<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پشاور_نیوز &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1_%d9%86%db%8c%d9%88%d8%b2/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:15 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پشاور_نیوز &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>خیبرپختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ: پی ٹی آئی میں سیاسی سرگرمیاں تیز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/2525/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/2525/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 08:56:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی_گروپ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آي_کے_پی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک_ইনصاف]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%88%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے حوالے سے تحریک انصاف کے اندر سیاسی جوڑ توڑ اور مشاورت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں نئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے انتخاب کے معاملے پر سیاسی سرگرمیاں اور لابنگ کا عمل کافی تیز ہو چکا ہے، جہاں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی ذرائع کے مطابق صوبے کی وزارتِ اعلیٰ کے منصب کے لیے پارٹی کے اراکینِ اسمبلی اور مرکزی رہنماؤں کے درمیان آراء میں کچھ اختلاف پایا جا رہا ہے اور مختلف تجاویز زیرِ غور ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر ایک با اثر گروپ نے علی امین گنڈاپور کو ایک بار پھر صوبے کا چیف ایگزیکٹو بنانے کے لیے بھرپور لابنگ کا آغاز کر رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بتایا گیا ہے کہ تیس سے زائد اراکینِ اسمبلی علی امین گنڈاپور کو دوبارہ وزارتِ اعلیٰ کی مسند پر دیکھنے کے خواہشمند ہیں اور اس مقصد کے لیے ان کی سرگرمیاں جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب پارٹی کے کچھ اہم مرکزی رہنماؤں کی یہ خواہش بھی سامنے آئی ہے کہ آئندہ وزیراعلیٰ کا تعلق ہزارہ یا بونیر کے علاقے سے ہونا چاہیے تاکہ توازن برقرار رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے حتمی مشاورت نہ ہونے کی صورت میں جو بھی نیا وزیراعلیٰ منتخب کیا جائے گا، اسے ایک عارضی انتظام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جب تک بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور حتمی رہنمائی حاصل نہیں ہوتی، پارلیمانی پارٹی کا منتخب کردہ شخص ہی اس ذمہ داری کو سنبھالے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی ارکان کے مابین رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے ایک الگ واٹس ایپ گروپ بھی بنائے جانے کی اطلاعات ہیں، جس کے ذریعے آراء کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان پی ٹی آئی خیبرپختونخوا شوکت یوسفزئی نے اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تاحال نئے وزیراعلیٰ کے تقرر سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ اگر سہیل آفریدی نااہل قرار پاتے ہیں تو ایسی صورت میں پارٹی قیادت باقاعدہ مشاورت کے بعد ہی کسی نئے نام کا حتمی فیصلہ کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ اس سے قبل صوبے کی بہترین نمائندگی کے لیے علی امین گنڈاپور کا نام پارلیمانی پارٹی کی طرف سے باضابطہ طور پر پیش کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نے پارٹی کے اندر کسی بھی قسم کی دھڑے بندی یا اندرونی گروہ بندی کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ واٹس ایپ گروپ صرف آپسی رابطے بحال رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی سطح پر سیاسی امور کے حوالے سے یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب پارٹی کے اندر مختلف آراء اور تجاویز پر غور و خوض کا سلسلہ جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ چند روز میں اس معاملے پر مزید اہم سیاسی ملاقاتیں اور فیصلے متوقع ہیں جن سے صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/2525/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کا آغاز</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1648/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1648/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 03:37:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[تجاوزات_کے_خلاف_آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک_کی_روانی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ضلعی_انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%b1%d8%a7%d8%ac-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[پشاور سمیت صوبے بھر میں ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی تعمیرات ہٹانے اور ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی انتظامیہ عوامی سہولت اور نظم و نسق کی بحالی کے لیے مکمل طور پر متحرک ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں پشاور اور دیگر اضلاع میں تجاوزات کے خلاف ایک وسیع آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق تجاوزات کے خلاف یہ کارروائیاں مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہیں۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد سڑکوں کی حدود کو اصل حالت میں بحال کرنا اور غیر قانونی تعمیرات کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور کے مختلف مصروف ترین مقامات بشمول رنگ روڈ، کوہاٹ روڈ، پشتہ خرہ چوک اور پی ڈی اے ٹول پلازہ کے اطراف میں کارروائیاں کی گئیں۔ ان مقامات پر سڑکوں کے کناروں پر قائم غیر قانونی ڈھانچوں کو بھاری مشینری کے ذریعے مسمار کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران خود فیلڈ میں موجود رہ کر ان آپریشنز کی نگرانی کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے سے شہریوں کو آمدورفت میں بڑی سہولت ملے گی اور ٹریفک کے مسائل میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو بھی متحرک کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ تجاوزات کے خلاف یہ مہم کسی تفریق کے بغیر جاری رہے گی تاکہ عوامی مقامات کو ہر قسم کے قبضے سے پاک کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کی جانب سے تجاوزات کے خلاف اس مہم کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے قبل غیر قانونی تعمیرات کے باعث سڑکوں پر ٹریفک جام رہنا ایک معمول بن چکا تھا۔ انتظامیہ نے شہریوں سے بھی اس مہم میں تعاون کی اپیل کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکام کے مطابق خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع میں بھی تجاوزات کے خلاف اسی طرح کی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔ انتظامیہ کا عزم ہے کہ جب تک تجاوزات کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، یہ آپریشن اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر راج کے نفاذ کے بعد انتظامی مشینری کی فعالیت میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ عوامی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر یہ کارروائیاں مستقل بنیادوں پر جاری رہیں تو صوبے میں نظم و ضبط کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ادارے بھی اس آپریشن میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے شہر کی خوبصورتی اور ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آپریشن کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ عوامی مفاد کے پیش نظر کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ صوبائی انتظامیہ عوامی خدمت کے دیگر امور پر بھی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ گورنر راج کے نفاذ کے بعد نئی حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے میں بہتری لائی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1648/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پشاور کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی عارضی طور پر معطل رہے گی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1375/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1375/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 23:58:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_این_جی_پی_ایل]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_این_جی_پی_ایل_پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_کنٹونمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_کام]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوئی_گیس]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d9%84%d9%81-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%82%d9%88%da%ba-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے پائپ لائن کی منتقلی اور مرمتی کاموں کے پیش نظر شیڈول جاری کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق پشاور کے متعدد علاقوں میں گیس کی فراہمی عارضی طور پر بند رہے گی۔ یہ اقدام شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کے تسلسل میں اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلامیے کے مطابق پشاور میں زکوڑی فلائی اوور اور جی ٹی روڈ پر مین پائپ لائن کی منتقلی کا کام کیا جائے گا۔ اس تکنیکی کام کے دوران پائپ لائن نیٹ ورک کو محفوظ بنانے کے لیے گیس کی سپلائی کو عارضی طور پر منقطع کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گیس کی بندش کا سلسلہ منگل 20 اکتوبر کی رات 9 بجے سے شروع ہوگا جو بدھ 21 اکتوبر کی صبح 5 بجے تک جاری رہے گا۔ اس دوران متعلقہ علاقوں میں گیس کا دباؤ کم ہونے یا مکمل بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایس این جی پی ایل کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق متاثر ہونے والے علاقوں میں پشاور کنٹونمنٹ ایریا، لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) اور اس کے ملحقہ علاقے شامل ہیں۔ ان علاقوں میں ہسپتال کی ضروریات کے پیش نظر متبادل انتظامات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں نوتھیا، گلبرگ، چارسدہ روڈ اور پجاگی روڈ کے رہائشی بھی اس بندش سے متاثر ہوں گے۔ انتظامیہ نے ان تمام علاقوں کے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس دورانیے کے لیے پہلے سے متبادل انتظامات مکمل کر لیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان سوئی ناردرن نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ گیس کی بندش کے دوران اپنے گھروں اور تجارتی مراکز میں گیس کے آلات کو مکمل طور پر بند رکھیں۔ یہ احتیاطی تدبیر گیس کی بحالی کے وقت کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ گیس کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرمتی کاموں کی تکمیل کے بعد گیس کی فراہمی کو مقررہ وقت پر بحال کر دیا جائے گا۔ صارفین کی سہولت اور حفاظت کو یقینی بنانا کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے تحت انفراسٹرکچر کی بہتری کا کام جاری ہے جس کے باعث اکثر اوقات یوٹیلیٹی لائنز کی منتقلی کی ضرورت پیش آتی ہے۔ شہری انتظامیہ اور متعلقہ ادارے ان کاموں کو جلد مکمل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق پائپ لائنز کی منتقلی سے مستقبل میں گیس کے بہاؤ میں بہتری آئے گی اور کسی بھی بڑے حادثے کے خطرات کم ہوں گے۔ اس طرح کے تکنیکی کاموں کے لیے عارضی بندش ایک معمول کا عمل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال یا گیس لیکیج کی شکایت کی صورت میں کمپنی کے ہیلپ لائن نمبرز پر فوری رابطہ کریں۔ ایس این جی پی ایل کی ٹیمیں کام کی نگرانی کے لیے فیلڈ میں موجود رہیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور کے رہائشیوں سے گزارش ہے کہ وہ اس دوران گیس کے چولہوں اور ہیٹر کے والوز کو اچھی طرح چیک کر لیں تاکہ بحالی کے وقت گیس ضائع نہ ہو۔ احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہر صارف کی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس عارضی بندش کے حوالے سے مزید معلومات کے لیے صارفین کمپنی کی ویب سائٹ یا قریبی ریجنل آفس سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔ انتظامیہ نے شہریوں کے تعاون کا شکریہ ادا کیا ہے جو اس مرمتی کام کے دوران درکار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مقررہ وقت کے اندر تمام تکنیکی کام مکمل کر لیے جائیں گے تاکہ شہریوں کو معمول کی زندگی میں کم سے کم دشواری کا سامنا کرنا پڑے۔ گیس کی فراہمی کی بحالی کے بعد صورتحال معمول پر آ جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1375/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی اے این پی کے صدر ایمل ولی خان سے ملاقات</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1122/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1122/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 16:36:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[اے_این_پی]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا_گورنر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_ملاقات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84-%da%a9%d8%b1%db%8c%d9%85-%da%a9%d9%86%da%88%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ملاقات کے دوران صوبے کی امن و امان کی صورتحال اور سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان سے تفصیلی مذاکرات کیے ہیں جن میں صوبے کے سیاسی مستقبل اور درپیش مسائل پر غور کیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کا بنیادی مقصد صوبے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کرنا تھا تاکہ تمام سیاسی قوتیں مل کر عوام کے مسائل کا کوئی مستقل حل تلاش کرسکیں اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جاسکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ملاقات کے دوران عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میاں افتخار حسین بھی موجود تھے جنہوں نے دیگر پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ صوبائی سیاسی امور پر اپنے خیالات کا کھل کر اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی نے بھی اس موقع پر ہونے والی گفتگو میں حصہ لیا اور صوبے کے انتظامی اور سیاسی چیلنجز کے حوالے سے اہم نکات پیش کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق صوبائی وزیر سردار حسین بابک کی موجودگی نے اس ملاقات کو مزید اہمیت دی کیونکہ انہوں نے پارلیمانی اور عوامی نوعیت کے مختلف امور پر اپنے تجربے کی روشنی میں تجاویز دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا میں پائیدار ترقی کا حصول اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تمام بڑی سیاسی جماعتیں باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اکٹھی نہ ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبے میں امن و امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے تمام سیاسی قیادت کے کردار پر سیرحصل گفتگو کی گئی اور اتفاق کیا گیا کہ امن کے بغیر کوئی بھی ترقیاتی منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حقوق کے حصول کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو مل کر مشترکہ حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ وفاق سے صوبے کے جائز حقوق بروقت حاصل کیے جاسکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام موجودہ حکومت کی اولین اور سب سے اہم ترجیح ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کے امن اور خوشحالی کے لیے حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ طور پر اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام سکھ کا سانس لیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر نے تمام سیاسی قائدین پر زور دیا کہ وہ اس حساس معاملے میں حکومت کی رہنمائی کریں اور اپنی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے مثبت اور تعمیری تجاویز پیش کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ حکومت سیاسی رہنماؤں کی طرف سے پیش کی جانے والی تمام تجاویز کا خیرمقدم کرے گی اور ان پر سنجیدگی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے اختتام پر دونوں اطراف سے اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اس قسم کے رابطے مستقبل میں بھی باقاعدگی سے جاری رکھے جائیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1122/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبرپختونخوا کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کیخلاف سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے پر مقدمہ درج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1076/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1076/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 10:58:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسمبلی_مراعات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_تی_آي_کےپی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ثریا_بی_بی]]></category>
		<category><![CDATA[چترال]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%da%a9%db%8c-%da%88%d9%be%d9%b9%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%be%db%8c%da%a9%d8%b1-%d8%ab%d8%b1%db%8c%d8%a7-%d8%a8%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کے خلاف سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے پر ضلعی انتظامیہ کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کرلی گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کے خلاف سرکاری گاڑی مبینہ طور پر واپس نہ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عمل میں لائی گئی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ انہیں دی گئی سرکاری گاڑی تاحال متعلقہ محکمے کے حوالے نہیں کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ اطلاعات کے مطابق ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کے خلاف یہ قانونی قدم ڈپٹی کمشنر چترال کی مدعیت میں اٹھایا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے متن میں بتایا گیا ہے کہ موصوفہ نے سرکاری زیر استعمال گاڑی کو مقررہ وقت پر واپس کرنے سے گریز کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب، ڈپٹی اسپیکر کے خاندانی ذرائع نے اس معاملے پر اپنا مؤقف بھی سامنے رکھا ہے اور ضلعی انتظامیہ کے الزامات پر ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے روز سے ثریا بی بی کے حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات نہیں ہیں کہ وہ کہاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندانی ذرائع نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ گاڑی انہیں رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر چترال کے دفتر کو اس سلسلے میں متعدد بار ٹیلیفون کالز کی گئیں اور گاڑی واپس لے جانے کا کہا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کے مطابق خاندانی افراد کا اصرار ہے کہ انہوں نے بارہا انتظامیہ کو گاڑی واپس لے جانے کی دعوت دی لیکن بار بار رابطہ کرنے کے باوجود کوئی بھی عملہ گاڑی حاصل کرنے کے لیے نہیں پہنچا۔ اس تمام صورتحال کے بعد اب قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل خیبرپختونخوا اسمبلی میں تین ماہ قبل اراکین اسمبلی کی مراعات، تنخواہوں اور الاؤنسز سے متعلق ترمیمی ایکٹ دو ہزار چھبیس منظور کیا گیا تھا جس کی تفصیلات بھی منظر عام پر آ چکی ہیں۔ اس قانون سازی کے بعد سے اراکین کی مراعات اور سرکاری وسائل کے استعمال کے حوالے سے مختلف بحثیں جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی اور انتظامی امور کے ماہرین کے مطابق سرکاری املاک اور گاڑیوں کی واپسی کے معاملات پر اکثر قانونی ضابطے سخت ہوتے ہیں۔ جب کوئی عوامی نمائندہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہوتا ہے یا اس کی حیثیت تبدیل ہوتی ہے تو اسے سرکاری اثاثہ جات فوری طور پر متعلقہ محکمے کو لوٹانا ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ واقعے میں ڈپٹی کمشنر چترال کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر کے بعد پولیس اور متعلقہ ادارے معاملے کی مزید جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ قانون کے مطابق اس معاملے میں کون سے اگلے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چترال اور پشاور کے سیاسی حلقوں میں اس خبر کے سامنے آنے کے بعد چہ مگوئیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ سیاسی مبصرین اس واقعے کو موجودہ سیاسی تناظر اور صوبائی اسمبلی کی اندرونی صورتحال کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی سطح پر بھی اس نوعیت کے خبروں پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے جہاں کچھ لوگ قانون کی بالادستی کی بات کرتے ہیں تو وہیں کچھ فریقین کے مؤقف کو بھی سامنے لانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد ضابطے کی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا اور تمام حقائق کا جائزہ لیا جائے گا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اس بات کا واضح تعین ہو سکے گا کہ گاڑی کی واپسی میں تاخیر کی اصل وجوہات کیا تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندانی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہیں اور اگر انتظامیہ اپنا مؤقف درست انداز میں سمجھنا چاہے تو وہ تعاون کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، گاڑی کی عدم واپسی کے اس تنازعے نے ایک نیا سیاسی پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی سطح پر اس طرح کے تنازعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں جہاں اراکین اور انتظامیہ کے درمیان مواصلاتی خلاء کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند دنوں میں اس معاملے کو بات چیت اور قانونی طریقوں سے حل کر لیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1076/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پشاور، حسن خیل میں پولیس پوسٹ پر حملہ ناکام، ایک اہلکار شہید</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/957/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/957/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 09:37:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_آپریشن]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_پوسٹ]]></category>
		<category><![CDATA[تراز_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[حسن_خیل]]></category>
		<category><![CDATA[دہشتگرد_حملہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%d8%ae%db%8c%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d9%be%d9%88%d8%b3%d9%b9-%d9%be%d8%b1-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[پشاور کے علاقے حسن خیل میں پولیس نے تیس سے زائد دہشت گردوں کا حملہ پسپا کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور کے نواحی علاقے حسن خیل میں پولیس کی ایک چوکی پر دہشت گردوں کی جانب سے کیا جانے والا بڑا حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بروقت اور مؤثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی تفصیلات کے مطابق پشاور کے حدود میں واقع حسن خیل میں پولیس پوسٹ پر نامعلوم اور مسلح دہشت گردوں نے رات کے وقت حملہ کیا۔ پولیس حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد تیس سے زائد تھی جنہوں نے مختلف سمتوں سے چوکی کو نشانہ بنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حملے کی نوعیت انتہائی شدید تھی کیونکہ حملہ آوروں نے جدید اور بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ پولیس پوسٹ پر فائرنگ کے ساتھ ساتھ دھماکہ خیز مواد کا بھی استعمال کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچایا جا سکے لیکن پولیس جوانوں کی مستعدی نے ان کی تمام کوششیں ناکام بنا دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی سی پی او پشاور میاں سعید نے واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں نے حسن خیل کی پولیس پوسٹ اسپین میلہ کو دو مختلف اطراف سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حملہ آوروں نے مؤسس درہ کی جانب سے پیش قدمی کرتے ہوئے بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہشت گردوں کے اس اچانک اور شدید حملے کے باوجود چوکی پر تعینات پولیس کے سولہ جوانوں نے انتہائی بہادری اور جرات کا مظاہرہ کیا۔ جوانوں نے گھبرانے کے بجائے فوری طور پر پوزیشن سنبھالی اور دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اہلکاروں کی جانب سے کی جانے والی جوابی فائرنگ اتنی مؤثر تھی کہ حملہ آوروں کو پاؤں رکھنے کی جگہ نہ ملی۔ اطلاعات کے مطابق پولیس کی شدید اور موثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں متعدد دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان پولیس کے مطابق دہشت گردوں نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے چوکی کے قریب دیسی ساختہ بارودی سرنگ یعنی آئی ای ڈی بھی نصب کی تھی جسے بعد میں ماہرین نے ناکارہ بنا دیا۔ اس بروقت کارروائی سے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا جو کہ پولیس کی بڑی کامیابی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تمام تر فائرنگ کے تبادلے اور بہادری کی جنگ کے دوران پولیس کے کانسٹیبل نے جام شہادت نوش کیا۔ شہید ہونے والے اہلکار نے فرض کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور مٹی کی حرمت کے لیے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کر دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس حملے میں پولیس کے دیگر تین جوان بھی زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اسپتال کے ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والے اہلکاروں کو طبی امداد دی جا رہی ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے فورا بعد پولیس کے اعلیٰ حکام اور اضافیف نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا اور فرار ہونے والے دہشت گردوں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی سی پی او پشاور میاں سعید نے پولیس جوانوں کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہمارے جوانوں نے جان پر کھیل کر دہشت گردوں کا حملہ پسپا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعظادہ کیا کہ فرار ہونے والے تمام عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بزدلانہ حملے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور اور اس کے گردونواح میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ تمام اہم تنصیبات اور پولیس چوکیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے موثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حلقوں اور سیاسی شخصیات نے بھی پشاور پولیس کے جوانوں کی اس جرات اور بہادری کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ شہید ہونے والے پولیس اہلکار کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جس نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں جان کی پرواہ نہیں کی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/957/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>گورنر خیبر پختونخوا کا پولیس شہدا اور زخمیوں کیلئے ریلیف پیکج میں نمایاں اضافے کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/954/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/954/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 09:17:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_ریلیف_پیکج]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_شہداء]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_اقدام]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%af%d9%88%d8%b1%d9%86%d8%b1-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%d8%b4%db%81%d8%af%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[فیصل کریم کنڈی نے کانسٹیبل سے لے کر اعلیٰ افسران تک شہدا پیکج اور مالی امداد بڑھانے کی منظوری دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے دفاع اور امن کے قیام کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے پولیس اہلکاروں کے ورثا اور دوران ڈیوٹی زخمی ہونے والے جوانوں کے لیے مالیاتی ریلیف پیکج میں تاریخی اضافے کا باضابطہ طور پر اعلان کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صوبے کے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر فورس کے حوصلے بلند کرنا اور ان کے اہلِ خانہ کو بہتر مالی تحفظ فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے فیصلوں کے مطابق کانسٹیبل سے لے کر انسپکٹر رینک تک کے شہدا کے لیے مالی پیکج ایک کروڑ دس لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ ستر لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ اس اضافے کا اطلاق تمام متعلقہ کیڈر کے افسران و جوانوں پر ہوگا جو فرض کی راہ میں شہید ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبے میں ڈی ایس پی اور اے ایس پی رینک کے افسران کے لیے شہدا پیکج کی رقم میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت اب یہ معاوضہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ روپے مقرر کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعلیٰ افسران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے بتایا کہ گریڈ اٹھارہ اور انیس کے شہدا کا معاوضہ تین کروڑ روپے کر دیا گیا ہے جبکہ گریڈ بیس اور اس سے اوپر کے افسران کے لیے یہ رقم بڑھا کر ساڑھے تین کروڑ روپے کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کی جانب سے فرائض کی انجام دہی کے دوران زخمی ہونے والے اہلکاروں کے لیے بھی امدادی رقم میں بڑا اضافہ کیا گیا ہے، جہاں زخمی جوانوں کا پیکج ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر پندرہ لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوران ڈیوٹی مستقل معذوری کا شکار ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لیے بھی خصوصی امداد کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت اب ایسے متاثرہ جوانوں کو پچاس لاکھ روپے کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پلاٹوں کی فراہمی کے نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ کانسٹیبل سے انسپکٹر تک کے شہدا کے ورثا کو پانچ مرلہ پلاٹ دینے کے بجائے اب ایک کروڑ اسی لاکھ روپے نقد دیے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح ڈی ایس پی اور اے ایس پی رینک کے شہدا کے ورثا کے لیے رہائشی معاونت کی مد میں ڈھائی کروڑ روپے کی رقم منظور کی گئی ہے تاکہ ان کے اہلِ خانہ کو بہترین رہائشی سہولتوں کا حصول ممکن بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گریڈ بیس اور اس سے زائد کے پولیس شہدا کے ورثا کو بھی پلاٹ کی تخصیص کے بجائے براہ راست سات کروڑ روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو ماضی کے مقابلے میں ایک بہت بڑا ریلیف ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر خیبر پختونخوا نے فلاحی اقدامات کو مزید وسعت دیتے ہوئے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ پولیس اہلکاروں کے والدین، بہن بھائیوں یا دیگر قریبی عزیزوں کی وفات پر تیس لاکھ روپے تک کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مختلف ذرائع ابلاغ کے مطابق اس پیکج کا مقصد صوبے میں خدمات انجام دینے والی پولیس فورس کو یہ باور کرانا ہے کہ ریاست اور حکومت اپنے شہدا کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہمیشہ تیار کھڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا پولیس طویل عرصے سے ملک میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار رہی ہے اور اس دوران فورس کے ہزاروں جوانوں نے مادرِ وطن کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حلقوں اور سماجی شخصیات کی جانب سے گورنر کے پی کے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے اور اسے پولیس فورس کے مورال کو بلند کرنے کے لیے ایک انتہائی بروقت اور اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/954/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پی ٹی آئی دہشتگردی کی حامی نہیں، جنگ میں فوج کے ساتھ ہیں: شوکت یوسفزئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/952/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/952/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 08:57:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_تحریک_انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_فنڈز]]></category>
		<category><![CDATA[پی_تی_آئی_کریک_داؤن]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%ad%d8%a7%d9%85%db%8c-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%ac%d9%86%da%af/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہماری جماعت مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ان کی جماعت کسی بھی سطح پر دہشتگردی کی حمایت یا پشت پناہی نہیں کرتی اور ملک دشمن عناصر کے خلاف جاری اس اہم جنگ میں قومی سلامتی کے اداروں اور پاک فوج کے ساتھ مکمل طور پر کھڑی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک نجی ٹی وی کے مارننگ پروگرام میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ہمیشہ ہر قسم کے دہشتگردانہ واقعات کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور ملک سے اس ناسور کے مستقل خاتمے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس عزم کا بھرپور اعادہ کیا کہ مادر وطن کے دفاع، سلامتی اور امن و امان کے قیام کے لیے پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے جو عظیم قربانیاں پیش کر رہے ہیں، پوری قوم ان کے شانہ بشانہ ہے اور اس ضمن میں سیاسی صفوں میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں پایا جاتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم موجودہ ملکی سیاسی صورتحال اور حکومتی اقدامات پر بات کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر نے شدید شکوہ کیا کہ ملک میں دہشتگردی کے خاتمے کے نام پر اقدامات کیے جانے کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کے خلاف منظم انداز میں کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ ایسے غیر منصفانہ اقدامات سے بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کا اصل ہدف ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ نہیں بلکہ سیاسی انتقام کے ذریعے پاکستان تحریک انصاف کو سیاسی میدان سے باہر کرنا یا کمزور کرنا مقصود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسفزئی نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران جماعت کے پرامن کارکنوں کو بلاجواز نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کارروائیوں کی آڑ میں مبینہ طور پر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو بری طرح پامال کیا جا رہا ہے جو کہ کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے میں قطعی طور پر قابل قبول نہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی مذاکرات کے حوالے سے ماضی کے تناظر پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ ملک کی بہتری، جمہوریت کے استحکام اور سیاسی ہم آہنگی کے لیے مختلف ادوار میں مذاکرات کا سلسلہ چلتا رہا ہے، کیونکہ ان کی جماعت نے کبھی بھی بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے اور ہمیشہ سیاسی مکالمے کو ترجیح دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ان کی جماعت ہمیشہ آئین اور قانون کے مقرر کردہ دائرے کار میں رہ کر پرامن سیاسی جدوجہد پر پختہ یقین رکھتی ہے اور پُرامن احتجاج کرنا ہر سیاسی کارکن کا بنیادی جمہوری حق ہے جسے طاقت کے زور پر دبانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبرپختونخوا کے حوالے سے پولیس کے فنڈز اور بجٹ کے بارے میں مخالفین کی طرف سے لگائے جانے والے بے بنیاد الزامات کا دوٹوک جواب دیتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت نے اپنے مجموعی بجٹ کا خاطر خواہ اور مؤثر حصہ پولیس فورس کی تربیت، فلاح و بہبود اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے مختص کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے اپنے مالیاتی بجٹ کا پورے دو فیصد تک کا حصہ صرف پولیس پر خرچ کیا تاکہ صوبے میں امن و عامہ کی ابتر صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید تقاضوں کے مطابق پوری طرح لیس کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر بھی گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا کہ محض سیاسی چپقلش اور ذاتی اختلافات کی بنیاد پر پوری ایک عوامی سیاسی جماعت کو دہشتگردی کی پشت پناہی کرنے کا طعنہ دینا یا اس سے منسوب کرنا سراسر ناانصافی، حقائق کے یکسر منافی اور سیاسی مخالفین کی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شوکت یوسفزئی نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ سیاسی بنیادوں پر کی جانے والی اس قسم کی تمام امتیازی کارروائیوں کو فی الفور روکا جائے اور ملک میں حقیقی معنوں میں قومی یکجہتی، رواداری اور باہمی تعاون کی سازگار فضا قائم کی جائے تاکہ ریاست کو اس وقت درپیش سنگین چیلنجز اور مسائل سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ کڑے حالات میں جب ملک کو اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر گوناگوں خطرات کا سامنا ہے، تمام سیاسی قوتوں کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کی سلامتی، بقا اور استحکام کے لیے متحد ہونا ہو گا تاکہ وطن عزیز کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/952/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پشاور: نجی سکول کی چھت گرنے سے 34 افراد جاں بحق، پرنسپل گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/931/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/931/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 01:37:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[تعمیراتی_غفلت]]></category>
		<category><![CDATA[حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دیر_کالونی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریسکیو_1122]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%86%d8%ac%db%8c-%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%da%a9%db%8c-%da%86%da%be%d8%aa-%da%af%d8%b1%d9%86%db%92-%d8%b3%db%92-34-%d8%a7%d9%81%d8%b1%d8%a7%d8%af/</guid>

					<description><![CDATA[دیر کالونی میں واقع نجی سکول کی خستہ حال عمارت کا ملبہ گرنے سے 33 طلبا اور ایک ٹیچر زندگی کی بازی ہار گئے، ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی سکول کی چھت گرنے سے 34 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں زیادہ تر کم عمر طلبا شامل ہیں۔ حادثے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور امدادی ٹیموں نے فوری طور پر کارروائی شروع کر دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو 1122 کے حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 6 سے 14 سال کی عمر کے 33 بچے اور 25 سالہ ٹیچر ثمرین بی بی شامل ہیں۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب سکول میں تدریسی عمل جاری تھا اور بچے کلاس رومز میں موجود تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سکول کی عمارت انتہائی خستہ حال تھی اور اچانک چھت گرنے سے تین کلاس رومز ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے تلے دبے بچوں کو نکالنے کی کوشش کی، جس کے بعد ریسکیو حکام پہنچ گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے واقعے کو سنگین غفلت قرار دیتے ہوئے بتایا کہ سکول کی عمارت پر ضرورت سے زیادہ بوجھ تھا اور تعمیراتی معیار انتہائی ناقص تھا۔ پولیس نے سکول کے پرنسپل کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایس ایس پی آپریشنز فرحان احمد کے مطابق سکول ایک تنگ گلی میں واقع تھا جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ریسکیو ٹیموں نے چار سے پانچ گھنٹے طویل آپریشن کے بعد تمام ملبہ ہٹا کر کارروائی مکمل کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سکول کی عمارت میں پکا لینٹر ڈالنے کے بجائے پہلے سے تیار شدہ چھتیں نصب کی گئی تھیں جو بچوں کا وزن برداشت نہ کر سکیں۔ ملبے کے نیچے دبنے والے بچوں کی تعداد تقریباً 110 بتائی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ گورنر نے متعلقہ حکام سے سکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ کیا سکول کی عمارت کا کبھی معائنہ کیا گیا تھا اور تعمیراتی ضوابط کی خلاف ورزی کیوں کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقامی افراد نے بتایا کہ سکول کی عمارت انتہائی تنگ گلی میں واقع ہونے کے باعث ایمبولینسوں کا داخلہ مشکل تھا۔ حادثے کے وقت ملبے کے بڑے بڑے حصے بچوں پر گرے، جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ان کی بھانجی پینسل خریدنے کے لیے سکول سے باہر نکلی تھی جس کی وجہ سے وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہی۔ اس نے بتایا کہ جیسے ہی وہ واپس سیڑھیوں پر پہنچی، چھت گر گئی اور ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریسکیو 1122 کے ریجنل ڈائریکٹر عارف خٹک نے بتایا کہ آپریشن میں 100 اہلکاروں، 18 ایمبولینسوں اور تین ہیوی ڈیوٹی گاڑیوں نے حصہ لیا۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سکول کا پرنسپل ایجوکیشن ٹرسٹ کے تحت ادارہ چلا رہا تھا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق عمارت کی تعمیر میں سنگین غفلت برتی گئی تھی، جس کے باعث یہ افسوسناک حادثہ پیش آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حادثے والی جگہ کے قریب جانے سے گریز کریں کیونکہ عمارت کا ڈھانچہ مزید کمزور ہو چکا ہے اور مزید نقصان کا خدشہ موجود ہے۔ علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/931/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پشاور میں نجی اسکول کی عمارت منہدم، انکوائری کمیٹی قائم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/903/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/903/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 22:17:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[breaking]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول_حادثہ]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول_عمارت]]></category>
		<category><![CDATA[امدادی_کارروائیاں]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[حکومتی_اقدامات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%b4%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%86%d8%ac%db%8c-%d8%a7%d8%b3%da%a9%d9%88%d9%84-%da%a9%db%8c-%d8%b9%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%aa-%d9%85%d9%86%db%81%d8%af%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[پشاور میں نجی اسکول کی عمارت گرنے سے پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں نجی اسکول کی عمارت منہدم ہونے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد انتظامیہ نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں۔ اسکول کے مالک خان محمد کے مطابق عمارت کی بنیاد ڈیڑھ سال قبل رکھی گئی تھی اور حالیہ بارشوں کے باعث یہ حادثہ رونما ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسکول کے مالک کا کہنا ہے کہ عمارت کی دوسری منزل پر واقع ایک کمرہ گرنے سے نچلی منزل کے کمرے بھی متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ کلاس روم میں تقریباً 30 طلبہ موجود تھے جبکہ اسکول میں کل طلبہ کی تعداد 350 کے قریب ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کی اطلاع ملتے ہی اساتذہ اور مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کاموں میں حصہ لیا۔ اسکول انتظامیہ کے مطابق ملبے کے نیچے دبے تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے اور کسی قسم کی مزید جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب محکمہ تعلیم کے حکام نے اس واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ سیکرٹری ایجوکیشن عنایت اللہ وسیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکرٹری ایجوکیشن نے مزید کہا کہ اسکول کی عمارت مخدوش حالت میں تھی جس کی اطلاع محکمہ تعلیم کو نہیں دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اب صوبے بھر کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا خصوصی معائنہ کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اسکول حادثے میں زخمی ہونے والے بچوں کے علاج معالجے کے تمام اخراجات صوبائی حکومت برداشت کرے گی۔ اس حوالے سے متعلقہ ہسپتالوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈپٹی کمشنر پشاور نے بھی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے تصدیق کی ہے کہ ملبے کے نیچے سے تمام طلبہ اور عملے کو نکال لیا گیا ہے اور اب علاقے میں صورتحال قابو میں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پشاور میں ہونے والے اس حادثے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے تمام نجی اسکولوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی عمارتوں کی سٹرکچرل فٹنس سرٹیفکیٹ جلد از جلد جمع کرائیں۔ کسی بھی قسم کی غفلت برتنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی جلد اپنی رپورٹ مرتب کرے گی جس میں حادثے کی اصل وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔ اس رپورٹ کی روشنی میں آئندہ کے لیے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واقعے کے بعد متاثرہ اسکول کو تاحکم ثانی بند کر دیا گیا ہے اور طلبہ کی تعلیم کو جاری رکھنے کے متبادل انتظامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ محکمہ تعلیم اس حوالے سے جلد ہی کوئی حتمی فیصلہ کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/903/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
