<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.29.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پریس_کانفرنس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%b1%db%8c%d8%b3_%da%a9%d8%a7%d9%86%d9%81%d8%b1%d9%86%d8%b3/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:45 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پریس_کانفرنس &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>فیصل واوڈا کے ’ری بوٹ‘ اور کارکردگی کے بیانات پر سیاسی ہلچل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84-%d9%88%d8%a7%d9%88%da%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b1%db%8c-%d8%a8%d9%88%d9%b9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1%da%a9%d8%b1%d8%af%da%af%db%8c-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84-%d9%88%d8%a7%d9%88%da%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b1%db%8c-%d8%a8%d9%88%d9%b9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1%da%a9%d8%b1%d8%af%da%af%db%8c-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 11:18:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_اباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پریس_کانفرنس]]></category>
		<category><![CDATA[پیپلز_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84-%d9%88%d8%a7%d9%88%da%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b1%db%8c-%d8%a8%d9%88%d9%b9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1%da%a9%d8%b1%d8%af%da%af%db%8c-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[سینیٹر فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس اور مختلف اشاروں پر سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں سینیٹر فیصل واوڈا کی جانب سے کی جانے والی ایک پریس کانفرنس نے ملکی سیاسی منظر نامے پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ان کے اس خطاب میں استعمال ہونے والی مختلف اصطلاحات اور اشاروں کو سیاسی مبصرین کی جانب سے گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے نظام کی از سر نو ترتیب کے لیے ری بوٹ کی اصطلاح استعمال کی جس پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض مقامات پر وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد کوئی دوسرا مفہوم لینے کے بجائے اصلاحات سے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے خیبر پختونخوا کے موجودہ انتظامی سیٹ اپ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اس کی کارکردگی کو بنیادی پیمانہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں قائم ہونے والے بندوبست کی کامیابی کا دارومدار صرف دعوؤں پر نہیں بلکہ عملی نتائج پر ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سینیٹر فیصل واوڈا نے واضح کیا کہ نئے انتظامی سیٹ اپ کے لیے ایک سو اسی دن کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم اس کی کارکردگی کا جائزہ مقررہ مدت سے پہلے تیس اور ساٹھ روز کے اندر بھی لیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر متعلقہ انتظامیہ مقررہ وقت میں بہتری لانے میں ناکام رہتی ہے تو اسے برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ جو کارکردگی دکھائے گا وہی عہدے پر رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں قائم ہونے والے اس نئے انتظامی تجربے کے حوالے سے انہوں نے زور دیا کہ اس معاملے میں ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے انگریزی جملے کا استعمال کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پریس کانفرنس کے دوران جب ان سے ان کے مخصوص انداز پر سوال کیا گیا تو انہوں نے ملک کے محافظین کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اداروں کی عزت کرنے سے ہی ملک کا وقار بلند ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین نے ان بیانات پر مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ کچھ مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ گفتگو صوبائی حکومت اور وفاقی سطح کے امور سے جڑے فیصلوں کا تسلسل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر بھی اس پریس کانفرنس کے مختلف تراشے تیزی سے زیرِ گردش رہے جن پر صارفین کی جانب سے طرح طرح کے تبصرے کیے گئے۔ بعض صارفین نے اس کو آئندہ دنوں کی بڑی سیاسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کچھ حلقوں نے اس گفتگو کو روایتی سیاست اور روایتی سیاست دانوں کے خلاف ایک سخت مؤقف کے طور پر دیکھا۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے خود کو روایتی سیاسی پس منظر سے ہٹ کر ایک مختلف کردار کے طور پر پیش کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ اس سے قبل بھی ان کے ایسے بیانات اور اندازِ گفتگو ذرائع ابلاغ کی زینت بنتے رہے ہیں۔ جنوری دو ہزار بیس میں بھی ان کا ایک ٹیلی وژن پروگرام کے دوران میز پر ایک علامت رکھنا ملک بھر میں بحث کا موضوع بنا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس واقعے کے بعد الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی نے اس پروگرام پر پابندی عائد کر دی تھی جس کے بعد وہ معاملہ بھی کافی طویل عرصے تک خبروں میں رہا تھا۔ فیصل واوڈا کا سیاسی سفر مختلف جماعتوں اور فیصلوں سے عبارت رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وہ دو ہزار اٹھارہ کے عام انتخابات میں کراچی سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور بعد ازاں وفاقی وزیر بھی رہے۔ تاہم دوہری شہریت کے تنازع اور دیگر قانونی مراحل کے بعد ان کا سیاسی سفر نئے موڑ پر آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دو ہزار اکیس میں وہ سندھ سے سینیٹر منتخب ہوئے لیکن بعد میں نااہلی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد وہ اپریل دو ہزار چوبیس میں ایک بار پھر ایوانِ بالا کے رکن بننے میں کامیاب ہو گئے تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ سیاسی صورتحال میں ان کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر سیاسی حلقوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ ان کی گفتگو کے حقیقی مقاصد اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مختلف سطح پر تجزیے کیے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%81%db%8c%d8%b5%d9%84-%d9%88%d8%a7%d9%88%da%88%d8%a7-%da%a9%db%92-%d8%b1%db%8c-%d8%a8%d9%88%d9%b9-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%d8%a7%d8%b1%da%a9%d8%b1%d8%af%da%af%db%8c-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مولانا فضل الرحمان کا خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا فیصلہ مسترد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 13:56:54 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پارلیمنٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پریس_کانفرنس]]></category>
		<category><![CDATA[پی_تی_آई]]></category>
		<category><![CDATA[جے_یو_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/163/</guid>

					<description><![CDATA[حکومت نے مذاکرات کے دوران مطالبات پر اتفاق کے باوجود وعدہ خلافی کی، جے یو آئی سربراہ کی پریس کانفرنس۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے حکومتی اقدام کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے آئین اور جمہوریت کے منافی قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی حکومت نے سیاسی مذاکرات میں طے پانے والے معاملات کے برعکس وعدہ خلافی کی ہے اور ثالثی کا کردار سونپنے کے باوجود یکطرفہ فیصلے کیے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمرے کی ادائیگی کے بعد واپسی پر اپوزیشن رہنماؤں نے ان سے ملاقات کی تھی اور موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے مطابق، اس کے اگلے روز وفاقی وزرا بھی ان کی رہائش گاہ پر آئے اور انہیں یہی ذمہ داری سونپتے ہوئے سیاسی ڈیڈلاک ختم کرنے میں مدد کی اپیل کی، جس کے بعد انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جے یو آئی کے سربراہ نے بتایا کہ حکومت کا مؤقف تھا کہ پہلے تحریک انصاف کی جانب سے لانگ مارچ ختم کیا جانا چاہیے، جبکہ دوسری طرف پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ عمران خان سے ملاقات کرائی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پی ٹی آئی کا یہ بھی اصرار تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو طبی سہولتوں کی فراہمی اور ان کے اسپتال منتقلی کے عدالتی فیصلے پر من و عن عمل درآمد کیا جائے تاکہ فضا بہتر ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر تجویز دی کہ دونوں فریق انہیں ثالثی اور حتمی فیصلے کا اختیار دیں، اور اس سلسلے میں خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے بتایا کہ کانفرنس کال کے ذریعے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سمیت دیگر اہم رہنماؤں سے تفصیلی گفتگو کی گئی اور صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سہیل آفریدی نے اس یقین دہانی کا اظہار کیا تھا کہ اگر حکومت ان کے بنیادی مطالبات تسلیم کر لے تو تحریک انصاف فوری طور پر اپنا لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ پیشرفت کے بعد وہ دوبارہ وزیراعظم ہاؤس گئے اور وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ پی ٹی آئی معاملات کو پرامن طریقے سے حل کرنے اور لانگ مارچ ختم کرنے پر رضا مند ہو گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا ارادہ تھا کہ وہ پشاور جا کر صوبائی قیادت سے حتمی بات چیت کریں گے اور دونوں فریقوں کے دو دو رہنماؤں کو بٹھا کر باضابطہ مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کابینہ کے اجلاس کے دوران انہیں فون پر مطلع کیا کہ حکومت صوبے میں مبینہ دہشت گردی کے تناظر میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مولانا فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ جب انہیں باقاعدہ ثالثی کا کردار دیا گیا تھا اور معاملات مثبت سمت میں جا رہے تھے تو پھر کابینہ نے فوری طور پر خود فیصلہ کیوں کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کے حالات اس صوبے سے زیادہ ابتر ہیں، لیکن وہاں گورنر راج نافذ کرنے کے بجائے صرف یہیں توجہ دی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیکیورٹی آپریشنز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماضی کے تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات اور حکمت عملی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر صوبائی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے کوئی ابہام یا سوالات موجود ہیں، تو اس کا حل غیر آئینی یا مسلط کردہ طریقوں سے نہیں نکالا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مشترکہ احتجاج کے امکانات بھی موجود ہیں اور ضرورت پڑنے پر الگ احتجاج کا لائحہ عمل بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا جواب وزیراعظم شہباز شریف سے لیا جانا چاہیے کہ آیا وہ فیصلوں کے معاملے میں مکمل بااختیار تھے یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/%d9%85%d9%88%d9%84%d8%a7%d9%86%d8%a7-%d9%81%d8%b6%d9%84-%d8%a7%d9%84%d8%b1%d8%ad%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
