<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پشاور_پولیس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1_%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 17 Oct 2026 19:58:34 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پشاور_پولیس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1152/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1152/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 19:58:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[خواتین]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رکشہ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%da%a9%db%81-%d8%aa%d9%88%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d8%a7%d9%85%d8%b9%d9%84%d9%88%d9%85-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[گلدرہ روڈ پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور کے گنجان آباد علاقے یکہ توت میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک رکشے کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں رکشے میں سوار دو خواتین موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔ یہ افسوسناک واقعہ تھانہ آغا میرجانی شاہ کی حدود میں گلدرہ روڈ پر پیش آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عینی شاہدین کے مطابق رکشہ معمول کے مطابق سڑک سے گزر رہا تھا کہ اچانک نامعلوم افراد نے اس پر گولیاں برسا دیں۔ فائرنگ کے بعد حملہ آور تیزی سے جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ خوفزدہ ہو گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی اطلاع ملتے ہی یکہ توت پولیس کی بھاری نفری ایس ایچ او ریاض کی قیادت میں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے قریبی ہسپتال کے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تاحال جاں بحق ہونے والی دونوں خواتین کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ پولیس شناخت کا عمل مکمل کرنے کے لیے نادرا اور دیگر ذرائع کی مدد لینے پر غور کر رہی ہے تاکہ ان کے لواحقین تک رسائی حاصل کی جا سکے اور واقعے کے محرکات کا تعین کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات کے مطابق پولیس اس پہلو پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا یہ واقعہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی اور محرک کارفرما ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ورثاء کے پہنچنے کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آ سکیں گے اور قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد جائے وقوعہ پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی جس کے باعث ٹریفک کی روانی بھی کچھ دیر کے لیے متاثر رہی۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول اور دیگر اہم شواہد قبضے میں لے لیے ہیں جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاقے میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرنے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا جا سکے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور پولیس کی جانب سے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی چیکنگ سخت کر دی گئی ہے تاکہ ملزمان کو شہر سے باہر نکلنے سے روکا جا سکے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو اس واقعے کے بارے میں کوئی معلومات حاصل ہوں تو وہ فوری طور پر قریبی تھانے سے رابطہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے پولیس کی جانب سے گشت کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے اور مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ پولیس نے یقین دلایا ہے کہ تحقیقات کو شفاف طریقے سے مکمل کیا جائے گا اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید تفتیش کے لیے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی جا رہی ہے جو اس کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جیسے ہی مقتولین کی شناخت ہو گی، تفتیش کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا جائے گا تاکہ ملوث عناصر تک پہنچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں امن و امان کے قیام کے لیے پولیس مسلسل کوشاں ہے اور اس واقعے کو ایک بڑی سیکیورٹی لیپس کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اعلیٰ پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جلد رپورٹ طلب کر لی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے مطابق تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ خواتین کو کس نے اور کیوں نشانہ بنایا ہے۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ ورثاء کے آنے کے بعد ہی مزید قانونی کارروائی آگے بڑھائی جائے گی اور حقائق کی روشنی میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1152/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پشاور میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں اور اجتماعات پر پابندی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/310/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/310/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Oct 2026 13:37:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتجاج_پابندی]]></category>
		<category><![CDATA[اسلحہ_نمائش_پابندی]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%af%d9%81%d8%b9%db%81-144-%d9%86%d8%a7%d9%81%d8%b0%d8%8c-%d8%ac%d9%84%d8%b3%db%92-%d8%ac%d9%84%d9%88%d8%b3%d9%88%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[ڈپٹی کمشنر پشاور نے شہر میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے تمام قسم کے احتجاج اور پانچ سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ نے سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے شہر بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ اس پابندی کا مقصد کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنا اور سکیورٹی کو فول پروف بنانا ہے۔ ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق اس حکم نامے کا نفاذ فوری طور پر ہو چکا ہے جس کے تحت شہر کی حدود میں ہر قسم کے عوامی اجتماعات اور دھرنوں پر مکمل پابندی ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق پشاور میں کسی بھی مقام پر جلسے، جلوس، اور احتجاجی مظاہرے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واضح کیا ہے کہ شہر میں امن و امان کی فضا کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے تاکہ شہریوں کے روزمرہ کے امور میں کوئی خلل نہ پڑے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلامیے میں اس بات پر بھی خصوصی زور دیا گیا ہے کہ پشاور میں دفعہ 144 کے نفاذ کے دوران کسی بھی عوامی مقام پر 5 سے زیادہ افراد کے اکٹھے ہونے پر بھی پابندی ہوگی۔ اگر کہیں بھی مقررہ تعداد سے زائد افراد غیر قانونی طور پر جمع ہوں گے تو ضلعی انتظامیہ فوری طور پر قانونی کارروائی عمل میں لائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر کے احکامات میں اسلحہ کی نمائش پر بھی مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ کسی بھی شہری کو پشاور کی حدود میں ہتھیار ساتھ لے کر چلنے یا اس کی نمائش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ جو بھی شخص یا گروہ اس حکم نامے کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا، اس کے خلاف کسی بھی قسم کی رعایت کے بغیر فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس ضمن میں تمام تھانوں کو خصوصی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوج داری دفعات کے تحت مقدمات درج کرنے کا تہیہ کیا ہے۔ قانون شکن عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا تاکہ شہر میں امن اور قانون کی حکمرانی کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے اور قانون ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور کی انتظامیہ نے شہر کے تمام باسیوں اور بالخصوص سیاسی و سماجی حلقوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ امن عامہ کے قیام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ضلعی احکامات کی پاسداری کرتے ہوئے کسی بھی غیر قانونی اجتماع کا حصہ نہ بنیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور حساس مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے شہر کی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نبرد آزما ہوا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی دارالحکومت میں اس طرح کے انتظامی اقدامات کا بنیادی مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور شہر میں معمول کی زندگی کو بلا تعطل جاری رکھنا ہے۔ ضلعی حکام کی جانب سے جاری کردہ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر متحرک ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور کے مختلف علاقوں میں انتظامی احکامات کی خلاف ورزی کی روک تھام کے لیے گشت بڑھا دیا گیا ہے اور داخلی و خارجی راستوں پر بھی سخت چیکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ امن دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوٹی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوام کی جانب سے بھی انتظامیہ کے اس قدم کو سراہا جا رہا ہے تاکہ شہر میں کسی بھی قسم کی بدنظمی یا انتشار کو روکا جا سکے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا یہ عزم ہے کہ قانون کی بالادستی کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا اور کسی کو بھی امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبے کے بڑے شہر میں اس قبل بھی حالات کی بہتری کے لیے ایسے احکامات جاری کیے جاتے رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنر آفس سے جاری کردہ اعلامیہ میں تمام شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے احکامات پر سختی سے عمل کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پشاور میں نافذ کی جانے والی دفعہ 144 کے نفاذ کی مدت کے دوران تمام متعلقہ محکمے ہائی الرٹ پر ہیں۔ انتظامیہ نے واضح کر دیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی فرد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/310/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
