<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ڈاکٹرز &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1%d8%b2/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:40 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>ڈاکٹرز &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی مستقل ملازمتیں ختم، کنٹریکٹ سسٹم نافذ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1779/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1779/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 02:17:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پبلک_سروس_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیچنگ_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_خدمات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%b9%db%8c%da%86%d9%86%da%af-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1%d8%b2-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب کے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں سینئر رجسٹرارز کی بھرتی اب پبلک سروس کمیشن کے بجائے تین سالہ کنٹریکٹ پر کی جائے گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صوبہ پنجاب کے سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کے لیے مستقل ملازمت کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ نئی پالیسی کے مطابق اب سینئر رجسٹرارز کی بھرتیاں مستقل بنیادوں پر نہیں بلکہ کنٹریکٹ کی بنیاد پر کی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئی تبدیلی کے تحت میڈیسن، سرجری اور دیگر اہم طبی شعبوں میں سینئر رجسٹرارز کو تین سالہ معاہدے کے تحت تعینات کیا جائے گا۔ اس سے قبل یہ بھرتیاں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے مستقل بنیادوں پر عمل میں لائی جاتی تھیں جو اب ختم کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق سرکاری شعبہ صحت میں افسر شاہی کی جانب سے ڈاکٹرز کی مستقل ملازمتوں کے مرحلہ وار خاتمے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی دلچسپی میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی حلقوں کا کہنا ہے کہ مستقل ملازمتوں کے خاتمے سے نوجوان ڈاکٹرز میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ مستقل ملازمت کا تحفظ نہ ہونے کی وجہ سے ماہر ڈاکٹرز اب سرکاری ہسپتالوں کے بجائے نجی شعبے یا بیرون ملک ملازمت کو ترجیح دینے پر مجبور ہو رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین صحت کے مطابق ٹیچنگ ہسپتالوں میں سینئر رجسٹرارز کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ڈاکٹرز نہ صرف مریضوں کے علاج میں مصروف ہوتے ہیں بلکہ جونیئر ڈاکٹرز اور ہاؤس آفیسرز کی تربیت بھی کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پالیسی تبدیلی کے بعد ہسپتالوں میں طبی خدمات کے تسلسل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تین سالہ کنٹریکٹ کی وجہ سے ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کا مستقل قیام ممکن نہیں رہے گا جس سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت کے حکام کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ انتظامی امور کو بہتر بنانے اور طبی خدمات میں لچک پیدا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ تاہم ڈاکٹرز تنظیموں نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے طبی معیار کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں پہلے ہی ڈاکٹرز کی کمی کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔ مستقل ملازمتوں کے خاتمے سے یہ بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ تجربہ کار ڈاکٹرز کنٹریکٹ کی غیر یقینی صورتحال میں سرکاری ملازمت جاری رکھنے سے گریز کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیچنگ ہسپتالوں میں تعینات ہونے والے سینئر رجسٹرارز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے بھی نئے طریقہ کار وضع کیے جا رہے ہیں۔ کنٹریکٹ کی مدت ختم ہونے پر ان کی ملازمت میں توسیع کا انحصار ان کی کارکردگی اور ہسپتال انتظامیہ کی رپورٹ پر ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کے بعد اب سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کے لیے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ڈاکٹرز کی تنظیمیں اس معاملے پر حکومت سے نظرثانی کا مطالبہ کر رہی ہیں تاکہ طبی شعبے کو مستحکم رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے اس پالیسی کے نفاذ کے بعد اب دیگر طبی کیڈرز میں بھی اسی طرح کے اقدامات کیے جانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ تاہم فی الحال سینئر رجسٹرارز کی سطح پر اس تبدیلی کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس پالیسی کے اثرات کا اندازہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی دستیابی اور طبی معیار کے جائزے سے ہی لگایا جا سکے گا۔ فی الحال طبی حلقوں میں اس فیصلے پر شدید تشویش پائی جاتی ہے اور اسے ڈاکٹرز کے حقوق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سطح پر اس معاملے پر مزید وضاحت کا انتظار ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کیا کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے ڈاکٹرز کو دیگر سرکاری ملازمین کی طرح مراعات حاصل ہوں گی یا انہیں صرف تنخواہ پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1779/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نیند کی کمی جوڑوں کے امراض کا سبب بن سکتی ہے، طبی تحقیق میں انکشاف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/1292/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/1292/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 15:17:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اوسٹیو_آرتھرائٹس]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[بیماریاں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جوڑوں_کا_درد]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائنسی_تحقیق]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_اور_تندرستی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%86%db%8c%d9%86%d8%af-%da%a9%db%8c-%da%a9%d9%85%db%8c-%d8%ac%d9%88%da%91%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%85%d8%b1%d8%a7%d8%b6-%da%a9%d8%a7-%d8%b3%d8%a8%d8%a8-%d8%a8%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق نیند پوری نہ کرنے یا بے خوابی کے شکار افراد میں جوڑوں کے درد اور اوسٹیو آرتھرائٹس کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جدید طبی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انسانی صحت پر نیند کی کمی کے اثرات صرف تھکاوٹ تک محدود نہیں بلکہ یہ جوڑوں کے سنگین امراض کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند کا دورانیہ براہ راست ہڈیوں اور جوڑوں کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرنل آرتھرائٹس کیئر اینڈ ریسرچ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں تقریباً پانچ ہزار افراد کے ڈیٹا کا طویل عرصے تک جائزہ لیا گیا۔ محققین نے ان افراد کی نیند کی عادات کا مشاہدہ آٹھ سے تیرہ سال کے طویل دورانیے میں کیا تاکہ نتائج کی تصدیق کی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے اعداد و شمار کے مطابق جو افراد رات کے وقت چھ گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں، ان میں گھٹنوں کے جوڑوں کے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ 41 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح کولہوں کے جوڑوں کے امراض کا خطرہ بھی 39 فیصد تک زیادہ پایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین نے اپنی رپورٹ میں نشاندہی کی ہے کہ صرف نیند کا دورانیہ ہی نہیں بلکہ نیند کے معیار میں خلل بھی جوڑوں کے لیے نقصان دہ ہے۔ جن افراد کو سوتے وقت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا جن کی نیند بار بار ٹوٹتی ہے، ان میں بھی یہ خطرات 34 سے 40 فیصد تک دیکھے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق میں رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسے افراد جو اپنی قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے برعکس رات کو جاگتے ہیں، ان میں گھٹنوں کے جوڑوں کے مسائل پیدا ہونے کا امکان عام لوگوں کی نسبت کافی زیادہ ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوسٹیو آرتھرائٹس جوڑوں کا ایک تکلیف دہ مرض ہے جس میں ہڈیوں کے سروں پر موجود حفاظتی تہہ یعنی کارٹلیج بتدریج ختم ہونے لگتی ہے۔ یہ کارٹلیج ہڈیوں کو آپس میں رگڑ سے بچاتی ہے اور جوڑوں کی حرکت کو آسان بناتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سائنسی ماہرین کے مطابق دن بھر کے معمولات کے دوران کارٹلیج جسمانی دباؤ برداشت کرتی ہے اور اسے مسلسل دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ رات کے وقت جب انسان گہری نیند سوتا ہے تو جسم میں اس کارٹلیج کی بحالی کا عمل شروع ہوتا ہے جو صحت کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس بحالی کے عمل میں کارٹلیج بنانے والے خلیات کی اندرونی حیاتیاتی گھڑی ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ جب نیند کا دورانیہ کم ہو یا نیند کا معیار خراب ہو تو یہ حیاتیاتی گھڑی متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں کارٹلیج کی مرمت کا عمل رک جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیق کے نتائج اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں کہ صحت مند طرز زندگی کے لیے نیند کا ایک متوازن معمول اپنانا کتنا ضروری ہے۔ وقت پر سونا اور نیند کے دورانیے کو مکمل کرنا جوڑوں کے امراض سے بچاؤ میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین صحت نے مشورہ دیا ہے کہ جو لوگ رات کی شفٹ میں کام کرنے پر مجبور ہیں، انہیں اپنی خوراک اور ورزش کے معمولات میں ایسی تبدیلیاں لانی چاہئیں جو ان کی ہڈیوں اور جوڑوں کو اضافی تحفظ فراہم کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تحقیق جوڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے ایک اہم انتباہ ہے کہ وہ اپنی نیند کے معمولات کو نظر انداز نہ کریں۔ نیند کی کمی کو محض ایک عارضی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے طویل مدتی صحت کے خطرے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ نیند اور جوڑوں کے امراض کے درمیان تعلق کو مزید گہرائی سے سمجھا جا سکے۔ فی الحال یہ تحقیق طبی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/1292/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سوات: سیدو شریف اسپتال میں 6 افغان ڈاکٹروں کو کام سے روک دیا گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/542/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/542/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 06:57:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ایم_ڈی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_ڈگری]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%8c%d8%af%d9%88-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-6-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے جعلی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے مجموعی طور پر 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ضلع سوات کے مرکزی سیدو شریف اسپتال میں تعینات 6 افغان ڈاکٹروں کو ان کے فرائض کی انجام دہی سے روک دیا گیا ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق یہ ڈاکٹرز ہاؤس جاب کے مراحل سے گزر رہے تھے جنہیں حکومتی احکامات کی روشنی میں فوری طور پر کام سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔ حکومتی احکامات ملنے کے بعد انتظامیہ نے ان ڈاکٹروں کو مزید کام کرنے کی اجازت نہیں دی اور انہیں فوری طور پر فارغ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے اس کارروائی کو وسیع تر انتظامی اصلاحات کا حصہ قرار دیا ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق صوبے بھر کے مختلف طبی مراکز میں تعینات 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطرف کیے گئے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی بنیادی وجہ پی ایم ڈی سی کی جعلی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کا انکشاف ہے۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ان ڈاکٹروں کی اسناد اور تقرری کے عمل میں بے ضابطگیاں پائی گئی تھیں جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیدو شریف اسپتال سوات کا ایک اہم طبی مرکز ہے جہاں دور دراز علاقوں سے مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتال کے امور کو شفاف بنانے اور طبی معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے ان اقدامات پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے صوبے کے تمام سرکاری اسپتالوں میں تعینات عملے کی اسناد کی جانچ پڑتال کا عمل تیز کر دیا ہے۔ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صرف اہل اور قانونی طور پر رجسٹرڈ ڈاکٹر ہی مریضوں کا علاج کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ذرائع کے مطابق جعلی دستاویزات پر ملازمت حاصل کرنے والے افراد کے خلاف مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔ محکمہ صحت اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہ کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کارروائی کے بعد سیدو شریف اسپتال میں طبی خدمات کی فراہمی کو معمول پر رکھنے کے لیے متبادل انتظامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریضوں کو علاج معالجے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا حکومت نے صحت کے شعبے میں شفافیت لانے کے لیے پہلے بھی کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ محکمہ صحت کا موقف ہے کہ طبی شعبے میں میرٹ کی بالادستی اور قوانین کی پاسداری ہی عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا واحد راستہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوات کے عوامی حلقوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے اسپتالوں میں طبی معیار بہتر ہوگا۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ صحت کے مراکز میں تعیناتیوں کے عمل کو مزید شفاف بنایا جائے تاکہ مریضوں کو معیاری علاج مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت کے حکام نے واضح کیا ہے کہ جعلی رجسٹریشن کے حامل افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا دائرہ کار مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ بھی رابطہ قائم رکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام سرکاری اسپتالوں کے سربراہان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیر انتظام عملے کی اسناد کی تصدیق یقینی بنائیں۔ کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں فوری رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیدو شریف اسپتال میں پیش آنے والا یہ واقعہ صوبے بھر میں جاری احتسابی عمل کا حصہ ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ مریضوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر قانونی عمل کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/542/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
