<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پیٹرولیم_ڈویژن &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84%db%8c%d9%85_%da%88%d9%88%db%8c%da%98%d9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 05:26:51 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پیٹرولیم_ڈویژن &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>حکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل مہنگا کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/2039/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/2039/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 19:57:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_مصنوعات]]></category>
		<category><![CDATA[تیل_کی_قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d9%86%db%92-%d9%be%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa-%d8%a8%d8%b1%d9%82%d8%b1%d8%a7%d8%b1-%da%88%db%8c%d8%b2%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق 24 اکتوبر سے 26 اکتوبر تک کے لیے کر دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت پیٹرول کی فی لیٹر قیمت کو برقرار رکھا گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت 377 روپے 71 پیسے فی لیٹر پر برقرار رہے گی۔ یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپیہ 91 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 393 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے جو فوری طور پر نافذ العمل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے جاری کردہ یہ نئی قیمتیں 24 اکتوبر سے 26 اکتوبر 2026 تک کے لیے مؤثر ہوں گی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ تبدیلی ملکی معاشی صورتحال اور عالمی مارکیٹ کے رجحانات کے تناظر میں کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن کے بعد متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئی قیمتوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ پیٹرول پمپس پر نئی قیمتوں کے مطابق فروخت کا عمل شروع ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا یہ عمل ایک معمول کا حصہ ہے، جس کا مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اثرات کو مقامی سطح پر منظم طریقے سے منتقل کرنا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام کی جانب سے پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کے فیصلے کو سراہا جا رہا ہے، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر نظر رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کی صورت میں اس کا فائدہ براہ راست صارفین تک پہنچایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے اور کسی بھی علاقے میں قلت کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ حکام صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز میں عالمی منڈی کے رجحانات کو دیکھتے ہوئے قیمتوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد حکومت اگلی مدت کے لیے قیمتوں کا اعلان کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کے حوالے سے کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری نوٹیفکیشن پر ہی اعتماد کریں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/2039/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایل پی جی کی قیمتوں میں شفافیت لائیں گے، ناجائز منافع خوروں کیخلاف کارروائی ہوگی: علی پرویز ملک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1788/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1788/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 03:18:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سردیاں]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[علی_پرویز_ملک]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b4%d9%81%d8%a7%d9%81%db%8c%d8%aa-%d9%84%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ سردیوں میں عوام کو گیس کی بلاتعطل فراہمی کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے اور ایل پی جی کی قیمتوں میں پیٹرول کی طرح مکمل شفافیت لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک بیان میں وزیر پیٹرولیم نے واضح کیا کہ ملک میں ایل پی جی کی یومیہ کھپت ساڑھے چھ سے سات ہزار ٹن ہے، جس میں سے دو سے ڈھائی ہزار ٹن مقامی پیداوار ہے جبکہ باقی مقدار بیرون ملک سے درآمد کی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علی پرویز ملک نے کہا کہ ایل پی جی کی قیمت 400 سے 425 روپے فی کلو کے درمیان ہونی چاہیے، تاہم کچھ عناصر اسٹے آرڈر لے کر عوام کا خون چوس رہے ہیں جن کے خلاف سخت کارروائی کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ اور مقامی قیمتوں کے درمیان 30 ارب روپے کا فرق ہے اور حکومت ان عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے پرعزم ہے جن کے پاس لائسنس موجود ہیں لیکن وہ ناجائز منافع خوری میں ملوث ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر پیٹرولیم کے مطابق وزیراعظم نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ ایل پی جی کی قیمتوں سے متعلق زیر التواء عدالتی کیسز میں اسٹے آرڈر ختم کرائے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور قیمتوں میں بہتری آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے قطر کے ساتھ گیس کی فراہمی کے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہرمز کی صورتحال کے باوجود قطر نے ہمیں 12 سے 13 ڈالر پر گیس فراہم کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سردیوں کے موسم کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ نومبر سے فروری تک گیس کی فراہمی کے لیے خصوصی حکمت عملی بنائی گئی ہے تاکہ عوام کو کھانا پکانے کے اوقات میں گیس کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علی پرویز ملک نے کہا کہ پنجاب میں سردیوں کے دوران گیس کی طلب ایک ارب مکعب فٹ تک پہنچنے کا خدشہ ہے، تاہم حکومت نے فیول سبسڈی کے لیے بجٹ مختص کر رکھا ہے جس میں کافی گنجائش موجود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے خبردار کیا کہ ایل پی جی کی مقررہ قیمت سے زائد وصولی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور حکومت خود ایل پی جی درآمد کر کے سسٹم میں شامل کرے گی تاکہ سپلائی چین کو بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ ستمبر تک متعلقہ افراد کو وارننگ دی گئی تھی اور اب بھی گزارش ہے کہ وہ جائز قیمت پر ایل پی جی فراہم کریں، بصورت دیگر قانون حرکت میں آئے گا اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر پیٹرولیم نے امید ظاہر کی کہ آئندہ دو سے تین دنوں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں نمایاں بہتری آنا شروع ہو جائے گی اور عوام کو ریلیف ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ فیلڈ مارشل اور وزیر داخلہ کی کاوشوں میں کامیابی عطا کرے کیونکہ وہیں سے ہی توانائی کے مسائل کا مستقل اور پائیدار حل نکلے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1788/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سردیوں میں گیس کی قلت کا خدشہ، 2 ارب ڈالر کی ایل این جی درآمد کا فیصلہ تاخیر کا شکار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1785/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1785/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 03:16:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[درآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سردیاں]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d8%b1%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%82%d9%84%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%af%d8%b4%db%81-2-%d8%a7%d8%b1%d8%a8-%da%88%d8%a7%d9%84%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[حکومت کی جانب سے 22 ایل این جی کارگوز کی درآمد کے لیے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں سردیوں کے دوران گیس کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) درآمد کرنے کا فیصلہ تاحال التواء کا شکار ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن نے گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اکتوبر کے اوائل میں ہی درآمدی عمل شروع کرنے کی تجویز دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی جانب سے پیٹرولیم ڈویژن کی پیش کردہ گیس لوڈ مینجمنٹ سمری پر تاحال غور نہیں کیا گیا ہے۔ اس سمری میں مجموعی طور پر 22 ایل این جی کارگوز درآمد کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی، جن میں سے کچھ کارگوز امریکا اور آذربائیجان سے بھی منگوائے جانے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کے تحت 12 کارگوز کی درآمد کے انتظامات 7 سے 10 اکتوبر کے درمیان شروع کیے جانے تھے، تاہم مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ معاملہ کابینہ کمیٹی کے فیصلے کا منتظر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کو طویل مدتی معاہدے کے تحت قطر سے 11 ایل این جی کارگوز ملنے کی توقع تھی، تاہم مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث قطر نے نومبر تک فورس میجر کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔ اس پیش رفت سے طے شدہ گیس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق اگرچہ 22 کارگوز درآمد کرنے کی ضرورت پر اتفاق پایا جاتا ہے، تاہم ایک رائے یہ بھی ہے کہ صرف 15 کارگوز درآمد کیے جائیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر درآمدی مقدار کم رکھی گئی تو سردیوں کے عروج پر گیس کی قلت مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ درآمدی گیس کی بھاری لاگت ہے۔ فی کارگو اوسطاً 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالر لاگت آنے کے باعث نومبر سے فروری تک گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 2 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ حکومت نے ابتدائی طور پر اس کا تخمینہ ڈیڑھ ارب ڈالر لگایا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قطر سے فراہمی غیر یقینی ہونے کے باعث اب اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی گیس خریدنے کا امکان بڑھ گیا ہے، جس سے ملکی زرمبادلہ پر بوجھ پڑے گا۔ پاکستان کے سرکاری زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر کے قریب ہیں، تاہم بڑی قرض ادائیگیوں کے پیش نظر وسائل کا انتظام ایک بڑا چیلنج ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اقتصادی امور ڈویژن کی رپورٹ کے مطابق جولائی سے ستمبر کے دوران پاکستان کو بیرونی قرضوں کی مد میں 4.5 ارب ڈالر موصول ہوئے، جن میں یورو بانڈز بھی شامل ہیں۔ دیگر ذرائع سے مالی معاونت محدود ہونے کے باعث ایل این جی کی درآمدی ادائیگیوں کے لیے حکمت عملی مرتب کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم ڈویژن نے سفارش کی ہے کہ گھریلو صارفین کو صبح 5 بجے سے رات 10 بجے تک گیس کی مسلسل فراہمی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھانا پکانے کے اوقات میں گیس کا مناسب پریشر برقرار رکھنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم کی زیر صدارت بھی گیس کی ضروریات اور درآمدی مقدار کا تعین کرنے کے لیے متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ حکومت کا عزم ہے کہ سردیوں میں عوام کو گیس کی قلت سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوامی بے چینی کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں گیس کے ذخائر میں کمی کے باعث درآمدی ایل این جی پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ پاور سیکٹر اصلاحات ٹاسک فورس اور نیشنل کوآرڈینیشن اینڈ مینجمنٹ کونسل سے مشاورت کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے یہ سمری تیار کی تھی تاکہ توانائی کے شعبے کو مستحکم رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز میں کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس متوقع ہے جس میں ایل این جی درآمد کے حوالے سے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ اس فیصلے پر ہی سردیوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کی صورتحال کا انحصار ہوگا، جس پر عوام کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1785/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1760/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1760/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 23:17:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_مصنوعات]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیزل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d9%86%d8%a8-%d8%b3%db%92-%d9%be%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84%db%8c%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 71 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 31 پیسے مہنگا کر دیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت نے عالمی منڈی کے بدلتے ہوئے رجحانات اور مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق قیمتوں میں ردوبدل کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئی قیمتوں کے تعین کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 71 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 379 روپے 31 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یہ کمی صارفین کے لیے ایک ریلیف کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 پیسے فی لیٹر کا معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 390 روپے 11 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جس کا اطلاق بھی نوٹیفکیشن کے مطابق فوری طور پر نافذ العمل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت پیٹرولیم کے حکام کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں یہ ردوبدل عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخوں، درآمدی اخراجات اور دیگر متعلقہ عوامل کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا اثر عوام پر کم سے کم پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ قیمتوں کا تعین شفاف طریقے سے کیا جاتا ہے تاکہ ملک میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ہفتہ اور اتوار کے روز قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ عوام کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے جبکہ ڈیزل کے نرخوں میں اضافے پر تشویش پائی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا تعین کرنے والے عوامل انتہائی پیچیدہ ہیں۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں معمولی تبدیلی بھی مقامی مارکیٹ پر اثر انداز ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اس بات کی بھی نگرانی کر رہی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے اثرات عام آدمی تک پہنچیں۔ متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قیمتوں کے تعین کے بعد مارکیٹ میں مصنوعی قلت یا ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے لیے اقدامات کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں پیٹرول پمپس پر نئی قیمتوں کے مطابق فروخت کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی مقررہ نرخوں پر فروخت کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل بھی جاری ہے تاکہ طویل مدتی بنیادوں پر ایندھن کی قیمتوں کو مستحکم کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے متبادل توانائی کے ذرائع اور مقامی وسائل پر انحصار بڑھانے کی حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری نوٹیفکیشن کو ہی حتمی سمجھیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کی ویب سائٹ اور سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے قیمتوں میں کسی بھی تبدیلی سے عوام کو بروقت آگاہ کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1760/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سردیوں میں گیس کی طلب پوری کرنے کے لیے ایل این جی کے 18 کارگو خریدنے کا ہدف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1691/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1691/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 08:37:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_این_جی]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_سدرن]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_ناردرن]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%b3%d8%b1%d8%af%db%8c%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d9%84%d8%a8-%d9%be%d9%88%d8%b1%db%8c-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب میں موسم سرما کے دوران گیس کی ضرورت ایک ارب مکعب فٹ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">آنے والے موسم سرما کے دوران ملک میں گیس کی بڑھتی ہوئی طلب اور رسد کے درمیان فرق کو کم کرنے کے لیے اہم انتظامی فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق اس سال سردیوں کے سیزن میں ایل این جی کے اٹھارہ کارگو خریدنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی کو مجموعی طور پر ایک ارب چالیس کروڑ مکعب فٹ مقامی گیس دستیاب ہے۔ اس کے مقابلے میں صرف صوبہ پنجاب کی اکیلے گیس کی ضروریات موسم سرما کے دوران ایک ارب مکعب فٹ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے درآمدی حکمت عملی کے تحت قطر سے نسبتاً سستی مائع قدرتی گیس کی درآمد کو اولین ترجیح دی جائے گی۔ اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کی خریداری کے لیے تیس ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کو آخری حد مقرر کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے اس صورتحال پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موسم سرما کے دوران ملک کی مجموعی گیس کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرنے کے لیے چوبیس کارگو درکار ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے بیشتر حصوں میں موسم سرما کے دوران گھریلو اور صنعتی صارفین کی جانب سے گیس کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس موسمی اضافے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ادارے پیشگی تیاریوں اور درآمدی منصوبوں پر عمل پیرا ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقومی گیس کے ذخائر میں بتدریج کمی اور طلب میں اضافے کے باعث حکومت کو درآمدی ایل این جی پر انحصار بڑھانا پڑتا ہے۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ بروقت فیصلے اور درست منصوبہ بندی ہی بحران سے بچنے کا واحد حل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کی وزارت اور متعلقہ حکام ملک بھر کے تمام صارفین کو بلا تعطل گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ سردیوں کے ان مہینوں میں بالخصوص گھریلو صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے پیٹرولیم ڈویژن کے حکام بین الاقوامی منڈی کے اتار چڑھاؤ پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ درآمدی اخراجات کو قابو میں رکھتے ہوئے توانائی کی ضروریات پوری کرنا موجودہ معاشی چیلنجز میں اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موسمی تبدیلیوں کے ساتھ ہی ملک میں گیس کی کھپت کا گراف تیزی سے اوپر کی طرف جانا شروع ہو جاتا ہے۔ سردیوں کے ایام میں ہیٹروں اور گیس گیزرز کے مسلسل استعمال سے گھریلو سیکٹر پر دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ محکموں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مقامی گیس کے کنوؤں سے پیداوار میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درآمدی ایل این جی پر انحصار ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ طلب اور رسد کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی حلقوں کی جانب سے بین الاقوامی معاہدوں بالخصوص طویل مدتی ایل این جی سپلائی کے معاہدوں کو بہتر بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ اس کا مقصد ملکی مبادلہ کے ذخائر کو بچانا اور عوام کو سستی توانائی کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعتی شعبے کو بھی موسم سرما میں گیس کی مسلسل فراہمی چیلنج بنی رہتی ہے تاکہ برآمدی صنعتیں متاثر نہ ہوں۔ توانائی کی ترسیل کے اس پورے نظام کو چلانے کے لیے تمام متعلقہ کمپنیاں باہم مل کر حکمت عملی طے کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا اور دیگر ریگولیٹری اداروں کے کردار پر بھی مختلف حلقوں کی طرف سے آراء سامنے آتی رہتی ہیں جن کا مقصد شعبے میں بہتری لانا ہے۔ عوام اور تاجر برادری کی جانب سے بھی سردیوں کے سیزن میں گیس کی بلا تعطل دستیابی کے مطالبات کیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے توانائی کے متبادل ذرائع اور درآمدی راہداریوں پر بھی غور کیا جاتا ہے تاکہ ملکی معیشت کو استحکام مل سکے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1691/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گیس کے شعبے کے گردشی قرضوں میں ایک سال کے دوران 344 ارب روپے کا اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1480/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1480/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 16:17:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_ان_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[تاخیر_سرچارج]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[تیل_کی_پیداوار]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%92-%d8%b4%d8%b9%d8%a8%db%92-%da%a9%db%92-%da%af%d8%b1%d8%af%d8%b4%db%8c-%d9%82%d8%b1%d8%b6%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b3%d8%a7%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[پیٹرولیم ڈویژن نے قومی اسمبلی میں انکشاف کیا ہے کہ گیس کے شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ بڑھ کر 3631 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وقفہ سوالات میں پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے گیس کے شعبے کے مالیاتی مسائل اور گردشی قرضوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ ایوان میں پیش کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں توانائی کے اس اہم شعبے کو شدید مالی چیلنجز کا سامنا ہے اور گزشتہ ایک سال کے عرصے میں اس کے گردشی قرضوں کے حجم میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران گیس کے شعبے کے گردشی قرضوں میں 344 ارب روپے کا بڑا اضافہ ہوا۔ اس اضافے کے بعد 30 جون 2026 تک گیس کے شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ 3631 ارب روپے کی سطح تک جا پہنچا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم ڈویژن کی طرف سے ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ اس سے قبل 30 جون 2025 تک گیس کے شعبے کا کل قرضہ 3288 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس ایک سال کے دوران قرضوں کی اس لہر میں تیزی آئی جس نے ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے پر بوجھ مزید بڑھا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیش کردہ رپورٹ کے مطابق گیس کے شعبے کے مجموعی گردشی قرضوں کی اس بڑی رقم میں 1783 ارب روپے کے واجبات تاخیر سے ادائیگی پر لگائے جانے والے سرچارج کی مد میں شامل ہیں۔ یہ سرچارج بروقت ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے جمع ہوتے رہے ہیں جو مجموعی قرضے کے حجم کو بڑھانے میں ایک بڑا عنصر ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں ملک میں تیل اور گیس کے موجودہ ذخائر اور ان کی پیداوار کے حوالے سے بھی تفصیلی اعداد و شمار فراہم کیے گئے ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق ملک بھر میں گیس کے کل قابل حصول ذخائر 68 ہزار 803 بی سی ایف ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان دستیاب ذخائر میں سے اس وقت 48 ہزار 140 بی سی ایف گیس کی پیداوار حاصل کی جا رہی ہے۔ یہ ملکی طلب کو پورا کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے تاہم پیداواری لاگت اور ترسیلی نظام کے مسائل کی وجہ سے شعبہ مالی مشکلات کا شکار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب تیل کے شعبے سے متعلق اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں خام تیل کے کل قابل حصول ذخائر 1378 ملین بیرل ہیں۔ ان میں سے 1102 ملین بیرل خام تیل کی پیداوار باقاعدگی سے نکالی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ گیس کے شعبے میں بڑھتے ہوئے یہ گردشی قرضے ملک کی مجموعی معیشت پر دباؤ کا باعث بن رہے ہیں اور گیس کی قیمتوں اور ترسیل کے نظام پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ ادارے ان مالیاتی مسائل کے حل کے لیے مختلف تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی اسمبلی میں ان حقائق کے سامنے آنے کے بعد اراکین پارلیمنٹ نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان میں توانائی کا شعبہ طویل عرصے سے گردشی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے جس سے نمٹنے کے لیے متعدد پالیسیاں زیر غور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم ڈویژن کی یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سردیوں کے موسم میں گیس کی طلب میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے قرضوں کے باوجود عوام کو بلاتعطل توانائی کی فراہمی یقینی بنائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے معاشی حلقوں میں گیس کے شعبے کے اس مالیاتی خسارے پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ متعلقہ وزارت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ کس طرح ان قرضوں کے بڑھنے کی رفتار کو روکا جائے اور گردشی قرضے کے اس گرد اب سے نکلا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے امور کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مقامی پیداوار کو بڑھانے اور تیل و گیس کی تلاش کے نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے سے ہی اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ حکومت اس شعبے میں بہتری لانے کے لیے پالیسی سطح پر اقدامات کرنے کا عزم رکھتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1480/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 93 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/979/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/979/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 18:56:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_مصنوعات]]></category>
		<category><![CDATA[حکومتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیزل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-3-%d8%b1%d9%88%d9%be%db%92-93-%d9%be%db%8c%d8%b3%db%92-%d9%81%db%8c-%d9%84%db%8c%d9%b9%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کا اطلاق 17 سے 19 اکتوبر تک ہوگا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 93 پیسے کی کمی کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 386 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 17 اکتوبر سے 19 اکتوبر 2026 تک تین روز کے لیے مؤثر رہے گا اور عوام کو اسی نرخ پر پیٹرول ملے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا ہے۔ ڈیزل کی قیمت 396 روپے 96 پیسے فی لیٹر پر برقرار رکھی گئی ہے اور یہ اگلے تین روز تک اسی نرخ پر ملک بھر میں دستیاب رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخوں اور دیگر تکنیکی عوامل کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ حکومت نے یہ فیصلہ ملکی معاشی صورتحال اور عالمی منڈی کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوٹیفکیشن کے مطابق قیمتوں میں یہ تبدیلی پلیٹس ریٹس اور پریمیئم سمیت عالمی ایونٹس کے تحت کی گئی ہے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر تین روز بعد عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ گزشتہ روز پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 390 روپے 23 پیسے مقرر کی گئی تھی۔ اس طرح نئی قیمتوں کے اطلاق سے صارفین کو پیٹرول کی خریداری میں کچھ ریلیف ملے گا جو کہ معاشی دباؤ کے شکار عوام کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی منڈی میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ کاروباری ہفتے کے آخری روز بین الاقوامی منڈیوں میں خام تیل اور بیشتر زرعی اجناس کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے اثرات مقامی مارکیٹ پر مرتب ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے تحت خام تیل کے مستقبل کے سودوں میں 0.48 ڈالر کی کمی ہوئی جس کے بعد خام تیل 97.49 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ اسی طرح برینٹ کروڈ کے سودوں میں بھی 0.49 ڈالر کی کمی دیکھی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس نوٹیفکیشن کا اطلاق 17 اکتوبر سے 19 اکتوبر تک ہوگا۔ اس مختصر مدت کے لیے قیمتوں کا تعین کرنے کا مقصد عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کو فوری طور پر صارفین تک پہنچانا اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا عمل آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے وفاقی حکومت کے طے کردہ میکنزم کے تحت مکمل کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں درآمدی لاگت اور دیگر ٹیکسز کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے تاکہ معیشت مستحکم رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کا اثر براہ راست ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے اعلانات کو ہمیشہ خاص اہمیت دی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے واضح کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا فیصلہ ملکی مفاد اور عالمی مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ نئی قیمتوں کے مطابق ہی پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کو یقینی بنائیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/979/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حکومت کا پیٹرول سستا، ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/876/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/876/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 19:18:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_مصنوعات]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84-%d8%b3%d8%b3%d8%aa%d8%a7-%da%88%db%8c%d8%b2%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کا اطلاق 16 اکتوبر کیلئے ہوگا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ عالمی منڈی میں جاری اتار چڑھاؤ اور ملکی معاشی ضروریات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 63 پیسے فی لیٹر کی کمی کی گئی ہے۔ اس کمی کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 390 روپے 23 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 31 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 396 روپے 96 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے، جس کا اطلاق 16 اکتوبر 2026 کیلئے ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا کی منظوری کے بعد جاری ہونے والے اس نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ میں خام تیل کے نرخوں، پریمیم اور دیگر متعلقہ اخراجات کی بنیاد پر کیا گیا ہے تاکہ قیمتوں میں توازن برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیال رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ ردوبدل حکومتی پرائسنگ میکنزم کے تحت کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کا براہ راست اثر مقامی سطح پر قیمتوں پر مرتب ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس تبدیلی کے بعد ملک بھر میں پٹرول پمپس پر نئی قیمتوں کا اطلاق یقینی بنایا گیا ہے۔ عوام کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی کو ایک مثبت اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن تمام متعلقہ اداروں کو بھجوا دیا گیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ ردوبدل 16 اکتوبر کے پورے دن کیلئے نافذ العمل رہے گا جس کے بعد اگلی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ان قیمتوں کو عوام کی پہنچ میں رکھا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ہر چند روز بعد عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔ اس عمل میں اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن کلیدی کردار ادا کرتے ہیں تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس تازہ ترین نوٹیفکیشن کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں اب ملک بھر میں نافذ العمل ہیں۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئی قیمتوں کے مطابق ہی خریداری کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ دنوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے رجحان کو دیکھتے ہوئے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ حکومت اس حوالے سے مسلسل عالمی منڈی کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجموعی طور پر پیٹرول کی قیمت میں کمی سے صارفین کو کچھ ریلیف ملے گا، جبکہ ڈیزل کی قیمت میں معمولی اضافہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کے اخراجات میں معمولی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/876/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل، پیٹرول مہنگا، ڈیزل سستا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/720/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/720/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 19:57:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹیٹ_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول_کی_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_مصنوعات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84%db%8c%d9%85-%d9%85%d8%b5%d9%86%d9%88%d8%b9%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-3/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 20 پیسے فی لیٹر اضافہ جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں معمولی کمی کا اعلان کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے تحت پیٹرول کی قیمت میں اضافے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں معمولی کمی کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 15 اکتوبر 2026 سے ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں ایک روپے 20 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 86 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 17 پیسے فی لیٹر کی معمولی کمی کی گئی ہے۔ اس کمی کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 396 روپے 65 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے، جو پہلے 396 روپے 82 پیسے تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ ردوبدل عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ، پلیٹس ریٹس اور پریمیم سمیت دیگر متعلقہ عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ قیمتوں کا تعین اوگرا کے طریقہ کار کے مطابق کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل پر پڑتا ہے۔ حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ عالمی منڈی کے دباؤ کو کم سے کم عوام تک منتقل کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک بھر میں پیٹرول پمپس پر نئی قیمتوں کا اطلاق 15 اکتوبر کی صبح سے ہو جائے گا۔ عوام کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل پر گہری نظر رکھی جاتی ہے کیونکہ اس کا اثر براہ راست ان کے ماہانہ بجٹ پر پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تبدیلی پاکستان جیسے درآمدی ممالک کے لیے چیلنج کا باعث بنتی ہے۔ حکومت ان قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مختلف مالیاتی اقدامات کا سہارا لیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوگرا کی جانب سے قیمتوں کا تعین کرنے کے بعد پیٹرولیم ڈویژن باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے جس پر عملدرآمد یقینی بنایا جاتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ قیمتوں کے تعین پر عملدرآمد کی نگرانی کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور قیمتوں کا تعین ایک پیچیدہ عمل ہے۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں ردوبدل کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کو برقرار رکھنا اور مارکیٹ میں قلت کو روکنا ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے حوالے سے حکومتی فیصلے کے بعد مارکیٹ میں صورتحال معمول کے مطابق ہے۔ پیٹرول پمپس پر ایندھن کی فراہمی بلا تعطل جاری ہے اور کسی قسم کی قلت کی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ پندرہ روز کے لیے جاری کردہ یہ نئی قیمتیں اب 15 اکتوبر سے نافذ العمل ہوں گی۔ عوام سے گزارش ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری کے دوران نئی قیمتوں کو مدنظر رکھیں تاکہ کسی قسم کی الجھن سے بچا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/720/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان کردیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/452/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/452/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 19:17:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئل_پرائس]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایندھن_کی_قیمتیں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول_قیمت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_ڈویژن]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرولیم_مصنوعات]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa-%d9%86%db%92-%d9%be%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%88%db%8c%d8%b2%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اطلاق چودہ اکتوبر سے کردیا گیا ہے جس سے شہریوں کو ریلیف ملے گا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">حکومت پاکستان کی جانب سے ملک بھر کے تمام صارفین کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر کمی کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس اہم اقدام کا مقصد عام آدمی کو مہنگائی کے دباؤ سے نکالنا اور روزمرہ کے امور میں سہولت فراہم کرنا ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم اور متعلقہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اس تازہ نوٹیفیکیشن نے عوام کی توجہ حاصل کر لی ہے کیونکہ ایندھن کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ براہِ راست ہر شہری کی زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں دو روپے اکہتر پیسے کی نمایاں کمی عمل میں لائی گئی ہے۔ اس کمی کے بعد ملک بھر میں پیٹرول کی نئی قیمت کم ہو کر تین سو بیانوے روپے چھیاسٹھ پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اس فیصلے پر عمل درآمد کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں پٹرول پمپس پر نئی قیمتوں کے بینرز بھی آویزاں کر دیے گئے ہیں تاکہ صارفین کو باخبر رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ٹرانسپورٹ کے شعبے اور مال برداری میں کثرت سے استعمال ہونے والے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی ردوبدل ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں تین پیسے کی انتہائی معمولی اور علامتی کمی کی گئی ہے جس کے بعد اس کے نئے نرخ تین سو چھیانوے روپے بیاسی پیسے فی لیٹر مقرر کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے جاری کردہ ان تمام نئی قیمتوں کا نفاذ اور اطلاق صرف چودہ اکتوبر کے لیے ہوگا اور یہ نرخ فوری طور پر پورے ملک میں نافذ العمل ہو چکے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کے ان نرخوں میں باقاعدگی سے ردوبدل کا عمل عالمی مارکیٹ کے حالات سے جڑا ہوا ہے تاکہ پاکستان کی معیشت میں توازن برقرار رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس تازہ ترین اعلان سے چند روز قبل یعنی تیرہ اکتوبر کو بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل دیکھا گیا تھا۔ تیرہ اکتوبر کو پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں دو روپے تریانوے پیسے کی کمی کی گئی تھی جس کے بعد نرخ تین سو پچانوے روپے سینتیس پیسے فی لیٹر پر آ گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے برعکس تیرہ اکتوبر کو ہی ڈیزل کی قیمت میں کمی کے بجائے اکسٹھ پیسے فی لیٹر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ڈیزل کی قیمت بڑھنے کے بعد اس روز اس کے نئے نرخ تین سو چھیانوے روپے پینتیس پیسے فی لیٹر طے پائے تھے جو اب چودہ اکتوبر کے لیے جاری ہونے والی فہرست میں تبدیل ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی ہمیشہ سے یہ پالیسی رہی ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو باریک بینی سے جانچا جائے اور اس کے مطابق مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کا تعین کیا جائے۔ اس تسلسل میں نو اکتوبر کو بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا ایک اور نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نو اکتوبر کو جاری ہونے والی اس ہدایت کے تحت پٹرول کی قیمت میں چھیاسٹھ پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت تین سو اٹھانوے روپے تیس پیسے فی لیٹر کی سطح پر جا پہنچی تھی۔ اس قیمت کے کم ہونے سے موٹر سائیکل اور گاڑی مالکان کو کچھ سہولت ملی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم دوسری طرف نو اکتوبر ہی کے روز ڈیزل کی قیمت میں باقاعدہ باون پیسے فی لیٹر کا اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ڈیزل کے نئے نرخ تین سو چھیانوے روپے چوبیس پیسے فی لیٹر طے ہوئے تھے۔ اس طرح قیمتوں میں مسلسل کمی اور اضافے کا یہ سلسلہ اکتوبر کے پورے مہینے میں جاری رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ بار بار آنے والی تبدیلیاں دراصل عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخوں میں ہونے والے ردوبدل اور روپے کی قدر کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر جب بھی تیل سستا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پاکستانی مارکیٹ پر بھی پڑتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایندھن کی قیمتوں میں اس قسم کے ردوبدل سے مہنگائی کی مجموعی شرح پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ ٹرانسپورٹ کے کرائے اور اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل براہِ راست پٹرول اور ڈیزل سے وابستہ ہوتی ہے۔ جب ایندھن سستا ہوتا ہے تو اس سے معیشت کے دوسرے شعبوں کو بھی آکسیجن ملتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام اور سڑکوں پر سفر کرنے والے شہریوں کی ہمیشہ سے یہی توقع رہی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کی جائے تاکہ ان کے ماہانہ بجٹ پر پڑنے والا بوجھ کم ہو سکے۔ مہنگائی کے اس دور میں ایندھن کی قیمتوں میں ایک روپے کی کمی بھی اہمیت رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کے متعلقہ ادارے مسلسل عالمی مارکیٹ کے رجحانات کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ بھی عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جا سکے اور معاشی استحکام کو نقصان نہ پہنچے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے یہ احکامات تمام آئل کمپنیوں اور پمپس پر سختی سے لاگو کر دیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/452/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
