<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پولیس_غفلت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3_%d8%ba%d9%81%d9%84%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 00:27:40 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پولیس_غفلت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1735/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1735/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 13:57:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انکوائری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_غفلت]]></category>
		<category><![CDATA[تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جوڈیشل_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[جے_آئی_ٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%be%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد شروع کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں پیش آنے والے نوجوان تاجر میر رضا کے پراسرار انتقال کے معاملے پر صوبائی حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں صوبائی وزراء پر مشتمل ایک خصوصی کابینہ کمیٹی نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کر کے اپنی تفصیلاً تجاویز پیش کیں جن کی فوری طور پر منظوری دے دی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ کیس کے پس منظر کے مطابق مقتول میر رضا رواں برس اٹھائیس جولائی کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس میں واقع اپنی رہائش گاہ سے باہر گئے تھے اور اگلے روز ان کی لاش گلستان جوہر کے ایک ویران علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔ واقعے کے ابتدائی مراحل میں مقامی پولیس کی جانب سے اس المناک واقعے کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی گئی تھی لیکن مقتول کے خاندان نے اس مؤقف کو شروع ہی سے مسترد کر کے قتل کا شدید شبہ ظاہر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لواحقین کی مسلسل استدعا اور دباؤ کے بعد عدالت کے حکم پر قبر کشائی کی گئی اور ایک نئے طبی بورڈ کے تحت معائنہ کیا گیا جس کی رپورٹ نے موت کے اسباب پر سے پردہ ہٹایا۔ سندھ ہائیکورٹ کے معزز جج پر مشتمل جوڈیشل کمیشن نے اپنی تفصیلی انکوائری رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ میر رضا کی موت ہرگز خودکشی نہیں بلکہ ایک سفاکانہ قتل تھا جسے چھپانے کے لیے مختلف حیلے بہانے تراشے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد صوبائی انتظامیہ حرکت میں آئی اور صورتحال کا ازسرنو جائزہ لینے کے لیے وزراء کی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی میں سینئر صوبائی وزراء اور قانون دان شامل تھے جنہوں نے وزیراعلیٰ کو تمام قانونی اور انتظامی پہلوؤں سے آگاہ کرتے ہوئے جامع سفارشات پیش کیں جن پر اب عملدرآمد کا باقاعدہ آغاز کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طے شدہ فیصلے کے مطابق میر رضا کیس کی نئی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے گی جس کی قیادت تجربہ کار افسر عرفان بلوچ کے سپرد کی جائے گی۔ اس ٹیم میں پاکستان کے حساس اداروں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے جو قتل کے اصل محرکات، شواہد کی گمشدگی اور دیگر تمام پہلوؤں کا غیر جانبدارانہ انداز میں احاطہ کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں سائنسی اور طبی شواہد کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا ہے جس سے یہ بات عیاں ہوئی کہ مقتول کے جسم پر تیزاب سے جلنے کے نشانات موجود تھے اور جائے وقوعہ پر خون کے مطلوبہ قطرے یا دھبے موجود نہیں تھے۔ ماہرین کے مطابق دل پھٹنے اور گولی لگنے کے بعد انتہائی قلیل وقت میں وافر مقدار میں خون بہہ جاتا ہے، لہٰذا لاش کا کسی اور مقام پر قتل کے بعد وہاں پھینکا جانا اظہر من الشمس ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کی ابتدائی تفتیش پر کڑی تنقید کرتے ہوئے رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ تفتیشی افسران نے پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے غفلت برتی اور شواہد کو مناسب طریقے سے محفوظ بنانے میں ناکام رہے۔ نامزد پولیس افسران اور متعلقہ ایس ایچ اوز کے پُرخلوص نہ ہونے کی وجہ سے اس معاملے میں کئی ابہام پیدا ہوئے اور عوام میں غلط تاثرات نے جنم لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ پولیس نے محض چند غیر تصدیق شدہ پیغامات اور منتخب سی سی ٹی وی فوٹیجز پر انحصار کیا جبکہ علاقے میں درجنوں کیمرے موجود ہونے کے باوجود تمام راستوں کی فوٹیج حاصل نہیں کی گئی۔ جائے وقوعہ پر پولیس اہلکاروں کی غیر ضروری نقل و حرکت اور مبینہ طور پر کی گئی آگ جلانے کی کارروائی نے تمام اہم فنگر پرنٹس اور ڈی این اے شواہد کو تباہ کر کے رکھ دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی شعبے کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انکوائری رپورٹ میں پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کے طرز عمل کو غیر پیشہ ورانہ اور بچ گا نہ قرار دیا گیا ہے۔ کمیشن نے سفارش کی ہے کہ اس ڈاکٹر کو کم از کم دو سال کے لیے تمام میڈیکل لیگل اور عملی ذمہ داریوں سے فوری طور پر روک دیا جائے تاکہ آئندہ اس قسم کی غفلت کا اعادہ نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ صحت کے ایک اعلیٰ افسر شہریار میمن کے کردار پر بھی رپورٹ میں شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر بغیر کسی معقول وجہ کے خصوصی میڈیکل بورڈ میں تبدیلیاں کیں۔ کمیشن کے مطابق اگرچہ موصوف نے اسے نیک نیتی پر مبنی قرار دیا لیکن اس کی کوئی ظاہری توجیہہ نہیں ملتی اور یہ اقدام کسی بیرونی اثر و رسوخ کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتول سے منسوب مالی معاملات، کرپٹو کرنسی کی ٹرانزیکشنز اور واٹس ایپ پیغامات کے حوالے سے بھی رپورٹ میں اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔ مبینہ طور پر تین کروڑ روپے طلب کرنے اور بائنانس اکاؤنٹس کے ذریعے بڑی رقوم کی منتقلی کے دعوے سامنے آئے جن کی آزادانہ مالی اور فرانزک جانچ پڑتال کی سفارش کی گئی ہے تاکہ بلیک میلنگ کے پہلو کو واضح کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی جانب سے پیش کردہ ان تمام سفارشات پر من و عن عملدرآمد کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے واضح کیا ہے کہ قانون کے کٹہرے میں تمام ذمہ داران کو لایا جائے گا اور انصاف کے تقاضے ہر صورت میں پورے کیے جائیں گے تاکہ مظلوم خاندان کو اس کا حق مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے تشکیل دی جانے والی دوسری تحقیقاتی ٹیم ان تمام افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کرے گی جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے دوران دانستہ یا نادانستہ طور پر غفلت کا مظاہرہ کیا۔ اس پوری مشق کا بنیادی مقصد انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا اور تحقیقاتی نظام میں موجود تمام تر خامیوں کا سدباب کرنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1735/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لائبہ اعجاز خودکشی کیس: پولیس کی مبینہ سستی پر اہم انکشافات سامنے آگئے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/393/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/393/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 07:57:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[ایکسپریس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_غفلت]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[جعلی_تقرری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%84%d8%a7%d8%a6%d8%a8%db%81-%d8%a7%d8%b9%d8%ac%d8%a7%d8%b2-%d8%ae%d9%88%d8%af%da%a9%d8%b4%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81-%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[مانسہرہ میں طالبہ لائبہ اعجاز خودکشی کیس میں پولیس کی مبینہ غفلت اور فراڈ کے حوالے سے اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مانسہرہ کے تھانہ سٹی میں ملزم نعمان کے خلاف 85 لاکھ روپے کے فراڈ کا مقدمہ درج کیا گیا ہے جس میں انتہائی اہم اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مانسہرہ پولیس اس معاملے میں ذرا بھی سستی کا مظاہرہ نہ کرتی تو قیمتی انسانی جان کو بچایا جا سکتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کے اس دلخراش معاملے میں روز بروز نئے حقائق سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ متاثرہ حلقوں اور ذرائع کا ماننا ہے کہ بروقت کارروائی سے سانحہ ٹالا جا سکتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم نعمان مسلسل لائبہ سے رقوم وصول کر رہا تھا اور صورتحال کافی حد تک واضح ہو چکی تھی۔ اس حوالے سے فراڈ کیس کے مدعی نے متعلقہ تفتیشی افسر کو خصوصی طور پر لائبہ سے رابطہ کر کے متنبہ کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مدعی مقدمہ کی جانب سے بار بار توجہ دلائے جانے کے باوجود تفتیشی افسر نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔ افسر نے نہ تو خود لائبہ سے رابطہ کرنے کی زحمت کی اور نہ ہی مرکزی ملزم نعمان کو گرفتار کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے سے متعلق ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ لائبہ کی موت سے ٹھیک 1 مہینہ قبل مقدمہ کے مدعی نے مانسہرہ پولیس کے ہمراہ خود اسلام آباد کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر مقامی پولیس کو ملزم کی موجودگی کی اطلاع بھی دی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مانسہرہ پولیس نے اسلام آباد پولیس کے ساتھ اشتراک کرتے ہوئے ملزم نعمان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا تھا جہاں کارروائی کے دوران گھر میں موجود بچوں نے پولیس کو بتایا کہ ملزم رات کے وقت کہیں اور چلا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملزم نعمان نے انتہائی مکاری کے ساتھ مانسہرہ کے ایک ہی خاندان کے 12 بچوں کو حساس ادارے میں ملازمت دلانے کا جھانسہ دیا تھا۔ ملزم نے لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے تمام حربے استعمال کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم کی جانب سے دھوکہ دہی کے اس مکروہ کھیل کو آگے بڑھاتے ہوئے ان 12 لڑکوں اور لڑکیوں کے سی ایم ایچ سے باقاعدہ میڈیکل ٹیسٹ بھی کروائے گئے تھے تاکہ متاثرہ خاندان کو کسی قسم کا کوئی شک نہ گزرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم نے اس سادہ لوح متاثرہ خاندان سے سرکاری نوکری اور بھرتی کے نام پر مجموعی طور پر 85 لاکھ روپے بٹورے تھے جس پر متاثرین کی مدعیت میں باقاعدہ مقدمہ بھی درج کیا جا چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فریب کاری کی حد یہ ہے کہ ملزم نعمان نے اس خاندان کو مکمل یقین دلانے کے لیے جعلی اپوائنٹمنٹ لیٹر اور باقاعدہ سروس کارڈ بھی اپنے ہاتھ سے بنا کر دیے تھے تاکہ وہ دھوکہ کھاتے رہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام اب اس تمام معاملے کی مختلف قانونی زاویوں سے گہرائی کے ساتھ جانچ پڑتال کر رہے ہیں تاکہ اس بڑے فراڈ اور اس سے جڑے دیگر محرکات کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان اور انصاف پسند شہریوں نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ غفلت برتنے والے عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے اعلیٰ ترین دفاتر کی جانب سے اس کیس کے تمام پہلوؤں کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی ممکن ہو۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/393/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
