<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پہاڑی_علاقے &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%db%81%d8%a7%da%91%db%8c_%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%db%92/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پہاڑی_علاقے &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پہاڑی علاقوں میں ایل پی جی کی قیمت 600 روپے فی کلو ہو گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/1493/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/1493/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 18:37:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[اوگرا]]></category>
		<category><![CDATA[ایل_پی_جی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_بزنس]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پہاڑی_علاقے]]></category>
		<category><![CDATA[توانائی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%db%81%d8%a7%da%91%db%8c-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d9%be%db%8c-%d8%ac%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%82%db%8c%d9%85%d8%aa-600/</guid>

					<description><![CDATA[اوگرا کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں ایل پی جی کی فروخت مہنگی داموں جاری ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک کے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں سوئی گیس کی عدم دستیابی اور شدید سردی کے پیش نظر لیکویفائیڈ پیٹرولیم گیس یعنی ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں یہ اہم ایندھن چھ سو روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سرکاری نرخوں کو ہوا میں اڑاتے ہوئے صارفین سے من مانے دام وصول کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں ایل پی جی کے نرخ پانچ سو روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں جس کی وجہ سے عام شہریوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عرفان کھوکھر کا کہنا تھا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا کی جانب سے اکتوبر کے مہینے کے لیے ایل پی جی کی فی کلو قیمت دو سو اناسی روپے مقرر کی گئی تھی مگر اس پر عمل درآمد کرانے میں ادارہ مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ملک بھر میں جاری اس مبینہ لوٹ مار پر ریگولیٹری اتھارٹی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اور عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اس بحران پر قابو پانے کے لیے ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کی خاطر سوئی سدرن گیس کمپنی کے ٹرمینل کو بھرپور طریقے سے استعمال میں لائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی باضابطہ تردید یا وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے لیکن صارفین کا کہنا ہے کہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی اس کالے بازاری اور مہنگے داموں فروخت کے رجحان میں مزید تیزی آ جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مٹی کے تیل اور لکڑی کی قیمتوں میں اضافے کے بعد غریب اور متوسط طبقہ مجبوری کے تحت ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہے جو اب ان کی پہنچ سے بھی باہر ہوتی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین کے مطابق توانائی کے شعبے میں اس قسم کے مسائل کے حل کے لیے طویل المدتی اور پائیدار پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات مناسب نرخوں پر میسر آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں گیس کی قلت اور قیمتوں میں یہ تفاوت کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہر سال سردیوں کے موسم میں بالائی علاقوں کے باسیوں کو اس قسم کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حلقوں نے بھی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ عام آدمی کو اس مہنگائی کے طوفان سے کسی حد تک نجات مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ اداروں کی جانب سے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے آئندہ دنوں میں مزید اقدامات متوقع ہیں تاکہ غریب عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/1493/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نیپال میں تباہ کن سیلاب، گورکھا ضلع میں بازار بہہ گئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/117/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/117/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 09:37:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امدادی_کارروائیاں]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پہاڑی_علاقے]]></category>
		<category><![CDATA[تباہی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیلاب]]></category>
		<category><![CDATA[سیلابی_ریلا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غیر_ملکی_خبریں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/117/</guid>

					<description><![CDATA[پہاڑی تودے گرنے سے دریا کا بہاؤ رکنے کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوئی، متعدد کاروباری مراکز اور املاک کو شدید نقصان پہنچا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">نیپال کے مختلف پہاڑی علاقوں میں ایک بار پھر شدید سیلابی صورتحال نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق قدرتی آفت کے نتیجے میں گورکھا ضلع کے کئی علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں جہاں سیلابی ریلے نے اپنی راہ میں آنے والی ہر چیز کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ صورتحال پہاڑی تودے گرنے کے باعث پیدا ہوئی جس سے دریا کا قدرتی بہاؤ رک گیا۔ پانی کا دباؤ بڑھنے سے سیلابی ریلے نے آبادیوں کا رخ کیا، جس کے نتیجے میں سلیری بازار مکمل طور پر بہہ گیا ہے اور وہاں موجود تمام کاروباری مراکز تباہ ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورکھا ضلع کے ہی ایک اور علاقے جگت بازار میں بھی سیلابی پانی نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ سیلابی ریلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ علاقے میں موجود نجی املاک اور تجارتی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے مقامی معیشت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی حکام اور امدادی اداروں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ سیلاب کے باعث سڑکوں اور مواصلاتی رابطوں کے متاثر ہونے سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم انتظامیہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خوش قسمتی سے، تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیپال کا جغرافیائی محل وقوع اسے قدرتی آفات بالخصوص سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے لیے انتہائی حساس بناتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث حالیہ برسوں میں سیلابی صورتحال کی شدت اور تعدد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق پہاڑی تودے گرنے سے دریاؤں کے راستے بند ہونا ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ اس طرح کے واقعات اکثر اچانک پیش آتے ہیں جس سے مقامی آبادی کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملتا اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورکھا ضلع میں پیش آنے والا یہ واقعہ نیپال میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بارشوں اور موسمی تبدیلیوں کا تسلسل ہے۔ مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام جلد شروع کیے جانے کی توقع ہے۔ حکومت کی جانب سے متاثرین کی مدد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کو بحال کیا جا سکے اور لوگوں کی زندگیوں کو معمول پر لایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی امدادی تنظیمیں بھی نیپال میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ابھی تک کسی بیرونی امداد کی باضابطہ درخواست نہیں کی گئی، تاہم مقامی حکام صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیپال میں سیلاب کے اس حالیہ سلسلے نے ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔ پہاڑی خطوں میں بسنے والے لوگوں کے لیے یہ صورتحال ایک مستقل چیلنج بن چکی ہے جس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز کے دوران موسم کی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے مزید بارشوں کی پیش گوئی کے بعد مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/117/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
