<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پیٹ_کمنز &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%db%8c%d9%b9_%da%a9%d9%85%d9%86%d8%b2/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 14:59:49 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پیٹ_کمنز &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>آسٹریلیا نے انگلینڈ کے خلاف ہوم وائٹ بال سیریز کے لیے اسکواڈز کا اعلان کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/4724/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/4724/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Nov 2026 14:59:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلیا_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انگلینڈ_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹ_کمنز]]></category>
		<category><![CDATA[ٹی_ٹوئنٹی_سیریز]]></category>
		<category><![CDATA[جارج_بیلے]]></category>
		<category><![CDATA[جوش_ہیزل_ووڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کرکٹ_آسٹریلیا]]></category>
		<category><![CDATA[مچل_سٹارک]]></category>
		<category><![CDATA[مچل_مارش]]></category>
		<category><![CDATA[ون_ڈے_سیریز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/sports/4724/</guid>

					<description><![CDATA[کینگروز نے تجربہ کار فاسٹ بولرز کو آرام دے کر نئے کھلاڑیوں کو موقع فراہم کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کے خلاف آئندہ ہوم وائٹ بال سیریز کے لیے اپنے ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی اسکواڈز کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سیریز میں تین ایک روزہ اور پانچ ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے جائیں گے، جس کا آغاز 13 نومبر کو پرتھ میں ہو گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ورک لوڈ مینجمنٹ کے تحت تجربہ کار فاسٹ بولرز پیٹ کمنز، مچل سٹارک اور جوش ہیزل ووڈ کو دونوں اسکواڈز سے آرام دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلوی سلیکٹرز نے نیوزی لینڈ اور بھارت کے خلاف آئندہ ٹیسٹ سیریز کی تیاریوں کے پیش نظر یہ فیصلے کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ون ڈے اسکواڈ میں مہیلی بیڈ مین، او لی پیک، جیک ایڈورڈز اور لیام سکاٹ جیسے ابھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کے لیے نکھل چوہدری، جوئل ڈیوس، لاک لان شا اور سیم ہار پر کو بھی موقع ملا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیسٹ ٹیم کے باقاعدہ ارکان ٹریوس ہیڈ، کیمرون گرین اور ایل کس کی ری ون ڈے سیریز کا حصہ ہوں گے لیکن ٹی ٹوئنٹی میچز نہیں کھیلیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناتھن ایلس سائیڈ اس ٹرین سے نجات پانے کے بعد صرف ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں واپس آئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مچل مارش دونوں فارمیٹس میں قومی ٹیم کی قیادت کے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف سلیکٹر جارج بی لے کا کہنا ہے کہ یہ میچز نوجوان کھلاڑیوں کو معیاری حریف کے خلاف اپنی صلاحیتیں منوانے کا بہترین موقع فراہم کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جارج بی لے کے مطابق اس متوازن اسکواڈ کی تشکیل کا بنیادی مقصد طویل المدتی ترقی پر توجہ مرکوز رکھنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ ہم شیڈول کے انتہائی مصروف اور مشکل مرحلے سے گزر رہے ہیں، اس لیے کھلاڑیوں کی ذہنی اور جسمانی فٹنس کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے بعد ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز 21 نومبر کو ملبورن سے ہو گا، جس کے دیگر میچز گولڈ کوسٹ، برس بین، سڈنی اور کینبرا میں ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلیا کا یہ وائٹ بال اسکواڈ 2027ء میں جنوبی افریقا، زمبابوے اور نمیبیا میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاریوں کا بھی حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلوی ٹیم اس وقت جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد نیوزی لینڈ اور پھر بھارت کے دوروں کی تیاریوں میں مصروف ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/4724/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جنوبی افریقا نے دوسرے ٹیسٹ میں آسٹریلیا کو شکست دے کر سیریز برابر کردی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/1864/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/1864/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 15:37:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلیا_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_سی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹ_کمنز]]></category>
		<category><![CDATA[ٹمبا_باووما]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسٹ_سیریز]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسٹ_میچ]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_افریقا_بمقابلہ_آسٹریلیا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/sports/%d8%ac%d9%86%d9%88%d8%a8%db%8c-%d8%a7%d9%81%d8%b1%db%8c%d9%82%d8%a7-%d9%86%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%b1%db%92-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[قابیخا ٹیسٹ میں میزبان ٹیم نے اننگز اور اکتیس رنز سے کامیابی حاصل کی، کپتان ٹمبا باووما مین آف دی میچ قرار پائے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جمعرات کے روز کھیلے گئے قابیخا ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقا کی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو ایک اننگز اور اکتیس رنز سے شکست دے دی۔ اس بڑی کامیابی کے ساتھ ہی تین میچوں کی اس اہم ٹیسٹ سیریز ایک ایک سے برابر ہو گئی ہے کیونکہ مہمان ٹیم نے پہلا میچ اپنے نام کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میچ کے دوران آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز کی قیادت میں کھیلنے والی کینگروز ٹیم دونوں اننگز میں مکمل طور پر ناکام نظر آئی اور مجموعی طور پر میزبان ٹیم کی پہلی اننگز کے اسکور تک بھی رسائی حاصل نہ کر سکی۔ آسٹریلوی بیٹنگ لائن جنوبی افریقی بولنگ اٹیک کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور کھل کر رنز بنانے میں ناکام رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پہلی اننگز میں آسٹریلوی ٹیم صرف ننانوے رنز کے مجموعی اسکور پر پویلین لوٹ گئی جس کے بعد میزبان ٹیم کو واضح برتری حاصل ہو گئی۔ جنوبی افریقی بولرز نے نپی تلی بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے حریف بلے بازوں کو پچ پر ٹکنے کا کوئی موقع فراہم نہیں کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلیا کی ٹیم جب فالو آن کا شکار ہو کر دوسری اننگز کے لیے میدان میں اتری تو اس بار بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں رہی۔ مہمان ٹیم اپنی دوسری باری میں دو سو پچانوے رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی جو کہ اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے ناکافی ثابت ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنوبی افریقا کی فتح میں کپتان ٹمبا باووما کی شاندار اور ذمہ دارانہ بیٹنگ نے سب سے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین اننگز کھیلی اور ایک سو اناسی رنز کی مایہ ناز باری تو لی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کپتان ٹمبا باووما کی اس طویل اور گراں قدر اننگز کی بدولت میزبان ٹیم نے ایک بہت بڑا مجموعہ بورڈ پر سجایا جس کے بوجھ تلے آسٹریلوی ٹیم دبی رہی۔ شاندار سنچری بنانے پر انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی یعنی مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ٹیسٹ میچ کی فتح سے جنوبی افریقی ٹیم کے حوصلے کافی بلند ہو چکے ہیں اور وہ سیریز کے آخری اور فیصلہ کن معرکے کے لیے پرامید دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب آسٹریلوی ٹیم کو اپنی خامیوں پر قابو پانے کے لیے اس شکست کے بعد سنجیدہ حکمت عملی بنانی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تین میچوں پر مشتمل اس سنسنی خیز ٹیسٹ سیریز کا اب فیصلہ کن اور آخری معرکہ ستائیس اکتوبر سے کیپ ٹاؤن کے میدان میں کھیلا جائے گا۔ دونوں ٹیمیں سیریز اپنے نام کرنے کے لیے اس آخری میچ میں پوری قوت کے ساتھ مد مقابل آئیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرکٹ کے شائقین اس وقت کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے حوالے سے انتہائی پرجوش ہیں کیونکہ یہ طے کرے گا کہ سیریز کا ٹرافی آخرکار کس کے حصے میں آتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے روایتی اور کڑے مقابلے دیکھنے میں آتے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے تناظر میں بھی یہ سیریز دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ پوائنٹس ٹیبل پر پوزیشن بہتر بنانے کے لیے ہر میچ اور ہر کامیابی قیمتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنوبی افریقا کے میدانوں پر اس طرح کی کارکردگی دکھانا ہمیشہ سے مہمان ٹیموں کے لیے ایک کڑا امتحان رہا ہے اور آسٹریلیا کو بھی یہاں اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کھیل کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کیپ ٹاؤن کا آخری ٹیسٹ میچ انتہائی دلچسپ اور کانٹے دار ہوگا جہاں دونوں فریقین ایک دوسرے کو شکست دینے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کھانے والی جنوبی افریقی ٹیم نے اس دوسرے معرکے میں جس انداز میں کم بیک کیا ہے اس نے شائقین کو دنگ کر دیا ہے۔ سیریز کا فیصلہ اب کیپ ٹاؤن میں ہوگا جہاں دونوں ٹیمیں پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/1864/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آسٹریلوی بولنگ اٹیک نے ٹیسٹ کرکٹ میں انوکھا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/427/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/427/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 11:36:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلوی_ٹیم]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلیا_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_سی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹ_کمنز]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسٹ_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_افریقہ]]></category>
		<category><![CDATA[جوش_ہیزل_ووڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a2%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%84%d9%88%db%8c-%d8%a8%d9%88%d9%84%d9%86%da%af-%d8%a7%d9%b9%db%8c%da%a9-%d9%86%db%92-%d9%b9%db%8c%d8%b3%d9%b9-%da%a9%d8%b1%da%a9%d9%b9-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[آسٹریلیا کے چار رکنی بولنگ اٹیک نے ایک ساتھ 38 ٹیسٹ میچز میں 600 سے زائد وکٹیں حاصل کر لیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کھیلوں کی دنیا میں ریکارڈز کا بننا اور ٹوٹنا ایک معمول کی بات ہے لیکن ٹیسٹ کرکٹ کی طویل تاریخ میں بعض ایسے کارنامے بھی انجام پا جاتے ہیں جو مدتوں تک یاد رکھے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کے دوران کینگروز بولرز نے کرکٹ کی 150 سالہ تاریخ کا ایک ایسا منفرد اور تاریخی ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس میچ کے دوران آسٹریلیا کے چار رکنی بولنگ اٹیک نے مشترکہ طور پر ٹیسٹ کرکٹ میں 600 وکٹیں حاصل کرنے کا شاندار اعزاز حاصل کر لیا ہے جو اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرکٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ایک ٹیم کے چار اہم بولرز نے اتنی بڑی تعداد میں وکٹیں ایک ساتھ حاصل کی ہوں اور یہ ریکارڈ مستقبل میں شاذ و نادر ہی ٹوٹ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تاریخی ریکارڈ میں آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز کے علاوہ مچل اسٹارک، جوش ہیزل ووڈ اور نیتھن لائن بطور اہم بولرز شامل ہیں جنہوں نے اپنی شاندار کارکردگی سے یہ سنگ میل عبور کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ آسٹریلوی کپتان اور بہترین فاسٹ بولر پیٹ کمنز اس ریکارڈ کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں جنہوں نے اپنی ٹیم کے لیے مجموعی طور پر 158 وکٹیں حاصل کی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹ کمنز کے بعد تجربہ کار اور تیز گیند باز مچل اسٹارک نے بھی شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 155 وکٹیں اپنے نام کی ہیں اور ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلوی بولنگ اٹیک کے ایک اور اہم ستون جوش ہیزل ووڈ نے بھی پیچھے نہ رہتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ میں 150 وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز اپنے نام درج کرایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس شاندار چار رکنی بولنگ اٹیک کے چوتھے اہم کھلاڑی تجربہ کار اسپنر نیتھن لائن ہیں جنہوں نے اپنی بہترین اسپن بولنگ کی بدولت 139 وکٹیں حاصل کیں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا کے ان چاروں نامور بولرز نے ایک ساتھ مل کر 38 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں اور مجموعی طور پر 602 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیسٹ کرکٹ کی تقریباً ڈیڑھ صدی پر مبنی تاریخ میں کسی بھی ایک ملک کے بولنگ یونٹ کی جانب سے یہ سب سے بڑی تعداد ہے جو کہ اس تمام بولرز کی مستقل مزاجی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرکٹ ریکارڈز کے مطابق اس فہرست میں دوسرے نمبر پر انگلینڈ کے چار کھلاڑی شامل ہیں جن میں معین علی، جیمز اینڈرسن، اسٹورٹ براڈ اور بین اسٹوکس کے نام نمایاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انگلینڈ کے ان چاروں نامور کھلاڑیوں کی مشترکہ وکٹوں کا مجموعہ تقریباً 430 وکٹیں رہا ہے جو آسٹریلوی بولرز کے مقابلے میں کافی کم بنتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تاریخی فہرست میں تیسرے نمبر پر جنوبی افریقہ کے سابق اور مایہ ناز کھلاڑی موجود ہیں جن میں جیک کیلس، مکھایا این تینی، نکی بوئے اور شان پولاک شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنوبی افریقہ کے ان چاروں کھلاڑیوں نے اپنے کیریئر کے دوران مشترکہ طور پر 341 وکٹیں حاصل کی تھیں جو اس دور میں ایک بڑا کارنامہ مانا جاتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلوی ٹیم کے اس چار رکنی بولنگ اٹیک نے نہ صرف ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کیا بلکہ عالمی سطح پر ایک ایسا معیار قائم کر دیا ہے جو آنے والے وقتوں میں ایک مثال بنے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرکٹ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جدید دور کی کرکٹ میں اتنے طویل عرصے تک چار بولرز کا ایک ساتھ کھیلنا اور اس طرح کی کارکردگی دکھانا ایک انتہائی مشکل ہدف ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مداحوں اور کھیلوں کے ماہرین کی جانب سے بھی آسٹریلوی بولرز کی اس جوڑی اور ان کی ریکارڈ ساز کارکردگی کو بھرپور انداز میں سراہا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/427/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آسٹریلوی بولرز کا تاریخی کارنامہ، ٹیسٹ کرکٹ میں انوکھا ریکارڈ قائم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/sports/303/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/sports/303/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 12:57:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کھیل]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلوی_بولرز]]></category>
		<category><![CDATA[آسٹریلیا_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹ_کمنز]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسٹ_ریکارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیسٹ_کرکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[جنوبی_افریقا]]></category>
		<category><![CDATA[جوش_ہیزل_ووڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کرکٹ_تاریخ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a2%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d9%84%d9%88%db%8c-%d8%a8%d9%88%d9%84%d8%b1%d8%b2-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81%d8%8c-%d9%b9%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[آسٹریلیا کے چار رکنی بولنگ اٹیک نے ٹیسٹ کرکٹ کی طویل تاریخ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا ریکارڈ بنا لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ٹیسٹ کرکٹ کی 149 سالہ تاریخ میں ایک ایسا حیرت انگیز ریکارڈ قائم ہو گیا ہے جسے مستقبل میں توڑنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ کرکٹ کے میدانوں میں اس سنگ میل کو عبور کرنے کا اعزاز آسٹریلیا کے معروف اور تجربہ کار چار رکنی بولنگ اٹیک کو حاصل ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلوی ٹیم کے ان چار سرکردہ بولرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا بھر کے کھیلوں کے حلقوں میں اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ یہ شاندار کامیابی آسٹریلوی کرکٹ کی بالادستی اور طویل المدتی فٹنس کا منہ بولتا ثبوت قرار دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جنوبی افریقا کے خلاف کنگزمیڈ میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ کے دوران آسٹریلیا کے اس بولنگ یونٹ نے ایک نیا اور منفرد باب رقم کیا۔ اس میچ کے دوران آسٹریلوی بولرز نے مشترکہ طور پر 600 وکٹوں کا سنگ میل عبور کر کے نیا عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق پیٹ کمنز، مچل اسٹارک، جوش ہیزل ووڈ اور نیتھن لائن نے ایک ساتھ 38 ٹیسٹ میچز میں شرکت کی۔ ان 38 میچز کے دوران اس خطرناک بولنگ کمینیشن نے مجموعی طور پر 602 وکٹیں حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹیسٹ کرکٹ کی ڈیڑھ صدی پر محیط تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ایک ٹیم کے چار بولرز نے اتنی بڑی تعداد میں وکٹیں ایک ساتھ حاصل کی ہوں۔ ماہرین کرکٹ کے مطابق اس ریکارڈ کا ٹوٹنا اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ جدید دور میں بولرز کا اتنے طویل عرصے تک ایک ساتھ کھیلنا آسان نہیں ہوتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تاریخی فہرست میں دوسرا نمبر انگلینڈ کے نمایاں کھلاڑیوں کے پاس ہے جن میں معین علی، جیمز اینڈرسن، اسٹورٹ براڈ اور بین اسٹوکس شامل ہیں۔ ان انگریز کھلاڑیوں کا مجموعہ تقریباً 430 وکٹیں حاصل کر سکا تھا جو آسٹریلوی ریکارڈ سے کافی پیچھے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فہرست میں تیسرے نمبر پر جنوبی افریقا کا بولنگ کمینیشن موجود ہے جس میں جیک کیلس، مکھایا این تینی، نکی بوئے اور شان پولاک شامل تھے۔ ان جنوبی افریقی کھلاڑیوں نے اپنے مشترکہ کیریئر میں 341 وکٹیں حاصل کی تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلوی بولرز کی جانب سے قائم کردہ 602 وکٹوں کے اس بڑے مجموعے میں انفرادی کارکردگی بھی انتہائی شاندار رہی ہے۔ ٹیم کے کپتان اور لیڈ پیسر پیٹ کمنز اس فہرست میں 158 وکٹوں کے ساتھ سرفہرست نظر آتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بائیں ہاتھ کے مایہ ناز فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے اس مجموعے میں 155 وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کے لیے کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کی تیز رفتار اور خطرناک بولنگ نے ہمیشہ حریف بلے بازوں کے لیے پریشانیاں پیدا کیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجربہ کار پیسر جوش ہیزل ووڈ نے شاندار نپی تلی لائن و لینتھ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 150 وکٹیں اپنے نام کیں۔ ان کی مستقل مزاجی اور درست نشانہ بازی نے بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آسٹریلوی اسپن اٹیک کی قیادت کرنے والے نیتھن لائن نے بھی پیچھے نہ رہتے ہوئے 139 وکٹیں حاصل کیں۔ ان چاروں بولرز کے مختلف اور متنوع بولنگ انداز نے مخالف ٹیموں کے لیے مسلسل مشکلات کھڑی کی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹ کمنز کی تیز رفتار گیندیں، مچل اسٹارک کی بائیں ہاتھ سے اندر آتی ہوئی سوئنگ، ہیزل ووڈ کی مسلسل ایک ہی جگہ پر گیند پھینکنے کی صلاحیت اس کامیابی کی بنیادی وجہ بنی۔ اس کے علاوہ نیتھن لائن کی گھومتی ہوئی گیندوں نے پچ پر بلے بازوں کے لیے جال بچھایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کرکٹ شائقین اور مبصرین کی جانب سے اس ریکارڈ کو جدید ٹیسٹ کرکٹ کا ایک انمول باب قرار دیا جا رہا ہے۔ آسٹریلوی بولنگ یونٹ کی یہ کامیابی آنے والے کئی سالوں تک تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے درج رہے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/sports/303/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
