<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پی_ایم_ڈی_سی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%db%8c_%d8%a7%db%8c%d9%85_%da%88%db%8c_%d8%b3%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 02:27:39 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پی_ایم_ڈی_سی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لاہور ہائیکورٹ: نیورو سرجری اسسٹنٹ پروفیسرز کی بھرتیاں پی ایم ڈی سی ضوابط کے تابع قرار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/3173/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/3173/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 29 Oct 2026 11:15:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بھرتیوں_کا_معیار]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_میڈیکل_اینڈ_ڈینٹل_کونسل]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پبلک_سروس_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ایم_ڈی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_معیار]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_شیریں_عمران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_کا_شعبہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%88-%d8%b3%d8%b1%d8%ac%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d8%b3%d9%b9%d9%86%d9%b9/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے اسسٹنٹ پروفیسر نیورو سرجری کی بھرتیوں کے لیے جاری متنازع اشتہار کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پی ایم ڈی سی کے مقرر کردہ معیار کو لازمی قرار دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے اسسٹنٹ پروفیسر نیورو سرجری کی بھرتیوں کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے متنازع اشتہار کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بھرتیوں کا عمل پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے طے کردہ ضوابط کے عین مطابق ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس شیریں عمران نے ڈاکٹر سید شاہ رخ حسن رضوی سمیت 11 درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں پر یہ فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اشتہار میں ان امیدواروں کو بھی اہل قرار دیا گیا تھا جو پی ایم ڈی سی کے مقرر کردہ معیارات پر پورا نہیں اترتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے میں قرار دیا گیا کہ پنجاب حکومت کے سروس رولز وفاقی قانون کے تحت مقرر کردہ کم از کم پیشہ ورانہ معیارات کو ختم کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اسسٹنٹ پروفیسر نیورو سرجری جیسے اہم تدریسی عہدوں کے لیے قابلیت اور تجربے کا تعین پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022 کے تحت کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ اسسٹنٹ پروفیسر نیورو سرجری کے لیے متعلقہ شعبے میں دو سالہ کلینیکل تجربہ اور دو تحقیقی مقالے لازمی ہیں۔ اشتہار میں ان شرائط کو نظر انداز کرنا پی ایم ڈی سی کے 2025 کے ضوابط سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، جس کی وجہ سے اسے کالعدم قرار دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ صحت نے 22 اکتوبر 2025 کو 8 آسامیوں پر بھرتی کے لیے اشتہار جاری کیا تھا۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے 27 فروری 2025 کو نئے ضوابط جاری کیے تھے جنہیں نظر انداز کر کے یہ اشتہار دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی فیصلے کے مطابق پی ایم ڈی سی کے ضوابط کو قانونی حیثیت حاصل ہے اور کسی بھی صوبائی ادارے کو ان سے انحراف کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے حکم دیا کہ اب ان آسامیوں پر بھرتی کا عمل پی ایم ڈی سی کے 2025 کے ضوابط کے مطابق ہی مکمل کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں مزید کہا گیا کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے اشتہار کو متضاد اہلیتی شرائط کی حد تک غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم، اسسٹنٹ پروفیسر نیورو سرجری کی ابتدائی بھرتیوں اور ترقیوں کا مقررہ کوٹہ اپنی جگہ برقرار رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فیصلہ طبی شعبے میں تدریسی عہدوں پر تقرری کے لیے میرٹ اور پیشہ ورانہ اہلیت کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ صحت کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار افراد کی تعیناتی قومی مفاد میں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ مستقبل میں کسی بھی بھرتی کے عمل کے دوران وفاقی قوانین اور پی ایم ڈی سی کے ضوابط کی مکمل پاسداری کو یقینی بنائیں۔ اس فیصلے سے ان امیدواروں کو ریلیف ملا ہے جو مقررہ معیار پر پورا اترتے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس عدالتی حکم کے بعد اب محکمہ صحت کو نئے سرے سے اہلیت کے معیارات کا تعین کرنا ہوگا تاکہ بھرتی کا عمل شفاف اور قانونی تقاضوں کے مطابق مکمل ہو سکے۔ عدالتی فیصلے کی کاپی متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ نیورو سرجری جیسے حساس شعبے میں بھرتیوں کے لیے معیار پر سمجھوتہ کرنا مریضوں کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس لیے پی ایم ڈی سی کے طے کردہ ضوابط پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزاروں کے وکلاء نے عدالت کے سامنے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ اشتہار میں ایسے امیدواروں کو بھی شامل کیا گیا جو مطلوبہ تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ عدالت نے ان دلائل کو درست تسلیم کرتے ہوئے متنازع اشتہار کو کالعدم قرار دینے کا حکم صادر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کے بعد اب پنجاب پبلک سروس کمیشن کو نئے سرے سے اشتہار جاری کرنا ہوگا جس میں پی ایم ڈی سی کے 2025 کے ضوابط کو مدنظر رکھا جائے گا۔ یہ عمل بھرتیوں میں شفافیت لانے کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/3173/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایم ڈی کیٹ نتائج اور سوالنامہ: پی ایم ڈی سی کا ہنگامی اجلاس طلب</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/education/1612/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/education/1612/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 22:18:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول]]></category>
		<category><![CDATA[امتحانات]]></category>
		<category><![CDATA[ایم_ڈی_کیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ایم_ڈی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سینیٹ_کمیٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/education/%d8%a7%db%8c%d9%85-%da%88%db%8c-%da%a9%db%8c%d9%b9-%d9%86%d8%aa%d8%a7%d8%a6%d8%ac-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d9%be%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[سندھ میں طلبہ کی جانب سے خراب نتائج کی شکایات اور پرچہ پوشیدہ رکھنے پر سینیٹ کمیٹی کی برہمی کے بعد اہم فیصلہ متوقع ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ایم ڈی کیٹ کے حالیہ امتحانات کے نتائج اور سوالنامہ جاری کرنے کے معاملے پر غور کرنے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس بدھ کے روز طلب کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اجلاس میں ملک بھر سے ٹیسٹ لینے والے متعلقہ اداروں کے سربراہان اور پی ایم ڈی سی کے اعلیٰ حکام شرکت کر رہے ہیں۔ اجلاس کا بنیادی مقصد حالیہ امتحانات کے حوالے سے درپیش خدشات کا جائزہ لینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ یہ اجلاس سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے ایک اہم اجلاس کے فوراً بعد بلایا گیا ہے۔ سینیٹ کمیٹی نے منگل کے روز منعقدہ اجلاس میں ایم ڈی کیٹ کے نتائج اور شفافیت پر سوالات اٹھائے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت سینیٹر عامر چشتی نے کی تھی۔ اس موقع پر کمیٹی ارکان نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ امتحانات کے بعد طلبہ سے سوالنامہ واپس کیوں لیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمیٹی کے ارکان کا کہنا تھا کہ ماضی میں طلبہ کو سوال ناموں تک رسائی حاصل ہوتی تھی، جس سے امتحانی عمل میں شفافیت برقرار رہتی تھی۔ پرچہ پوشیدہ رکھنے کے عمل نے طلبہ اور والدین میں تشویش پیدا کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ، بالخصوص کراچی کے طلبہ کی جانب سے نتائج کے حوالے سے شکایات سامنے آئی تھیں۔ طلبہ کا موقف ہے کہ نتائج ان کی توقعات کے مطابق نہیں ہیں، جس کے بعد پی ایم ڈی سی پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی ایم ڈی سی حکام نے سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ امتحانات کے دوران کسی قسم کی بے ضابطگی نہیں ہوئی۔ تاہم، کمیٹی نے اس وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سخت موقف اپنایا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بدھ کو ہونے والے اجلاس میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ پی ایم ڈی سی ایم ڈی کیٹ کے سوال نامے کو ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کا فیصلہ کرے گی۔ اس اقدام سے طلبہ کو اپنے نتائج کا درست اندازہ ہو سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت کے نمائندے آن لائن شریک ہو رہے ہیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ہی حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ کسی بھی فیصلے کا اطلاق ملک بھر میں منعقد ہونے والے ایم ڈی کیٹ پر ہوگا۔ اس حوالے سے حتمی اعلامیہ اجلاس کے اختتام پر جاری کیے جانے کی توقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی پی ایم ڈی سی کو ہدایت کی ہے کہ وہ امتحانی عمل کو مزید شفاف بنائے۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ طلبہ کے مستقبل سے جڑے معاملات میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید کی جا رہی ہے کہ پی ایم ڈی سی کا یہ فیصلہ طلبہ کی مشکلات کو کم کرنے اور امتحانی عمل میں شفافیت کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/education/1612/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سوات: سیدو شریف اسپتال میں 6 افغان ڈاکٹروں کو کام سے روک دیا گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/542/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/542/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 06:57:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ایم_ڈی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_ڈگری]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%8c%d8%af%d9%88-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-6-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے جعلی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے مجموعی طور پر 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ضلع سوات کے مرکزی سیدو شریف اسپتال میں تعینات 6 افغان ڈاکٹروں کو ان کے فرائض کی انجام دہی سے روک دیا گیا ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق یہ ڈاکٹرز ہاؤس جاب کے مراحل سے گزر رہے تھے جنہیں حکومتی احکامات کی روشنی میں فوری طور پر کام سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔ حکومتی احکامات ملنے کے بعد انتظامیہ نے ان ڈاکٹروں کو مزید کام کرنے کی اجازت نہیں دی اور انہیں فوری طور پر فارغ کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے اس کارروائی کو وسیع تر انتظامی اصلاحات کا حصہ قرار دیا ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق صوبے بھر کے مختلف طبی مراکز میں تعینات 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطرف کیے گئے ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی بنیادی وجہ پی ایم ڈی سی کی جعلی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کا انکشاف ہے۔ محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ان ڈاکٹروں کی اسناد اور تقرری کے عمل میں بے ضابطگیاں پائی گئی تھیں جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیدو شریف اسپتال سوات کا ایک اہم طبی مرکز ہے جہاں دور دراز علاقوں سے مریض علاج کی غرض سے آتے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتال کے امور کو شفاف بنانے اور طبی معیارات کو برقرار رکھنے کے لیے ان اقدامات پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے صوبے کے تمام سرکاری اسپتالوں میں تعینات عملے کی اسناد کی جانچ پڑتال کا عمل تیز کر دیا ہے۔ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صرف اہل اور قانونی طور پر رجسٹرڈ ڈاکٹر ہی مریضوں کا علاج کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ذرائع کے مطابق جعلی دستاویزات پر ملازمت حاصل کرنے والے افراد کے خلاف مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔ محکمہ صحت اس بات کو یقینی بنا رہا ہے کہ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہ کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کارروائی کے بعد سیدو شریف اسپتال میں طبی خدمات کی فراہمی کو معمول پر رکھنے کے لیے متبادل انتظامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مریضوں کو علاج معالجے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا حکومت نے صحت کے شعبے میں شفافیت لانے کے لیے پہلے بھی کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ محکمہ صحت کا موقف ہے کہ طبی شعبے میں میرٹ کی بالادستی اور قوانین کی پاسداری ہی عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کا واحد راستہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوات کے عوامی حلقوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے اسپتالوں میں طبی معیار بہتر ہوگا۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ صحت کے مراکز میں تعیناتیوں کے عمل کو مزید شفاف بنایا جائے تاکہ مریضوں کو معیاری علاج مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت کے حکام نے واضح کیا ہے کہ جعلی رجسٹریشن کے حامل افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا دائرہ کار مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ بھی رابطہ قائم رکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق تمام سرکاری اسپتالوں کے سربراہان کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیر انتظام عملے کی اسناد کی تصدیق یقینی بنائیں۔ کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں فوری رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیدو شریف اسپتال میں پیش آنے والا یہ واقعہ صوبے بھر میں جاری احتسابی عمل کا حصہ ہے۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ مریضوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کی غفلت یا غیر قانونی عمل کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/542/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا: 30 ڈاکٹرز برطرف، 6 افغان ڈاکٹرز کو ملک چھوڑنے کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/532/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/532/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 05:38:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغان_ڈاکٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ایم_ڈی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_رجسٹریشن]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹرز_برطرفی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-30-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1%d8%b2-%d8%a8%d8%b1%d8%b7%d8%b1%d9%81%d8%8c-6-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%da%88%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے جعلی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کے الزامات پر 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے صوبے بھر کے مختلف طبی مراکز میں تعینات 30 ڈاکٹروں کو ان کی ملازمتوں سے برطرف کر دیا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق ان ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی پی ایم ڈی سی کی جعلی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کے الزامات ثابت ہونے پر کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ سیدو شریف اسپتال میں تعینات 6 افغان ڈاکٹرز کو بھی ہاؤس جاب سے روک دیا گیا ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے پی ایم ڈی سی کے مراسلے کی روشنی میں ان ڈاکٹروں کو فوری طور پر ہاسٹل خالی کرنے اور پاکستان چھوڑنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات وزیراعظم پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ان ڈاکٹروں کی غیر قانونی حیثیت اور پی ایم ڈی سی رجسٹریشن کے مسائل سامنے آنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی محکمہ صحت کے حکام نے واضح کیا ہے کہ طبی شعبے میں شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے جعلی اسناد اور غیر قانونی تقرریوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں مزید تحقیقات بھی جاری رکھی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے جس کا مقصد عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے طبی اداروں میں نظم و ضبط اور میرٹ کی بالادستی کو فروغ ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیدو شریف اسپتال انتظامیہ نے افغان ڈاکٹروں کو دی گئی ڈیڈ لائن پر عمل درآمد کرانے کے لیے سیکیورٹی اور انتظامی امور کو متحرک کر دیا ہے۔ ان ڈاکٹروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو کر ملک سے روانہ ہو جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر سخت موقف اختیار کیا گیا ہے تاکہ طبی شعبے کی ساکھ کو بحال رکھا جا سکے۔ محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق تمام برطرف ڈاکٹروں کو ان کے خلاف لگائے گئے الزامات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کے عوام نے محکمہ صحت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ صحت کے مراکز میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے تاکہ مریضوں کو بہتر علاج معالجے کی سہولیات میسر آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ہدایات کے تحت تمام سرکاری ہسپتالوں میں تعینات عملے کی تصدیق کا عمل بھی جاری ہے۔ اس عمل سے طبی شعبے میں موجود نقائص کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر تصدیق شدہ اسناد رکھنے والے ڈاکٹروں کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی اگر کسی ڈاکٹر کی اسناد جعلی ثابت ہوئیں تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ صحت کے شعبے میں کسی قسم کی کوتاہی کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد طبی حلقوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے اور ڈاکٹروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی رجسٹریشن اور تعلیمی اسناد کو پی ایم ڈی سی کے ریکارڈ کے مطابق درست رکھیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/532/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سوات: سیدو شریف ہسپتال میں 6 افغان ڈاکٹرز کی ہاؤس جاب معطل، پاکستان چھوڑنے کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/512/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/512/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 02:16:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[افغان_ڈاکٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ایم_ڈی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_ڈاکٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوات]]></category>
		<category><![CDATA[سیدو_شریف_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b3%d9%88%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%db%8c%d8%af%d9%88-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-6-%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے جعلی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کے الزامات پر 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سوات کے مرکزی سیدو شریف ہسپتال میں انتظامیہ نے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے 6 افغان ڈاکٹرز کو ہاؤس جاب کرنے سے روک دیا ہے۔ ان ڈاکٹرز کو فوری طور پر ہاسٹل خالی کرنے اور پاکستان سے واپس جانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہسپتال انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کی جانب سے موصول ہونے والے مراسلے کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام ضروری قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کا مزید کہنا ہے کہ یہ ہدایات وزیراعظم پاکستان کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے دی گئی ہیں۔ ان احکامات کے تحت غیر ملکی ڈاکٹرز کے حوالے سے پالیسی پر سختی سے کاربند رہا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے صوبے بھر کے مختلف طبی مراکز میں تعینات 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے فارغ کرنے کا باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے کی گئی جانچ پڑتال کے بعد سامنے آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطرف کیے گئے ڈاکٹروں پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں پی ایم ڈی سی کی جعلی رجسٹریشن حاصل کرنا اور غیر قانونی طور پر تقرریاں شامل ہیں۔ محکمہ صحت نے ان الزامات کی تصدیق کے بعد فوری کارروائی کا فیصلہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت نے ان ڈاکٹروں کی فہرستیں متعلقہ ضلعی ہیلتھ افسران کو بھجوا دی ہیں تاکہ ان کی خدمات فوری طور پر ختم کی جا سکیں۔ ان ڈاکٹروں کو اپنے عہدوں سے ہٹانے کے بعد متعلقہ ہسپتالوں میں متبادل انتظامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں صحت کے شعبے میں اصلاحات کا عمل جاری ہے جس کے تحت طبی عملے کی کارکردگی اور ان کی اسناد کی تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد مریضوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیدو شریف ہسپتال سوات کا ایک بڑا طبی ادارہ ہے جہاں دور دراز علاقوں سے مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے ہسپتال کے انتظامی امور میں بہتری آئے گی اور نظم و ضبط برقرار رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی ایم ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق کسی بھی غیر ملکی ڈاکٹر کو پاکستان میں پریکٹس کرنے کے لیے کونسل کی جانب سے جاری کردہ خصوصی اجازت نامہ درکار ہوتا ہے۔ ان ضوابط کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جعلی اسناد اور غیر قانونی تقرریوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ مستقبل میں بھی اگر کسی ڈاکٹر کے خلاف ایسے شواہد ملے تو ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت نے تمام سرکاری ہسپتالوں کے سربراہان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ماتحت عملے کی اسناد کی دوبارہ تصدیق کروائیں۔ اس عمل سے طبی شعبے میں موجود کالی بھیڑوں کی نشاندہی ممکن ہو سکے گی اور عوام کا اعتماد بحال ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس صورتحال کے پیش نظر سوات اور دیگر اضلاع کے ہسپتالوں میں طبی عملے کی حاضری اور ان کی تعلیمی قابلیت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے پر عمل درآمد کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/512/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا: محکمہ صحت کا 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کرنے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/449/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/449/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 18:57:14 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[برطرف_ڈاکٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ایم_ڈی_سی]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_رجسٹریشن]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%d8%ad%da%a9%d9%85%db%81-%d8%b5%d8%ad%d8%aa-%da%a9%d8%a7-30-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے جعلی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کے الزامات ثابت ہونے پر سخت کارروائی کرتے ہوئے 30 ڈاکٹروں کو نوکری سے فارغ کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت نے صوبے بھر کے مختلف طبی مراکز میں تعینات 30 ڈاکٹروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ اس اقدام کا باضابطہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت ان تمام افراد کی خدمات فوری طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ان ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ طویل انکوائری کے بعد کیا گیا۔ ان پر جعلی پی ایم ڈی سی رجسٹریشن اور غیر قانونی تقرریوں کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے جو تحقیقات میں ثابت ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برطرفی سے قبل محکمہ صحت نے ضابطہ اخلاق کے مطابق تمام متعلقہ ڈاکٹروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔ ان نوٹسز کے جواب میں ڈاکٹروں کی جانب سے پیش کردہ وضاحتوں اور شواہد کا اعلیٰ سطح پر مکمل جائزہ لیا گیا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ تمام ڈاکٹروں کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مکمل موقع فراہم کیا گیا تھا۔ سماعت کے عمل کے دوران ان کے موقف کو سنا گیا اور انکوائری رپورٹس کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا گیا کہ ان کی ملازمتیں برقرار نہیں رکھی جا سکتیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق برطرف کیے گئے ڈاکٹروں سے سرکاری واجبات کی وصولی کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔ یہ رقوم ان کی غیر قانونی تعیناتی کے دوران حاصل کردہ تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں وصول کی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں تعینات ان ڈاکٹروں کی برطرفی کا مقصد سرکاری ہسپتالوں میں میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔ محکمہ صحت کا ماننا ہے کہ جعلی اسناد پر کام کرنے والے افراد صحت کے شعبے کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی محکمہ صحت نے واضح کیا ہے کہ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی یا جعلی دستاویزات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مستقبل میں بھی ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی جو اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے اس حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے ان تمام کیسز کی جانچ پڑتال کی۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی تھی کہ ان ڈاکٹروں کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب صوبے میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری ہے۔ جعلی ڈگریوں اور غیر قانونی تقرریوں کے خاتمے سے ہسپتالوں میں نظم و ضبط بہتر ہونے کی توقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ برطرف کیے گئے ڈاکٹروں کے نام پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی بھجوا دیے گئے ہیں۔ تاکہ وہ کسی اور جگہ پر بھی اپنی خدمات پیش نہ کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔ اس طرح کے اقدامات سے ہی سرکاری ہسپتالوں میں معیاری طبی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کے عوام نے محکمہ صحت کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جعلی اسناد رکھنے والے افراد کا طبی شعبے میں کوئی کام نہیں، کیونکہ ان سے مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے یقین دلایا ہے کہ صوبے کے تمام ہسپتالوں میں تعینات عملے کی اسناد کی تصدیق کا عمل جاری رہے گا۔ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صرف اہل اور قابل ڈاکٹر ہی عوام کی خدمت پر مامور رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/449/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
