<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.29.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پمز_ہسپتال &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d9%85%d8%b2_%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:07 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پمز_ہسپتال &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بیریئر ہٹانے اور کار سرکار مداخلت کیس، ایمان مزاری کا بیان سامنے آ گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%a8%db%8c%d8%b1%db%8c%d8%a6%d8%b1-%db%81%d9%b9%d8%a7%d9%86%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%a8%db%8c%d8%b1%db%8c%d8%a6%d8%b1-%db%81%d9%b9%d8%a7%d9%86%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2026 08:16:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اڈیالہ_جیل]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائی_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[انسانی_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دشتگردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[بیریئر_ہٹانے_کا_کیس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پمز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%db%8c%d8%b1%db%8c%d8%a6%d8%b1-%db%81%d9%b9%d8%a7%d9%86%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے کیس میں ایمان مزاری کا عدالت میں ریکارڈ کرایا گیا بیان سامنے آ گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بیریئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں ایمان مزاری کا عدالت میں روبرو ریکارڈ کرایا گیا دفعہ تین سو بیالیس کا بیان منظر عام پر آ گیا ہے۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق انہوں نے یہ بیان عدالت میں باقاعدہ جمع کروایا ہے جس میں اس واقعے کے حوالے سے اپنا تفصیلی مؤقف پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری نے اپنے اس بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ اپنا یہ بیان کسی رسمی کارروائی کے تحت نہیں بلکہ مکمل طور پر احتجاجاً درج کروا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مخصوص روٹ سے اس وقت کوئی کرکٹ ٹیم نہیں گزر رہی تھی کیونکہ پولیس نے خود اس بات کی تصدیق کی تھی کہ مہمان ٹیم دوسرے راستے سے روانہ ہو چکی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس کے پاس سڑک کی اس عارضی بندش کے حوالے سے کسی بھی مجسٹریٹ کا باقاعدہ تحریری آرڈر موجود نہیں تھا۔ انہوں نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ انہیں بطور وکیل انسداد دہشت گردی عدالت میں وقت پر پہنچنا تھا اور اسی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے وہ اس راستے پر موجود تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری کے مطابق انہوں نے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں سے باقاعدہ پندرہ منٹ تک صبر کے ساتھ انتظار کرنے کے بعد سڑک کھولنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح غیر قانونی طور پر سڑکیں بند کرنے سے عام شہریوں کے آئینی حقوق بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں جمع کرائے گئے اس تحریری بیان کے مطابق انہوں نے موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کو یاد دہانی کرائی تھی کہ یہ پبلک روڈ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایک سوال اٹھایا کہ اگر اس سڑک کی بندش سے سکیورٹی کا کوئی حقیقی خطرہ موجود تھا تو پولیس نے عام موٹر سائیکل سواروں کو اس راستے سے گزرنے سے کیوں نہیں روکا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری نے اس موقع پر سنگین الزام عائد کیا کہ پراسیکیوشن نے جان بوجھ کر اس واقعے کی ویڈیو کا اصل اور مکمل ٹرانسکرپٹ چھپانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ویڈیو کا اصل ٹرانسکرپٹ عدالت کے سامنے آ جائے تو اس سے استغاثہ کے تمام دعوے اور بیانات غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ بغیر پولیس یونیفارم کے موجود ایک اہلکار ابراہیم نے ان پر لوہے کا بھاری بیریئر اٹھا کر پھینکا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر نے اس صورتحال میں انہیں زدوکوب اور مزید جسمانی نقصان سے بچانے کے لیے محض دفاعی اقدام کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد انہوں نے فوری طور پر پمز ہسپتال سے رجوع کیا تھا اور وہاں کی میڈیکل رپورٹ بطور ایک مستند ثبوت عدالت میں باقاعدہ جمع کروا دی ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس مقدمے میں کسی بھی پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کا کوئی بھی معتبر ثبوت عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں اس امر کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ واقعے کے فوراً بعد متعلقہ پولیس اہلکار نے پولیس محکمے کے غیر مناسب رویے پر ان سے باقاعدہ معافی بھی مانگی تھی۔ اس کے علاوہ عدالت میں پیش کی جانے والی یو ایس بی کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا کہ وہ پولیس اسٹیشن میں کئی روز تک بغیر کسی باقاعدہ سیل کے رکھی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے حوالے سے مؤقف میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کی جانب سے ان کے جسمانی ریمانڈ کے احکامات معطل کیے جانے کے بعد کی جانے والی تمام تر تفتیشی کارروائی قانونی طور پر بالکل غیر قانونی ہے۔ بیان میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اس مقدمے میں جتنے بھی گواہان ہیں وہ سب کے سب پولیس اہلکار ہیں اور اس میں ایک بھی آزاد یا پرائیویٹ گواہ شامل نہیں کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ یہ تمام تر مقدمات دراصل ان کے انسانی حقوق کے لیے کھل کر کام کرنے اور ضرورت مندوں کو مفت قانونی خدمات فراہم کرنے کے بدلے میں انتقامی کارروائیاں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اعلیٰ عدالتوں سے ضمانت ملنے کے باوجود انہیں جیل کے اندر دوبارہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گرفتار کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی ماحول اور ٹرانسپرنسی کے بارے میں بیان میں شدید شکوہ کیا گیا کہ انہیں پنجرے میں بند کر کے عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا اور اپنے وکلا تک مناسب رسائی سے بھی محروم رکھا گیا۔ آخر میں انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اور ان کے ساتھی بالکل بے گناہ ہیں اور حقوق العباد کی اس طویل جنگ میں ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے عدالت کے روبرو اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اوپر عائد کردہ تمام بے بنیاد الزامات کا پوری قوت سے دفاع کریں گی۔ ان کے اس بیان کے سامنے آنے کے بعد اس مقدمے کی کارروائی میں مزید قانونی موڑ آنے کی توقع کی جا رہی ہے جس پر آئندہ سماعتوں میں وکلا اپنے دلائل پیش کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%a8%db%8c%d8%b1%db%8c%d8%a6%d8%b1-%db%81%d9%b9%d8%a7%d9%86%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d8%b3%d8%b1%da%a9%d8%a7%d8%b1-%d9%85%d8%af%d8%a7%d8%ae%d9%84%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں &#8216;ون پیشنٹ ون آئی ڈی&#8217; ڈیجیٹل نظام کا نفاذ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%be%d9%85%d8%b2-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%86-%d9%be%db%8c%d8%b4%d9%86%d9%b9/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%be%d9%85%d8%b2-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%86-%d9%be%db%8c%d8%b4%d9%86%d9%b9/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 19:36:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پمز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_سہولیات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%be%d9%85%d8%b2-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%86-%d9%be%db%8c%d8%b4%d9%86%d9%b9/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں سوا ارب روپے کی لاگت سے مریضوں کی رجسٹریشن اور طبی ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کر دیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے مرکزی سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے &#039;ون پیشنٹ ون آئی ڈی&#039; ڈیجیٹل نظام کا باقاعدہ نفاذ کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم منصوبے پر سوا ارب روپے سے زائد کی لاگت آئی ہے، جس کا بنیادی مقصد مریضوں کے علاج معالجے کے عمل کو شفاف بنانا اور ان کے طبی ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ طریقے سے محفوظ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت مریضوں کی رجسٹریشن کے عمل کو ان کی تشخیصی رپورٹس کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، جس سے ڈاکٹروں کو مریض کا مکمل طبی ریکارڈ کمپیوٹر سکرین پر فوری طور پر دستیاب ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ منصوبہ وزارتِ صحت اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے باہمی تعاون سے مکمل کیا گیا ہے، جبکہ اس کے لیے درکار سافٹ ویئر نیشنل آئی ٹی بورڈ کی جانب سے تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ڈیجیٹل نیٹ ورک کے ذریعے پمز کے پانچوں ذیلی ہسپتالوں کو آپس میں مربوط کر دیا گیا ہے، جن میں کارڈیک سینٹر، چلڈرن ہسپتال، برن سینٹر، زچہ و بچہ سینٹر اور بڑوں کا ہسپتال شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نظام کے نفاذ سے ہسپتال کے مجموعی طور پر 24 شعبوں کو ایک ہی ڈیجیٹل نیٹ ورک پر لایا گیا ہے، جن میں لیبارٹری، ایکسرے یونٹ، استقبالیہ، وارڈز، ایمرجنسی، ٹرانسپورٹ اور آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) شامل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق اس ڈیجیٹل اصلاحات کے اگلے مرحلے میں ہسپتال کو مکمل طور پر پیپر لیس بنانے اور مریضوں کے لیے بارکوڈ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں کارڈیک سینٹر کو 31 اکتوبر تک مکمل طور پر پیپر لیس کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے مریضوں کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے اور انتظامی امور کو مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جدید نظام سے نہ صرف مریضوں کو قطاروں میں لگنے سے نجات ملے گی بلکہ ان کے علاج کے عمل میں بھی تیزی آئے گی، کیونکہ اب پرانے ریکارڈ کو تلاش کرنے میں وقت ضائع نہیں ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن کا یہ عمل ہسپتال کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے، جس سے شہریوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینے کی پالیسی کے تحت یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نظام کے نفاذ سے ہسپتال کے وسائل کے بہتر استعمال اور ادویات و طبی آلات کی فراہمی میں شفافیت لانے میں بھی مدد ملے گی، جس سے مجموعی طور پر صحت کے نظام میں بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں اس نظام کو دیگر سرکاری ہسپتالوں تک بھی پھیلانے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ ملک بھر میں مریضوں کا ایک مرکزی ڈیٹا بیس قائم کیا جا سکے اور علاج کے عمل کو مزید مربوط بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%be%d9%85%d8%b2-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%88%d9%86-%d9%be%db%8c%d8%b4%d9%86%d9%b9/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پمز ہسپتال کی نرس رضیہ نورین کیلئے تمغے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/health/%d9%be%d9%85%d8%b2-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b1%d8%b3-%d8%b1%d8%b6%db%8c%db%81-%d9%86%d9%88%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-2/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/health/%d9%be%d9%85%d8%b2-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b1%d8%b3-%d8%b1%d8%b6%db%8c%db%81-%d9%86%d9%88%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 19:57:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[صحت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اعزاز]]></category>
		<category><![CDATA[بیماری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پمز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رضیہ_نورین]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[طب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/health/%d9%be%d9%85%d8%b2-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b1%d8%b3-%d8%b1%d8%b6%db%8c%db%81-%d9%86%d9%88%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-2/</guid>

					<description><![CDATA[نرسری میں زیر علاج نوزائیدہ بچے کی بروقت طبی امداد سے جان بچانے پر رضیہ نورین کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں تعینات نرس رضیہ نورین نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نوزائیدہ بچے کی زندگی بچا لی۔ ان کی اس بروقت کارروائی کو ہسپتال انتظامیہ اور اعلیٰ حکام کی جانب سے بے حد سراہا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعہ ہسپتال کی نرسری میں پیش آیا جہاں ایک شیر خوار بچہ اچانک طبی پیچیدگی کا شکار ہو گیا تھا۔ نرس رضیہ نورین نے فوری طور پر صورتحال کا ادراک کیا اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے بچے کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رضیہ نورین کی جانب سے دکھائی گئی مستعدی کے باعث بچے کی حالت خطرے سے باہر ہو گئی اور اس کی جان بچ گئی۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بھی نرس کی اس فوری کارروائی کو سراہتے ہوئے اسے ایک قابل تقلید مثال قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس شاندار کارکردگی کے اعتراف میں نرس رضیہ نورین کیلئے خصوصی تمغے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز ان کی فرض شناسی اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پمز ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رضیہ نورین جیسے عملے کے ارکان ادارے کا اثاثہ ہیں۔ ان کی اس کاوش سے نہ صرف ہسپتال کا وقار بلند ہوا ہے بلکہ یہ دیگر طبی عملے کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نرسری میں زیر علاج بچوں کی دیکھ بھال انتہائی حساس نوعیت کا کام ہے جس میں ایک لمحے کی غفلت بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ رضیہ نورین نے جس مہارت اور ہمت کا مظاہرہ کیا، وہ شعبہ طب میں ان کی لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں لوگ رضیہ نورین کی تعریف کر رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے فرائض سرانجام دینے والے طبی عملے کی حوصلہ افزائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور محکمہ صحت کے حکام نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے نرس کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے طبی عملے میں اپنے فرائض کو مزید بہتر انداز میں سرانجام دینے کا جذبہ پیدا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اعزاز کے اعلان کے بعد ہسپتال کے دیگر عملے نے بھی رضیہ نورین کو مبارکباد پیش کی ہے۔ تقریب کا انعقاد جلد متوقع ہے جس میں انہیں یہ تمغہ دیا جائے گا تاکہ ان کی خدمات کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شعبہ صحت میں نرسوں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ مریضوں کی تیمارداری اور ہنگامی صورتحال میں ان کا کردار انتہائی کلیدی ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رضیہ نورین کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر طبی عملے کی حوصلہ افزائی کی جائے تو وہ اپنی ذمہ داریوں کو مزید احسن طریقے سے نبھا سکتے ہیں۔ یہ واقعہ دیگر ہسپتالوں کے عملے کے لیے بھی ایک مثال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہم امید کرتے ہیں کہ رضیہ نورین کا یہ جذبہ مستقبل میں بھی برقرار رہے گا اور وہ اسی طرح انسانیت کی خدمت کرتی رہیں گی۔ ان کی یہ کاوش یقیناً شعبہ طب کے لیے ایک روشن مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/health/%d9%be%d9%85%d8%b2-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b1%d8%b3-%d8%b1%d8%b6%db%8c%db%81-%d9%86%d9%88%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سندھ کے مسائل کا حل چھوٹے انتظامی یونٹس میں ہے، مصطفیٰ کمال</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%84-%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8%d8%a7%d9%85%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%84-%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8%d8%a7%d9%85%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 11:16:50 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامی_یونٹس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پانی_کا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[پمز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[پی_تی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[سندھ_فنڈز]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی_پانی_مسئلہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%84-%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8%d8%a7%d9%85%db%8c-%db%8c%d9%88%d9%86%d9%b9%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ سندھ حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ملک اور بالخصوص صوبہ سندھ کے تمام دیرینہ مسائل کا حتمی اور واحد حل صرف نئے اور چھوٹے انتظامی یونٹس کا قیام ہے۔ انہوں نے اس موقع پر زور دیا کہ موجودہ مروجہ انتظامی ڈھانچے کے ساتھ عوام کو ریلیف فراہم کرنا ناممکن ہو چکا ہے اور نظام کی اصلاح کے لیے فوری طور پر قدم اٹھانا ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت اور اپنی ذات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ سندھ کے وزیراعلیٰ میرا سیاسی یا انتظامی وجود تسلیم کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہیں، ایسی صورت حال میں میں خود بھی انہیں کیسے تسلیم کر سکتا ہوں۔ انہوں نے واضح کیا کہ باہمی تعاون کے بغیر معاملات کو آگے بڑھانا انتہائی مشکل امر بن چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی مجموعی سیاسی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے خیبر پختونخوا میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کا براہ راست ذمہ دار وہاں کے وزیراعلیٰ کو ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستوں اور صوبوں کے امور اس انداز سے ہرگز نہیں چلائے جا سکتے جیسے وہاں کی موجودہ قیادت چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں اور حامیوں کو سنجیدہ مشورہ دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ تمام دوستوں کو اب بھی کہتا ہوں کہ وہ کسی بھی صورت میں ریاست مخالف رویہ اختیار نہ کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اور حکومتی پالیسیوں پر اعتراضات اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں مگر اس طرح ریاست کو تباہ نہیں کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی حب کراچی کے سنگین مسائل کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج دنیا خلا اور چاند پر کمندیں ڈال رہی ہے جبکہ ہمارے سب سے بڑے شہر میں معصوم شہری کتے کے کاٹنے سے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے اسی فیصد گھروں تک پینے کا صاف پانی ہی مہیا نہیں کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیفنس سے لے کر شہر بھر کی پسماندہ کچی آبادیوں تک پانی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے جس پر کسی کو کوئی پروا نہیں۔ انہوں نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ رات کے اوقات میں بجلی غائب رہتی ہے اور صبح کے وقت شہریوں کو گیس کی فراہمی بھی معطل رہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر کی اہم شاہراہوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی روڈ پچھلے سات سال سے انتہائی خستہ حال اور تباہی کا شکار پڑی ہے۔ اس طویل تاخیر اور سڑک کی خرابی کی وجہ سے پانچ سے سات لاکھ افراد کا روزگار شدید متاثر ہو چکا ہے اور تاجر پریشان ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کراچی کے قومی معیشت میں کردار کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے ملک کا ستر فیصد ریونیو دینے والے اس شہر کے بچے کھلے ہوئے گٹروں میں گر کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے ایک دلخراش واقعے کی یاد دہانی کرائی کہ محض تیس ہزار روپے مالیت کے ایک موبائل فون کی خاطر ایک اٹھارہ سالہ نوجوان کو بیدری سے قتل کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ جب وہ کراچی کے ان دردناک مسائل کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے چہرے پر کسی قسم کی مسکراہٹ نہیں آ سکتی کیونکہ حالات بہت زیادہ ابتر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر صوبائی حکومت کی جانب سے شہر کے مسائل کے حل کے لیے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا گیا تو وہ اس کی بھرپور حمایت کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مردم شماری کے اعداد و شمار پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے جس کی درست اور شفاف آبادی کو شمار کرنے کے لیے صوبائی حکومت کبھی تیار نہیں ہوتی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دو ہزار سترہ کی مردم شماری میں کراچی کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد دو ہزار تیئس کی مردم شماری میں اسی آبادی کو اچانک گھٹا کر ایک کروڑ تیس لاکھ بتا دیا گیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اس ناانصافی کا نوٹس لیا گیا اور مردم شماری کے عمل میں چار مرتبہ توثیق کے ساتھ توسیع کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توسیع کے اس عمل کے بعد کراچی کی اصل آبادی مزید تہتر لاکھ افراد کے اضافے کے ساتھ سامنے آئی اور سرکاری کاغذات کے مطابق اب کراچی کی آبادی دو کروڑ تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اتنی بڑی آبادی کے لیے وسائل کی تقسیم بھی اسی تناسب سے ہونی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ مالیاتی نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت قابلِ تقسیم محاصل میں سے ستاون اعشاریہ پانچ فیصد حصہ صوبوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ رواں مالی سال کے دوران تمام صوبوں کو مجموعی طور پر آٹھ ہزار آٹھ سو چوراسی ارب روپے کی خطیر رقم وفاق کی جانب سے فراہم کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبہ سندھ کو ملنے والے فنڈز کا حساب کتاب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اکیلے سندھ کو پچھلے سترہ برسوں کے دوران بائیس ہزار ارب روپے کے فنڈز دیے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی اور بھاری رقوم کے باوجود یہ وسائل عام عوام تک کیوں نہیں پہنچ پائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ فنڈز دیانت داری اور شفاف طریقے سے خرچ کیے جاتے تو پورے سندھ کو پچاس مرتبہ نئے سرے سے تعمیر کیا جا سکتا تھا۔ اندرون سندھ کے دیہی علاقوں کی حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ غریب خواتین پینے کا پانی حاصل کرنے کے لیے بارہ بارہ کلومیٹر کا طویل سفر کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دیہی سندھ کی خواتین مجبوری کے عالم میں جانوروں کے پانی پینے کی جگہوں اور تالابوں سے پانی بھرنے پر مجبور ہیں جو انسانی حقوق کا سنگین المیہ ہے۔ پمز ہسپتال کے منصوبے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ پولی کلینک ٹو کا منصوبہ مقررہ ایک سال کے عرصے میں مکمل کر لیا جائے گا جہاں فائر سیفٹی کے تمام معیاری انتظامات کیے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d8%b3%d9%86%d8%af%da%be-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d9%84-%da%86%da%be%d9%88%d9%b9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%b8%d8%a7%d9%85%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پمز ہسپتال کی نرس رضیہ نورین کیلئے تمغے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%85%d8%b2-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b1%d8%b3-%d8%b1%d8%b6%db%8c%db%81-%d9%86%d9%88%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%85%d8%b2-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b1%d8%b3-%d8%b1%d8%b6%db%8c%db%81-%d9%86%d9%88%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 23:17:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_صحت]]></category>
		<category><![CDATA[پمز_ہسپتال]]></category>
		<category><![CDATA[تمغہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رضیہ_نورین]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[طبی_خدمات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فرض_شناسی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/46/</guid>

					<description><![CDATA[نرسری میں زیر علاج نوزائیدہ بچے کی بروقت طبی امداد سے جان بچانے پر نرس کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کے معروف سرکاری ہسپتال، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں تعینات نرس رضیہ نورین نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کی ایک شاندار مثال قائم کر دی ہے۔ انہوں نے ہسپتال کی نرسری میں زیر علاج ایک نوزائیدہ بچے کی جان بچا کر انسانیت کی خدمت کا حق ادا کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی تفصیلات کے مطابق نرسری میں موجود ایک شیر خوار بچے کی حالت اچانک تشویشناک ہو گئی تھی، جس پر وہاں موجود نرس رضیہ نورین نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے ہنگامی طبی امداد فراہم کی۔ ان کی بروقت مداخلت اور درست طبی اقدامات کے باعث بچے کی سانسیں بحال ہوئیں اور اسے نئی زندگی ملی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں نرس کو انتہائی مستعدی کے ساتھ بچے کو بچاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ عوام اور سوشل میڈیا صارفین نے نرس کی اس جرات مندانہ اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو بے حد سراہا ہے اور انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نرس رضیہ نورین کی اس قابل ستائش کارکردگی کے پیش نظر اعلیٰ حکام کی جانب سے ان کے لیے تمغے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ محکمہ صحت کے دیگر عملے کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنے گا تاکہ وہ اپنے فرائض مزید تندہی سے سرانجام دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں صحت کے شعبے سے وابستہ افراد اکثر مشکل حالات میں کام کرتے ہیں، تاہم رضیہ نورین جیسے افراد اپنی محنت سے اس شعبے کا وقار بلند کرتے ہیں۔ ہسپتال انتظامیہ نے بھی ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں ایک بہترین نرس قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پمز ہسپتال وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا طبی مرکز ہے جہاں روزانہ ہزاروں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔ نرسری اور انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں کام کرنے والا عملہ انتہائی دباؤ میں ہوتا ہے، جہاں ایک لمحے کی غفلت بھی کسی کی جان لے سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رضیہ نورین نے ثابت کیا ہے کہ اگر نرسنگ کے شعبے میں کام کرنے والے افراد خلوص نیت سے اپنے فرائض انجام دیں تو بہت سی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔ ان کی اس کامیابی پر ہسپتال کے دیگر عملے نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے اور انہیں مبارکباد دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے اس طرح کے اقدامات سے طبی عملے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، جو کہ صحت کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے ناگزیر ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ رضیہ نورین کی یہ مثال دیگر ہسپتالوں کے عملے کے لیے بھی مشعل راہ ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نرسنگ کا پیشہ انسانیت کی خدمت کا دوسرا نام ہے، جس میں جذبہ ہمدردی اور صبر و تحمل کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ رضیہ نورین نے جس طرح بحرانی کیفیت میں اپنے اعصاب پر قابو رکھا، وہ نرسنگ کے شعبے کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں بھی ایسے قابل اور فرض شناس افراد موجود ہیں جو اپنی ذمہ داریوں کو عبادت سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف کرنا معاشرے کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آنے والے دنوں میں ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا جائے گا جس میں رضیہ نورین کو ان کی شاندار کارکردگی پر تمغہ دیا جائے گا۔ اس تقریب میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور ہسپتال کی انتظامیہ کے نمائندے شرکت کریں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے دیگر ہسپتالوں میں بھی اسی طرح کے واقعات کو سراہا جائے گا تاکہ طبی عملے کا مورال بلند رہے۔ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کی حوصلہ افزائی بھی انتہائی اہم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں، رضیہ نورین کی یہ کاوش نہ صرف ان کے خاندان کے لیے باعث فخر ہے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے کام میں مزید برکت عطا فرمائے اور انہیں اسی طرح انسانیت کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%85%d8%b2-%db%81%d8%b3%d9%be%d8%aa%d8%a7%d9%84-%da%a9%db%8c-%d9%86%d8%b1%d8%b3-%d8%b1%d8%b6%db%8c%db%81-%d9%86%d9%88%d8%b1%db%8c%d9%86-%da%a9%db%8c%d9%84%d8%a6%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
