<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پنجاب_صحت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8_%d8%b5%d8%ad%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 13:26:44 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پنجاب_صحت &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام، 16,173 بچوں کے مفت آپریشن مکمل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/2454/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/2454/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 10:57:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_علاج]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[چلڈرن_ہارٹ_سرجری_پروگرام]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[دل_کے_امراض]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_مند_زندگی]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[علاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غذائیت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%da%86%d9%84%da%88%d8%b1%d9%86-%db%81%d8%a7%d8%b1%d9%b9-%d8%b3%d8%b1%d8%ac%d8%b1%db%8c-%d9%be%d8%b1%d9%88%da%af%d8%b1%d8%a7%d9%85-16/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب حکومت کے اس صحت عامہ کے منصوبے کے تحت دل کے عارضے میں مبتلا تمام بچوں کی ویٹنگ لسٹ ختم ہو گئی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) صوبائی دارالحکومت میں صحت کے شعبے میں ایک بڑی کامیابی سامنے آئی ہے جہاں وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت دل کے امراض میں مبتلا بچوں کے علاج کا سلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔ اس فلاحی اقدام کے نتیجے میں اب تک سولہ ہزار سے زائد بچوں کے دل کے پیچیدہ اور مہنگے آپریشن مکمل طور پر مفت کیے جا چکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو خصوصی اہمیت دی گئی تاکہ مالی وسائل نہ رکھنے والے خاندانوں کے جگر کے ٹکڑوں کو نئی زندگی فراہم کی جا سکے اور غریب والدین پر پڑنے والے مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق جب موجودہ حکومت نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو اس وقت دل کے عارضے میں مبتلا پندرہ ہزار کے قریب معصوم بچے سرجری کے حصول کے لیے ہسپتالوں کی طویل انتظار کی فہرستوں میں شامل تھے۔ ان بچوں کے والدین طویل عرصے سے اپنے لعل کے علاج کی آس لگائے بیٹھے تھے لیکن وسائل کی کمی بڑی رکاوٹ بنی ہوئی تھی۔ ان گھمبیر حالات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حکومت نے خصوصی ہدایات جاری کیں اور چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کو انتہائی فعال بنایا گیا تاکہ ایک ایک بچے کو بروقت اور بہترین طبی سہولیات میسر آ سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پروگرام کی بدولت طبی عملے نے دن رات محنت کرکے ان تمام بچوں کے کامیاب آپریشن کیے جن کے نام طویل ویٹنگ لسٹ کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اب تک کل سولہ ہزار ایک سو تہتر بچوں کی جراحی کے عمل کو کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچایا جا چکا ہے۔ ان تمام بچوں کا علاج مکمل طور پر مفت کیا گیا جس میں ہسپتال کے اخراجات سے لے کر ادویات اور آپریشن کے دوران استعمال ہونے والا مہنگا ترین سامان بھی حکومت کی طرف سے فراہم کیا گیا تاکہ والدین کو کسی بھی قسم کی مالی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پروگرام کی سب سے بڑی اور شاندار پیش رفت یہ ہے کہ اب دل کے عارضے میں مبتلا بچوں کی سرجری کے لیے کوئی بھی نام انتظار کی فہرست میں باقی نہیں رہا ہے۔ تمام ایسے بچے جو ماضی میں باری آنے کے منتظر تھے، انہیں بروقت طبی امداد اور سرجری کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے جو کہ صوبائی شعبہ صحت کی تاریخ میں ایک منفرد اور تاریخی اعزاز ہے۔ اس سنگ میل کے عبور کرنے سے نہ صرف ہسپتالوں پر دباؤ کم ہوا ہے بلکہ بروقت علاج ملنے سے بچوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات بھی ٹل گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس شاندار کامیابی پر صوبائی حکومت کے حلقوں اور سماجی حلقوں کی طرف سے شدید اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی اس فلاحی منصوبے کی کامیابی پر اپنے ایک پیغام میں مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اس احسن اقدام سے ہزاروں گھروں کے چراغ روشن ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید لکھا کہ اس پروگرام کے تحت سولہ ہزار ایک سو تہتر بچوں کے مفت اور کامیاب آپریشن ہو چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینئر وزیر نے اپنے پیغام میں یہ بھی واضح کیا کہ اس شاندار عوامی خدمت کے نتیجے میں اب سرجری کے منتظر بچوں کی ویٹنگ لسٹ بھی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے والدین کی دعاؤں اور بچوں کے چہروں پر لوٹ آنے والی مسکراہٹوں کو اس حکومت کی اصل کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت کا یہ سفر بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گا اور صحت کے شعبے میں عام آدمی کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کا یہ سلسلہ بدستور آگے بڑھتا رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا عزم ہے کہ صوبے کے ہر شہری کو علاج معالجے کی معیاری اور جدید سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں تاکہ کوئی بھی فرد مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے علاج سے محروم نہ رہے۔ ماہرینِ صحت اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کے دل کی بیماریاں انتہائی پیچیدہ اور مہنگی ہوتی ہیں جن کا علاج عام آدمی کی بساط سے باہر ہوتا ہے۔ ایسے میں حکومتی سطح پر اس نوعیت کے فلاحی پروگرام کا نفاذ غریب عوام کے لیے ایک مسیحا کا درجہ رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی طرف سے اس پروگرام کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز کی بلا تعطل فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا تاکہ کسی بھی مرحلے پر ادویات یا سرجیکل آلات کی کمی کا سامنا نہ کرناپڑے۔ عوام بالخصوص جن بچوں کا علاج ہوا ہے ان کے لواحقین کی طرف سے اس فلاحی اقدام کو بھرپور انداز میں سراہا گیا ہے اور اسے ایک تاریخی کارنامہ قرار دیا گیا ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقے اس بات پر متفق ہیں کہ اس طرح کے منصوبے پاکستان میں فلاحی ریاست کے تصور کو عملی جامہ پہنانے میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت مستقبل میں بھی اس نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ نئے آنے والے مریضوں کو کسی بھی قسم کے انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ ہسپتالوں میں سرجیکل یونٹس کی استعداد کار میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ روزانہ کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ بچوں کے علاج کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے متعلقہ محکمے کی ٹیمیں مسلسل مانیٹرنگ کر رہی ہیں اور علاج کے معیار کو بہترین رکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت انجام پانے والے ان تمام طبی امور کی باقاعدہ نگرانی کی گئی تاکہ ہر مستحق بچے تک اس سہولت کی رسائی کو شفاف بنایا جا سکے۔ فلاحی منصوبوں کی شفافیت کے حوالے سے حکومت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ عطیات یا سرکاری خزانے سے ملنے والے فنڈز کا پائی پائی کا حساب رکھا جائے اور اسے اصل مستحقین تک پہنچایا جائے۔ اسی کڑی کے تحت دل کے عارضے میں مبتلا بچوں کے والدین کو ہسپتالوں میں کسی قسم کی مالی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صحت کے عالمی معیار کے مطابق بچوں کے امراض قلب کے آپریشنز انتہائی مہارت کے متقاضی ہوتے ہیں، جن کے لیے ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ حکومت پنجاب نے اس پروگرام کی کامیابی کے لیے جدید طبی آلات کی فراہمی کو یقینی بنایا اور ملکی و غیر ملکی ماہرین کی خدمات سے بھی استفادہ کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں بچوں کے کامیاب آپریشنز کا ریکارڈ قائم ہوا ہے اور ایک ایک کر کے تمام زیر التواء کیسز کو کامیابی کے ساتھ نپٹا دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پوری پیش رفت پر والدین اور عوامی حلقوں کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے لیے خصوصی طور پر شکریہ کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر شکریہ مریم نواز شریف کے پیغامات گردش کر رہے ہیں جن میں والدین خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ان کے بچے اب صحت مند زندگی کی طرف واپس لوٹ آئے ہیں۔ یہ منصوبہ آنے والے وقتوں میں بھی صحت کے شعبے میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا A.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/2454/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>راولپنڈی کے بینظیر بھٹو اسپتال میں مبینہ غفلت سے دو بچے جاں بحق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/islamabad/2337/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/islamabad/2337/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 11:57:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[اسلام آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بینظیر_بھٹو_اسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_اور_قانون]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکسلا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_شرجیل_شیخ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راولپنڈی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b1%d8%a7%d9%88%d9%84%d9%be%d9%86%da%88%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%a8%db%8c%d9%86%d8%b8%db%8c%d8%b1-%d8%a8%da%be%d9%b9%d9%88-%d8%a7%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[اہل خانہ نے سینئر ڈاکٹروں کی غیر موجودگی اور زچگی کا کیس جونیئر عملے کے سپرد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی کے معروف سرکاری ہسپتال میں زچگی کے دوران مبینہ طور پر طبی عملے کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث دو نوزائیدہ بچوں کے جاں بحق ہونے کا دلخراش واقعہ پیش آیا ہے۔ اس افسوسناک صورتحال کے نتیجے میں بچوں کی والدہ کی حالت بھی انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے جسے فوری طور پر انتہائی نگداشت کے شعبے یعنی آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان کا تعلق ٹیکسلا سے بتایا جاتا ہے جہاں سے اٹھارہ سالہ حاملہ خاتون کو علاج و معالجے کے لیے اس بڑے طبی مرکز لایا گیا تھا۔ ہسپتال پہنچنے کے بعد جب حالات بگڑے تو لواحقین نے فوری طور پر ڈاکٹروں اور نرسنگ عملے کی کارکردگی پر شدید نوعیت کے سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندان کے افراد کا کہنا ہے کہ اس نازک ترین موقع پر ہسپتال کے وارڈ میں کوئی بھی سینئر ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے مریضہ کو بروقت اور درست طبی امداد فراہم نہیں کی جا سکی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ زچگی کا انتہائی پیچیدہ کیس بغیر کسی تجربہ کار ماہر ڈاکٹر کی موجودگی کے جونیئر ڈاکٹروں کے حوالے کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لواحقین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جونیئر عملے کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے دوران زچگی پیچیدگیوں پر قابو نہ پایا جا سکا اور نتیجہ دونوں معصوم بچوں کی المناک موت کی صورت میں نکلا۔ اس تمام صورتحال نے سرکاری ہسپتالوں کے ایمرجنسی اور گائنی وارڈز میں طبی سہولیات اور عملے کی موجودگی کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی اطلاع ملتے ہی ہسپتال انتظامیہ بھی حرکت میں آ گئی ہے اور میڈیکل سپرنٹنڈنت کی جانب سے اس پورے معاملے پر ابتدائی ردعمل اور وضاحت سامنے آ چکی ہے۔ ایم ایس ڈاکٹر شرجیل شیخ نے ذرائع ابلاغ اور ورثا کو بتایا ہے کہ زچگی کے عمل سے پہلے ہی الٹرا ساؤنڈ رپورٹ کے ذریعے یہ تصدیق ہو چکی تھی کہ بچوں کی پیٹ میں ہی موت واقع ہو چکی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظار کے ان لمحات میں جب مریضہ کو ہسپتال لایا گیا تو طبی طور پر حالات پہلے ہی انتہائی مخدوش اور پیچیدہ ہو چکے تھے جن کو سنبھالنا ڈاکٹروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا تھا۔ تاہم ہسپتال کے سربراہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کی طرف سے باضابطہ تحریری درخواست موصول ہو چکی ہے جس کی روشنی میں مکمل اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میڈیکل سپرنٹنڈنت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے گی کہ آیا واقعی ڈیوٹی پر موجود عملے کی جانب سے کسی قسم کی غفلت برتی گئی یا نہیں، اور اگر کسی کی کوتاہی ثابت ہوئی تو قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ شہریوں اور سماجی حلقوں کی طرف سے بھی اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سرکاری طبی اداروں میں مریضوں کے علاج کے معیار کو بہتر بنایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں اس نوعیت کے واقعات کا رونما ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے جہاں اکثر و بیشتر دور دراز علاقوں سے آنے والے غریب مریض بنیادی طبی سہولیات سے محروم رہ جاتے ہیں۔ راولپنڈی اور اس کے گردونواح کے اضلاع سے ہزاروں مریض روزانہ کی بنیاد پر بینظیر بھٹو ہسپتال، ہو لی فیملی ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا رخ کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان بڑے طبی مراکز میں مریضوں کا رش اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات گائنی اور ایمرجنسی وارڈز میں تعینات عملہ اتنی بڑی تعداد میں آنے والے کیسز کو سنبھالنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں سینئر ڈاکٹروں کی حاضری کو یقینی بنانا اور جونیئر ڈاکٹروں کی کڑی نگرانی کرنا انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">طبی ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ حاملہ خواتین کے ایسے پیچیدہ اور ہنگامی نوعیت کے کیسز کے لیے ہمیشہ ایک الگ اور انتہائی فعال ٹیم موجود ہونی چاہیے جو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہو۔ ٹیکسلا سے تعلق رکھنے والی اس اٹھارہ سالہ خاتون اور اس کے خاندان کے ساتھ پیش آنے والا یہ سانحہ ایک بار پھر اس نظام پر سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کے سول سوسائٹی کے نمائندوں اور سیاسی و سماجی رہنماؤں نے بھی اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور آئندہ ایسے دلخراش واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات اٹھائے جا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ غریب عوام کے لیے سرکاری اسپتال ہی واحد سہارا ہوتے ہیں اور وہاں اس قسم کی مبینہ غفلت کسی صورت قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہسپتال انتظامیہ نے تال میل بہتر بنانے اور انکوائری کے عمل کو جلد از جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔ دوسری طرف متاثرہ خاندان صدمے کی حالت میں ہے اور وہ اپنی بیٹی کی صحت کی بحالی کے ساتھ ساتھ انصاف کے لیے حکام بالا کی طرف دیکھ رہا ہے جنہوں نے واقعے کی جڑ تک پہنچنے کا وعدہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ بینظیر بھٹو ہسپتال میں پیش آنے والے اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/islamabad/2337/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعلیٰ مریم نواز نے سوشل سیکیورٹی موبائل ہیلتھ پروگرام کا افتتاح کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/327/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/327/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 17:37:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل_سیکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[صحت_سہولیات]]></category>
		<category><![CDATA[صنعتی_ترقی]]></category>
		<category><![CDATA[صنعتی_ورکرز]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_خدمت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d9%86%db%92-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d8%b3%db%8c%da%a9%db%8c%d9%88%d8%b1%d9%b9%db%8c-%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[46 لاکھ سے زائد صنعتی ورکرز اور ان کے اہل خانہ کو علاج کی سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کی جائیں گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں صنعتی ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے سوشل سیکیورٹی موبائل ہیلتھ پروگرام کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مزدور طبقے کو صحت کی جدید سہولیات ان کی دہلیز پر پہنچانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئے پروگرام کے تحت پنجاب بھر میں 46 لاکھ سے زائد صنعتی ورکرز اور ان کے اہل خانہ مستفید ہو سکیں گے۔ یہ موبائل ہیلتھ یونٹس صنعتی علاقوں میں جا کر مریضوں کا طبی معائنہ کریں گے اور انہیں بروقت علاج کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ذرائع کے مطابق اس پروگرام کا دائرہ کار صوبے کے صنعتی مراکز تک پھیلایا جائے گا تاکہ ورکرز کو علاج کے لیے ہسپتالوں کے چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ اس جدید نظام سے مزدوروں کے قیمتی وقت اور وسائل کی بچت ممکن ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس موقع پر کہا کہ صنعتی ورکرز ملکی معیشت کا پہیہ چلانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی صحت کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ہیلتھ یونٹس کی کارکردگی کو شفاف اور موثر بنایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پروگرام کے تحت موبائل ہیلتھ یونٹس میں ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ یہ یونٹس صنعتی علاقوں کے قریب تعینات کیے جائیں گے تاکہ ورکرز اپنی شفٹوں کے دوران یا بعد میں آسانی سے طبی سہولیات حاصل کر سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے اس منصوبے کو پنجاب سوشل سیکیورٹی کے نیٹ ورک کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے تاکہ ڈیٹا کی درستگی اور خدمات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ اس سے قبل ورکرز کو علاج کے لیے سوشل سیکیورٹی ہسپتالوں تک سفر کرنا پڑتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت کا ماننا ہے کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی سے صنعتی پیداوار میں بھی بہتری آئے گی کیونکہ صحت مند ورکرز بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں۔ یہ منصوبہ مزدوروں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر متعلقہ محکموں کے افسران نے وزیراعلیٰ کو پروگرام کے خدوخال اور ہیلتھ یونٹس کی ورکنگ کے بارے میں بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ ہیلتھ یونٹس میں مریضوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے اور علاج میں کوئی کوتاہی نہ برتی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صنعتی ورکرز کی تنظیموں نے حکومت کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے مزدور دوست پالیسی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہلیز پر علاج کی سہولت ملنا ایک دیرینہ مطالبہ تھا جس پر عمل درآمد خوش آئند ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پنجاب نے اس منصوبے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے تاکہ مریضوں کا ریکارڈ ڈیجیٹل طریقے سے محفوظ کیا جا سکے۔ اس سے علاج کے عمل میں شفافیت آئے گی اور ادویات کی فراہمی میں بھی بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ مریم نواز نے مزید کہا کہ پنجاب کے عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اس طرح کے فلاحی منصوبے عوام کا حکومت پر اعتماد بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس افتتاحی تقریب میں صوبائی وزراء، اعلیٰ حکام اور صنعتی شعبے سے وابستہ نمائندوں نے شرکت کی۔ پروگرام کے کامیاب نفاذ کے لیے ایک مانیٹرنگ سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو ہیلتھ یونٹس کی روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی کا جائزہ لے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/327/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
