<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پبلک_ٹرانسپورٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%a8%d9%84%da%a9_%d9%b9%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:07 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پبلک_ٹرانسپورٹ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لاہور میں اے آر ٹی سسٹم نومبر کے تیسرے ہفتے میں فعال کرنے کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/1090/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/1090/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 12:37:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[استنبول_روٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اے_آر_ٹی_سسٹم]]></category>
		<category><![CDATA[بلال_اکبر_خان]]></category>
		<category><![CDATA[پبلک_پرائیویٹ_پارٹنرشپ]]></category>
		<category><![CDATA[پبلک_ٹرانسپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک_بہتری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%db%92-%d8%a2%d8%b1-%d9%b9%db%8c-%d8%b3%d8%b3%d9%b9%d9%85-%d9%86%d9%88%d9%85%d8%a8%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%aa%db%8c%d8%b3%d8%b1%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[صوبائی دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید خط استوار کرنے کے لیے آٹونومس ریپڈ ٹرانزٹ پراجیکٹ پر کام آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور کے باسیوں کو سفری سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے آٹونومس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کو آئندہ ماہ کے دوران آپریشنل کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس جدید پبلک ٹرانسپورٹ منصوبے کے آغاز سے صوبائی دارالحکومت میں آمدورفت کے نظام میں ایک نمایاں بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقررہ شیڈول کے مطابق نومبر کے تیسرے ہفتے میں اس جدید ٹرانسپورٹ سروس کا باضابطہ افتتاح کر دیا جائے گا جس کے بعد شہری اس سے بھرپور استفادہ کر سکیں گے۔ انتظامیہ اور متعلقہ محکمے اس ہدف کے حصول کے لیے تمام ضروری انتظامات کو جلد از جلد حتمی شکل دینے میں مصروف عمل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئی اور جدید بس سروس کے پہلے مرحلے کے لیے ایک مخصوص روٹ کا انتخاب کیا گیا ہے جس پر ٹریفک کو رواں دواں رکھنے میں مدد ملے گی۔ یہ سروس سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کلمہ چوک سے شروع ہو کر استنبول تک کے مقررہ راستے پر اپنی خدمات فراہم کرے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم ترین ٹرانسپورٹ منصوبے کی بروقت تکمیل اور اس کے تمام امور کو کامیابی کے ساتھ چلانے کی تمام تر ذمے داری صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کو سونپی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے ملنے والے اس ٹاسک کے تحت صوبائی وزیر خود تمام تیاریوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے منصوبے کی پیش رفت کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس جدید ترین سسٹم کے لیے کل چھ سیٹس درکار ہیں جن کی فراہمی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ درکار سیٹس میں سے دو سیٹس کامیابی کے ساتھ چین سے سمندری راستے کے ذریعے کراچی پہنچ چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ ٹرانسپورٹ کے حکام کے مطابق چین سے موصول ہونے والے ان دونوں سیٹس کو اب زمینی راستے کے ذریعے لاہور منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان کی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی امور کو پورا کیا جائے گا۔ باقی ماندہ سیٹس بھی بہت جلد پاکستان پہنچ جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ اس پورے منصوبے کی مجموعی آپریشنل لاگت چھ ارب روپے کے لگ بھگ تخمینہ لگائی گئی ہے جسے احسن طریقے سے چلانے کے لیے تمام مالی اور انتظامی امور کو طے کر لیا گیا ہے۔ حکومت پنجاب نے اس فنانشل ماڈل کو انتہائی پائیدار قرار دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ پراجیکٹ طویل مدت تک بغیر کسی مالی دباؤ کے چلتا رہے، حکومت نے اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ موڈ پر منتقل کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے نجی شعبے کی مہارت اور سرمایہ کاری سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس جدید آٹونومس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کی ایک اور انتہائی نمایاں اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ہر ایک سیٹ بیک وقت بڑی تعداد میں مسافروں کو سفر کی سہولت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے ایک سیٹ میں کل دو سو اسّی مسافر آرام سے بیٹھ کر سفر کر سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اتنی بڑی مسافر گنجائش کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں شہریوں کو اپنے روزمرہ کے کاموں کے لیے بروقت اور آرام دہ سفری سہولت میسر آئے گی، جس سے پبلک ٹرانسپورٹ پر دباؤ بھی کم ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور ٹریفک کے مسائل کے تناظر میں اس پراجیکٹ کو لاہور کی ٹرانسپورٹ تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نظام کے چلنے سے سڑکوں پر ذاتی گاڑیوں کا رش کم ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ اداروں کے اہلکار روٹ پر موجود اسٹیشنز اور سگنل سسٹمز کو اس جدید ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنے میں مصروف ہیں تاکہ جب نومبر کے تیسرے ہفتے میں سروس کا آغاز ہو تو کسی قسم کی تکنیکی رکاوٹ پیش نہ آئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عوامی حلقوں اور روزانہ سفر کرنے والے مسافروں نے اس منصوبے کے جلد آغاز کے فیصلے کو سراہا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے لاہور کے شہریوں کی دیرینہ ٹرانسپورٹ مشکلات کا مستقل حل نکل آئے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی ہدایات کے مطابق تمام متعلقہ محکمے اور ٹھیکیدار اس منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں اور اب نگاہیں نومبر کے تیسرے ہفتے پر مرکوز ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/1090/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سعودی عرب میں ریاض میٹرو کی توسیع، اربوں ریال کی نئی ٹرینوں کا معاہدہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/466/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/466/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 20:58:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اب్రహیم_بن_محمد_السلطان]]></category>
		<category><![CDATA[الستوم]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پبلک_ٹرانسپورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_کام]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرانسپورٹ_سسٹم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روڈ_پروجیکٹس]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریاض]]></category>
		<category><![CDATA[ریاض_میٹرو]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b1%db%8c%d8%a7%d8%b6-%d9%85%db%8c%d9%b9%d8%b1%d9%88-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%88%d8%b3%db%8c%d8%b9%d8%8c-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d9%88/</guid>

					<description><![CDATA[ریاض میٹرو کے فلیٹ میں اضافے کے لیے ساڑھے پانچ ارب ریال کی لاگت سے 94 نئی ٹرینیں خریدی جائیں گی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عوام کو سفر کی جدید اور بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اہم منصوبے کے تحت دارالحکومت کے اندر سفری ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رائل کمیشن فار ریاض سٹی کی جانب سے اس سلسلے میں ایک بڑا اقدام اٹھایا گیا ہے جس کے تحت میٹرو کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کے دائرہ کار کو وسیع کرنا اور مسافروں کو سفری سہولیات کی فراہمی میں بہتری لانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں تقریباً ساڑھے پانچ ارب سعودی ریال کی مالیت کے معاہدے طے پائے ہیں جن کے ذریعے ریاض میٹرو کے فلیٹ میں نئی ٹرینیں شامل کی جائیں گی۔ ان معاہدوں کا بنیادی مقصد میٹرو ٹرینوں کی مجموعی تعداد میں نمایاں اضافہ کرنا ہے تاکہ ٹرانسپورٹ کا نظام مزید فعال ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رائل کمیشن کے اس فیصلے کے تحت میٹرو فلیٹ میں موجودہ ٹرینوں کی تعداد کو بڑھایا جا رہا ہے جو اب ایک سو تریاسی سے بڑھ کر دو سو ستتر ہو جائے گی۔ اس اضافے کے لیے کل چورانوے نئی ٹرینیں خریدی جا رہی ہیں جو تمام روٹس پر مسافروں کا دباؤ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان نئی ٹرینوں کی مرحلہ وار ترسیل کا آغاز دو ہزار اٹھائیس سے متوقع ہے جس کے بعد یہ بتدریج اپنے مقررہ روٹس پر چلائی جائیں گی۔ اس حوالے سے رائل کمیشن کے حکام نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رائل کمیشن فار ریاض سٹی کے سی ای او ابراہیم بن محمد السلطان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اس منصوبے کا باضابطہ اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام دارالحکومت میں پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید موثر اور مربوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ابراہیم بن محمد السلطان نے مزید کہا کہ یہ توسیعی منصوبہ شہر میں بڑھتی ہوئی پبلک ٹرانسپورٹ کی طلب کو پورا کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس سے شہریوں کو سفر کے دوران بہترین سہولیات میسر آئیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق ریاض شہر میں تیزی سے بڑھتے ہوئے رہائشی، تجارتی اور تفریحی مراکز میٹرو پر مسافروں کی تعداد میں اضافے کا اہم سبب بن رہے ہیں۔ اسی تناظر میں حکومت نے سفری دباؤ کو کم کرنے کے لیے اس فلیٹ کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ نئی ٹرینیں بین الاقوامی معیار کے مطابق تیار کی جا رہی ہیں جنہیں عالمی شہرت یافتہ کمپنیوں کے ذریعے بنایا جا رہا ہے۔ ان ٹرینوں کی تیاری میں جدید انجینئرنگ کے اصولوں کو مدنظر رکھا گیا ہے تاکہ مسافروں کو پائیدار اور محفوظ سفر کی سہولت مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جرمن انجینئرنگ کمپنی سیمنز اور فرانسیسی ریل ساز ادارے الستوم کی تیار کردہ ان نئی ٹرینوں کو ریاض میٹرو کے نیٹ ورک میں شامل کیا جائے گا۔ یہ کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ریل گاڑیوں کی تیاری میں جانی جاتی ہیں جو دنیا بھر میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان نئی ٹرینوں کو ریاض میٹرو کی تمام چھ لائنوں پر مسافروں کی موجودہ اور متوقع طلب کے مطابق تقسیم کیا جائے گا۔ اس تقسیم کا مقصد ہر روٹ پر مسافروں کے تناسب کو بہتر بنانا اور کسی بھی ایک لائن پر رش کو کم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کے تحت ٹرینوں کی تعداد بڑھنے سے مختلف لائنوں کی مسافر برداری کی صلاحیت میں شاندار اضافہ متوقع ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ریڈ لائن پر مسافروں کی گنجائش میں ایک سو بیالیس فیصد تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح یلو لائن پر ایک سو سولہ فیصد اور بلیو لائن پر ساٹھ فیصد اضافے کی توقع کی جارہی ہے جو کہ اس منصوبے کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ اورنج لائن اور پرپل لائن پر بھی مسافروں کی گنجائش میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ اعداد و شمار کے مطابق بلیو لائن کی یومیہ مسافر برداری کی صلاحیت تقریباً تین لاکھ چالیس ہزار ہے جو بڑھ کر پانچ لاکھ تتیس ہزار تک پہنچ جائے گی۔ دوسری جانب ریڈ لائن کی صلاحیت ایک لاکھ چون ہزار سے بڑھ کر تین لاکھ ستر ہزار مسافروں تک پہنچ جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریاض شہر میں صرف میٹرو کا نظام ہی نہیں بلکہ سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو بھی وسیع کرنے پر تیزی سے کام جاری ہے۔ حکام کی جانب سے ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور توسیع کے منصوبے بھی زیرِ عمل ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مین اینڈ رنگ روڈ ایکسسز ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت تقریباً سات سو کلومیٹر طویل سڑکوں اور تین سو سے زائد بڑے چوراہوں پر کام جاری ہے۔ اس پروگرام کے تحت سڑکوں کے نیٹ ورک کو جدید بنایا جا رہا ہے تا کہ ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سڑکوں کے ترقیاتی پروگرام میں تین سو سے زائد پلوں اور اسی سرنگوں کی تعمیر بھی شامل ہے جو شہر کے مختلف حصوں کو آپس میں ملائیں گی۔ یہ تمام اقدامات دارالحکومت میں ٹریفک کے مسائل کو مستقل طور پر حل کرنے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رائل کمیشن کی رپورٹس کے مطابق طائف روڈ کو قدیہ سے ملانے والے منصوبے پر تعمیراتی کام کا بڑا حصہ مکمل ہو چکا ہے۔ اس منصوبے پر اب تک اکیاسی فیصد کام کامیابی کے ساتھ مکمل کیا جا چکا ہے جو ایک اہم سنگِ میل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/466/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
