی ہیں، جس سے پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ پنجاب نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ عوام سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ اگر انہیں کسی بھی میڈیکل اسٹور پر مشکوک دوا نظر آئے تو فوری طور پر محکمہ صحت کو مطلع کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کارروائی کا مقصد عوام کی زندگیوں کو محفوظ بنانا اور ادویات کے معیار کو یقینی بنانا ہے۔ محکمہ صحت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ادویات کی خرید و فروخت میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی دوا کو خریدتے وقت اس کی پیکنگ، بیچ نمبر اور مینوفیکچرنگ کی تفصیلات کو اچھی طرح چیک کریں اور کسی بھی غیر تصدیق شدہ دوا کے استعمال سے گریز کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کی جانب سے جاری کردہ یہ الرٹ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ صحت کے شعبے میں شفافیت اور معیار کی پاسداری انتہائی ضروری ہے۔ اس حوالے سے مزید پیشِ رفت ہونے پر عوام کو بروقت آگاہ کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/3175/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں &#8216;ون پیشنٹ ون آئی ڈی&#8217; ڈیجیٹل نظام کا نفاذ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2911/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2911/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 19:36:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پمز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_سہولیات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%be%d9%85%d8%b2-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%86-%d9%be%db%8c%d8%b4%d9%86%d9%b9/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں سوا ارب روپے کی لاگت سے مریضوں کی رجسٹریشن اور طبی ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے مرکزی سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے &#039;ون پیشنٹ ون آئی ڈی&#039; ڈیجیٹل نظام کا باقاعدہ نفاذ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم منصوبے پر سوا ارب روپے سے زائد کی لاگت آئی ہے، جس کا بنیادی مقصد مریضوں کے علاج معالجے کے عمل کو شفاف بنانا اور ان کے طبی ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ طریقے سے محفوظ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت مریضوں کی رجسٹریشن کے عمل کو ان کی تشخیصی رپورٹس کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، جس سے ڈاکٹروں کو مریض کا مکمل طبی ریکارڈ کمپیوٹر سکرین پر فوری طور پر دستیاب ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ منصوبہ وزارتِ صحت اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے باہمی تعاون سے مکمل کیا گیا ہے، جبکہ اس کے لیے درکار سافٹ ویئر نیشنل آئی ٹی بورڈ کی جانب سے تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ڈیجیٹل نیٹ ورک کے ذریعے پمز کے پانچوں ذیلی ہسپتالوں کو آپس میں مربوط کر دیا گیا ہے، جن میں کارڈیک سینٹر، چلڈرن ہسپتال، برن سینٹر، زچہ و بچہ سینٹر اور بڑوں کا ہسپتال شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نظام کے نفاذ سے ہسپتال کے مجموعی طور پر 24 شعبوں کو ایک ہی ڈیجیٹل نیٹ ورک پر لایا گیا ہے، جن میں لیبارٹری، ایکسرے یونٹ، استقبالیہ، وارڈز، ایمرجنسی، ٹرانسپورٹ اور آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق اس ڈیجیٹل اصلاحات کے اگلے مرحلے میں ہسپتال کو مکمل طور پر پیپر لیس بنانے اور مریضوں کے لیے بارکوڈ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں کارڈیک سینٹر کو 31 اکتوبر تک مکمل طور پر پیپر لیس کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے مریضوں کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے اور انتظامی امور کو مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جدید نظام سے نہ صرف مریضوں کو قطاروں میں لگنے سے نجات ملے گی بلکہ ان کے علاج کے عمل میں بھی تیزی آئے گی، کیونکہ اب پرانے ریکارڈ کو تلاش کرنے میں وقت ضائع نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کا یہ عمل ہسپتال کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جس سے شہریوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی پالیسی کے تحت یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نظام کے نفاذ سے ہسپتال کے وسائل کے بہتر استعمال اور ادویات و طبی آلات کی فراہمی میں شفافیت لانے میں بھی مدد ملے گی، جس سے مجموعی طور پر صحت کے نظام میں بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس نظام کو دیگر سرکاری ہسپتالوں تک بھی پھیلانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ ملک بھر میں مریضوں کا ایک مرکزی ڈیٹا بیس قائم کیا جا سکے اور علاج کے عمل کو مزید مربوط بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2911/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام، 16,173 بچوں کے مفت آپریشن مکمل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2454/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2454/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 10:57:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_علاج]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[چلڈرن_ہارٹ_سرجری_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[دل_کے_امراض]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_مند_زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غذائیت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%86%d9%84%da%88%d8%b1%d9%86-%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d8%b3%d8%b1%d8%ac%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-16/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب حکومت کے اس صحت عامہ کے منصوبے کے تحت دل کے عارضے میں مبتلا تمام بچوں کی ویٹنگ لسٹ ختم ہو گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی دارالحکومت میں صحت کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے جہاں وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت دل کے امراض میں مبتلا بچوں کے علاج کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔ اس فلاحی اقدام کے نتیجے میں اب تک سولہ ہزار سے زائد بچوں کے دل کے پیچیدہ اور مہنگے آپریشن مکمل طور پر مفت کیے جا چکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو خصوصی اہمیت دی گئی تاکہ مالی وسائل نہ رکھنے والے خاندانوں کے جگر کے ٹکڑوں کو نئی زندگی فراہم کی جا سکے اور غریب والدین پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق جب موجودہ حکومت نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو اس وقت دل کے عارضے میں مبتلا پندرہ ہزار کے قریب معصوم بچے سرجری کے حصول کے لیے ہسپتالوں کی طویل انتظار کی فہرستوں میں شامل تھے۔ ان بچوں کے والدین طویل عرصے سے اپنے لعل کے علاج کی آس لگائے بیٹھے تھے لیکن وسائل کی کمی بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ ان گھمبیر حالات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے خصوصی ہدایات جاری کیں اور چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کو انتہائی فعال بنایا گیا تاکہ ایک ایک بچے کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات میسر آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پروگرام کی بدولت طبی عملے نے دن رات محنت کرکے ان تمام بچوں کے کامیاب آپریشن کیے جن کے نام طویل ویٹنگ لسٹ کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک کل سولہ ہزار ایک سو تہتر بچوں کی جراحی کے عمل کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا جا چکا ہے۔ ان تمام بچوں کا علاج مکمل طور پر مفت کیا گیا جس میں ہسپتال کے اخراجات سے لے کر ادویات اور آپریشن کے دوران استعمال ہونے والا مہنگا ترین سامان بھی حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیا تاکہ والدین کو کسی بھی قسم کی مالی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروگرام کی سب سے بڑی اور شاندار پیش رفت یہ ہے کہ اب دل کے عارضے میں مبتلا بچوں کی سرجری کے لیے کوئی بھی نام انتظار کی فہرست میں باقی نہیں رہا ہے۔ تمام ایسے بچے جو ماضی میں باری آنے کے منتظر تھے، انہیں بروقت طبی امداد اور سرجری کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے جو کہ صوبائی شعبہ صحت کی تاریخ میں ایک منفرد اور تاریخی اعزاز ہے۔ اس سنگ میل کے عبور کرنے سے نہ صرف ہسپتالوں پر دباؤ کم ہوا ہے بلکہ بروقت علاج ملنے سے بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات بھی ٹل گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس شاندار کامیابی پر صوبائی حکومت کے حلقوں اور سماجی حلقوں کی طرف سے شدید اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی اس فلاحی منصوبے کی کامیابی پر اپنے ایک پیغام میں مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس احسن اقدام سے ہزاروں گھروں کے چراغ روشن ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید لکھا کہ اس پروگرام کے تحت سولہ ہزار ایک سو تہتر بچوں کے مفت اور کامیاب آپریشن ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینئر وزیر نے اپنے پیغام میں یہ بھی واضح کیا کہ اس شاندار عوامی خدمت کے نتیجے میں اب سرجری کے منتظر بچوں کی ویٹنگ لسٹ بھی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے والدین کی دعاؤں اور بچوں کے چہروں پر لوٹ آنے والی مسکراہٹوں کو اس حکومت کی اصل کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت کا یہ سفر بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گا اور صحت کے شعبے میں عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا یہ سلسلہ بدستور آگے بڑھتا رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا عزم ہے کہ صوبے کے ہر شہری کو علاج معالجے کی معیاری اور جدید سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں تاکہ کوئی بھی فرد مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے علاج سے محروم نہ رہے۔ ماہرینِ صحت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے دل کی بیماریاں انتہائی پیچیدہ اور مہنگی ہوتی ہیں جن کا علاج عام آدمی کی بساط سے باہر ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومتی سطح پر اس نوعیت کے فلاحی پروگرام کا نفاذ غریب عوام کے لیے ایک مسیحا کا درجہ رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی طرف سے اس پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز کی بلا تعطل فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا تاکہ کسی بھی مرحلے پر ادویات یا سرجیکل آلات کی کمی کا سامنا نہ کرناپڑے۔ عوام بالخصوص جن بچوں کا علاج ہوا ہے ان کے لواحقین کی طرف سے اس فلاحی اقدام کو بھرپور انداز میں سراہا گیا ہے اور اسے ایک تاریخی کارنامہ قرار دیا گیا ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقے اس بات پر متفق ہیں کہ اس طرح کے منصوبے پاکستان میں فلاحی ریاست کے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت مستقبل میں بھی اس نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ نئے آنے والے مریضوں کو کسی بھی قسم کے انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ ہسپتالوں میں سرجیکل یونٹس کی استعداد کار میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ بچوں کے علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ محکمے کی ٹیمیں مسلسل مانیٹرنگ کر رہی ہیں اور علاج کے معیار کو بہترین رکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت انجام پانے والے ان تمام طبی امور کی باقاعدہ نگرانی کی گئی تاکہ ہر مستحق بچے تک اس سہولت کی رسائی کو شفاف بنایا جا سکے۔ فلاحی منصوبوں کی شفافیت کے حوالے سے حکومت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ عطیات یا سرکاری خزانے سے ملنے والے فنڈز کا پائی پائی کا حساب رکھا جائے اور اسے اصل مستحقین تک پہنچایا جائے۔ اسی کڑی کے تحت دل کے عارضے میں مبتلا بچوں کے والدین کو ہسپتالوں میں کسی قسم کی مالی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت کے عالمی معیار کے مطابق بچوں کے امراض قلب کے آپریشنز انتہائی مہارت کے متقاضی ہوتے ہیں، جن کے لیے ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت پنجاب نے اس پروگرام کی کامیابی کے لیے جدید طبی آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا اور ملکی و غیر ملکی ماہرین کی خدمات سے بھی استفادہ کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کے کامیاب آپریشنز کا ریکارڈ قائم ہوا ہے اور ایک ایک کر کے تمام زیر التواء کیسز کو کامیابی کے ساتھ نپٹا دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پوری پیش رفت پر والدین اور عوامی حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے لیے خصوصی طور پر شکریہ کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر شکریہ مریم نواز شریف کے پیغامات گردش کر رہے ہیں جن میں والدین خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کے بچے اب صحت مند زندگی کی طرف واپس لوٹ آئے ہیں۔ یہ منصوبہ آنے والے وقتوں میں بھی صحت کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا A.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2454/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں انسداد ڈینگی: لاروا ملنے پر 10 گھروں میں سپرے کرنے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2429/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2429/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 08:17:21 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتیاطی_تدابیر]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_ڈینگی]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈویژنل_انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈینگی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%af%d8%a7%d8%af-%da%88%db%8c%d9%86%da%af%db%8c-%d9%84%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a7-%d9%85%d9%84%d9%86%db%92-%d9%be%d8%b1-10/</guid>

					<description><![CDATA[کمشنر لاہور کی زیر صدارت اجلاس میں انسداد ڈینگی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا اور اکتوبر و نومبر کے لیے ہدایات جاری کی گئیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ڈویژن میں انسداد ڈینگی کے اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک اہم اجلاس کمشنر لاہور ڈویژن نعمان یوسف کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں یکم جنوری سے چھبیس اکتوبر تک ڈینگی کی روک تھام کے لیے جاری تمام سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کی حکمت عملی طے کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران حکام کو بتایا گیا کہ لاہور میں سال کے آغاز سے اب تک ڈینگی کے ایک سو تین جبکہ پورے ڈویژن میں مجموعی طور پر ایک سو انیس مثبت کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ متعلقہ محکموں کے افسران نے اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دی کہ شہر میں انسداد ڈینگی کی مہم کس طرح جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ لاہور میں ڈینگی لاروا کی تدوین اور تلفی کے لیے ایک سو چوالیس ٹیمیں فیلڈ میں مکمل طور پر متحرک ہیں۔ ان فیلڈ ٹیموں نے اب تک کارروائیاں کرتے ہوئے دو لاکھ چون ہزار سے زائد مقامات سے ڈینگی لاروا کو تلف کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کی تئیس ہائی رسک یونین کونسلز میں صورتحال کے پیش نظر متعدد مرتبہ ڈیپ سرویلنس بھی کی جا چکی ہے تاکہ مرض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ انسداد ڈینگی کے ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے والے عناصر کے خلاف بھی کارروائیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر بھر میں انسداد ڈینگی اقدامات نہ کرنے پر اب تک آٹھ سو چونسٹھ مقدمات درج کیے جا چکے ہیں تاکہ غفلت برتنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے یہ طے کیا گیا کہ اگر کسی مقام پر مثبت لاروا برآمد ہوتا ہے تو اب قریبی پانچ کے بجائے دس گھروں میں لازمی سپرے کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد ڈینگی مچھر کے پھیلاؤ کے دائرہ کار کو فوری طور پر محدود کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمشنر لاہور نعمان یوسف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اکتوبر اور نومبر کے مہینے انسداد ڈینگی سرگرمیوں کے حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں ہدایت کی کہ ان مہینوں کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی قطعی برداشت نہیں کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے ہدایت کی کہ انسداد ڈینگی ٹیمیں مسلسل فیلڈ میں متحرک رہیں اور تمام متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے پوری کریں۔ فیلڈ عملے کو سختی سے پابند کیا گیا ہے کہ وہ گھروں کے دورے کے دوران شہریوں کو ڈینگی سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے آگاہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر شہریوں میں احتیاطی تدابیر اور ضروری ہدایات پر مشتمل معلوماتی پمفلٹس بھی لازمی طور پر تقسیم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ عوامی آگاہی کے بغیر اس موذی مرض پر قابو پانا ممکن نہیں ہے، اس لیے تمام ذرائع بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن ریٹائرڈ علی اعجاز، ڈپٹی کمشنر قصور آصف رضا، ڈپٹی کمشنر ننکانہ رعنا حمید اور ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ رانا عدیل تصور نے شرکت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے علاوہ اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر بلال حسن، سی ای او ہیلتھ اتھارٹی لاہور، ریلوے حکام، اور دیگر محکموں کے افسران بھی موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں ایل ڈبلیو ایم سی، واسا، پی ایچ اے، محکمہ زراعت، محکمہ ماحولیات اور سیف سٹیز اتھارٹی کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اور اپنے محکموں کی کارکردگی کا رپورٹ پیش کیا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2429/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سندھ میں عام استعمال کی 6 ادویات کے 7 بیچز جعلی قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2228/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2228/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 23:36:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ادویات]]></category>
		<category><![CDATA[اینٹی_بائیوٹک]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_ادویات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرگ_ٹیسٹنگ_لیبارٹری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d8%a7%d9%85-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d8%b9%d9%85%d8%a7%d9%84-%da%a9%db%8c-6-%d8%a7%d8%af%d9%88%db%8c%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%92-7/</guid>

					<description><![CDATA[ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق جعلی ادویات میں فعال اجزاء کی کمی پائی گئی ہے، متعلقہ کمپنیوں نے ان بیچز سے لاتعلقی ظاہر کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں صحت کے حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ میں عام استعمال ہونے والی چھ اہم ادویات کے سات بیچز جعلی پائے گئے ہیں۔ سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی جانب سے کیے گئے تجزیے میں انکشاف ہوا ہے کہ ان ادویات میں وہ فعال اجزاء موجود نہیں ہیں جو ان کے فارمولے کا لازمی حصہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیبارٹری کے ڈائریکٹر عدنان رضوی کے مطابق جعلی قرار دی جانے والی ادویات میں اینٹی بائیوٹکس، معدے اور پیٹ کے درد کی ادویات، درد کش گولیاں اور قبض کش دوا شامل ہیں۔ ان ادویات کے نمونوں کی جانچ کے بعد انہیں ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت غیر معیاری اور جعلی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جعلی قرار دی گئی ادویات میں ویلوسیف 500 ملی گرام کیپسول، آگ من ٹن 625 ملی گرام گولیاں، نو اس پا فورٹ 80 ملی گرام گولیاں، میوکین سسپنشن، بریکسن گولیاں اور لیکسوبیرون مائع شامل ہیں۔ یہ تمام ادویات پاکستان میں عام طور پر ڈاکٹروں کی جانب سے تجویز کی جاتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان ادویات کو تیار کرنے والی معروف فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے ان مخصوص بیچز سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں موجود یہ نمونے ان کی فیکٹریوں میں تیار نہیں کیے گئے اور یہ جعلی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاص طور پر لیکسوبیرون کے معاملے میں کمپنی مارٹن ڈاؤ مار کر نے حکام کو تحریری طور پر آگاہ کیا ہے کہ جن بیچ نمبروں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان کا کمپنی کی پیداوار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دیگر پانچ کمپنیوں نے بھی اسی طرح کے جوابات جمع کرائے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لیبارٹری تجزیے سے تصدیق ہوئی ہے کہ لیکسوبیرون میں سوڈیم پیکو سلفیٹ نامی فعال جزو موجود نہیں تھا، جو اس دوا کا بنیادی عنصر ہے۔ اسی طرح دیگر ادویات میں بھی ان کے علاجی اثرات کے لیے ضروری کیمیائی اجزاء کی شدید کمی پائی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین صحت نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فعال اجزاء کے بغیر ادویات کا استعمال مریضوں کی زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ خاص طور پر اینٹی بائیوٹکس کے معاملے میں یہ غفلت بیماری کے بڑھنے کا سبب بن سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے اپنی تفصیلی رپورٹس سیکریٹری سندھ کوالٹی کنٹرول بورڈ اور صوبائی ڈرگ انسپکٹر کراچی ساؤتھ کو بھجوا دی ہیں۔ ان رپورٹس کی بنیاد پر ڈرگز ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کا عمل شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ یہ خدشہ موجود ہے کہ معروف برانڈز کے نام سے جعلی ادویات کی سپلائی چین میں داخلہ ایک منظم نیٹ ورک کا کام ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ادویات خریدتے وقت ان کی پیکنگ اور بیچ نمبر کا بغور جائزہ لیں۔ کسی بھی مشکوک دوا کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ محکمہ صحت یا ڈرگ انسپکٹر کو مطلع کیا جائے تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی کوالٹی کنٹرول حکام نے کراچی سمیت سندھ بھر میں میڈیکل اسٹورز کی چیکنگ کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے ڈرگ انسپکٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مارکیٹ سے مزید نمونے حاصل کر کے ان کی جانچ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ادویات کی فراہمی کے نظام کو محفوظ بنایا جائے تاکہ عوام تک معیاری ادویات کی پہنچ یقینی ہو۔ اس حوالے سے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ بھی رابطے بڑھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ واقعہ ادویات کے شعبے میں کوالٹی کنٹرول کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ محکمہ صحت سندھ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف رجسٹرڈ اور معروف میڈیکل اسٹورز سے ہی ادویات خریدیں اور غیر تصدیق شدہ ذرائع سے پرہیز کریں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2228/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>برطانیہ میں پاکستانی نژاد سرجن کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نواز دیا گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2217/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2217/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 22:16:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_علاج]]></category>
		<category><![CDATA[برطانیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[پرائیڈ_آف_برٹین_ایوارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_آصف_حسن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%a7%d9%86%db%8c%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%86%da%98%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d8%b1%d8%ac%d9%86-%da%a9%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[ڈاکٹر آصف حسن نے تین دہائیوں تک بچوں کے دل کے پیچیدہ آپریشنز اور پیوندکاری کے ذریعے ہزاروں زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد معروف ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر آصف حسن کو طب کے شعبے میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں 2026 کے پرائیڈ آف برٹین ایوارڈز میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نواز دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز انہیں بچوں کے دل کی سرجری میں تین دہائیوں پر محیط ان کی انتھک محنت کے صلے میں دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر آصف حسن نے اپنے طویل کیریئر کے دوران ایسے بچوں کے علاج کے لیے خود کو وقف کیے رکھا جو پیدائشی قلبی نقائص کا شکار تھے۔ انہوں نے نیو کیسل کے فری مین اسپتال میں بچوں کے دل کی سرجری کے شعبے کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں اور حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے طبی سفر کے دوران ڈاکٹر آصف حسن نے تقریباً 400 ہارٹ ٹرانسپلانٹس کیے۔ انہوں نے بچوں کو دل کی پیوندکاری تک زندہ رکھنے کے لیے &#039;برج ٹو ٹرانسپلانٹ&#039; پروگرام میں کلیدی کردار ادا کیا، جس میں برلن ہارٹ میکانکی پمپ کا استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر آصف حسن کی طبی جدت طرازیوں میں &#039;بوٹ لیس کلو زر&#039; کا طریقہ کار بھی شامل ہے، جس کے ذریعے آپریشن کے بعد سینے کی ہڈی کو بند کرنے کا عمل آسان اور محفوظ بنایا گیا۔ اس تکنیک نے ان بچوں کے لیے بھی علاج کی راہیں کھولیں جن کے سینے میں پیچیدگیوں کا خدشہ تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فری مین اسپتال میں ڈاکٹر آصف حسن کی ٹیم ان پیچیدہ کیسز کو بھی قبول کرتی تھی جنہیں دیگر طبی مراکز خطرے کے پیش نظر لینے سے گریز کرتے تھے۔ ان کے زیرِ علاج رہنے والے بچوں میں میکس جانسن اور سی سی لیا ادامو جیسے مریض شامل ہیں، جو ماضی میں پرائیڈ آف برٹین کے &#039;چلڈرن آف کوریج&#039; ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر آصف حسن کا ماننا ہے کہ ان کی سب سے بڑی کامیابی صرف آپریشن کرنا نہیں بلکہ سرجنز کی ایک ایسی نئی نسل تیار کرنا ہے جو ان کے بعد بھی بچوں کی بہترین طبی نگہداشت کا سلسلہ جاری رکھ سکے۔ انہوں نے تربیت کے عمل کو ہمیشہ اپنی ترجیح رکھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنی کامیابیوں کا سہرا اپنی ٹیم اور برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کے عملے کو دیتے ہوئے ڈاکٹر آصف حسن نے کہا کہ ان کے کیریئر میں خوشی اور غم کے کئی لمحات آئے۔ انہوں نے ان مریضوں کو بھی دیکھا جنہیں بچایا نہ جا سکا، تاہم کامیاب سرجریز نے ہمیشہ انہیں حوصلہ دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر آصف حسن نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ ان کے تیار کردہ سرجنز اب دنیا بھر میں بچوں کی زندگیاں بچانے کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایک ڈاکٹر کے لیے اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں ہو سکتی کہ اس کا کام اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جاری رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پرائیڈ آف برٹین ایوارڈز کی جانب سے یہ اعزاز ان کی انسانیت دوستی اور اس عزم کا اعتراف ہے جس کے تحت انہوں نے تین دہائیوں تک ہزاروں خاندانوں کو امید کی نئی کرن فراہم کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر آصف حسن کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ پاکستان کے لیے بھی باعثِ فخر ہے، کیونکہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر اپنی مہارت اور محنت سے ملک کا نام روشن کیا ہے۔ ان کی زندگی کا یہ سفر آنے والے طبی ماہرین کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی خدمات کا دائرہ کار صرف برطانیہ تک محدود نہیں رہا بلکہ انہوں نے دنیا کے دیگر ممالک میں بھی بچوں کے دل کے سرجنز کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی لگن نے طب کے شعبے میں جدید علاج کے نئے معیارات قائم کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈاکٹر آصف حسن نے اپنے پیغام میں کہا کہ طبی عملے کی قربانیوں کے بغیر یہ کامیابیاں ممکن نہیں تھیں۔ انہوں نے نرسز اور دیگر معاون عملے کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جو ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ایوارڈ ان تمام خاندانوں کی دعاؤں کا بھی اعتراف ہے جن کے بچوں کو ڈاکٹر آصف حسن نے نئی زندگی دی۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کا کام ان کی تیار کردہ ٹیم کے ذریعے جاری رہے گا، جو ان کی سب سے بڑی میراث ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2217/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج میں بڑی پیش رفت، موت کا خطرہ نصف سے کم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2211/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2211/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 21:36:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امڈیلٹرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایسٹرا_زینیکا]]></category>
		<category><![CDATA[ایمفنزی]]></category>
		<category><![CDATA[ایمن]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پھیپھڑوں_کا_کینسر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%be%da%be%db%8c%d9%be%da%be%da%91%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%da%a9%db%8c%d9%86%d8%b3%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%91%db%8c-%d9%be%db%8c%d8%b4/</guid>

					<description><![CDATA[طبی تحقیق کے مطابق دو ادویات کے امتزاج سے پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں کی بقا کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">میڈرڈ میں منعقدہ یورپی سوسائٹی فار میڈیکل آنکولوجی کی کانفرنس کے دوران پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج سے متعلق ایک انتہائی اہم طبی تحقیق کے نتائج جاری کیے گئے ہیں۔ اس تحقیق نے کینسر کے مریضوں کے لیے نئی امید پیدا کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے مطابق امریکی دوا ساز کمپنی ایمن کی تیار کردہ دوا &#039;امڈیلٹرا&#039; اور ایسٹرا زینیکا کی امیونوتھراپی &#039;ایمفنزی&#039; کو ملا کر استعمال کرنے سے پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں میں موت کے خطرے کو 58 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ مطالعہ خاص طور پر &#039;اسمال سیل لنگ کینسر&#039; کے ان مریضوں پر کیا گیا جن میں بیماری تیزی سے پھیل چکی تھی۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ دونوں ادویات کا مشترکہ استعمال مریضوں کی زندگی کو طویل کرنے میں انتہائی مؤثر ثابت ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق، جن مریضوں کو یہ دونوں ادویات دی گئیں ان کی اوسط بقا 21.1 ماہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ صرف ایمفنزی استعمال کرنے والے مریضوں کی اوسط بقا 12.7 ماہ تک محدود رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق میں شامل مریضوں کے ڈیٹا سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشترکہ علاج حاصل کرنے والے تقریباً 80 فیصد مریض ایک سال بعد بھی حیات تھے، جبکہ صرف ایمفنزی لینے والے گروپ میں یہ شرح 53 فیصد تک رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمن کے چیف میڈیکل آفیسر پال برٹن نے ان نتائج کو کینسر کے علاج میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امڈیلٹرا کو علاج کے ابتدائی مراحل میں شامل کرنے سے طبی فوائد میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق &#039;ایمفنزی&#039; پہلے ہی ان مریضوں کے لیے معیاری علاج سمجھی جاتی ہے جن میں کیموتھراپی کے بعد بیماری مزید نہیں بڑھتی، تاہم نئی تحقیق نے علاج کے نئے امکانات روشن کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی جریدے &#039;نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن&#039; میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق امڈیلٹرا ایک بائی اسپیسیفک اینٹی باڈی ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کے ٹی سیلز کو کینسر کے خلیوں کے قریب لا کر انہیں تباہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ایمفنزی ایک مختلف نوعیت کی امیونوتھراپی ہے جو کینسر کے خلیوں کو مدافعتی نظام سے چھپنے سے روکتی ہے۔ ان دونوں ادویات کا امتزاج کینسر کے خلاف ایک مضبوط دفاعی نظام تشکیل دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ڈھائی لاکھ افراد &#039;اسمال سیل لنگ کینسر&#039; کا شکار ہوتے ہیں۔ پھیپھڑوں کے کینسر کی مجموعی اقسام میں اس قسم کے کیسز تقریباً 15 فیصد ہوتے ہیں جو کافی پیچیدہ تصور کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس بیماری میں مبتلا مریضوں کی ایک بڑی تعداد سرجری کے لیے موزوں نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے انہیں ابتدائی طور پر کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نئی تحقیق ان مریضوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے جن کے پاس علاج کے محدود مواقع ہوتے ہیں۔ اس پیش رفت سے مستقبل میں کینسر کے علاج کے پروٹوکولز میں بڑی تبدیلی متوقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تحقیق کے نتائج کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد ہی یہ مشترکہ علاج عالمی طبی مراکز میں مریضوں کی زندگی بچانے کے لیے بڑے پیمانے پر دستیاب ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2211/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان میں ذہنی صحت کا بڑھتا ہوا بحران: سماجی رویوں میں تبدیلی ناگزیر</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2205/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2205/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 20:57:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[خاندانی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[ذہنی_دباؤ]]></category>
		<category><![CDATA[ذہنی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی_بہبود]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b0%db%81%d9%86%db%8c-%d8%b5%d8%ad%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%da%91%da%be%d8%aa%d8%a7-%db%81%d9%88%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[ملک میں ذہنی عوارض کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ماہرین نے خاندانی تعاون اور حکومتی سطح پر علاج کی سہولیات کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل ایک خاموش بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جس پر اب قومی سطح پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک کی ایک بڑی آبادی کسی نہ کسی ذہنی عارضے کا شکار ہے، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ مسئلہ اب محض انفرادی نہیں بلکہ ایک سماجی چیلنج بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے پہلے قومی سطح کے ذہنی صحت کے سروے کے مطابق 32 فیصد بالغ افراد ذہنی عوارض کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 38 فیصد افراد زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسے مسائل سے گزرے ہیں، جبکہ چھ فیصد نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران خودکشی کے خیالات آنے کی اطلاع دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کا کہنا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل کو جسمانی بیماریوں کی طرح تسلیم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اکثر اوقات معاشرتی دباؤ اور بدنامی کے خوف سے لوگ اپنی ذہنی کیفیت کو چھپاتے ہیں، جس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ ڈپریشن اور اضطراب کو محض &#039;زیادہ سوچنے&#039; کا نام دینا ایک غلط فہمی ہے جو مریض کو تنہائی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذہنی دباؤ کی وجوہات میں معاشی مشکلات، بے روزگاری، سماجی عدم تحفظ اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی شامل ہیں۔ جب افراد اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرتے ہیں، تو اس کے جذباتی اثرات ان کی ذہنی صحت پر مرتب ہوتے ہیں۔ تاہم، موروثی اور حیاتیاتی عوامل بھی ذہنی عوارض میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشرے میں ذہنی بیماریوں سے وابستہ شرمندگی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ بہت سے افراد اس خوف سے ماہرِ نفسیات سے رجوع نہیں کرتے کہ انہیں &#039;پا گل&#039; قرار دیا جائے گا یا ان کے خاندان کی عزت پر سوال اٹھیں گے۔ یہ رویہ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے نقصان دہ ہے جو اپنی بات کہنے سے ڈرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والدین اور خاندانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کریں جہاں وہ اپنی ناکامیوں اور پریشانیوں کے بارے میں بلا جھجک بات کر سکیں۔ اکثر اوقات کسی کی بات کو توجہ سے سننا ہی مدد کی پہلی سیڑھی ثابت ہوتا ہے۔ جذباتی تعاون اور احترام پر مبنی خاندانی تعلقات ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواتین اور بزرگوں کی ذہنی صحت بھی خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ گھریلو ذمہ داریوں کا بوجھ، معاشی انحصار، تشدد اور سماجی پابندیاں خواتین کی زندگی کو متاثر کرتی ہیں۔ دوسری جانب بزرگوں کے لیے تنہائی، جسمانی کمزوری اور اپنوں سے دوری ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے، جس کے لیے جذباتی تعاون ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سطح پر بھی ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں ذہنی امراض کے ماہرین کی تعداد بڑھانا اور علاج کو عام آدمی کے لیے قابلِ رسائی بنانا ناگزیر ہے۔ کم آمدنی والے افراد کے لیے علاج کی سہولیات کو بہتر بنانا ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تعلیمی اداروں میں مشاورت کی سہولیات فراہم کرنا اور اساتذہ کو بچوں میں ذہنی پریشانی کی علامات پہچاننے کی تربیت دینا ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے۔ کام کی جگہوں پر ہراسانی، غیر ضروری دباؤ اور تذلیل کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے سے بھی ملازمین کی ذہنی صحت کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع ابلاغ اور سماجی اداروں کا کردار بھی اس سلسلے میں انتہائی اہم ہے۔ ذہنی بیماریوں سے متعلق درست معلومات کی فراہمی سے معاشرتی رویوں میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ جب لوگ علامات کو سمجھیں گے، تو وہ بروقت مدد حاصل کرنے کی طرف مائل ہوں گے، جس سے خودکشی جیسے انتہائی اقدامات کی شرح میں کمی لائی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہماری کامیابی کے پیمانے بھی ذہنی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ دولت، عہدے اور سماجی حیثیت کو ہی کامیابی کا معیار سمجھنے سے انسان کی جذباتی کیفیت نظر انداز ہو جاتی ہے۔ مردوں کو جذبات چھپانے اور خواتین کو اپنی ضروریات قربان کرنے کا درس دینا ہماری سماجی ساخت کا ایک کمزور پہلو ہے جسے تبدیل کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذہنی صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے انفرادی کوششوں کے ساتھ ساتھ ریاستی سطح پر پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔ قومی سروے کے نتائج کو محض اعداد و شمار کے طور پر دیکھنے کے بجائے، انہیں علاج کی سہولیات کی بہتری اور مستقبل کی تحقیق کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک صحت مند معاشرے کی پہچان صرف اس کی بلند و بالا عمارتیں یا معاشی ترقی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کے افراد کتنی پرسکون اور باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔ ذہنی صحت کی حفاظت کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، لیکن اس کی تکمیل کے لیے ریاست اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر مسکراتا ہوا چہرہ اندرونی سکون کی علامت نہیں ہوتا۔ خاموشی ہمیشہ اطمینان کی نشانی نہیں بلکہ بعض اوقات یہ مدد کی ایک پکار ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے تعصبات کو ترک کر کے ایک دوسرے کے لیے سہارا بننا ہوگا تاکہ ایک بہتر اور صحت مند معاشرے کی تعمیر ممکن ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2205/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پولیو کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2203/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2203/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 20:37:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_پولیو]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کی_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیو]]></category>
		<category><![CDATA[پولیو_ورکرز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d9%88-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%ac%d9%86%da%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%b3%d9%85%d8%ac%da%be%d9%88%d8%aa%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[عالمی یوم انسداد پولیو کے موقع پر سید مراد علی شاہ نے بچوں کو معذوری سے بچانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی یومِ انسدادِ پولیو کے موقع پر سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اپنے ایک خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ صوبے سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم قومی مقصد میں کسی بھی قسم کی غفلت یا سمجھوتہ ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ معاملہ براہ راست ہمارے بچوں کے محفوظ اور صحت مند مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری کردہ بیان کے مطابق سید مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ پولیو ایک ایسا موذی مرض ہے جو بچوں کو عمر بھر کے لیے معذور بنا سکتا ہے اور یہ ناقابلِ علاج ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سید مراد علی شاہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ آخری دو ممالک ہیں جہاں اب بھی جنگلی پولیو وائرس موجود ہے، جو کہ ایک انتہائی سنجیدہ صورتحال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے تسلیم کیا کہ اگرچہ وائرس کے پھیلاؤ کو محدود کرنے میں کافی حد تک کامیابی ملی ہے، لیکن حساس علاقوں میں اس کی موجودگی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے والدین سے پرزور اپیل کی کہ وہ اپنے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو ہر پولیو مہم کے دوران ویکسین کے قطرے لازمی پلوائیں تاکہ انہیں اس موذی مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ یہ قطرے نہ صرف بچوں کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہیں بلکہ پولیو سے پاک پاکستان کی جانب ایک اہم قدم بھی ہیں، جس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سید مراد علی شاہ نے ان پولیو ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کیا جو انتہائی مشکل حالات میں گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین فراہم کر رہے ہیں اور اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے ان ورکرز کو بچوں کے مستقبل کا محافظ قرار دیتے ہوئے عوام سے کہا کہ وہ ان پر مکمل اعتماد کریں اور ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ بھرپور تعاون کریں تاکہ ہر گھر تک ویکسین کی رسائی یقینی ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے پیغام کے آخر میں وزیراعلیٰ سندھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پولیو کا خاتمہ صرف ایک عالمی پیغام نہیں بلکہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے جسے ہم سب نے مل کر پورا کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ ہمارا مشن ایک محفوظ سندھ اور صحت مند پاکستان کی تشکیل ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس بیماری سے مکمل طور پر نجات دلائی جا سکے اور انہیں ایک صحت مند زندگی میسر ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت سندھ پولیو کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ صوبے کو پولیو سے پاک کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2203/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان میں فلو ویکسین کی قلت، وفاقی وزیر نے ڈریپ کو قیمتوں پر نظرثانی کا حکم دے دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2188/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2188/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 18:57:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ادویات_کی_قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈریپ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سردیوں_کی_بیماریاں]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%81%d9%84%d9%88-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%d9%84%d8%aa-%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے تعین میں خامیوں کے باعث ملٹی نیشنل کمپنیوں کی ویکسینز مارکیٹ میں نہیں پہنچ سکیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر برائے توانائی و پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان میں فلو ویکسین کی عدم دستیابی کی اہم وجہ واضح کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے درآمد کی جانے والی فلو ویکسینز قیمتوں کے تعین میں پیچیدگیوں کے باعث تاحال مارکیٹ میں نہیں پہنچ سکی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصدق ملک کے مطابق، تین مختلف فلو ویکسینز کی قیمتوں کے تعین کے عمل میں تکنیکی خامیوں اور غلطیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ ابتدائی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ ان ویکسینز کی موجودہ درآمدی لاگت ان کی مجوزہ قیمتوں سے کافی کم ہے، جس سے قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ ان تینوں فلو ویکسینز کی قیمتوں کا متعلقہ سرکاری پالیسی کے مطابق دوبارہ جائزہ لے۔ اس عمل کا مقصد عوامی مفاد کو یقینی بنانا اور غیر ضروری مہنگائی کو روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مصدق ملک نے مزید بتایا کہ صرف فلو ویکسین ہی نہیں، بلکہ 52 نئی ادویات کی مجوزہ قیمتوں میں بھی کچھ خامیاں پائی گئی ہیں۔ ان ادویات کی قیمتیں مقرر کرتے وقت مارکیٹ کے مروجہ نرخوں اور دیگر متعلقہ عوامل کو نظر انداز کیا گیا تھا، جس پر نظرثانی ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی فلو ویکسین کی مانگ میں اضافہ ہو جاتا ہے، تاہم مارکیٹ میں اس کی عدم دستیابی شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے اسے فوری طور پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے واضح کیا کہ ادویات اور ویکسینز کی قیمتوں کا تعین کرتے وقت عوامی مفاد کو مقدم رکھا جائے گا اور ڈریپ کی مقرر کردہ پالیسیوں کی مکمل پاسداری کی جائے گی۔ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ عوام کو معیاری ادویات مناسب قیمت پر دستیاب ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈریپ کی جانب سے قیمتوں کے دوبارہ جائزے کے بعد حتمی سفارشات تیار کی جائیں گی۔ ان سفارشات کو منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد ہی ان ادویات اور ویکسینز کی نئی قیمتوں کا باضابطہ اعلان ممکن ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس اقدام کا مقصد دوا ساز کمپنیوں اور عوام کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ قیمتوں کا تعین شفاف ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی مصنوعی قلت یا غیر ضروری اضافے سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں ہر سال سردیوں کے موسم میں فلو اور دیگر موسمی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔ طبی ماہرین بھی شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ موسمی تبدیلیوں کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور ویکسینیشن کو یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈریپ حکام اب ان تمام کیسز پر کام کر رہے ہیں جن میں قیمتوں کے تعین کے دوران غلطیاں ہوئی تھیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ نظرثانی کے عمل کے بعد جلد ہی فلو ویکسین کی فراہمی کا سلسلہ بحال ہو جائے گا اور ادویات کی قیمتیں بھی مستحکم ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ عام آدمی کو طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس معاملے پر مزید پیش رفت کا انتظار ہے، تاہم حکومتی سطح پر ہونے والی اس پیش رفت سے شہریوں میں امید پیدا ہوئی ہے کہ جلد ہی انہیں مارکیٹ میں فلو ویکسین دستیاب ہوگی۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس عمل کو جلد از جلد مکمل کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے ادویات کی قیمتوں پر نظرثانی کا فیصلہ ایک اہم قدم ہے جس سے نہ صرف فلو ویکسین بلکہ دیگر اہم ادویات کی قیمتوں میں بھی توازن آئے گا۔ عوام کی جانب سے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے تاکہ مہنگائی کے اس دور میں ریلیف مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2188/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
