<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پولیس_رپورٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3_%d8%b1%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:35 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پولیس_رپورٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لسبیلہ میں کوچ اور وین میں خوفناک تصادم، 12 افراد جاں بحق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1971/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1971/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 10:16:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اوتھل_زیرو_پوائنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایدھی_فاؤنڈیشن]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک_حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[حادثات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%b3%d8%a8%db%8c%d9%84%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%a9%d9%88%da%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%88%db%8c%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ae%d9%88%d9%81%d9%86%d8%a7%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[کوئٹہ کراچی شاہراہ پر اوتھل کے قریب ہونے والے حادثے میں پانچ خواتین سمیت بارہ افراد لقمہ اجل بن گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں قومی شاہراہ پر ایک دلخراش ٹریفک حادثہ پیش آیا جہاں مسافر کوچ اور منی وین کے درمیان خوفناک تصادم کے نتیجے میں بارہ افراد جاں بحق اور بائیس سے زائد زخمی ہو گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ اور امدادی ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر اوتھل زیرو پوائنٹ کے نزدیک پیش آیا جہاں تیز رفتار مسافر کوچ اور مخالف سمت سے آنے والی منی وین آپس میں ٹکرا گئیں۔ حادثے کی نوعیت اتنی شدید تھی کہ دونوں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا اور مسافروں کو فوری طور پر سنبھالنے کا موقع نہ مل سکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایدھی ذرائع اور مقامی انتظامیہ کے مطابق اس المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں جبکہ سات مرد لقمہ اجل بنے ہیں۔ حادثے کے فوری بعد امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو حکام نے بتایا کہ حادثے کے نتیجے میں بیس سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے قریبی اسپتالوں میں پہنچایا گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تاحال تشویشناک ہے جس سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اور لیویز حکام نے واقعے کی جگہ کا معائنہ کرنے کے بعد بتایا کہ مسافر کوچ گوادر سے کراچی کی طرف جا رہی تھی جبکہ منی وین کراچی سے بیلہ کی جانب سفر کر رہی تھی۔ دونوں گاڑیوں کی تیز رفتاری کے باعث یہ تباہ کن تصادم عمل میں آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بھی حرکت میں آ گئے اور اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر کے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ ڈاکٹروں کی ٹیمیں زخمیوں کے علاج معالجے میں مصروف عمل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ غفلت کس جانب سے برتی گئی۔ ابتدائی طور پر حادثے کی بنیادی وجہ تیز رفتاری بتائی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حادثے کے بعد کوئٹہ کراچی شاہراہ پر کچھ دیر کے لیے ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی تھی جسے پولیس اور لیویز کے اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر بحال کرایا۔ مسافروں اور عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کوئٹہ کراچی شاہراہ پر اس سے قبل بھی اس نوعیت کے متعدد حادثات رونما ہو چکے ہیں جن میں قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ ماہرین اور مسافروں نے شاہراہ پر ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی اور اوور اسپیڈنگ کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں اور سماجی حلقوں نے لسبیلہ کے قریب پیش آنے والے اس دلخراش واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ طویل سفر پر چلنے والی مسافر گاڑیوں کی فٹنس اور ڈرائیورز کی روڈ سیفٹی کا کڑی سے کڑی نگرانی کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے اور زخمی مسافروں کو طبی امداد کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ ریسکیو ذرائع نے بتایا ہے کہ آپریشن کے دوران تمام متعلقہ اداروں نے بھرپور تعاون کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار حادثے کی تمام جہتوں سے قانونی کارروائی مکمل کر رہے ہیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ شاہراہوں پر سفر کرنے والے تمام مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام اور مسافر تنظیموں نے بھی قومی شاہراہوں پر ٹریفک پولیس کی نگرانی سخت کرنے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا پرزور مطالبہ کیا ہے تاکہ اس طرح کے المناک حادثات کا تدارک ممکن ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1971/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پشاور سکول سانحہ: ناقص تعمیر پر تفصیلی پولیس رپورٹ سی سی پی او کو ارسال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1070/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1070/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 10:36:49 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول_حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_سانحہ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[تحقیقات_پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[جاں_بحق_طلبہ]]></category>
		<category><![CDATA[دیر_کالونی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%d8%b3%d8%a7%d9%86%d8%ad%db%81-%d9%86%d8%a7%d9%82%d8%b5-%d8%aa%d8%b9%d9%85%db%8c%d8%b1-%d9%be%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی سکول کی عمارت گرنے کے واقعے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عمارت پرانی اور غیر معیاری مواد سے بنائی گئی تھی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور کے علاقے دیر کالونی میں پیش آنے والے نجی تعلیمی ادارے کے المناک حادثے کے بعد تحقیقاتی عمل تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جہاں عمارات کی خستہ حالی اور تعمیراتی خامیوں کے حوالے سے اہم ترین حقائق سامنے آئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایس ایس پی آپریشنز کی جانب سے تیار کی گئی ایک تفصیلی پولیس رپورٹ کیپٹل سٹی پولیس آفیسر کو باضابطہ طور پر ارسال کر دی گئی ہے تاکہ اس دلخراش واقعے کے تمام پہلوؤں کا مکمل احاطہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ رپورٹ کے مطابق اس افسوسناک حادثے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور انتظامیہ فوری طور پر حرکت میں آئی اور متعلقہ تھانے کو اس سانحے کی اطلاع مقررہ وقت پر موصول ہوئی تھی۔ پولیس حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکار فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور امدادی کارروائیوں کا فوری آغاز کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ نجی تعلیمی ادارے کی عمارت نہ صرف انتہائی پرانی تھی بلکہ اس کی تعمیر میں انتہائی ناقص مواد کا استعمال کیا گیا تھا جو اس بڑے سانحے کی بنیادی وجہ بنا۔ عمارت کے کمزور بنیادی ڈھانچے اور ناقص تعمیراتی میٹریل کے بارے میں پہلے بھی خدشات پائے جاتے تھے لیکن اس کے باوجود متعلقہ ذمہ داروں کی جانب سے اس کی مرمت کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے اس افسوسناک واقعے کا باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا ہے اور قانون کے مطابق ضابطے کی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اس بات کا بغور جائزہ لے رہی ہیں کہ اس عمارت کو کس طرح تعمیر کیا گیا تھا اور اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی تھی تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقاتی کارروائی کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عمارت کے بنیادی ڈھانچے میں واضح خامیوں کے باوجود اس کے تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال پر پابندی نہیں لگائی گئی تھی۔ پولیس رپورٹ کے مطابق حادثے کے اصل ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے مزید تفتیش کو وسعت دی گئی ہے اور غفلت کے مرتکب تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ پشاور کے اس نواحی علاقے میں پیش آنے والے اس حادثے کے نتیجے میں چونتیس معصوم طلبہ اور ایک خاتون استاد جان کی بازی ہار گئے تھے جس پر پورے ملک میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی تھی۔ اس المناک سانحے کے بعد تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی سکیورٹی اور تعمیراتی معیار کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد شہر میں سوگ کا ماحول رہا اور جان بحق ہونے والے بچوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں سیاسی شخصیات، حکومتی عمائدین اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں نے غمزدہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ تفصیلات کے مطابق اس سانحے میں جان بحق ہونے والے بچوں کی نماز جنازہ میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور مشیر تعلیم عامر عبداللہ سمیت سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس المناک حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا عزم ظاہر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی معاونت کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ اس مشکل وقت میں ان کا بوجھ کچھ کم کیا جا سکے۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ جو لواحقین اپنے پیاروں کی تدفین کے لیے دوسرے اضلاع میں گئے ہوئے ہیں، انہیں واپس آنے پر مالی معاونت کے چیک فراہم کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی اور ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ امدادی رقوم اور چیکس مکمل شفاف طریقے سے متاثرہ خاندانوں تک پہنچائے جائیں۔ حکومت نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ متاثرین کو اس کڑے وقت میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی ہر ممکنہ معاونت اور سرپرستی کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تفتیش کو تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے شفاف طریقے سے آگے بڑھایا جا رہا ہے اور کسی بھی بااثر شخص کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ اس رپورٹ کی روشنی میں حتمی کارروائی کا آغاز جلد متوقع ہے جو ذمہ داران کے کڑے احتساب پر منتج ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی اصل وجوہات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے پولیس کے اعلیٰ افسران خود اس تمام معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے دردناک واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ عوام اور سول سوسائٹی نے بھی اس واقعے پر گہرے غم کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1070/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد میں ریپ کے جھوٹے مقدمات درج کرانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/islamabad/258/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/islamabad/258/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 08:19:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلام آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[اینٹی_ریپ_ایکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[جھوٹے_مقدمات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%ac%da%be%d9%88%d9%b9%db%92-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%d8%a7%d8%aa-%d8%af%d8%b1%d8%ac-%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[ڈی آئی جی اسلام آباد علی وسیم نے اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت 7 کیسز کے مدعیان اور گواہان کے خلاف مقدمات درج کرنے کی ہدایت کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک اہم اور سخت فیصلہ کرتے ہوئے ریپ کے جھوٹے مقدمات درج کرانے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی دارالحکومت کی پولیس نے باضابطہ طور پر اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ اس قبیح فعل کی حوصله شکنی کی جا سکے اور قانون کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی اسلام آباد علی وسیم نے اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت یہ اہم فیصلہ صادر کیا ہے جس کا بنیادی مقصد معاشرے میں قانون کے غلط استعمال کو سختی سے روکنا ہے۔ پولیس حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کے منفی ہتھکنڈوں سے نہ صرف عدالتی نظام متاثر ہوتا ہے بلکہ حقیقی متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں بھی شدید مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالیہ فیصلے کے تحت ابتدائی طور پر 7 کیسز کے مدعیان اور ان کے گواہان کے خلاف فوری طور پر مقدمات درج کرنے کی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ پولیس کی جانب سے یہ اقدام ان افراد کے خلاف اٹھایا جا رہا ہے جنہوں نے مبینہ طور پر جھوٹے الزامات عائد کیے تھے اور قانون کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق یہ کارروائی ان افراد کے خلاف بھی کی جا رہی ہے جو مبینہ طور پر بڑی رقوم کے عوض ملزمان کے حق میں عدالت یا تفتیشی حکام کے سامنے بیانات دیتے ہیں۔ ایسے مشکوک بیانات کی بنیاد پر سنگین نوعیت کے مقدمات کو خارج کرایا جاتا ہے جو قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی علی وسیم نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ریپ جیسے انتہائی سنگین جرم کا بے بنیاد الزام لگا کر ذاتی مفادات حاصل کرنے والوں کو اب قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔ قانون کا اس طرح استحصال کرنے والے کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت کی جانے والی ان سخت کارروائیوں کا بنیادی مقصد انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا اور قانونی عمل کی شفافیت کو ہر صورت یقینی بنانا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عزم ہے کہ ایسے عناصر کا سختی سے تعاقب کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کی جرات نہ کر سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد پولیس کے مطابق شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور خواتین کی عزت و وقار کی پاسداری اداروں کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ اس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی فرد کو قانون کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور شہریوں کے حقوق کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حقیقی نوعیت کے سنگین جرائم کا شکار ہونے والے مظلوم افراد کو بروقت اور منصفانہ انصاف کی فراہمی کے لیے پولیس کا یہ قدم انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد مزید بحال ہوگا اور انصاف کی فراہمی کا عمل بہتر ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ بھی اس قسم کے معاملات میں ملوث پائے جانے والے تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ قانونی ٹیمیں اس حوالے سے تمام دستیاب شواہد اور ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں تاکہ کوئی قانونی سقم نہ رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی اور انتظامی امور سے وابستہ شخصیات کا بھی یہی کہنا ہے کہ اینٹی ریپ ایکٹ کے موثر نفاذ سے اس طرح کے جرائم اور جھوٹی ایف آئی آر درج کرانے کے رجحان میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ قوانین کا درست اور منصفانہ استعمال ہی معاشرتی اصلاح اور امن عامہ کی بہترین ضمانت فراہم کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر فوری عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے تاکہ متعلقہ تھانوں میں نامزد افراد کے خلاف فوری طور پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا جا سکے اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ اس سلسلے میں کسی بھی دباؤ کو خاطر میں نہ لانے کا تہیہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ اقدامات وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی فضا کو بہتر بنانے اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے اور جرم یا جھوٹے الزام میں ملوث ہر شخص کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/islamabad/258/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
