<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>چیف_جسٹس_امین_الدین_خان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%da%86%db%8c%d9%81_%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3_%d8%a7%d9%85%db%8c%d9%86_%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86_%d8%ae%d8%a7%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 25 Oct 2026 00:18:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>چیف_جسٹس_امین_الدین_خان &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>چیف جسٹس امین الدین خان کا دورہ آذربائیجان، عدالتی تعاون بڑھانے پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/2235/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/2235/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 00:18:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[آذربائیجان]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_دورہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_آذربائیجان_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_امین_الدین_خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانون_کی_حکمرانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%86%db%8c%d9%81-%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%d8%a7%d9%85%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%d8%ae%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%af%d9%88%d8%b1%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت جسٹس امین الدین خان نے آذربائیجان کے دورے کے دوران عدالتی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان نے آذربائیجان کا سرکاری دورہ کیا ہے جس کا بنیادی مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان عدالتی تعاون کو فروغ دینا اور قانونی شعبے میں باہمی روابط کو مضبوط بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے دورے کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے آذربائیجان کی آئینی عدالت کے چیئرمین سے اہم ملاقات کی، جس میں عدالتی نظام کے تجربات کے تبادلے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر دونوں ممالک کے اعلیٰ عدالتی حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عدالتی تعاون کے ذریعے انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے اور دونوں ممالک کے قانونی ڈھانچے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس نے آذربائیجان میں منعقدہ ترک دنیا کی آئینی عدالتوں کے اجلاس میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے بین الاقوامی عدالتی فورمز پر پاکستان کے نقطہ نظر اور آئینی عدالتوں کے کردار پر روشنی ڈالی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دورے کے دوران آذربائیجان کے وزیر انصاف فرید احمدوف نے بھی چیف جسٹس امین الدین خان سے خصوصی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں قانون کی حکمرانی اور عدالتی اصلاحات کے حوالے سے اہم امور پر گفتگو کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس کو آذربائیجان کی آئینی عدالت کا تفصیلی دورہ بھی کرایا گیا، جہاں انہیں وہاں کے عدالتی طریقہ کار اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تاریخی اور ثقافتی تعلقات انتہائی گہرے ہیں، اور حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے مختلف شعبوں بشمول عدلیہ، تجارت اور ثقافت میں اپنے تعاون کو بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دورے کو پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان قانونی اور عدالتی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل میں دونوں ممالک کے ججوں اور قانونی ماہرین کے درمیان تبادلہ پروگراموں کی راہ ہموار ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس امین الدین خان کی جانب سے اس دورے کے دوران کی گئی ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان عدالتی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کریں گی، جس سے انصاف کے نظام کو مزید شفاف بنانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آذربائیجان کی جانب سے بھی پاکستانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ عدالتی تجربات شیئر کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی جانب سے عدالتی تعاون کے فروغ کے لیے اٹھائے گئے اس اقدام کو قانونی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے عدالتی نظام کا مثبت تاثر اجاگر ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دورے کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ عدالتی روابط کا استحکام نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ خطے میں قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس کا یہ دورہ پاکستان کی عدالتی سفارت کاری کا حصہ ہے، جس کے تحت پاکستان دنیا بھر کی آئینی عدالتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے اور عالمی بہترین طریقوں کو اپنانے کے لیے کوشاں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/2235/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سول افسران سیاسی دباؤ سے آزاد ہو کر فرائض انجام دیں، وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1666/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1666/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 05:57:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[تنویر_احمد_طاہر]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_امین_الدین_خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_افسران]]></category>
		<category><![CDATA[سول_سروس]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_دباؤ]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%81%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%af%d8%a8%d8%a7%d8%a4-%d8%b3%db%92-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af-%db%81%d9%88-%da%a9%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی آئینی عدالت نے پولیس افسر کی ترقی سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سول سرونٹس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک رہنے کی ہدایت کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم عدالتی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سول افسران کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ سے آزاد رہ کر اپنے فرائض کی انجام دہی کرنی چاہیے۔ عدالت نے یہ ریمارکس پولیس افسر تنویر احمد طاہر کی ترقی کے لیے دائر کردہ اپیل کی سماعت کے دوران دیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی، جس کا تحریری فیصلہ جسٹس علی باقر نجافی نے تحریر کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سرکاری ملازمین کو ریاست اور عوام کے خادم کی حیثیت سے دیانتداری اور بے خوفی کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے میں بانی پاکستان، قائد اعظم محمد علی جناح کے تاریخی خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے سول سرونٹس کے لیے اصول وضع کیے گئے۔ عدالت نے کہا کہ حکومتیں اور وزراء آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن سرکاری افسران کا کام کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کرنا نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سرکاری افسران کو اپنی سروس کی ساکھ، وقار اور دیانتداری کو ہر صورت برقرار رکھنا چاہیے۔ سول سرونٹس کو چاہیے کہ وہ اخلاقی اصولوں کی پاسداری کریں اور حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو غیر جانبدارانہ انداز میں نبھائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ سیاستدانوں کو سرکاری ملازمین کے کام میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔ ایسی مداخلت نہ صرف اداروں کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے بلکہ بدعنوانی، رشوت ستانی اور اقربا پروری جیسی سنگین سماجی برائیاں بھی جنم لیتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کيس کے ميرٹ پر بات کرتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ ترقی کسی بھی افسر کا بنیادی حق نہیں ہے، تاہم ہر ملازم یہ حق رکھتا ہے کہ اسے قواعد و ضوابط کے مطابق منصفانہ طور پر ترقی کے عمل میں زیر غور لایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے واضح کیا کہ ترقی کے لیے مقررہ معیار پر پورا اترنا لازمی ہے اور سینٹرل سلیکشن بورڈ (سی ایس بی) کے صوابدیدی اختیار میں بلاوجہ مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ پولیس افسر تنویر احمد طاہر نے گریڈ 20 میں ترقی کے لیے درکار 70 نمبروں کے مقابلے میں 63.56 نمبر حاصل کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں کہا گیا کہ تین مرتبہ ترقی مؤخر ہونے سے کسی افسر کو خودکار ترقی کا حق حاصل نہیں ہو جاتا۔ ترقی مؤخر کرنے کے لیے قانونی جواز اور معقول وجوہات کا ہونا ضروری ہے، تاہم اس معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی افسر کی ترقی کے معاملے میں من مانی اور امتیازی سلوک کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگر کسی افسر کو اپنی سروس کی مدت یا دیگر امور پر تحفظات ہوں تو اسے متعلقہ محکمے یا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے رجوع کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ احتساب ریفرنس میں بریت کے بعد ترقی میں رکاوٹ کی بنیاد کا دوبارہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ تاہم مجموعی طور پر افسران کو اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فیصلہ سول سروس کے ڈھانچے میں اصلاحات اور سیاسی مداخلت کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔ عدالتی ہدایات کا مقصد سرکاری اداروں میں میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا اور افسر شاہی کو سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قائد اعظم کے وژن کے مطابق، ایک مضبوط ریاست کے لیے ضروری ہے کہ اس کے سول سرونٹس غیر سیاسی اور پیشہ ورانہ ہوں۔ عدالت نے امید ظاہر کی کہ تمام سرکاری افسران ان اصولوں پر کاربند رہیں گے تاکہ عوامی اعتماد میں اضافہ ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپیل خارج کرتے ہوئے کیس کو نمٹا دیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ ترقی کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنائیں۔ یہ فیصلہ آئندہ کے لیے سول سرونٹس کے طرز عمل کے تعین میں ایک رہنما دستاویز کی حیثیت رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1666/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی تقرری کیخلاف درخواست نمٹا دی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/900/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/900/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 21:57:32 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_معاملات]]></category>
		<category><![CDATA[ایمرجنسی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_امین_الدین_خان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سہیل_آفریدی]]></category>
		<category><![CDATA[شیر_افضل_مروت]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa-%d9%86%db%92-%d8%b3%db%81%db%8c%d9%84-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے قرار دیا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی تقرری کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے نمٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں ہونے والی سماعت کے دوران سنایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار شیر افضل مروت کی جانب سے سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ تقرری کو عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں اس درخواست پر مزید کارروائی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس امین الدین خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ اس وقت سہیل آفریدی وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز نہیں ہیں، جس کی وجہ سے یہ معاملہ غیر مؤثر ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے دوران جسٹس باقر نجفی نے بھی قانونی نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ دو الگ الگ قانونی معاملات ہیں۔ عدالت نے ان پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست کو نمٹانے کا فیصلہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار شیر افضل مروت نے عدالت کے روبرو استدعا کی کہ وہ صوبے میں نافذ گورنر راج اور ایمرجنسی کو بھی چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم عدالت نے اس پر واضح قانونی موقف اختیار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس نے شیر افضل مروت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مستقبل میں ایمرجنسی ختم ہوتی ہے اور وزیراعلیٰ کا عہدہ بحال ہوتا ہے تو وہ اس حوالے سے نئی درخواست دائر کرنے کا حق رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران سہیل آفریدی کی تقرری کے پس منظر اور سیاسی صورتحال پر بھی مختصر گفتگو ہوئی۔ عدالت نے قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کیس کو مزید زیر التوا رکھنے سے گریز کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد خیبرپختونخوا میں انتظامی امور کے حوالے سے مختلف قانونی چیلنجز سامنے آئے تھے۔ وفاقی آئینی عدالت نے ان تمام معاملات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ جاری کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کا یہ فیصلہ صوبائی سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدالت نے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے درخواست کو نمٹانے کا درست فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سہیل آفریدی کی تقرری کا معاملہ کافی عرصے سے زیر بحث تھا، تاہم اب گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر سے گریز کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کی گئی اس درخواست میں کئی اہم قانونی نکات اٹھائے گئے تھے۔ عدالت نے سماعت کے دوران تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا اور پھر اپنا حتمی فیصلہ محفوظ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے سے اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ موجودہ ایمرجنسی کے دوران اس مخصوص تقرری پر کوئی قانونی بحث نہیں ہو سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں کسی بھی قسم کی سیاسی بحث سے گریز کرتے ہوئے صرف آئینی اور قانونی نکات پر توجہ مرکوز رکھی۔ یہ فیصلہ عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن چکا ہے اور اس کے بعد اب اس معاملے پر مزید کارروائی کی ضرورت نہیں رہی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/900/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>190 ملین پاؤنڈ کیس: بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/619/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/619/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 10:17:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[190_ملین_پاؤنڈ_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[بشری_بی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_ইনصاف]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_باقر_نجفی]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_امین_الدین_خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزا_معطلی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/190-%d9%85%d9%84%db%8c%d9%86-%d9%be%d8%a7%d8%a4%d9%86%da%88-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a8%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%b0-%d8%a8%db%8c-%d8%a8%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b3%d8%b2%d8%a7-%d9%85%d8%b9%d8%b7%d9%84%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی آئینی عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل میں بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت نے ملک کے ایک انتہائی اہم اور زیر بحث مقدمے میں ایک سو نوے ملین پاؤنڈ سکینڈل سے جڑے ایک معاملے پر اہم ترین فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے اس قانونی کارروائی کے دوران بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر کی جانے والی سزا معطلی کی درخواست کو سرے سے ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قانونی چارہ جوئی کی سماعت کے لیے عدالتِ عظمیٰ کا ایک دو رکنی خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس نے فریقین کے دلائل کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس معزز بینچ کی قیادت وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان نے خود کی جبکہ ان کے ہمراہ بینچ میں دوسرے جج بھی شامل تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی اس باضابطہ سماعت کا آغاز اسلام آباد میں ہوا جہاں تمام متعلقہ فریقین کے نامور قانونی نمائندے کمرہ عدالت میں پیش ہوئے۔ دفاعی وکلاء نے عدالت کے روبرو اپنے دلائل پیش کرنے کے لیے بھرپور تیاری کی ہوئی تھی اور وہ اپنے مؤقف کے حق میں دلائل دے رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بشریٰ بی بی کی جانب سے پیش ہونے والے معروف وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں اپنے دلائل کا آغاز کیا اور کیس کے مختلف قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ ان کے ساتھ دوسرے سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے جو اس موقع پر قانونی ٹیم کا حصہ تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل صفدر نے عدالت کے روبرو اپنا موقف اختیار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ملکی عدالتوں کی روایات رہی ہیں کہ خواتین کے مقدمات میں ہمیشہ نرم گوشہ رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس بنیاد پر بھی سزا کے معاملے میں عدالت کی طرف سے نرمی کا رویہ اپنایا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپنے دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے دفاعی وکیل نے نیب کے مجموعی کردار پر بھی سخت سوالات اٹھائے اور تیرہ ماہ کے عرصے پر اعتراض ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طویل دورانئیے میں قومی احتساب بیورو کا کنڈکٹ انتہائی قابل اعتراض رہا ہے اور ادارے نے طریقہ کار کے دوران مسائل پیدا کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کو مزید بتایا گیا کہ نیب کی طرف سے تفتیشی اور عدالتی کارروائی کے دوران متعدد سماعتوں پر جان بوجھ کر التوا حاصل کیے گئے۔ وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب نیب کی باری آئی تو انہوں نے سزا معطلی کی اس باقاعدہ درخواست پر بھی بھرپور انداز میں اعتراضات دائر کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفاعی ٹیم نے عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ ٹرائل کورٹ کی طرف سے سزا سنائے جانے کے بعد اب قانون کے تحت ضمانت کا مکمل جواز بن چکا ہے۔ وکیل کا مؤقف تھا کہ چونکہ درخواست گزار ایک خاتون ہیں لہذا قانون کے ان تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سزا کو معطل کیا جانا چاہیے تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کو یہ نکتہ بھی سمجھایا گیا کہ اس پورے عرصے کے دوران زیادہ تر توجہ اور فوکس بانی پی ٹی آئی کی مرکزی اپیل پر ہی مرکوز رہا ہے۔ دفاعی وکلاء کا کہنا تھا کہ ان تمام وجوہات کی بنا پر سزا معطلی کی اس درخواست کو میرٹ پر سن کر اس پر مثبت فیصلہ دیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کارروائی کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے دلائل پر ریمارکس دیتے ہوئے وکیل کو ہدایت کی کہ اس ابتدائی مرحلے پر مقدمے کے اصل میرٹ پر جانے سے گریز کیا جائے۔ چیف جسٹس نے واضح کیا کہ اس وقت عدالت کے روبرو صرف سزا معطلی کی حد تک کا محدود کیس زیرِ غور ہے جس پر بات کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بینچ کے معزز رکن جسٹس باقر نجفی نے بھی اس موقع پر استفسار کیا کہ اس مقدمے کی مرکزی اپیل باقاعدہ سماعت کے لیے اب تک کتنی مرتبہ عدالت کے سامنے پیش کی جا چکی ہے۔ عدالت نے ان تمام قانونی نکتوں کا بغور جائزہ لیا جو دونوں اطراف کے فریقین کی جانب سے اٹھائے گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے فریقین کے تمام ابتدائی دلائل کو سننے کے بعد اس کیس کی مزید زبانی سماعت کو باضابطہ طور پر مکمل کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے بیرسٹر سلمان صفدر کو ہدایت کی کہ وہ اپنے تمام زبانی دلائل کے اہم نکات تحریری شکل میں عدالت میں جمع کروائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس معاملے پر اپنا فیصلہ کچھ دیر کے لیے محفوظ کر لیا تھا جو بعد میں باضابطہ طور پر اوپن کورٹ میں سنا دیا گیا۔ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے سنایا گیا یہ فیصلہ ملکی قانونی حلقوں میں ایک بڑی خبر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس پر تبصرے جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/619/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
