<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پتنگ_بازی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%aa%d9%86%da%af_%d8%a8%d8%a7%d8%b2%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Mon, 02 Nov 2026 09:26:29 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پتنگ_بازی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لاہور پولیس کا کریک ڈاؤن، 242 ملزمان گرفتار اور سامان برآمد</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/4670/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/4670/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Nov 2026 08:45:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اشتہاری_مجرمان]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم_پیشہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈی_آئی_جی_آپریشنز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[غیر_قانونی_اسلحہ]]></category>
		<category><![CDATA[فیصل_کامران]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[منشیات_فروش]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/lahore/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%a9-%da%88%d8%a7%d8%a4%d9%86-242-%d9%85%d9%84%d8%b2%d9%85%d8%a7%d9%86/</guid>

					<description><![CDATA[شہر بھر میں کارروائیوں کے دوران پانچ گینگز، منشیات فروش اور اشتہاری دبوچ لیے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے مختلف مقدمات میں ملوث 242 ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائیاں امن عامہ کو برقرار رکھنے اور جرائم کے خاتمے کے لیے عمل میں لائی گئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران شہریوں کی جمع پونجی اور قیمتی سامان لوٹنے والے 5 مختلف گینگز کے 10 ارکان کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرفتار کیے جانے والے ان گینگز کے ارکان کے قبضے سے مجموعی طور پر آٹھ لاکھ روپے مالیت کا لوٹا ہوا سامان بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق شہر میں غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور اس کی کھلے عام نمائش کرنے والے افراد کے خلاف بھی سخت قدم اٹھایا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور نمائش پر 13 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن کے قبضے سے 13 پستول اور درجنوں گولیاں برآمد ہوئیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منشیات فروشوں کے خلاف جاری مہم کے دوران پولیس نے مختلف کارروائیوں میں 23 ملزمان کو دبوچ لیا جو کہ اس قبیح دھندے میں ملوث تھے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس کا بتانا ہے کہ ان منشیات فروشوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئی جس میں 11 کلو 922 گرام چرس شامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منشیات کے خلاف اس کارروائی میں چرس کے علاوہ 3 کلو 560 گرام آئس اور 38 لیٹر شراب بھی ملزمان کے قبضے سے برآمد کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھی پولیس کا شکنجہ کسا گیا اور اس ضمن میں کل 54 مقدمات درج کیے گئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی اور اس خونی کھیل میں ملوث ہونے کے الزام میں پولیس نے 55 ملزمان کو موقع پر یا بعد ازاں گرفتار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں شہریوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس نے ہراس منٹ میں ملوث 9 ملزمان کے خلاف بھی فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے طویل عرصے سے قانون کی گرفت سے باہر اور مختلف مقدمات میں مطلوب 116 اشتہاری مجرمان اور عدالتی مفروران کو بھی حراست میں لے لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ دیگر مختلف نوعیت کے جرائم میں ملوث پائے جانے والے 8 ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے متعلقہ انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرفتار تمام ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ ان کے دیگر ساتھیوں اور نیٹ ورک کا بھی سراغ لگایا جا سکے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/4670/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور: مجاہد سکواڈ کی کارروائی، پتنگیں اور ڈور فروخت کرنے والے 2 ملزمان گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/2234/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/2234/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 00:18:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%ac%d8%a7%db%81%d8%af-%d8%b3%da%a9%d9%88%d8%a7%da%88-%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[مجاہد سکواڈ نے ناکہ گلویڑہ اور شیراکوٹ کے علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں ممنوعہ سامان برآمد کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں پتنگ بازی کے خونی کھیل کی روک تھام کے لیے مجاہد سکواڈ نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ تازہ ترین کارروائی کے دوران پولیس نے دو مختلف مقامات سے پتنگیں اور ڈور فروخت کرنے والے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کے مطابق مجاہد سکواڈ کی ٹیموں نے ناکہ گلویڑہ اور شیراکوٹ کے علاقوں میں خفیہ اطلاع ملنے پر چھاپے مارے۔ ان کارروائیوں کا مقصد شہر میں پتنگ بازی کے ممنوعہ سامان کی ترسیل اور فروخت کو روکنا تھا جس سے اکثر حادثات رونما ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گرفتار ہونے والے ملزمان کی شناخت حمزہ اور عمیر کے ناموں سے ہوئی ہے۔ پولیس نے ان کے قبضے سے پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی ڈور کی 44 چرخیاں اور درجنوں پتنگیں برآمد کر لی ہیں، جنہیں قبضے میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">برآمد شدہ سامان کو بطور ثبوت محفوظ کر لیا گیا ہے اور ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے متعلقہ تھانوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کی جانب سے بھی پتنگ بازی کے خلاف پولیس کی کارروائیوں کو سراہا گیا ہے۔ انتظامیہ نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس خطرناک کھیل سے دور رکھیں اور پتنگ بازی کے نقصانات کے بارے میں انہیں آگاہ کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ پتنگ بازی کے سامان کی تیاری، فروخت اور اسے استعمال کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رہے گا۔ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن پر دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پنجاب نے پتنگ بازی کو ایک سماجی برائی قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو خصوصی ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔ اس ضمن میں شہر کے مختلف مقامات پر ناکہ بندی اور گشت کے نظام کو مزید موثر بنایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پتنگ بازی کے خلاف مہم کا مقصد شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔ پولیس کی جانب سے پتنگ فروشوں کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا جا رہا ہے تاکہ اس کاروبار میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، پولیس نے پتنگ بازی کے سامان کی تیاری میں ملوث کارخانوں اور گوداموں پر بھی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیوں کا دائرہ کار مزید بڑھایا جائے گا تاکہ سپلائی لائن کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں سے گزارش کی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں پتنگ بازی کے فروغ میں ملوث افراد کی نشاندہی کریں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عوام کا تعاون ہی اس مہم کی کامیابی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ دنوں میں بھی پولیس کی جانب سے شہر کے مختلف حصوں میں سرچ آپریشنز اور ناکہ بندیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ پتنگ بازی کے خلاف سخت اقدامات کے ذریعے اس رجحان کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/2234/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں بسنت 2027 کے انعقاد کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/1973/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/1973/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 10:17:40 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت_2027]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_ڈور]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافتی_تہوار]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-2027-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%b9%d9%82%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a8%d8%a7%d8%b6%d8%a7%d8%a8%d8%b7%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[ڈپٹی کمشنر لاہور نے مارچ 2027 میں بسنت کے انعقاد کا اعلان کرتے ہوئے سخت حفاظتی شرائط اور ضابطہ کار جاری کر دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ڈپٹی کمشنر لاہور نے صوبائی دارالحکومت میں بسنت کے تہوار کے انعقاد سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے تحت آئندہ سال مارچ کے مہینے میں پتنگ بازی کی اجازت ہوگی۔ یہ فیصلہ شہر میں ثقافتی سرگرمیوں کی بحالی اور روایتی تہوار کے پرامن انعقاد کے لیے کیا گیا ہے تاکہ شہری ضوابط کے دائرے میں رہ کر اس سے لطف اندوز ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقررہ نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور میں بسنت کا تہوار بارہ سے چودہ مارچ دو ہزار ستائیس تک منایا جائے گا جس دوران مخصوص شرائط اور ضابطہ کار پر عمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ یہ اجازت صرف مخصوص علاقوں کے لیے ہے جبکہ حساس مقامات پر پابندی برقرار رہے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی احکامات کے مطابق پتنگوں اور ڈور کی تیاری کا عمل پانچ ستمبر سے چودہ مارچ تک جاری رہ سکے گا جبکہ سامان کی خریداری اور نقل و حمل کا آغاز یکم فروری سے ہو گا۔ اس کے علاوہ پتنگوں اور ڈور کی باقاعدہ فروخت دس فروری سے چودہ مارچ تک کی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ نے مینوفیکچررز اور دکانداروں کے لیے ڈیجیٹل رجسٹریشن لازمی قرار دی ہے اور یہ ہدایت کی ہے کہ صرف رجسٹرڈ دکاندار ہی پتنگ بازی کا سامان فروخت کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی اور خطرناک سامان کی تیاری کی حوصلہ شکنی کرنا اور کاروبار کو شفاف بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نوٹیفکیشن میں پتنگ اور گڈے کے سائز کی بھی حتمی حد مقرر کر دی گئی ہے تاکہ مقررہ پیمانے سے تجاوز نہ کیا جا سکے۔ ہدایت کے مطابق پتنگ کی لمبائی پینتیس انچ اور چوڑائی ساڑھے چار گٹھی سے زائد نہیں ہوگی جبکہ گڈے کا سائز بھی طے کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں اور شائقین کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے خطرناک ڈور، دھاتی تار اور نائلون کی ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ ڈور کی تیاری میں صرف مجاز اور محفوظ مواد کے استعمال کی سخت ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موٹر سائیکل سواروں کے لیے حفاظتی اقدامات کے تحت گاڑیوں پر سیفٹی راڈز کی تنصیب کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ پتنگ کی ڈور سے ہونے والے حادثات کا تدارک کیا جا جا سکے اور سڑکوں پر سفر محفوظ بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضلعی انتظامیہ نے تمام رجسٹرڈ مینوفیکچررز اور دکانداروں کو یہ پابند کیا ہے کہ وہ اپنے پاس موجود اسٹاک اور اشیا کی فروخت کا مکمل ریکارڈ رکھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا عمل شفاف رکھا جائے گا تاکہ قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ بسنت کے ایام میں تمام حفاظتی شرائط اور ضابطہ کار پر سختی سے عملدرآمد کروائیں۔ کسی بھی قانون شکنی یا ممنوعہ سامان کی فروخت پر فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور انتظامیہ کا یہ اقدام ثقافتی روایت کی بحالی کے ساتھ ساتھ شہریوں کی سلامتی کو مقدم رکھنے کی عکاسی کرتا ہے تاکہ تہوار روایتی جوش و خروش اور امن کے ساتھ منایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ان ہدایات کا مقصد تمام شہریوں کے لیے ایک پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ روایتی تہوار کو بغیر کسی خوف کے منایا جا سکے۔ تمام متعلقہ اداروں کو اس سلسلے میں اپنی تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر بھر کے دکانداروں اور پتنگ سازوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی ڈیجیٹل رجسٹریشن کا عمل مکمل کریں تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی دشواری سے بچا جا سکے۔ غیر رجسٹرڈ افراد کو کسی بھی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سطح پر اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتياز کارروائی کی جائے گی تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/1973/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پتنگ بازی کیس: لاہور ہائیکورٹ نے ایس پی شیخوپورہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1959/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1959/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 23 Oct 2026 08:37:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[ایس_پی_شیخوپورہ]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[توہین_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شیخوپورہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d8%aa%d9%86%da%af-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d8%a7%db%8c%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[لاہور ہائیکورٹ نے شہری کے کریانہ سٹور سے پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر رقم لے جانے کے معاملے پر توہین عدالت کی درخواست پر ایس پی شیخوپورہ کو 29 اکتوبر کو طلب کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے پتنگ بازی کے ایک پرانے مقدمے میں ملوث نوجوان کے کریانہ سٹور سے ساٹھ ہزار روپے مبینہ طور پر لے جانے کے معاملے پر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے ایس پی شیخوپورہ غلام عباس کو 29 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس شہرام سرور چوہدری نے شہری محمد اشرف کی جانب سے دائر کردہ توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے بیٹے کے خلاف تھانہ صدر فاروق آباد میں پتنگ بازی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کی کارروائی کے دوران پولیس اہلکار درخواست گزار کے کریانہ سٹور پر پہنچے اور وہاں سے ساٹھ ہزار روپے کی نقدی مبینہ طور پر اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ مذکورہ مقدمہ اب خارج ہو چکا ہے اور درخواست گزار کا بیٹا بری ہو چکا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مقدمے سے بریت اور ایف آئی آر کے خاتمے کے باوجود پولیس اہلکاروں کی جانب سے لی گئی رقم تاحال واپس نہیں کی گئی ہے۔ اس معاملے پر انصاف کے حصول کے لیے متعلقہ حکام سے بھی بارہا رجوع کیا گیا تھا مگر کوئی شنوائی نہ ہو سکی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے عدالت کو مزید بتایا کہ اس سے قبل بھی لاہور ہائیکورٹ نے ڈی پی او شیخوپورہ کو قانون کے مطابق کارروائی کرنے کی واضح ہدایت کی تھی، تاہم عدالتی حکم کے باوجود تاحال اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پر متعلقہ پولیس افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عدالت نے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ایس پی شیخوپورہ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں پیش کردہ دستاویزات کے مطابق، یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب پولیس نے پتنگ بازی کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران درخواست گزار کے بیٹے کو نامزد کیا تھا۔ اس دوران پولیس کی جانب سے سٹور سے رقم اٹھانے کا الزام لگایا گیا جو کہ ایک سنگین معاملہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق، کسی بھی مقدمے کے دوران پولیس کی جانب سے کسی شہری کی نجی ملکیت یا نقدی کو قبضے میں لینے کے لیے قانونی ضابطہ کار کا ہونا ضروری ہے۔ اگر رقم بغیر رسید یا قانونی جواز کے لی گئی ہے تو یہ محکمہ پولیس کے لیے سوالیہ نشان ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر پولیس کے اعلیٰ حکام کو بھی درخواستیں دی تھیں لیکن کسی نے بھی ان کی دادرسی نہیں کی۔ اس مایوسی کے بعد ہی انہوں نے دوبارہ لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ انصاف مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے کیس کی سماعت کے دوران پولیس کے رویے پر برہمی کا اظہار کیا اور ایس پی شیخوپورہ کو طلب کر کے معاملے کی وضاحت مانگی ہے۔ اب 29 اکتوبر کو ہونے والی سماعت میں پولیس حکام کو اپنا مؤقف پیش کرنا ہوگا کہ رقم کیوں واپس نہیں کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پتنگ بازی کے خلاف پنجاب بھر میں پولیس کی جانب سے مہم جاری رہتی ہے، تاہم اس دوران شہریوں کی جانب سے پولیس کے غیر قانونی اقدامات یا بدسلوکی کی شکایات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔ عدالتیں ایسے معاملات میں شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحرک رہتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب عدالتی حکم کے باوجود ڈی پی او آفس کی جانب سے کارروائی نہ کی گئی۔ توہین عدالت کی کارروائی کا مقصد عدالتی احکامات کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے تاکہ کسی بھی شہری کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اب تمام تر نظریں 29 اکتوبر کی سماعت پر مرکوز ہیں جہاں ایس پی شیخوپورہ غلام عباس عدالت میں پیش ہو کر اس معاملے پر جواب دیں گے۔ عدالت کا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا پولیس اہلکاروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے گی یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1959/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں بسنت کے تہوار کی تاریخیں تبدیل، نئی تاریخوں کا اعلان</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/1568/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/1568/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 09:57:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامیہ]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_کابینہ]]></category>
		<category><![CDATA[تہوار]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافتی_سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%aa%db%81%d9%88%d8%a7%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[پنجاب کابینہ نے بسنت کی تاریخ میں تبدیلی کی سمری کی منظوری دے دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں بسنت کے روایتی تہوار کے انعقاد کے حوالے سے اہم حکومتی فیصلہ سامنے آیا ہے جس کے تحت اس سالانہ تہوار کی تاریخوں میں تبدیلی کر دی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کا بنیادی مقصد انتظامات کو بہتر بنانا اور شہریوں کے لیے تفریح کے مواقع کو منظم انداز میں فراہم کرنا ہے۔ پنجاب کابینہ نے اس سلسلے میں موصول ہونے والی سمری کی باضابطہ منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب نئی تاریخوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں اب بسنت کا تہوار بارہ، تیرہ اور چودہ مارچ دو ہزار ستائیس کو منایا جائے گا۔ پہلے سے طے شدہ نظام اور شیڈول میں اس تبدیلی کا مقصد انتظامی امور کو احسن طریقے سے انجام دینا اور سکیورٹی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو تیاری کے لیے مناسب وقت دینا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ اس تہوار کو روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا جائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو بھی ہر صورت یقینی بنایا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب کابینہ کے اس فیصلے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں نے اپنی تیاریاں شروع کر دی ہیں تاکہ مقررہ تاریخوں پر اس بڑے تہوار کو پرامن طریقے سے منعقد کیا جا سکے۔ محکمہ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بسنت کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات وضع کریں۔ اس تہوار کے حوالے سے حکومتی سطح پر ایس او پیز بھی تیار کیے جا رہے ہیں جن پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور کی تاریخی ثقافت میں بسنت کو ایک خاص مقام حاصل رہا ہے جس میں شہر کے اندرون علاقوں سمیت مختلف مقامات پر خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ طویل عرصے تک پابندی اور تعطل کے بعد جب حکومت کی طرف سے اس تاریخی تہوار کو بحال کرنے کے اقدامات کیے گئے تو عوام کی جانب سے بھرپور جوش و خروش دیکھا گیا۔ اب تاریخوں میں ردوبدل سے متعلقہ کاروباری طبقے اور بالخصوص پتنگ سازوں کو بھی اپنی سرگرمیوں کے لیے بہتر وقت مل جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت کی جانب سے اس امر پر خصوصی زور دیا گیا ہے کہ بسنت کے دوران کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام اداروں کو ہائی الرٹ رکھا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ ریسکیو اور دیگر امدادی ٹیموں کو بھی اس حوالے سے پیشگی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے گی کہ طے شدہ ضابطہ اخلاق پر من و عن عمل کیا جائے تاکہ کسی کی جان و مال کو خطرہ لاحق نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس تہوار کے حوالے سے لاہور کے شہریوں میں بھی زبردست جوش پایا جاتا ہے جو اس قدیم تہوار کی واپسی کے منتظر تھے اور اب نئی تاریخوں کے اعلان کے بعد ان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تہوار شہر کی رونقوں کو بحال کرنے اور روایتی کھانوں اور ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاجر برادری نے بھی اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے معاشی سرگرمیوں کو بھی تقویت ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت پنجاب کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ بسنت کے دوران تمام ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد ہو۔ پتنگ بازی کے شوقین افراد کے لیے بھی چند اصول و ضوابط بنائے گئے ہیں تاکہ کسی قسم کا حادثہ پیش نہ آئے۔ متعلقہ محکمے ان تمام امور کی کڑی نگرانی کریں گے اور کسی بھی قانون شکنی کی صورت میں فوری کارعمل کا مظاہرہ کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں بسنت کے انعقاد کے لیے انتظامیہ نے سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کا عزم ظاہر کیا ہے تاکہ شہر کا امن و امان ہر صورت برقرار رہے۔ پولیس اور دیگر سکیورٹی ادارے اس میگا ایونٹ کے دوران ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے بھی ایک جامع پلان تیار کر رہے ہیں۔ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس تہوار سے لطف اندوز ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بسنت کی تاریخوں میں تبدیلی کا یہ فیصلہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے انتظامی تعطل سے بچا جا سکے۔ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ تمام ادارے بروقت اپنی تیاریاں مکمل کریں تاکہ مارچ دو ہزار ستائیس میں ہونے والے اس تہوار کو شاندار طریقے سے منایا جا سکے۔ ثقافتی حلقوں نے اس حکومتی اقدام کو ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں بسنت کے تہوار کی نئی تاریخوں کے اعلان کے بعد شہر بھر میں ایک بار پھر اس تہوار کی تیاریاں زیر بحث آ گئی ہیں۔ شہری اور تاجر دونوں ہی اس بات کے منتظر ہیں کہ آنے والے مہینوں میں حکومت کی جانب سے اس حوالے سے مزید کیا اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اس تمام صورتحال میں انتظامیہ اور عوام کا باہمی تعاون ہی اس تہوار کی کامیابی کی اصل ضمانت ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/1568/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور میں بسنت کے انعقاد کے لیے 12 سے 14 مارچ کی تجویز پیش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/1089/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/1089/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 12:37:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامات]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_فروخت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تین_روزہ_بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈپٹی_کمشنر_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%da%a9%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%b9%d9%82%d8%a7%d8%af-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-12-%d8%b3%db%92-14/</guid>

					<description><![CDATA[ڈپٹی کمشنر لاہور نے بسنت کے انعقاد اور حفاظتی انتظامات سے متعلق جامع سمری پنجاب حکومت کو ارسال کر دی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں موسم بہار کے انتہائی مقبول اور تاریخی روایتی تہوار بسنت کے انعقاد کے حوالے سے ایک انتہائی اہم انتظامی پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں شہر کے اندر اس رنگا رنگ تہوار کو بحال کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے اس روایتی تہوار کے پرامن انعقاد اور اس کے تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دینے کی غرض سے اپنی ایک تفصیلی سمری صوبائی حکومت کو ارسال کر دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور نے اس ضمن میں تمام ضروری قانونی و انتظامی پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے تجاویز تیار کی ہیں جن پر اب حکومتِ پنجاب کی حتمی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اس مجوزہ پلان کے تحت لاہور شہر میں بسنت کا تہوار آئندہ برس مارچ کے مہینے میں منعقد کرنے کی تجویز باضابطہ طور پر سامنے رکھی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذرائع کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بسنت کے لیے رواں برس مارچ کی بارہ سے چودہ تاریخیں تجویز کی گئی ہیں جن پر عمل درآمد کے لیے اب حکومتی سطح پر غور و فکر کا سلسلہ جاری ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے سبز سگنل ملنے کے بعد ہی اس تہوار کے باقاعدہ انعقاد اور حتمی تاریخوں کا حتمی اور باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پیش کی گئی اس نئی سمری کے مطابق شہر کے مخصوص ممنوعہ زونز کو چھوڑ کر باقی تمام ضلع لاہور کی حدود میں باقاعدہ اور قانون کے دائرے میں رہ کر پتنگ بازی کی اجازت دینے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔ اس بات کو خصوصی طور پر یقینی بنایا جا رہا ہے کہ تہوار کے دوران شہری کھلے آسمان تلے محفوظ ماحول میں اپنی روایتی تفریح سے بھرپور انداز میں لطف اندوز ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتظامیہ کی جانب سے ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات کے تحت پتنگ بازی کے لیے صرف قانون کے مطابق قابلِ اجازت اور منظور شدہ میٹریل کے استعمال کی سخت شرط عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانا اور ماضی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے انتہائی مؤثر تدابیر اختیار کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مجوزہ سخت ضوابط کے تحت پتنگ اور ڈور تیار کرنے والے تمام کاریگروں اور کارخانوں کے لیے اپنی ڈیجیٹل رجسٹریشن کرانا لازمی قرار دیے جانے کی تجویز بھی اس پلان کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔ اس ڈیجیٹل رجسٹریشن کا مقصد پیداواری عمل پر کڑی نظر رکھنا اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو سختی کے ساتھ روکنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تجویز کردہ شیڈول کے مطابق پتنگوں اور ڈور کی تیاری کا عمل پانچ ستمبر سے چودھائی مارچ تک جاری رہنے کی اجازت ہوگی تاکہ وقت پر مارکیٹ کی طلب کو احسن طریقے سے پورا کیا جا سکے۔ اس طویل مدت میں تیارکنندگان کو ضابطے کے اندر رہتے ہوئے اپنی تیاریاں مکمل کرنے کا پورا موقع فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب تیار شدہ سامان کی مارکیٹ میں خریداری، نقل و حمل اور اس کے محفوظ طریقے سے ذخیرہ کرنے کی اجازت یکم فروری سے دینے کی تجویز بھی زیرِ غور رکھی گئی ہے۔ اس مرحلے پر بھی متعلقہ حکام کی جانب سے نقل و حمل پر پوری نظر رکھی جائے گی تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عام شہریوں کو پتنگیں اور ڈور فروخت کرنے کا عمل شروع کرنے کے لیے دس فروری کی تاریخ تجویز کی گئی ہے تاکہ تہوار کے آغاز سے قبل مارکیٹ میں ایک بہترین نظم و ضبط قائم رہ سکے۔ اس تاریخ کے مقرر ہونے کے بعد ہی بازاروں میں عام خریداروں کے لیے سامان کی باضابطہ دستیابی ممکن ہو سکے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضوابط کے انتہائی سخت نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ پتنگ اور ڈور کی خرید و فروخت صرف اور صرف رجسٹرڈ دکانداروں کے توسط سے کی جائے گی۔ کوئی بھی غیر رجسٹرڈ شخص یا دکاندار یہ حساس اشیاء بیچنے کا کسی بھی صورت میں مجاز نہیں ٹھہرایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بغیر کسی باضابطہ رجسٹریشن کے پتنگ اور ڈور بنانے، خریدنے، اپنے پاس ذخیرہ کرنے یا مارکیٹ میں فروخت کرنے پر مکمل قانونی پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اس طرح کے سخت اقدامات کا مقصد بازار میں صرف معیاری اور قانونی سامان کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان تمام مجوزہ ضوابط، تاریخوں اور ایس او پیز کا حتمی فیصلہ صوبائی حکومت کی باضابطہ منظوری کے ساتھ مشروط ہے اور حکومت ہی تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر اس بابت آخری حکم صادر کرے گی۔ شہریوں اور متعلقہ تاجر برادری کی جانب سے بھی اس اہم حکومتی فیصلے کا شدت کے ساتھ انتظار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس تہوار کو محفوظ بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کے تحفظ کے تقاضوں کو بھی ہر صورت پورا کیا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/1089/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور: ملت پارک پولیس کی کارروائی، پتنگ فروش اور گٹکا ڈیلر گرفتار</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/crime/1038/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/crime/1038/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 01:36:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[جرم و سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم]]></category>
		<category><![CDATA[جرائم_کا_خاتمہ]]></category>
		<category><![CDATA[جرم_و_سزا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/crime/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%d9%84%d8%aa-%d9%be%d8%a7%d8%b1%da%a9-%d9%be%d9%88%d9%84%db%8c%d8%b3-%da%a9%db%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d8%b1%d9%88%d8%a7%d8%a6%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کے قبضے سے بڑی مقدار میں ممنوعہ سامان برآمد کر لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے علاقے ملت پارک میں پولیس نے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے دو ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ کارروائی علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے سلسلے میں کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزمان میں ایک پتنگ فروش اور دوسرا گٹکا فروخت کرنے والا شخص شامل ہے۔ دونوں ملزمان کو مختلف مقامات پر چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا، جس کے بعد انہیں مزید تفتیش کے لیے متعلقہ تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پتنگ فروش ملزم کی شناخت سلمان کے نام سے ہوئی ہے جس کے قبضے سے درجنوں پتنگیں اور 15 چرخیاں برآمد کی گئی ہیں۔ پتنگ بازی پر پابندی کے باوجود شہر کے مختلف حصوں میں اس طرح کی سرگرمیاں جاری رہنا ایک تشویشناک امر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب گٹکا فروخت کرنے والے ملزم دانش کو بھی حراست میں لیا گیا ہے جس کے قبضے سے 3 ہزار پیکٹ گٹکا اور شیشہ فلیورز برآمد ہوئے ہیں۔ گٹکا اور مضر صحت اشیاء کی فروخت نوجوان نسل کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر لیے ہیں۔ ابتدائی قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ ان کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ شہر میں پتنگ بازی اور منشیات یا مضر صحت اشیاء کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ اس طرح کی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی تاکہ معاشرے کو ان برائیوں سے پاک کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">علاقہ مکینوں نے پولیس کی اس کارروائی کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پتنگ بازی اور گٹکا فروخت کرنے والے مافیا کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسی سرگرمیوں سے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہوتی ہے بلکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">واضح رہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں مقرر ہیں۔ اس کے باوجود کچھ عناصر چھپ کر یہ کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں جن کے خلاف پولیس متحرک ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح گٹکا اور شیشہ فلیورز کی فروخت بھی قانوناً جرم ہے کیونکہ یہ اشیاء کینسر جیسی مہلک بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے وقتاً فوقتاً ایسی اشیاء کے خلاف مہم چلائی جاتی ہے تاکہ نوجوانوں کو ان کے مضر اثرات سے بچایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس ذرائع کے مطابق انویسٹی گیشن ونگ اب ان ملزمان سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے گا کہ وہ یہ ممنوعہ سامان کہاں سے حاصل کرتے تھے اور ان کے پیچھے کون سے بڑے سپلائرز ملوث ہیں۔ اس تفتیش سے مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اردگرد ایسی غیر قانونی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن پر دیں۔ عوامی تعاون سے ہی جرائم کا خاتمہ ممکن ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملت پارک پولیس کی جانب سے کی گئی یہ کارروائی علاقے میں ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف ایک اہم پیش رفت ہے۔ پولیس کا عزم ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والے کسی بھی شخص کو رعایت نہیں دی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں بھی اس طرح کے آپریشنز کو مزید تیز کیا جائے گا تاکہ شہر میں امن و امان کی فضا برقرار رہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں کہ کوئی بھی غیر قانونی کاروبار معاشرے کو نقصان نہ پہنچا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/crime/1038/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب میں 10 روزہ بسنت منانے کا حکومتی اعلان لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/901/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/901/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 21:57:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سماعت]]></category>
		<category><![CDATA[شہرام_سرور_چوہدری]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_تحفظ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-10-%d8%b1%d9%88%d8%b2%db%81-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[شہری نے بسنت کے انعقاد کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے اس کا دورانیہ کم کرنے کی استدعا کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے میں دس روزہ بسنت منانے کے حالیہ اعلان کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ صوبائی دارالحکومت میں پتنگ بازی کے تہوار کے انعقاد پر عوامی حلقوں اور حکومتی منصوبہ بندی کے درمیان ایک نئی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے شہری شاہد اسلام کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ عدالت عالیہ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری جمعرات کے روز اس اہم معاملے پر سماعت کریں گے اور فریقین کے دلائل سنیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار نے اپنی پٹیشن میں پنجاب حکومت، چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، ڈپٹی کمشنر لاہور، آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بسنت کے لیے دس روزہ دورانیے کا اعلان کالعدم قرار دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کا موقف ہے کہ حکومت کی جانب سے 29 جنوری سے 7 فروری 2027 تک بسنت منانے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے، وہ عوامی تحفظ کے پیش نظر مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس تہوار کا دورانیہ کم کر کے صرف ایک دن تک محدود کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست میں گزشتہ برسوں کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پتنگ بازی کے دوران پیش آنے والے حادثات میں متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ دھاتی ڈور کے استعمال سے گلے کٹنے اور بجلی کے تاروں سے کرنٹ لگنے جیسے واقعات جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، درخواست گزار نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ دس روزہ طویل دورانیے کے باعث چھتوں سے گرنے کے واقعات اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ یہ سرگرمی شہریوں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کے منافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں اس معاملے پر ہونے والی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کا دفاع ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خواجہ محسن عباس کریں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومتی لاء افسر کی جانب سے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر قانونی اعتراضات اٹھائے جا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت اب یہ جائزہ لے گی کہ آیا بسنت کے انعقاد کے حکومتی فیصلے میں عوامی تحفظ کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے یا نہیں۔ اس کیس کا فیصلہ لاہور میں بسنت کے روایتی تہوار کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ پنجاب میں بسنت کے تہوار پر پابندی اور اس کی بحالی کا معاملہ ماضی میں بھی طویل عرصے تک زیر بحث رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بار تہوار کو منظم انداز میں منانے کے لیے دس دن کا وقت مختص کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کی ایک بڑی تعداد اس تہوار کی ثقافتی اہمیت کی قائل ہے، تاہم حفاظتی انتظامات اور انسانی جانوں کے تحفظ کو ہمیشہ ہی اولین ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ عدالت کا فیصلہ اس حوالے سے حتمی لائحہ عمل طے کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کو عدالت کس نظر سے دیکھتی ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اس بار سخت نگرانی کے ذریعے حادثات کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ میں دائر اس درخواست نے بسنت کے شوقین افراد اور انتظامیہ دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ اب تمام تر نظریں جسٹس شہرام سرور چوہدری کی عدالت میں ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں جہاں اس تنازع کا قانونی حل تلاش کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوامی مفاد اور ثقافتی سرگرمیوں کے درمیان توازن قائم کرنا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ عدالت کا فیصلہ نہ صرف بسنت کے دورانیے کا تعین کرے گا بلکہ مستقبل میں ایسے تہواروں کے انعقاد کے لیے ضابطہ اخلاق بھی طے کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/901/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
