<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.21.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پولیس_مداخلت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3_%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Wed, 28 Oct 2026 08:16:53 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پولیس_مداخلت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بیریئر ہٹانے اور کار سرکار مداخلت کیس، ایمان مزاری کا بیان سامنے آ گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%db%8c%d8%a6%d8%b1-%db%81%d9%b9%d8%a7%d9%86%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%db%8c%d8%a6%d8%b1-%db%81%d9%b9%d8%a7%d9%86%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 08:16:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائی_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دشتگردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیریئر_ہٹانے_کا_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پمز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_مداخلت]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راولپنڈی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کار_سرکار_مداخلت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%db%8c%d8%a6%d8%b1-%db%81%d9%b9%d8%a7%d9%86%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں ایمان مزاری کا عدالت میں ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آ گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ایمان مزاری کا عدالت میں روبرو ریکارڈ کرایا گیا دفعہ تین سو بیالیس کا بیان منظر عام پر آ گیا ہے۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق انہوں نے یہ بیان عدالت میں باقاعدہ جمع کروایا ہے جس میں اس واقعے کے حوالے سے اپنا تفصیلی مؤقف پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری نے اپنے اس بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنا یہ بیان کسی رسمی کارروائی کے تحت نہیں بلکہ مکمل طور پر احتجاجاً درج کروا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مخصوص روٹ سے اس وقت کوئی کرکٹ ٹیم نہیں گزر رہی تھی کیونکہ پولیس نے خود اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مہمان ٹیم دوسرے راستے سے روانہ ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس کے پاس سڑک کی اس عارضی بندش کے حوالے سے کسی بھی مجسٹریٹ کا باقاعدہ تحریری آرڈر موجود نہیں تھا۔ انہوں نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ انہیں بطور وکیل انسداد دہشت گردی عدالت میں وقت پر پہنچنا تھا اور اسی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے وہ اس راستے پر موجود تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری کے مطابق انہوں نے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں سے باقاعدہ پندرہ منٹ تک صبر کے ساتھ انتظار کرنے کے بعد سڑک کھولنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح غیر قانونی طور پر سڑکیں بند کرنے سے عام شہریوں کے آئینی حقوق بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں جمع کرائے گئے اس تحریری بیان کے مطابق انہوں نے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کو یاد دہانی کرائی تھی کہ یہ پبلک روڈ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایک سوال اٹھایا کہ اگر اس سڑک کی بندش سے سکیورٹی کا کوئی حقیقی خطرہ موجود تھا تو پولیس نے عام موٹر سائیکل سواروں کو اس راستے سے گزرنے سے کیوں نہیں روکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری نے اس موقع پر سنگین الزام عائد کیا کہ پراسیکیوشن نے جان بوجھ کر اس واقعے کی ویڈیو کا اصل اور مکمل ٹرانسکرپٹ چھپانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ویڈیو کا اصل ٹرانسکرپٹ عدالت کے سامنے آ جائے تو اس سے استغاثہ کے تمام دعوے اور بیانات غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ بغیر پولیس یونیفارم کے موجود ایک اہلکار ابراہیم نے ان پر لوہے کا بھاری بیریئر اٹھا کر پھینکا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر نے اس صورتحال میں انہیں زدوکوب اور مزید جسمانی نقصان سے بچانے کے لیے محض دفاعی اقدام کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے فوری طور پر پمز ہسپتال سے رجوع کیا تھا اور وہاں کی میڈیکل رپورٹ بطور ایک مستند ثبوت عدالت میں باقاعدہ جمع کروا دی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس مقدمے میں کسی بھی پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کا کوئی بھی معتبر ثبوت عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں اس امر کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد متعلقہ پولیس اہلکار نے پولیس محکمے کے غیر مناسب رویے پر ان سے باقاعدہ معافی بھی مانگی تھی۔ اس کے علاوہ عدالت میں پیش کی جانے والی یو ایس بی کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا کہ وہ پولیس اسٹیشن میں کئی روز تک بغیر کسی باقاعدہ سیل کے رکھی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے حوالے سے مؤقف میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کی جانب سے ان کے جسمانی ریمانڈ کے احکامات معطل کیے جانے کے بعد کی جانے والی تمام تر تفتیشی کارروائی قانونی طور پر بالکل غیر قانونی ہے۔ بیان میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اس مقدمے میں جتنے بھی گواہان ہیں وہ سب کے سب پولیس اہلکار ہیں اور اس میں ایک بھی آزاد یا پرائیویٹ گواہ شامل نہیں کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ یہ تمام تر مقدمات دراصل ان کے انسانی حقوق کے لیے کھل کر کام کرنے اور ضرورت مندوں کو مفت قانونی خدمات فراہم کرنے کے بدلے میں انتقامی کارروائیاں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالتوں سے ضمانت ملنے کے باوجود انہیں جیل کے اندر دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گرفتار کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی ماحول اور ٹرانسپرنسی کے بارے میں بیان میں شدید شکوہ کیا گیا کہ انہیں پنجرے میں بند کر کے عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور اپنے وکلا تک مناسب رسائی سے بھی محروم رکھا گیا۔ آخر میں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اور ان کے ساتھی بالکل بے گناہ ہیں اور حقوق العباد کی اس طویل جنگ میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے عدالت کے روبرو اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اوپر عائد کردہ تمام بے بنیاد الزامات کا پوری قوت سے دفاع کریں گی۔ ان کے اس بیان کے سامنے آنے کے بعد اس مقدمے کی کارروائی میں مزید قانونی موڑ آنے کی توقع کی جا رہی ہے جس پر آئندہ سماعتوں میں وکلا اپنے دلائل پیش کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%db%8c%d8%a6%d8%b1-%db%81%d9%b9%d8%a7%d9%86%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
