<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.3"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پاک_آئی_ڈی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%a7%da%a9_%d8%a2%d8%a6%db%8c_%da%88%db%8c/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:32:54 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پاک_آئی_ڈی &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کا حصول اب انتہائی آسان، طریقہ کار جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2183/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2183/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 18:37:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_آئی_ڈی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رجسٹریشن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شادی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانونی_معلومات]]></category>
		<category><![CDATA[کراچی]]></category>
		<category><![CDATA[کوئٹہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%db%8c%d8%b1%d8%ac-%d8%b1%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86-%d8%b3%d8%b1%d9%b9%db%8c%d9%81%da%a9%db%8c%d9%b9-%da%a9%d8%a7-%d8%ad%d8%b5%d9%88%d9%84-%d8%a7%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[شادی کے بعد نکاح کا باقاعدہ اندراج قانونی طور پر ضروری ہے، جس کے لیے یونین کونسل اور نادرا کی ڈیجیٹل سہولیات دستیاب ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں شادی کے بندھن میں بندھنے والے جوڑوں کے لیے نکاح کا باقاعدہ اندراج کروانا نہ صرف ایک اہم قانونی تقاضا ہے بلکہ مستقبل کی مختلف ضروریات کے لیے بھی انتہائی ناگزیر ہے۔ شادی کے بعد میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کا حصول ایک لازمی عمل ہے جو جوڑے کو قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے دلہا یا دلہن میں سے کوئی بھی ایک متعلقہ یونین کونسل سے رجوع کر سکتا ہے۔ اس عمل کے لیے کچھ بنیادی دستاویزات کی فراہمی ضروری ہے جن میں نکاح خواں کی جانب سے جاری کردہ اصل نکاح نامہ شامل ہونا لازمی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کو دلہا اور دلہن کے قومی شناختی کارڈز کی کاپیاں فراہم کرنی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں فریقین کے والد کے شناختی کارڈز اور نکاح کے وقت بطور گواہ موجود افراد کے شناختی کارڈز کی نقول بھی دستاویزات کے ساتھ منسلک کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متعلقہ یونین کونسل میں درخواست جمع کروانے کے بعد وہاں کا عملہ فراہم کردہ تمام معلومات اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔ تصدیق کا عمل مکمل ہونے کے بعد نکاح کا اندراج یونین کونسل کے سرکاری ریکارڈ اور نظام میں باقاعدگی سے کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اندراج کے بعد درخواست گزار کو فراہم کردہ تفصیلات کا ایک پرنٹ آؤٹ دیا جاتا ہے تاکہ وہ پروف ریڈنگ کر سکیں۔ اس مرحلے پر جوڑے کو تمام معلومات کو غور سے دیکھنا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی غلطی یا املا کی کوتاہی کو بروقت درست کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کی جانب سے تفصیلات کی تصدیق اور پروف ریڈنگ پرنٹ پر دستخط کرنے کے بعد اسے یونین کونسل کے عملے کے حوالے کیا جاتا ہے۔ دستخط شدہ دستاویز موصول ہونے کے بعد یونین کونسل کی جانب سے باقاعدہ میرج رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نادرا نے بھی اس عمل کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ مخصوص اضلاع میں اب یہ سہولت نادرا کی پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے بھی حاصل کی جا سکتی ہے، جس سے شہریوں کا کافی وقت بچتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جن اضلاع میں یہ ڈیجیٹل سہولت فی الحال دستیاب ہے ان میں جہلم، چکوال، ننکانہ صاحب، کوئٹہ اور کراچی شرقی شامل ہیں۔ ان علاقوں کے رہائشی اب گھر بیٹھے یا ایپ کے ذریعے اپنی درخواست کے عمل کو آگے بڑھانے کی سہولت سے استفادہ کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شادی شدہ جوڑوں کے لیے یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ نکاح کے فوری بعد اندراج کا عمل مکمل کروا لیں۔ اس طرح شادی کا ایک مصدقہ سرکاری ریکارڈ بن جاتا ہے جو مستقبل میں پاسپورٹ، ویزا یا دیگر قانونی دستاویزات کے حصول میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نادرا کے ریکارڈ میں اپنی ازدواجی حیثیت کو اپ ڈیٹ کروانا بھی شہریوں کی اہم ذمہ داری ہے۔ اس سے نہ صرف نادرا کا ڈیٹا بیس درست رہتا ہے بلکہ خاندان کے افراد کو شناختی کارڈ یا دیگر دستاویزات بنواتے وقت کسی قسم کی پیچیدگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ نکاح کا بروقت اندراج نہ کروانے سے بعد ازاں قانونی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ لہذا، تمام شہریوں کو چاہیے کہ وہ یونین کونسل کے مقرر کردہ طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے اپنے میرج سرٹیفکیٹ کا حصول جلد از جلد یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہری کسی بھی قسم کی رہنمائی کے لیے اپنی متعلقہ یونین کونسل کے دفتر سے رابطہ کر سکتے ہیں جہاں عملہ انہیں رجسٹریشن کے مراحل کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم کر سکتا ہے۔ درست معلومات کی فراہمی سرٹیفکیٹ کے جلد اور بروقت اجرا کو یقینی بناتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ عمل شفافیت اور قانونی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ تمام دستاویزات مکمل ہوں اور درخواست گزار خود یا اپنے مجاز نمائندے کے ذریعے متعلقہ دفتر میں پیش ہو۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2183/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نادرا کا شہریوں کے لیے ازدواجی حیثیت کی فوری تجدید کا اہم پیغام</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2148/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2148/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 14:17:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ازدواجی_حیثیت]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_آئی_ڈی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_نادرا]]></category>
		<category><![CDATA[خاندانی_ریکارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رجسٹریشن_اتھارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[شناختی_کارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%86%d8%a7%d8%af%d8%b1%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%b4%db%81%d8%b1%db%8c%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d8%a7%d8%b2%d8%af%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d8%ad%db%8c%d8%ab%db%8c%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی ازدواجی حیثیت میں تبدیلی کا ریکارڈ فوری طور پر اپ ڈیٹ کروائیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے شہریوں کے لیے ایک اہم ہدایتی پیغام جاری کیا ہے جس میں ازدواجی حیثیت کی بروقت تبدیلی اور اسے سرکاری ریکارڈ میں اپ ڈیٹ کروانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ ادارے کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ زندگی کے اہم موڑ پر ازدواجی حیثیت تبدیل ہونے کے بعد اسے نادرا کے نظام میں درج کروانا ہر شہری کی قانونی اور انتظامی ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے کے ترجمان کے مطابق شادی کے بعد یونین کونسل سے کمپیوٹرائزڈ نکاح نامہ یا میرج سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا عمل مکمل ہوتے ہی شہریوں کو چاہیے کہ وہ بلا تاخیر نادرا کے ڈیٹا بیس میں بھی اس کی تجدید کروائیں۔ اس عمل سے نہ صرف دفتری ریکارڈ درست رہتا ہے بلکہ شہریوں کو مستقبل میں کسی بھی قسم کی قانونی یا انتظامی پیچیدگیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ازدواجی حیثیت کی اس تبدیلی سے ریاست کے پاس شہریوں کے خاندانی نظام کا درست اور شفاف ریکارڈ تشکیل پاتا ہے۔ خاندان کی تشکیل نو کا یہ درست ڈیٹا حکومت کو فلاحی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی میں مدد فراہم کرتا ہے جس سے اجتماعی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ نادرا کے نظام میں ازدواجی حیثیت کے درست اندراج کی بدولت بعد میں بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ، نادرا کے بی فارم اور شناختی کارڈ بنوانے کا عمل انتہائی آسان ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بیرون ملک سفر یا پاسپورٹ کے حصول کے دوران بھی درست خاندانی ریکارڈ انتہائی معاون ثابت ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ضرورت پڑنے پر شہری با آسانی فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور جانشینی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کی سہولت سے مستفید ہو سکتے ہیں اگر ان کا ازدواجی ریکارڈ وقت پر اپ ڈیٹ شدہ ہو۔ یہ دستاویزات وراثت کے معاملات اور دیگر قانونی امور میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں جن کی درستگی ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نادرا نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ ریکارڈ کی بروقت تجدید نہ ہونے کی صورت میں شہریوں کو خاندانی دستاویزات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے تمام شادی شدہ جوڑوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس ذمہ داری کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کی سہولت کے لیے نادرا نے اس عمل کو انتہائی آسان اور قابل رسائی بنا دیا ہے تاکہ کسی کو بھی دفاتر کے غیر ضروری چکر نہ کاٹنے پڑیں۔ شہری اپنے قریبی نادرا رجسٹریشن سینٹر کا دورہ کر کے یا پھر گھر بیٹھے اس عمل کو مکمل کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کے تحت نادرا نے آن لائن سہولت بھی فراہم کی ہے جس کے ذریعے گھر بیٹھے اپنی ازدواجی حیثیت تبدیل کروائی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے شہری جدید ترین پاک آئی ڈی موبائل ایپلیکیشن کا استعمال کرتے ہوئے اپنی درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے شناختی دستاویزات میں ترامیم کا یہ طریقہ کار شہریوں کا قیمتی وقت بچاتا ہے اور دفاتر میں رش کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں شہریوں کو ان ڈیجیٹل سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے تمام عوام سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ قانون کا احترام کرتے ہوئے اور اپنی ذاتی دستاویزات کو ہمیشہ شفاف اور درست حالت میں رکھنے کے لیے اس اہم ہدایت پر لازمی عمل درآمد کریں۔ بروقت اندراج ہی ایک منظم اور ذمہ دار شہری کی علامت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں مزید کہا گیا ہے کہ یونین کونسل سے جاری ہونے والے کمپیوٹرائزڈ میرج سرٹیفکیٹ کو قانونی دستاویز کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اسناد کی یہ تصدیق نادرا کے نظام میں خاندان کی تشکیل کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کو اس بات کی بھی تلقین کی گئی ہے کہ وہ شادی کے فوراً بعد اس قانونی مرحلے کو مکمل کریں تاکہ کسی بھی ناگہانی ضرورت یا ہنگامی صورتحال میں خاندانی سرٹیفکیٹ کے حصول میں رکاوٹ نہ آئے۔ قانونی تقاضوں کو پورا کرنا ہر شہری کا فریضہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتی سطح پر قائم کردہ یہ ضابطہ کار دراصل عوام کی بہتری اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ نادرا کا ڈیٹا بیس ہمیشہ تازہ ترین معلومات سے لیس رہے۔ تمام رجسٹرڈ شہریوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان ہدایات پر سنجیدگی سے عمل کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2148/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نادرا کا جدید موبائل رجسٹریشن سسٹم متعارف، شہریوں کو دہلیز پر سہولیات ملیں گی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1169/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1169/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 21:37:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[بائیومیٹرک]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_آئی_ڈی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیجیٹل_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شناختی_کارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_سہولیات]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%86%d8%a7%d8%af%d8%b1%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d8%ac%d8%af%db%8c%d8%af-%d9%85%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d8%b1%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b1%db%8c%d8%b4%d9%86-%d8%b3%d8%b3%d9%b9%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے مقامی سطح پر تیار کردہ جدید ٹیبلٹ ڈیوائسز کے ذریعے شناختی خدمات کی فراہمی کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کی سہولت کے لیے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی سے لیس موبائل رجسٹریشن سسٹم کا آغاز کر دیا ہے۔ اس نئے نظام کے تحت اب شہریوں کو شناختی کارڈ اور رجسٹریشن کے لیے نادرا دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس مقصد کے لیے نادرا نے خصوصی طور پر تیار کردہ ٹیبلٹ ڈیوائسز متعارف کرائی ہیں جو مکمل طور پر پاکستان میں تیار کی گئی ہیں۔ یہ اقدام ملکی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے اور عوامی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان جدید ٹیبلٹس میں نادرا کا خصوصی &#039;پاک آئی ڈی&#039; سافٹ ویئر نصب کیا گیا ہے، جس کی مدد سے نادرا کے متعلقہ افسران کسی بھی علاقے میں جا کر شہریوں کو رجسٹریشن کی سہولیات فراہم کرنے کے اہل ہوں گے۔ یہ نظام موبائل سروس ڈلیوری کے تصور کو عملی جامہ پہناتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ڈیوائس کی سب سے نمایاں خصوصیت اس میں نصب جدید بائیومیٹرک ٹیکنالوجی ہے۔ اس کے ذریعے شہریوں کے فنگر پرنٹس، تصاویر اور آنکھوں کے سکین یعنی آئرس کیپچر کرنا انتہائی آسان ہو گیا ہے، جس سے شناختی عمل میں شفافیت اور درستگی یقینی بنتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کے مطابق، یہ موبائل یونٹس خاص طور پر ان یونین کونسلز اور علاقوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوں گے جہاں شہریوں کا رش زیادہ ہوتا ہے۔ اب نادرا کا عملہ ان علاقوں میں جا کر فوری طور پر رجسٹریشن کا عمل مکمل کر سکے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس نئی سہولت کا بنیادی مقصد نادرا کی خدمات کو روایتی مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے شہریوں کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔ اس سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کو بھی شناختی کارڈ کے حصول میں درپیش مشکلات سے نجات ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے نظام سے شہریوں کو طویل قطاروں میں کھڑے ہونے اور گھنٹوں انتظار کرنے کی زحمت سے بھی چھٹکارا حاصل ہوگا۔ نادرا کی جانب سے اس جدید ٹیکنالوجی کا استعمال رجسٹریشن کے عمل کو وقت سے پہلے مکمل کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نادرا حکام کا کہنا ہے کہ اس سسٹم کا دائرہ کار مرحلہ وار پورے ملک میں بڑھایا جا رہا ہے۔ مستقبل میں ان موبائل ڈیوائسز کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہریوں کی جانب سے نادرا کے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ اس سے وقت اور اخراجات دونوں کی بچت ہوگی۔ خاص طور پر بزرگ شہریوں اور خواتین کے لیے یہ موبائل رجسٹریشن سروس ایک بڑی سہولت ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نادرا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جدید ٹیبلٹس نہ صرف پائیدار ہیں بلکہ ان کا سافٹ ویئر بھی انتہائی محفوظ ہے۔ ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر بین الاقوامی معیارات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں تیار کردہ ان ڈیوائسز کا استعمال مقامی صنعت کے لیے بھی حوصلہ افزا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستانی ادارے جدید ٹیکنالوجی کی تیاری اور استعمال میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1169/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پہلی بار نائکوپ بنوانے والے اوورسیز پاکستانیوں کیلئے اہم ہدایات جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/827/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/827/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 12:57:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اوورسیز_پاکستانی]]></category>
		<category><![CDATA[بائیومیٹرک]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_آئی_ڈی]]></category>
		<category><![CDATA[تجاویز]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[دستاویزات]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفر]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%db%81%d9%84%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d9%86%d8%a7%d8%a6%da%a9%d9%88%d9%be-%d8%a8%d9%86%d9%88%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d8%a7%d9%88%d9%88%d8%b1%d8%b3%db%8c%d8%b2/</guid>

					<description><![CDATA[نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کیلئے پہلی بار نائکوپ کے حصول کا طریقہ کار اور ضروری دستاویزات کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">قومی سطح پر شہریوں کے کوائف درج کرنے والے ادارے نادرا نے بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کیلئے اہم نوعیت کی ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ ہدایات خاص طور پر ان افراد کیلئے ہیں جو اٹھارہ برس یا اس سے زائد عمر کے ہیں اور پہلی بار نائکوپ بنوانا چاہتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس شناختی دستاویز کے حصول کیلئے درخواست جمع کرانے سے قبل تمام ضروری دستاویزات اور تصدیقی مراحل کو مکمل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوورسیز پاکستانیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی درخواست کے ساتھ اپنے والدین یا خون کے کسی قریبی رشتہ دار کا شناختی کارڈ یا نائکوپ نمبر لازمی فراہم کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ غیر ملکی تفصیلی برتھ سرٹیفکیٹ، ایس ون فارم، یا شہریت اور نیچرلائزیشن کا سرٹیفکیٹ بھی دستاویزات کا حصہ ہونا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزاروں کو اپنے پاکستانی یا غیر ملکی پاسپورٹ کے ساتھ رہائشی اجازت نامہ، سفری دستاویز یا پھر متعلقہ پاکستانی سفارتخانے سے تصدیق شدہ اقرار نامہ جمع کرانا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نادرا کے جاری کردہ بیان کے مطابق درخواست فارم کی تصدیق کے عمل کو بھی آسان بنایا گیا ہے جسے والدین یا اٹھارہ سال سے زائد عمر کے بہن بھائی کی بائیومیٹرک تصدیق سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر بائیومیٹرک تصدیق کا حصول کسی وجہ سے ممکن نہ ہو تو اندرون ملک گزیٹڈ افسر یا کسی عوامی نمائندے سے تصدیق کرائی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بیرون ملک مقیم افراد کیلئے یہ سہولت بھی رکھی گئی ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود نائکوپ ہولڈر سے اپنے درخواست فارم کی تصدیق کروا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر ادارے کے ریکارڈ میں درخواست گزار کا کوئی خاندانی ریکارڈ پہلے سے موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں دو نائکوپ یا شناختی کارڈ ہولڈرز کو بطور گواہ پیش کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندانی ریکارڈ نہ ہونے کی صورت میں گواہوں کے علاوہ ایک مخصوص حلف نامہ بھی جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے تاکہ تمام قانونی تقاضے پورے ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اوورسیز پاکستانیوں کیلئے یہ سہولت فراہم کی گئی ہے کہ وہ اپنی یہ درخواستیں پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے آن لائن جمع کرا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آن لائن کے علاوہ دنیا بھر میں موجود متعلقہ نادرا رجسٹریشن سینٹرز کے توسط سے بھی اس اہم شناختی دستاویز کیلئے باقاعدہ رجوع کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ادارے کا یہ اقدام بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کو درپیش انتظامی مشکلات کو کم کرنے اور انہیں وطن عزیز کے ساتھ جوڑے رکھنے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام متعلقہ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی پریشانی سے بچنے کیلئے ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور اپنی درخواستیں وقت پر جمع کروائیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/827/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نادرا: ب فارم گم ہونے کی صورت میں دوبارہ حصول کا طریقہ کار جاری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/435/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/435/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 13 Oct 2026 14:17:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آن_لائن_سہولت]]></category>
		<category><![CDATA[ب_فارم]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_کا_اندراج]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_آئی_ڈی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_شہری]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[شناختی_کارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[عوامی_سہولت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d9%86%d8%a7%d8%af%d8%b1%d8%a7-%d8%a8-%d9%81%d8%a7%d8%b1%d9%85-%da%af%d9%85-%db%81%d9%88%d9%86%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%af%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے گمشدہ ب فارم کے حصول کے لیے آن لائن اور سینٹر پر مبنی طریقہ کار واضح کر دیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کی سہولت کے لیے ب فارم (چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ) گم ہو جانے کی صورت میں اسے دوبارہ حاصل کرنے کا جامع طریقہ کار جاری کر دیا ہے۔ اس حوالے سے نادرا کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ والدین اب باآسانی اپنا گمشدہ فارم دوبارہ بنوا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ترجمان نادرا کے مطابق شہری اس سہولت کے لیے اپنے قریبی نادرا رجسٹریشن سینٹر سے رجوع کر سکتے ہیں یا پھر گھر بیٹھے پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے بھی درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔ یہ جدید سہولت شہریوں کے وقت کی بچت اور دفاتر میں رش کو کم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ب فارم کے دوبارہ حصول کے لیے فیس کی تفصیلات بھی جاری کر دی گئی ہیں۔ نارمل کیٹیگری کے تحت اس کی فیس 50 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ اگر کوئی شہری ایگزیکٹو کیٹیگری کے ذریعے فوری سروس حاصل کرنا چاہے تو اس کے لیے 500 روپے فیس ادا کرنا ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے ب فارم کے حصول کے لیے ضروری دستاویزات میں بچے کا پیدائشی سرٹیفکیٹ اور والدین کے قومی شناختی کارڈز شامل ہیں۔ ان دستاویزات کی موجودگی میں نادرا کے مراکز یا آن لائن سسٹم کے ذریعے درخواست کا عمل مکمل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نادرا کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ 10 سال سے کم عمر بچوں کے ب فارم کے لیے ان کی تصویر لازمی ہے، جبکہ 10 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کے لیے بائیو میٹرک تصدیق یعنی فنگر پرنٹس اور آنکھوں کے اسکین کا عمل مکمل کرنا ضروری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یاد رہے کہ ایک سال سے زائد عمر کے بچوں کے ب فارم کے حصول کے لیے والدین کا نادرا کے دفاتر میں ذاتی طور پر موجود ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ ضابطہ کار سیکیورٹی اور ڈیٹا کی درستگی کو یقینی بنانے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نادرا کی جانب سے فراہم کردہ یہ آن لائن سہولت شہریوں کے لیے ایک بڑی آسانی ہے، جس سے وہ طویل قطاروں میں کھڑے ہونے کے بجائے موبائل ایپ کے ذریعے اپنی درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ درست دستاویزات کے ساتھ ہی درخواست دیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ب فارم، جسے چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بھی کہا جاتا ہے، پاکستان میں بچوں کی قانونی شناخت کے لیے ایک انتہائی اہم دستاویز ہے۔ یہ دستاویز نادرا کے ریکارڈ میں بچے کے اندراج کو یقینی بناتی ہے اور تعلیمی اداروں میں داخلے سمیت دیگر سرکاری امور میں ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نادرا کے مطابق پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے درخواست دینے کا عمل انتہائی سادہ ہے۔ صارفین کو ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے اپنی پروفائل بنانی ہوتی ہے، جس کے بعد وہ مطلوبہ دستاویزات اپ لوڈ کر کے ب فارم کے حصول کے لیے آن لائن فیس ادا کر سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایگزیکٹو کیٹیگری کے تحت 500 روپے فیس ادا کرنے والے شہریوں کو ترجیحی بنیادوں پر سروس فراہم کی جاتی ہے۔ اس سہولت کا مقصد ان والدین کی مدد کرنا ہے جنہیں ہنگامی بنیادوں پر بچوں کے شناختی دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کے اہم کام نہ رکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نادرا انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن سینٹرز پر شہریوں کی سہولت کے لیے خصوصی کاؤنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی شہری آن لائن طریقہ کار سے واقف نہیں ہے تو وہ کسی بھی قریبی سینٹر پر جا کر عملے سے رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ب فارم بنوانے کے لیے والدین کے شناختی کارڈز کا درست ہونا ضروری ہے۔ اگر والدین کے شناختی کارڈز میں کوئی مسئلہ ہو تو پہلے اسے درست کروانا پڑتا ہے، جس کے بعد ہی بچوں کے ب فارم کا عمل آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نادرا کی جانب سے جاری کردہ یہ ہدایات 13 اکتوبر 2026 کو سامنے آئی ہیں۔ ادارہ مسلسل اپنی سروسز کو ڈیجیٹلائز کر رہا ہے تاکہ شہریوں کو نادرا دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور گھر بیٹھے ہی ان کی رجسٹریشن کے مسائل حل ہو سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/435/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
