<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.30.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پولیس_تفتیش &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3_%d8%aa%d9%81%d8%aa%db%8c%d8%b4/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 04:26:56 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پولیس_تفتیش &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بیوی پر تشدد اور زیور بیچنے کا کیس، اسسٹنٹ کمشنر جیل منتقل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%8c%da%86%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%8c%da%86%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 10:57:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسسٹنٹ_کمشنر]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جوڈیشل_مجسٹریٹ]]></category>
		<category><![CDATA[جیل_منتقلی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_ریونیو__بورڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ظفر_احمد_کلوڑ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%8c%da%86%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے سندھ ریونیو بورڈ کے ملزم افسر کو جیل بھیج دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی کی ایک مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں بیوی پر مبینہ طور پر بہیمانہ تشدد کرنے اور قیمتی زیورات فروخت کرنے سے متعلق سنگین مقدمے کی سماعت ہوئی جس دوران اہم عدالتی احکامات جاری کیے گئے۔ عدالت نے اس کیس میں گرفتار کیے جانے والے سندھ ریونیو بورڈ کے اسسٹنٹ کمشنر کو مزید ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے سے صاف انکار کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کے روبرو پیش کیے جانے والے اس ملزم کی شناخت ظفر احمد کلوڑ کے طور پر کی گئی ہے جو سندھ ریونیو بورڈ میں اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں۔ ان کے خلاف قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقامی پولیس اسٹیشن میں باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا تھا جس کی تفتیش جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقررہ جسمانی ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے پر تفتیشی پولیس افسر نے ملزم ظفر احمد کلوڑ کو سخت سیکیورٹی حصار میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا۔ اس موقع پر تفتیشی حکام نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کے خلاف مزید تفتیش کی جانی باقی ہے لہذا جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کا اپنے مؤقف میں کہنا تھا کہ ملزم سے اس معاملے کے حوالے سے مزید تفتیش مکمل کی جانی ہے تاکہ تمام حقائق کو یکجا کیا جا سکے اور دیگر قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔ تاہم معزز عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے کی جانے والی اس مزید ریمانڈ کی استدعا کو منظور نہیں کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ملزم ظفر احمد کلوڑ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا قطعی حکم جاری کر دیا۔ عدالتی حکم کے فوری بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو اپنی تحویل سے جیل منتقل کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سنگین مقدمے کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو مدعیہ یعنی ملزم کی مظلوم اہلیہ نے پولیس کو دیے گئے اپنے ابتدائی بیان میں انتہائی ہولناک انکشافات کیے تھے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر ظفر احمد کلوڑ نے انہیں ان کے میکے جانے سے سختی کے ساتھ منع کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مدعیہ نے پولیس کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ میکے جانے کی بات پر شوہر کے ساتھ ان کی تکرار ہوئی جس پر ملزم طیش میں آگیا۔ شوہر نے اس بات پر انہیں شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا اور جسمانی گزند پہنچائی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق ملزم ظفر احمد کلوڑ نے گھریلو تنازع اور تشدد کے بعد محض دو سالہ کمسن بچی کو زبردستی اٹھایا اور اپنے ساتھ لے گیا۔ اس کے علاوہ خاتون کے پاس موجود بھاری مالیت کے قیمتی زیورات بھی ملزم گھر سے اٹھا کر اپنے ساتھ لے گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاتون کی مدعیت اور ان کے بیان کی روشنی میں پولیس نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ اس سلسلے میں کراچی کے علاقے میں واقع متعلقہ نبی بخش تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نبی بخش تھانے میں درج کیے جانے والے اس مقدمے میں گھریلو تشدد، زبردستی مال لے جانے اور دیگر سنگین دفعات کو شامل کیا گیا ہے تاکہ قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا جا سکے۔ پولیس اس مقدمے کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر تفتیش کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عہدے کے لحاظ سے ایک اہم سرکاری شخصیت کے خلاف اس قسم کے سنگین گھریلو تشدد اور زیورات بیچنے جیسے الزامات پر مبنی یہ قانونی کارروائی عدالتی حلقوں میں خاصی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ شہری اس پر مختلف تبصرے کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ تفتیشی اداروں کو مقررہ قانونی مدت کے اندر ہی اپنی تمام تر تفتیش مکمل کرنا ہوتی ہے اور ریمانڈ کی عدم منظوری عدالتی طریقہ کار کا ایک اہم حصہ ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ آئندہ سماعت پر کیا پیش رفت ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی جانب سے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجے جانے کے بعد اب اس معاملے کی باقاعدہ سماعت مقررہ تاریخ پر کی جائے گی۔ متاثرہ فریق کی جانب سے بھی انصاف کے حصول کے لیے قانونی اقدامات کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%a8%db%8c%d9%88%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%db%8c%d9%88%d8%b1-%d8%a8%db%8c%da%86%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>راولپنڈی: حنا جاوید قتل کیس کی لرزہ خیز پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تصاویر سامنے آئیں</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/%d8%b1%d8%a7%d9%88%d9%84%d9%be%d9%86%da%88%db%8c-%d8%ad%d9%86%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d9%88%db%8c%d8%af-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%b1%d8%b2%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/%d8%b1%d8%a7%d9%88%d9%84%d9%be%d9%86%da%88%db%8c-%d8%ad%d9%86%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d9%88%db%8c%d8%af-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%b1%d8%b2%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 09:37:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پوسٹ_مارٹم_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[جوڈیشل_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d8%b1%d8%a7%d9%88%d9%84%d9%be%d9%86%da%88%db%8c-%d8%ad%d9%86%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d9%88%db%8c%d8%af-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%b1%d8%b2%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں مقتولہ پر بہیمانہ تشدد اور جسم پر گہرے زخموں کی تصدیق کر دی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے قتل کے واقعے میں مقتولہ حنا جاوید کے کیس کے حوالے سے انتہائی لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اس افسوسناک واقعے کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور جسمانی تشدد کو ظاہر کرتی ہوئی تصاویر نے ہر ذی روح کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے علاقے میں بیس اگست کو پیش آنے والے اس واقعہ میں مقتولہ کو مبینہ طور پر اس کے سسرال میں انتہائی بے دردی سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ ابتدائی طبی و قانونی معائنے کی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ موت سے قبل خاتون کو شدید ترین جسمانی اذیت دی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ذرائع اور سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق مقتولہ حنا جاوید کے جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے گہرے نشانات واضح طور پر پائے گئے۔ ان میں چہرہ، گردن، بازو اور ہاتھ شامل ہیں جہاں سفاکانہ تشدد کی داستانیں صاف دکھائی دیتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقتولہ کے ہونٹ بھی پھٹے ہوئے تھے جبکہ جسم کے متعدد مقامات پر نیل کے گہرے نشانات موجود تھے۔ اس کے علاوہ حنا جاوید کے سر کے پچھلے حصے پر ستائیس سینٹی میٹر طویل ایک گہرا زخم بھی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی ماہرین کی مرتب کردہ اس ابتدائی رپورٹ میں یہ بھی درج کیا گیا ہے کہ بدقسمت خاتون کی گردن بھی ٹو ٹی ہوئی پائی گئی۔ چہرے پر موجود زخموں کی نوعیت اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اسے قتل کرنے سے قبل شدید ترین جسمانی تکلیف سے گزارا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سب سے زیادہ ہولناک انکشاف یہ سامنے آیا کہ مقتولہ حنا جاوید کی کہنیوں میں مبینہ طور پر اسکرو ڈرائیور کے ذریعے سوراخ کیے گئے۔ اس کے دونوں بازوؤں پر بھی تشدد اور درندگی کے واضح اور گہرے نشانات دیکھے جا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اندرونی اعضا بھی اس وحشیانہ تشدد کی گواہی دے رہے ہیں کیونکہ مقتولہ کے پھیپھڑوں میں خون بھرا ہوا پایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دل کے اردگرد موجود جھلی یعنی پیراکارڈیم میں بھی خون جمع ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقاتی تفصیلات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حنا جاوید کو بیس اگست کو مبینہ طور پر اس کے سسرال کے اندر ہی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا۔ سفاکیت کا یہ عالم تھا کہ قتل کی واردات کے بعد مقتولہ کی لاش کو باتھ روم میں شاور کے ساتھ لٹکا دیا گیا تاکہ اسے خودکشی کا رنگ دیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس المناک واقعے کا مقدمہ تھانہ سول لائنز راولپنڈی میں درج کیا جا چکا ہے اور پولیس اس معاملے کی مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے۔ قتل کے اس مقدمے میں نامزد مقتولہ کے شوہر فیصل اصغر اور گھر کا ملازم ذیشان ارشد اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل میں بند ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مقتولہ کے غم زدہ اہلخانہ نے شروع ہی سے پولیس کی جانب سے کی جانے والی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لواحقین کا مطالبہ ہے کہ اس پورے سانحے کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کے لیے ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ریکارڈ اور ابتدائی تفتیشی کارروائیوں کے مطابق عدالت کی جانب سے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجے جانے کے بعد مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔ اس سنگین جرم کے خلاف معاشرے کے مختلف حلقوں میں بھی شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام اور سوسائٹی کے مختلف طبقات کی جانب سے اس بہیمانہ تشدد اور اندوہناک قتل کے تمام ذمہ داران کو قرار واقع سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ قانون کے کٹہرے میں لا کر انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتولہ کے لواحقین اور دیگر انصاف پسند شہریوں کی نظریں اب اس کیس کی عدالت میں ہونے والی باضابطہ سماعتوں پر لگی ہوئی ہیں۔ تمام متعلقہ ادارے اس ہولناک کیس کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اصل مجرمان قانون کی گرفت سے نہ بچ سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/%d8%b1%d8%a7%d9%88%d9%84%d9%be%d9%86%da%88%db%8c-%d8%ad%d9%86%d8%a7-%d8%ac%d8%a7%d9%88%db%8c%d8%af-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%d9%84%d8%b1%d8%b2%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ملتان میں بچے کو گاڑی تلے روندنے کے ملزم پر عدالت میں وکلا کا تشدد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%86%db%92-%da%a9%d9%88-%da%af%d8%a7%da%91%db%8c-%d8%aa%d9%84%db%92-%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%af%d9%86%db%92-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%86%db%92-%da%a9%d9%88-%da%af%d8%a7%da%91%db%8c-%d8%aa%d9%84%db%92-%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%af%d9%86%db%92-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 11:18:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بچی_کا_قتل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[توقیر_عباس]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[جسمانی_ریاض]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%86%db%92-%da%a9%d9%88-%da%af%d8%a7%da%91%db%8c-%d8%aa%d9%84%db%92-%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%af%d9%86%db%92-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے ملتان میں بچے کے قتل کے مرکزی ملزم توقیر عباس کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملتان کی ایک عدالت میں پندرہ سالہ بچے کو مبینہ طور پر گاڑی کے نیچے کچل کر قتل کرنے والے مرکزی ملزم کو پیش کیا گیا جہاں غصے سے بپھرے ہوئے وکلا نے اس پر شدید تشدد کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی احاطے میں پیشی کے دوران وکلا نے ملزم توقیر عباس کو تھپڑوں اور مکوں کی بارش کا نشانہ بنایا جس سے کمرہ عدالت اور احاطے میں شدید افرا تفری پھیل گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موقع پر موجود پولیس کی بھاری نفری نے فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے ملزم کو وکلا کے نرغے سے نکالا اور بحفاظت وہاں سے منتقل کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کے مطابق اس سے قبل ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ میں ایک المناک ٹریفک واقعے میں پندرہ سالہ وسیم عباس جاں بحق ہو گیا تھا جس پر کارروائی کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے اس معاملے میں ملزم کے خلاف خود مدعی بن کر قتل کا مقدمہ درج کیا تھا اور تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق مقتول وسیم عباس ملزم توقیر نذیر کے پاس الیکٹریکل کا ہنر سیکھنے کے لیے آتا تھا اور وہاں کام کرتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم توقیر نے پولیس کو اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ بچہ مبینہ طور پر بغیر بتائے کام ادھورا چھوڑ کر جانے کی کوشش کر رہا تھا جسے وہ روکنا چاہتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم کا مؤقف تھا کہ اسی مقصد کے لیے اس نے بھاگتے ہوئے بچے کا پیچھا کیا تاکہ اسے واپس کام پر لایا جا سکے اور اس دوران یہ حادثہ پیش آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے اپنے ایک اور ساتھی امجد علی کے ساتھ مل کر پہلے پیدل اور پھر گاڑی پر مقتول بچے کا تعاقب کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے بچہ بے قابو ہو کر قریبی رہائشی گھر کے لوہے کے گیٹ سے جا ٹکرایا اور موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یتیم خانے کے ایڈمنسٹریٹر جواد حیدر نے میڈیا اور تفتیشی ٹیم کو بتایا کہ مظفر گڑھ کا رہائشی وسیم پچھلے چھ سال سے دارالامان یا یتیم خانے میں رہائش پذیر تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منتظمین کے مطابق اس بچے کو الیکٹریکل کا کام سیکھنے کے لیے اسٹرکچر کے تحت ملزم توقیر کے پاس باقاعدہ طور پر بھیجا گیا تھا تاکہ وہ ہنر سیکھ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتول کے قریبی رشتہ دار اور کزن ندیم نے پولیس کو بتایا کہ متوفی بچہ اکثر کام سیکھنے سے انکار کرتا تھا اور اپنی مرضی سے گھر جانا چاہتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عدالت نے ملزم کے خلاف تفتیشی ٹیم کی استدعا پر چار روزہ جسمانی ریمانڈ کی منظوری دے دی ہے تاکہ مزید حقائق سامنے آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے مطابق اس کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس اندوہناک واقعے میں ملوث دیگر افراد کا تعین بھی کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%85%d9%84%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%da%86%db%92-%da%a9%d9%88-%da%af%d8%a7%da%91%db%8c-%d8%aa%d9%84%db%92-%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%af%d9%86%db%92-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مظفرگڑھ: کار کی مبینہ ٹکر سے جاں بحق وسیم عباس کی تدفین</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/religion/%d9%85%d8%b8%d9%81%d8%b1%da%af%da%91%da%be-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81-%d9%b9%da%a9%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d8%ac%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%ad%d9%82/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/religion/%d9%85%d8%b8%d9%81%d8%b1%da%af%da%91%da%be-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81-%d9%b9%da%a9%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d8%ac%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%ad%d9%82/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 04:38:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[مذہب]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[جنازہ]]></category>
		<category><![CDATA[حادثہ_یا_قتل]]></category>
		<category><![CDATA[حج]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رمضان]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/religion/%d9%85%d8%b8%d9%81%d8%b1%da%af%da%91%da%be-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81-%d9%b9%da%a9%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d8%ac%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%ad%d9%82/</guid>

					<description><![CDATA[ملتان کی نجی سوسائٹی میں تیز رفتار کار کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والے پندرہ سالہ وسیم عباس کی نماز جنازہ مظفرگڑھ میں ادا کر دی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مظفرگڑھ اور ملتان کے حلقوں میں پیش آنے والے ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعے کے بعد، کار کی مبینہ ٹکر سے زندگی کی بازی ہار جانے والے پندرہ سالہ نو جوان وسیم عباس کی نماز جنازہ رات گئے ان کے آبائی علاقے میں ادا کر دی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مظفرگڑھ کے موضع دولت پور میں ادا کی جانے والی نماز جنازہ میں لواحقین، قریبی رشتہ داروں اور متعلقہ یتیم خانے کے ذمہ داران نے شرکت کی، جہاں سوگوار ماحول میں مرحوم کو سپرد خاک کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میڈیا رپورٹس کے مطابق لاش کی مخدوش حالت کے باعث نماز جنازہ فوری طور پر ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاکہ قانونی اور شرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے تدفین کا عمل جلد مکمل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحوم وسیم عباس گزشتہ پانچ برسوں سے ملتان کے ایک فلاحی ادارے اور یتیم خانے میں رہائش پذیر تھے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے الیکٹریشن کا ہنر سیکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یتیم خانے کے جنرل سیکریٹری شعیب حیدر نے اس حوالے سے میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ متوفی طویل عرصے سے ادارے کی کفالت میں مقیم تھا اور محنت مزدوری سیکھ رہا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شعیب حیدر کا کہنا تھا کہ وسیم عباس گزشتہ چھ روز سے ملزم توقیر کے پاس کام کے سلسلے میں موجود تھا، جہاں یہ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا اور معصوم جان ضائع ہو گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے حوالے سے مزید گفتگو کرتے ہوئے فلاحی ادارے کے عہدیدار نے بتایا کہ ملزم کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ گاڑی پھسل گئی تھی تاہم وڈ یو فوٹیج سے بظاہر ایسا تاثر نہیں ملتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شعیب حیدر نے مزید کہا کہ یہ بات ت حال واضح نہیں ہو سکی کہ وسیم کس وجہ سے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا، اصل حقائق پولیس تفتیش اور تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب متوفی کے چچا جعفر حسین نے میڈیا کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے ملزم پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بھتیجے کے قتل کا انصاف فراہم کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جعفر حسین نے بتایا کہ وسیم کے والد کا انتقال نو برس قبل ہو چکا تھا، جس کے بعد نانا اور چچا نے مل کر بچے کو بہتر مستقبل کے لیے یتیم خانے میں داخل کرایا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوگوار چچا نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وسیم کے علاوہ اس کا بھائی اور ایک کزن بھی اسی یتیم خانے میں رہائش پذیر ہیں اور تعلیم و تربیت حاصل کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی سطح پر پیش آنے والے اس واقعہ کے بعد ورثاء اور سماجی حلقوں کی جانب سے انصاف کی فراہمی کے لیے آوازیں بلند کی جا رہی ہیں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس تمام واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ واقعے کی اصل حقیقت اور محرکات کا تعین کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/religion/%d9%85%d8%b8%d9%81%d8%b1%da%af%da%91%da%be-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d9%85%d8%a8%db%8c%d9%86%db%81-%d9%b9%da%a9%d8%b1-%d8%b3%db%92-%d8%ac%d8%a7%da%ba-%d8%a8%d8%ad%d9%82/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انسانی ذہن کا کیمرے کی طرح کام کرنا ناممکن ہے: سپریم کورٹ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b0%db%81%d9%86-%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c%d9%85%d8%b1%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b0%db%81%d9%86-%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c%d9%85%d8%b1%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 22:58:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_اشتیاق_إبراہیم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمر_قید]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b0%db%81%d9%86-%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c%d9%85%d8%b1%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[سپریم کورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں عینی شاہدین کے بیانات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی عدالت عظمیٰ نے فوجداری مقدمات میں عینی شاہدین کی گواه اور انسانی نفسیات کے حوالے سے ایک اہم اور جامع تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جس میں قانونی تقاضوں کو واضح کیا گیا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ اچانک پیش آنے والے پرتشدد اور ہنگامہ خیز واقعات کے دوران گواہوں سے غیر معمولی اور روبوٹک کارکردگی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا ہے کہ کسی بھی عینی شاہد کے لیے یہ بالکل ناممکن امر ہے کہ وہ فضا میں انتہائی تیزی سے سفر کرنے والی گولی کی حرکت کا تعاقب کرے اور یقین کے ساتھ عدالت کو بتا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ گولی مقتول کے جسم کے کس مخصوص مقام پر لگی، اس کی ٹھیک اور حتمی نشاندہی کرنا ایک عام انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ایسا مطالبہ زمینی حقائق کے منافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس مقدمے کی مثال دیتے ہوئے لکھا کہ ایک غمزدہ بیٹا جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی والدہ کو قتل ہوتے دیکھا ہو، اس سے یہ امید نہیں لگائی جا سکتی کہ وہ پولیس کو اطلاع دینے سے قبل جائے وقوعہ پر کھڑا ہو کر معائنہ کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایسے المناک اور صدمے کے شکار شخص کا بنیادی مقصد مجرم کو پکڑانا یا فوری مدد حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ لاش یا زخمی کے جسم کا تفصیلی طبی معائنہ کرنا تاکہ عدالت میں ایک ایک گولی کا حساب کتاب پیش کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریری فیصلے میں اس قانونی نکتہ کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ فوجداری قانون کے تحت کسی بھی انسان کے فطری رویے اور ردعمل کو کسی ایک مقررہ یا سخت فارمولے میں محدود نہیں کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کا ماننا ہے کہ ہر واقعے پر مختلف افراد کا ردعمل مختلف ہوتا ہے اور قانون تمام گواہوں سے ایک جیسے یا مشینی رویے کی توقع نہیں رکھتا، بلکہ حالات کے تناظر میں گواہی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کے پس منظر کے مطابق ملزم اظہر اور اس کے ایک شریک ملزم پر ایک خاتون کو قتل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا جس پر ماتحت عدالت نے کارروائی کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرائل کورٹ نے اس قتل کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد مرکزی ملزم اظہر کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی جبکہ نامزد شریک ملزم کو اس مقدمے سے بری کر دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جہاں عدالت نے تمام قانونی پہلوؤں، عینی شاہدین کے بیانات اور شواہد کا از سر نو باریک بینی سے جائزہ لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عظمیٰ نے مرکزی ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے بعد اپیل خارج کر دی اور ماتحت عدالت کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے ملزم کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام اور فوجداری مقدمات میں شہادتوں کی جانچ پڑتال کے حوالے سے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے جو مستقبل میں دیگر مقدمات میں بھی رہنمائی فراہم کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انصاف کی فراہمی کے دوران زمینی حقائق، انسانی نفسیات اور صدمے کے اثرات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ عدالتیں گواہوں کے معمولی اور فطری تضادات کو نظر انداز کرتی ہیں اگر بنیادی واقعہ معتبر گواہوں اور مضبوط شواہد کے ذریعے ثابت ہو جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b0%db%81%d9%86-%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c%d9%85%d8%b1%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>میر رضا کیس: ورثا کا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظرِعام پر لانے کا مطالبہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%88%d8%b1%d8%ab%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%88%d8%b1%d8%ab%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 08:16:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبر]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جبران_ناصر]]></category>
		<category><![CDATA[جوڈیشل_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[جے_آئی_ٹی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%88%d8%b1%d8%ab%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[متاثرہ خاندان اور وکیل جبران ناصر نے پولیس کی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں میر رضا قتل کیس کے حوالے سے متوفی کے اہل خانہ نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ فوری طور پر منظر عام پر لانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ رپورٹ کو صیغہ راز میں رکھنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر وکیل جبران ناصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی کمیشن نے 15 اکتوبر کو اپنی رپورٹ جمع کروا دی تھی، تاہم اب یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ رپورٹ کو پبلک کرنے یا نہ کرنے کا حتمی فیصلہ صوبائی کابینہ کرے گی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اس رپورٹ کو چھپانے کے پیچھے آخر کس کی پشت پناہی کارفرما ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جبران ناصر نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے رپورٹ جاری نہ کی تو وہ عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر انکوائری رپورٹ کو عوام کے سامنے نہ لایا گیا تو جوڈیشل کمیشن کی تمام تر کارروائی محض ایک ڈرامہ ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان کے وکیل نے پولیس کی تفتیشی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اس کیس کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایک جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میر رضا کے والد میر حسین علی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ پولیس کی جانب سے ثبوتوں کو تباہ کیا گیا ہے اور وہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کی شفافیت کی توقع نہیں رکھتے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ خاندان کو جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ فراہم کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میر حسین علی نے سپریم میڈیکل بورڈ کی تشکیل کو بھی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کیس قتل کا ہے تو اسے خودکشی ثابت کرنے کے لیے میڈیکل بورڈ کیوں بنایا جا رہا ہے، یہ اقدام تفتیش کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل جبران ناصر نے کیس سے وابستہ کچھ افراد کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ میر رضا کے پارٹنرز احمد بھر دے اور علی شاز کا کردار مشکوک ہے، اور یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہیں پہلے سے کیسے معلوم تھا کہ میر رضا واپس نہیں آئیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان کا موقف ہے کہ پولیس نے عدالتی کمیشن کے احکامات کے باوجود تفتیش میں تعاون نہیں کیا اور نہ ہی فوکل پرسن مقرر کیا ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس مسلسل کیس کو خراب کرنے میں مصروف ہے جس سے عام عوام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جبران ناصر نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو پولیس کی صف میں کھڑا نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے انصاف فراہم نہ کیا تو وہ قانونی راستے اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی آواز اٹھاتے رہیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس میں آئی کلاؤڈ تک رسائی اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان تمام پہلوؤں کی تحقیقات کے بغیر کیس کا منطقی انجام تک پہنچنا ناممکن ہے، اور رپورٹ کو راز میں رکھنے سے گزشتہ دو ماہ کی محنت ضائع ہو جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ میر رضا کیس کراچی میں ایک انتہائی حساس معاملہ بن چکا ہے جس پر سول سوسائٹی اور قانونی حلقے بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عدالت کی جانب سے قائم کردہ کمیشن نے اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا تھا جس کی رپورٹ اب ایک متنازعہ شکل اختیار کر گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولیس کے دباؤ میں آئے بغیر میر رضا کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی ہی واحد راستہ ہے جس سے اصل حقائق سامنے آ سکتے ہیں اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی واضح کیا گیا کہ پولیس کی جانب سے تفتیش میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ لواحقین کا مطالبہ ہے کہ شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے عدالتی کمیشن کی سفارشات پر فوری عمل درآمد کیا جائے تاکہ میر رضا کے اہل خانہ کو انصاف مل سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%88%d8%b1%d8%ab%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>امریکا: فٹبال میچ کے دوران گاڑی میدان میں گھس گئی، بچہ سمیت 2 افراد ہلاک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d9%81%d9%b9%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%86-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%af%d8%a7%da%91%db%8c-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d9%81%d9%b9%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%86-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%af%d8%a7%da%91%db%8c-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 06:37:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسپورٹس_کمپلیکس]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[امریکا]]></category>
		<category><![CDATA[امریکی_ریاست]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[چین]]></category>
		<category><![CDATA[حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d9%81%d9%b9%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%86-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%af%d8%a7%da%91%db%8c-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[امریکی ریاست کنساس میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں 11 افراد زخمی بھی ہوئے، پولیس نے خاتون ڈرائیور کو حراست میں لے لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">امریکی ریاست کنساس کے شہر وچیٹا میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں بچوں کے فٹبال میچ کے دوران ایک گاڑی بے قابو ہو کر کھیل کے میدان میں گھس گئی، جس کے نتیجے میں ایک 6 سالہ بچے سمیت دو افراد اپنی جان کی بازی ہار گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی پولیس حکام کے مطابق یہ حادثہ شہر کے معروف اسٹرائیکر اسپورٹس کمپلیکس میں پیش آیا، جہاں فٹبال میچ کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔ گاڑی کے میدان میں داخل ہونے سے وہاں موجود کھلاڑیوں اور تماشائیوں میں بھگدڑ مچ گئی اور کئی افراد زد میں آ گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حادثے میں ہلاک ہونے والے دوسرے شخص کی عمر 35 سال بتائی گئی ہے۔ اس المناک واقعے میں مجموعی طور پر 11 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 5 سے 9 سال کی عمر کے پانچ بچے بھی شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ترجمان نے بتایا کہ گاڑی ایک 34 سالہ خاتون چلا رہی تھی جو اس وقت اپنے دو کم عمر بچوں کے ساتھ گاڑی میں سوار تھی۔ واقعے کے فوراً بعد خاتون کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے تفتیش کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی اطلاعات کے مطابق خاتون تفتیش میں پولیس کے ساتھ تعاون کر رہی ہے، تاہم حکام تاحال یہ تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ واقعہ کسی تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا یا پھر گاڑی دانستہ طور پر میدان میں لائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">زخمی ہونے والے افراد میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، تاہم ڈاکٹروں کے مطابق کسی کی جان کو فوری خطرہ لاحق نہیں ہے۔ اسپتال میں زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور عینی شاہدین سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس واقعے کی کوئی ویڈیو یا تصاویر موجود ہیں تو وہ تحقیقاتی ٹیم کو فراہم کریں تاکہ حقائق تک پہنچنے میں مدد مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس افسوسناک واقعے کے بعد اسپورٹس کمپلیکس انتظامیہ نے فوری طور پر وہاں جاری تمام سرگرمیاں اور میچز منسوخ کر دیے ہیں۔ کمپلیکس کو فی الحال بند کر دیا گیا ہے تاکہ تحقیقاتی ادارے اپنا کام مکمل کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی کمیونٹی میں اس واقعے کے بعد شدید غم و غصے اور صدمے کی لہر پائی جاتی ہے۔ والدین اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے فکرمند دکھائی دے رہے ہیں اور اسپورٹس گراؤنڈز کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وچیٹا پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس کیس کو ہر پہلو سے دیکھ رہے ہیں۔ حادثے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ گاڑی کی رفتار اور سمت کیا تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسپورٹس کمپلیکس کے اطراف میں موجود سیکیورٹی کیمروں کی فوٹیج بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ واقعے کے لمحات کو محفوظ کیا جا سکے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی میڈیا کے مطابق اس طرح کے واقعات کھیل کے میدانوں میں سیکیورٹی کے انتظامات پر نظر ثانی کا تقاضا کرتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی مزید تفصیلات اور تحقیقات کے نتائج آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔ فی الحال پولیس نے علاقے کو سیل کر رکھا ہے اور کسی کو بھی جائے وقوعہ کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d9%81%d9%b9%d8%a8%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%86-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%af%d8%a7%da%91%db%8c-%d9%85%db%8c%d8%af%d8%a7%d9%86/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%da%a9%db%81-%d8%aa%d9%88%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d8%a7%d9%85%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%da%a9%db%81-%d8%aa%d9%88%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d8%a7%d9%85%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 19:58:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رکشہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%da%a9%db%81-%d8%aa%d9%88%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d8%a7%d9%85%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[گلدرہ روڈ پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور کے گنجان آباد علاقے یکہ توت میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک رکشے کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں رکشے میں سوار دو خواتین موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔ یہ افسوسناک واقعہ تھانہ آغا میرجانی شاہ کی حدود میں گلدرہ روڈ پر پیش آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عینی شاہدین کے مطابق رکشہ معمول کے مطابق سڑک سے گزر رہا تھا کہ اچانک نامعلوم افراد نے اس پر گولیاں برسا دیں۔ فائرنگ کے بعد حملہ آور تیزی سے جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ خوفزدہ ہو گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی اطلاع ملتے ہی یکہ توت پولیس کی بھاری نفری ایس ایچ او ریاض کی قیادت میں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے قریبی ہسپتال کے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تاحال جاں بحق ہونے والی دونوں خواتین کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس شناخت کا عمل مکمل کرنے کے لیے نادرا اور دیگر ذرائع کی مدد لینے پر غور کر رہی ہے تاکہ ان کے لواحقین تک رسائی حاصل کی جا سکے اور واقعے کے محرکات کا تعین کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات کے مطابق پولیس اس پہلو پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا یہ واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور محرک کارفرما ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ورثاء کے پہنچنے کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آ سکیں گے اور قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد جائے وقوعہ پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی جس کے باعث ٹریفک کی روانی بھی کچھ دیر کے لیے متاثر رہی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول اور دیگر اہم شواہد قبضے میں لے لیے ہیں جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاقے میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا جا سکے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور پولیس کی جانب سے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی چیکنگ سخت کر دی گئی ہے تاکہ ملزمان کو شہر سے باہر نکلنے سے روکا جا سکے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو اس واقعے کے بارے میں کوئی معلومات حاصل ہوں تو وہ فوری طور پر قریبی تھانے سے رابطہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کی جانب سے گشت کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے اور مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ پولیس نے یقین دلایا ہے کہ تحقیقات کو شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے گا اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید تفتیش کے لیے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی جا رہی ہے جو اس کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جیسے ہی مقتولین کی شناخت ہو گی، تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا تاکہ ملوث عناصر تک پہنچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں امن و امان کے قیام کے لیے پولیس مسلسل کوشاں ہے اور اس واقعے کو ایک بڑی سیکیورٹی لیپس کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اعلیٰ پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جلد رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے مطابق تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ خواتین کو کس نے اور کیوں نشانہ بنایا ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ ورثاء کے آنے کے بعد ہی مزید قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی اور حقائق کی روشنی میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%da%a9%db%81-%d8%aa%d9%88%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d8%a7%d9%85%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بھارت: شوہر کو قتل کر کے لاش کنکریٹ کے ڈرم میں چھپانے والی بیوی کو سزائے موت</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%da%a9%d9%88-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d9%86%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%b9-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%da%a9%d9%88-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d9%86%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%b9-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 23:57:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اقوام_متحدہ]]></category>
		<category><![CDATA[انڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی]]></category>
		<category><![CDATA[بین_الاقوامی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سزائے_موت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%da%a9%d9%88-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d9%86%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%b9-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[میرٹھ کی عدالت نے اپنے شوہر کو بے دردی سے قتل کرنے والی خاتون اور ان کے ساتھی کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">بھارت کے شہر میرٹھ کی ایک عدالت نے ایک انتہائی لرزہ خیز قتل کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے مقتول کی اہلیہ اور اس کے ساتھی کو سزائے موت کی سزا سنائی ہے۔ ملزمان نے شوہر کو قتل کرنے کے بعد لاش کو ٹکڑوں میں کاٹ کر ایک ڈرم میں ڈال دیا تھا اور اسے کنکریٹ سے بھر دیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران ضلع جج اروند کمار نے ڈیڑھ سال تک جاری رہنے والے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ دونوں مجرموں، مسکان اور ساحل شکلا، کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں سزائے موت کے علاوہ 20 ہزار روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعہ مارچ 2025 میں پیش آیا تھا جب لندن میں ملازمت کرنے والے سوربھ راجپوت اپنی اہلیہ کے ساتھ میرٹھ میں موجود تھے۔ پولیس کے مطابق، ملزمہ مسکان نے اپنے بوائے فرینڈ ساحل کے ساتھ مل کر اپنے شوہر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاکہ وہ اپنے تعلقات کو جاری رکھ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا کہ ملزمان نے قتل کے لیے پہلے سے ہی چاقو اور بے ہوشی کی دوا کا انتظام کر رکھا تھا۔ تین مارچ کی رات مسکان نے سوربھ کے کھانے میں نشہ آور دوا ملا دی، جس کے بعد ساحل نے اسے قابو کیا اور مسکان نے چاقو کے وار کر کے اسے قتل کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قتل کے بعد ملزمان نے لاش کو باتھ روم میں ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور ثبوت مٹانے کے لیے کمرے کو بلیچنگ پاؤڈر سے صاف کیا۔ اگلے دن مسکان نے بازار سے ایک بڑا ڈرم اور سیمنٹ خریدا، جس میں لاش کے ٹکڑے ڈال کر اسے کنکریٹ سے بھر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واردات کے بعد دونوں ملزمان سیر و تفریح کے لیے شملہ اور منالی روانہ ہو گئے تھے۔ سوربھ کے اہل خانہ نے ان کے لاپتا ہونے کی رپورٹ درج کرائی تھی، جس کے بعد پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا تو یہ ہولناک جرم سامنے آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے جب مسکان اور ساحل سے پوچھ گچھ کی تو انہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ پولیس نے ڈرم کو قبضے میں لے کر کٹر کی مدد سے کاٹا اور مقتول کی باقیات برآمد کیں۔ اس دوران ملزمان نے لاش چھپانے کے بعد فرار ہونے کی کوشش بھی کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتول سوربھ راجپوت نے 2016 میں مسکان سے پسند کی شادی کی تھی، جس کی ان کے خاندان والوں نے مخالفت کی تھی۔ بعد ازاں مالی مشکلات کے باعث سوربھ اپنے والدین سے الگ ہو کر رہائش پذیر ہو گئے تھے، جس کے دوران مسکان اور ساحل کے درمیان قربتیں بڑھ گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں پیشی کے دوران ملزمان کے خلاف عوامی غصہ بھی دیکھنے میں آیا، جہاں کچھ وکلا نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے سخت سکیورٹی کے حصار میں دونوں کو بحفاظت واپس جیل منتقل کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقتول کے بھائی راہول نے فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی کو بے دردی سے قتل کیا گیا اور اس جرم میں ملوث افراد کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے تھی۔ انہوں نے اس معاملے میں مزید سازش کا شبہ بھی ظاہر کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب مسکان کے اپنے والدین نے بھی اپنی بیٹی کے اس فعل کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی نے جو ظلم کیا ہے، وہ ناقابل معافی ہے اور اسے معاشرے کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی تھی کیونکہ قتل کا طریقہ کار انتہائی سفاکانہ تھا۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ملزمان کو گرفتار کیا بلکہ لاش کو بھی برآمد کر لیا، جس سے مقدمے کے تمام پہلو واضح ہو گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے سزائے موت کے ساتھ ساتھ دیگر دفعات کے تحت دونوں مجرموں کو سات سال قید کی سزا بھی سنائی ہے۔ یہ فیصلہ معاشرے میں بڑھتے ہوئے ایسے جرائم کے خلاف ایک سخت پیغام سمجھا جا رہا ہے جہاں ذاتی مفادات کے لیے انسانی جانوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/world/%d8%a8%da%be%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%b4%d9%88%db%81%d8%b1-%da%a9%d9%88-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d9%86%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%b9-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>میر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ تیار، کل سندھ حکومت کو پیش ہوگی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%86%da%a9%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%86%da%a9%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 08:56:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انکوائری_رپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جبران_ناصر]]></category>
		<category><![CDATA[جوڈیشل_کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_ایس_پی_سراج_لاشاری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سی_پی_எல்_سی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%86%da%a9%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%db%8c-%d8%b1%d9%be/</guid>

					<description><![CDATA[جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کی موت سے متعلق انکوائری رپورٹ حتمی شکل دے دی ہے جو کل صبح سیکریٹری داخلہ کے حوالے کی جائے گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں پیش آنے والے میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے اپنی انکوائری رپورٹ مکمل کر لی ہے اور اسے حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اہم معاملے پر تیار کی گئی انکوائری رپورٹ اب باضابطہ طور پر متعلقہ حکام کو پیش کیے جانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقررہ طریقہ کار اور شیڈول کے مطابق یہ انکوائری رپورٹ کل صبح ٹھیک دس بجے سندھ حکومت کے حوالے کی جائے گی۔ اس ضمن میں جوڈیشل کمیشن کی جانب سے سیکریٹری داخلہ کو خصوصی طور پر طلب کر لیا گیا ہے جو مقررہ وقت پر کمیشن کے دفتر پہنچیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کی باضابطہ حوالگی کی اس کارروائی کے دوران جوڈیشل کمیشن کے رجسٹرار سیکریٹری داخلہ کے سپرد یہ اہم دستاویز کریں گے۔ اس پیشرفت کے بعد صوبائی سطح پر اس ہائی پروفائل کیس کے حوالے سے مزید انتظامی اور قانونی اقدامات متوقع ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس جوڈیشل کمیشن نے میر رضا کی پراسرار موت اور اس سے جڑے تمام ممکنہ پہلوؤں کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی تھی۔ کمیشن نے اپنی کارروائی کے دوران پولیس تفتیش کی خامیوں، مشکوک گاڑیوں، فوٹیجز اور کرپٹو اکاؤنٹس سمیت کئی اہم امور پر سخت سوالات اٹھائے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انکوائری کے طویل عمل کے دوران مختلف اہم شخصیات، سرکاری افسران اور اداروں کے نمائندے بھی مسلسل کمیشن کے سامنے پیش ہوتے رہے ہیں۔ کارروائی کے دوران تمام متعلقہ گواہوں، تفتیشی افسران اور دیگر ذمہ داران کے تفصیلی بیانات قلمبند کیے گئے جنہیں باضابطہ طور پر انکوائری کا حصہ بنایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گزشتہ کارروائیوں اور سماعتوں کے دوران میر حسین علی خان، مریم حسین اور معروف قانون دان جبران ناصر ایڈووکیٹ سمیت دیگر متعلقہ افراد بھی کمیشن میں باقاعدگی سے موجود رہے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ کارروائی کے دوران ایڈیشنل سیکریٹری جاوید احمد ابڑو، سی پی ایل سی کے اہم گواہ کاشف افتخار، طٰہٰ پراچہ اور تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لاشاری نے بھی کمیشن کے سامنے پیش ہو کر اپنے بیانات ریکارڈ کرائے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمیشن کی تحقیقاتی کارروائی کے دوران کے الیکٹرک کی نمائندہ رابعہ بھی پیش ہوئیں، جو کہ کے الیکٹرک کے مینجنگ ڈائریکٹر سید محمد طلحہ کی جانب سے کمیشن کے سامنے پیش ہوئیں۔ انہوں نے ایک سیل شدہ لفافہ کمیشن کو جمع کرایا جسے کارروائی کے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب جوڈیشل کمیشن نے کارروائی کے اختتامی مراحل کے قریب پہنچنے پر معلومات فراہم کرنے کے لیے ماضی میں دی گئی ایک لاکھ روپے انعام کی پیشکش بھی باضابطہ طور پر واپس لے لی تھی۔ کمیشن نے اپنی مدت کار اور کارروائی کے دوران تمام قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلے کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میر رضا کیس کی یہ تفصیلی انکوائری رپورٹ صوبے کے انتظامی اور عدالتی حلقوں میں انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے منکشف ہونے اور سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہوگا کہ کمیشن نے اپنی تحقیقات میں پولیس کی کارکردگی اور دیگر شواہد کے بارے میں کیا نتائج اخذ کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سندھ حکومت کو باضابطہ طور پر یہ رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس پر مزید قانونی، ضابطے کی اور انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عوام اور تمام متعلقہ فریقین کی نگاہیں اب اس رپورٹ کے سرکاری طور پر سامنے آنے اور اس میں موجود سفارشات پر مرکوز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کیس کی تحقیقات نے اپنے آغاز سے لے کر اب تک کراچی کے شہریوں اور میڈیا کی بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مقصد اس بات کا تعین کرنا تھا کہ واقعے کے محرکات کیا تھے اور اس میں کون سے قانونی یا انتظامی سقم موجود تھے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/%d9%85%db%8c%d8%b1-%d8%b1%d8%b6%d8%a7-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%ac%d9%88%da%88%db%8c%d8%b4%d9%84-%da%a9%d9%85%db%8c%d8%b4%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d9%86%da%a9%d9%88%d8%a7%d8%a6%d8%b1%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
