<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.14.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پتنگ_بازی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%aa%d9%86%da%af_%d8%a8%d8%a7%d8%b2%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Thu, 15 Oct 2026 21:57:55 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پتنگ_بازی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پنجاب میں 10 روزہ بسنت منانے کا حکومتی اعلان لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-10-%d8%b1%d9%88%d8%b2%db%81-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-10-%d8%b1%d9%88%d8%b2%db%81-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 21:57:55 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بسنت]]></category>
		<category><![CDATA[پتنگ_بازی]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[زندہ_دلان_لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[سماعت]]></category>
		<category><![CDATA[شہرام_سرور_چوہدری]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_تحفظ]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور_ہائیکورٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-10-%d8%b1%d9%88%d8%b2%db%81-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[شہری نے بسنت کے انعقاد کو غیر محفوظ قرار دیتے ہوئے اس کا دورانیہ کم کرنے کی استدعا کر دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے میں دس روزہ بسنت منانے کے حالیہ اعلان کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ صوبائی دارالحکومت میں پتنگ بازی کے تہوار کے انعقاد پر عوامی حلقوں اور حکومتی منصوبہ بندی کے درمیان ایک نئی بحث کا پیش خیمہ ثابت ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے شہری شاہد اسلام کی جانب سے دائر کردہ درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا ہے۔ عدالت عالیہ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری جمعرات کے روز اس اہم معاملے پر سماعت کریں گے اور فریقین کے دلائل سنیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار نے اپنی پٹیشن میں پنجاب حکومت، چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، ڈپٹی کمشنر لاہور، آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ بسنت کے لیے دس روزہ دورانیے کا اعلان کالعدم قرار دیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کا موقف ہے کہ حکومت کی جانب سے 29 جنوری سے 7 فروری 2027 تک بسنت منانے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے، وہ عوامی تحفظ کے پیش نظر مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس تہوار کا دورانیہ کم کر کے صرف ایک دن تک محدود کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست میں گزشتہ برسوں کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پتنگ بازی کے دوران پیش آنے والے حادثات میں متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ دھاتی ڈور کے استعمال سے گلے کٹنے اور بجلی کے تاروں سے کرنٹ لگنے جیسے واقعات جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مزید برآں، درخواست گزار نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ دس روزہ طویل دورانیے کے باعث چھتوں سے گرنے کے واقعات اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے موقف اختیار کیا کہ یہ سرگرمی شہریوں کے بنیادی حقوق اور تحفظ کے منافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں اس معاملے پر ہونے والی سماعت کے دوران پنجاب حکومت کا دفاع ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خواجہ محسن عباس کریں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومتی لاء افسر کی جانب سے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر قانونی اعتراضات اٹھائے جا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت اب یہ جائزہ لے گی کہ آیا بسنت کے انعقاد کے حکومتی فیصلے میں عوامی تحفظ کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا گیا ہے یا نہیں۔ اس کیس کا فیصلہ لاہور میں بسنت کے روایتی تہوار کے مستقبل کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ پنجاب میں بسنت کے تہوار پر پابندی اور اس کی بحالی کا معاملہ ماضی میں بھی طویل عرصے تک زیر بحث رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بار تہوار کو منظم انداز میں منانے کے لیے دس دن کا وقت مختص کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کی ایک بڑی تعداد اس تہوار کی ثقافتی اہمیت کی قائل ہے، تاہم حفاظتی انتظامات اور انسانی جانوں کے تحفظ کو ہمیشہ ہی اولین ترجیح دی جاتی رہی ہے۔ عدالت کا فیصلہ اس حوالے سے حتمی لائحہ عمل طے کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی کارروائی کے دوران اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے حفاظتی اقدامات کو عدالت کس نظر سے دیکھتی ہے۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اس بار سخت نگرانی کے ذریعے حادثات کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ میں دائر اس درخواست نے بسنت کے شوقین افراد اور انتظامیہ دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ اب تمام تر نظریں جسٹس شہرام سرور چوہدری کی عدالت میں ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں جہاں اس تنازع کا قانونی حل تلاش کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عوامی مفاد اور ثقافتی سرگرمیوں کے درمیان توازن قائم کرنا انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ عدالت کا فیصلہ نہ صرف بسنت کے دورانیے کا تعین کرے گا بلکہ مستقبل میں ایسے تہواروں کے انعقاد کے لیے ضابطہ اخلاق بھی طے کر سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-10-%d8%b1%d9%88%d8%b2%db%81-%d8%a8%d8%b3%d9%86%d8%aa-%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%da%a9%d9%88%d9%85%d8%aa%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
