<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پاکستان_کی_سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86_%da%a9%db%8c_%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:33:59 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پاکستان_کی_سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>دہشت گردی کے نام پر سیاست نہیں ہونی چاہیے: بلاول بھٹو</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/1264/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/1264/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 12:16:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[саnsha_karsaz]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_ترمیم]]></category>
		<category><![CDATA[الیکٹورل_ریفارمز]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[بلاول_بھٹو_زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پیپلز_پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%be%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%db%81%d9%88%d9%86%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردی جیسے اہم اور حساس قومی مسئلے پر کسی کو بھی سیاست کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ملک سے اس ناسور کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سانحہ کارساز کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ جب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو طویل جلاوطنی کے بعد وطن واپس تشریف لائی تھیں، تو پارٹی کے جیالوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر ان کا استقبال کیا اور ان کی حفاظت کو یقینی بنایا تھا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ سانحہ کارساز کے شہداء کی قربانیوں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دہشت گردوں کے خلاف یہ جنگ پوری قوت کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی مفاہمت اور جمہوریت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سیاست اصل میں سمجھوتے اور بات چیت کا دوسرا نام ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ مل بیٹھ کر ملکی مفاد میں فیصلے کیے۔ انہوں نے مثال دی کہ سابق صدر پرویز مشرف کو آئینی طریقے سے اقتدار چھوڑنے پر مجبور کرنا اور ملک میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کی منظوری اسی سیاسی فہم و فراست اور قومی اتفاق رائے کا نتیجہ تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ سیاسی صورت حال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت اپنے منشور کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آئینی اور جمہوری جدوجہد کر رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فیصل کریم کنڈی کو پارٹی کی طرف سے نامزد کیا گیا تھا اور وہ بحیثیتِ گورنر متعلقہ صوبائی بیوروکریسی اور وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل آہنگ ہو کر آئینی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے متعلق پوچھے گئے ایک اور سوال پر چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آئین پاکستان میں اس حوالے سے تمام طریقہ کار اور ضابطے بالکل واضح درج ہیں۔ اگر متعلقہ صوبائی اسمبلی آئینی تقاضوں کے مطابق کوئی قرارداد منظور کرتی ہے تو اس کے بعد آئینی تقاضے پورے کرتے ہوئے نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی رہنما کو جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کے کارکنوں نے بھی ماضی میں دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دی ہیں، اور حکومت سمیت اپوزیشن کی تمام جماعتیں ان کا احترام کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملکی سلامتی اور امن و امان کے امور پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں دہشت گردی کا مؤثر ادراک کرتے ہوئے اپنی ہی جماعت کی صوبائی حکومت کے خلاف گورنر راج کا آئینی قدم اٹھایا تھا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ عرصہ قبل بعض صوبوں میں متعلقہ انتظامی سربراہان نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنے سے گریز کیا، جس سے حالات مزید پیچیدہ ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے سوات کے تاریخی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب بعض عناصر وہاں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنا چاہتے تھے، لیکن اس وقت کی قیادت نے عزم کیا کہ سوات میں پاکستان کا پرچم لہراتا رہے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ بھرپور عزم کے ساتھ آپریشن کرکے دہشت گردوں کو تاریخی شکست دی گئی اور ریاست نے اپنی رٹ بحال کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی سلامتی کے اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج بھی ہماری بہادر افواج اور پولیس کے جوان ملک و قوم کی خاطر جامِ شہادت نوش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان کے ہر شہری نے ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں اور اس ناسور کو ہلکا لینے کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو درپیش معاشی بحران سے نجات دلانے کے لیے امن و امان کا قیام اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ بنیادی شرط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تمام اسٹیک ہولڈرز مل کر اس خطرے کا مقابلہ نہیں کریں گے، پائیدار ترقی اور خوشحالی کا ہندسہ حاصل کرنا انتہائی دشوار رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی اور عوام کے حقوق کی جنگ لڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی واپسی پر عوام کی بڑی تعداد روزگار اور جمہوریت کی بحالی کی امیدیں لگائے بیٹھی تھی، اور پارٹی آج بھی اسی نظریے کی پاسدار ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انتخابی اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کے دوران انہوں نے انکشاف کیا کہ وفاقی حکومت نے ایک جامع الیکٹورل ریفارمز کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ آئندہ انتخابات کو مزید شفاف بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ ماضی میں جیلوں سے دہشت گردوں کی رہائی کے جو غلط فیصلے کیے گئے تھے، آج پورا ملک ان کے منفی اثرات بھگت رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/1264/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں امن و امان اور سیاسی استحکام کا چیلنج</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/politics/507/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/politics/507/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 01:37:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[انتظامی_فیصلے]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_کی_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت_گردی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_استحکام]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_صورتحال]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%d9%88-%d8%a7%d9%85%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں قومی مفاد اور جمہوری استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">ملک میں جب بھی سیاسی عدم استحکام یا سیکیورٹی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں تو قومی سطح پر بحث و مباحثے کا آغاز ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور اس کے انتظامی اثرات کے حوالے سے مختلف حلقوں میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ایک مؤثر اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ کسی بھی غیر معمولی انتظامی فیصلے کا انحصار اس کے قانونی جواز اور عوامی فلاح کے نتائج پر ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی جماعتوں کے مابین اختلافات اپنی جگہ، لیکن جمہوری نظام کے تسلسل کے لیے مکالمہ اور رابطے ناگزیر ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی بارہا جمہوری استحکام اور سیاسی معاملات کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمہوریت کا مطلب محض انتخابات کا انعقاد نہیں، بلکہ اس میں عوامی نمائندگی، آئینی حدود کا احترام اور جوابدہی کے اصول شامل ہیں۔ صوبے میں انتظامی معاملات کو چلانے کے لیے ایک ایسے بندوبست کی ضرورت ہے جو عوامی اعتماد کو بحال کر سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جب سیاسی محاذ آرائی قومی سلامتی اور عوامی فلاح کے معاملات پر حاوی ہو جاتی ہے تو اس کا براہِ راست نقصان عام شہریوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کو اس وقت ایک مستقل قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو جمہوریت، قانون کی حکمرانی، معاشی ترقی اور قومی سلامتی کو یکجا کر سکے۔ ماضی کے دائروں میں گھومنے کے بجائے مستقبل کی طرف پائیدار راستہ اختیار کرنا وقت کا تقاضا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دنیا کے دیگر ممالک کی مثالیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ تباہی اور مشکلات سے گزرنے والی قومیں بھی مسلسل محنت اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے ذریعے ترقی کی منازل طے کر سکتی ہیں۔ ویت نام جیسے ممالک کی تعمیرِ نو اس کی واضح مثال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی ترقی کا سفر سیاسی کشمکش اور داخلی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ اداروں کی مضبوطی، تعلیم، اور سرمایہ کاری کے لیے پرامن ماحول کا قیام بنیادی شرط ہے، جس کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال میں اصل امتحان یہ ہے کہ امن و امان کی بہتری اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کو کیسے بہتر بنایا جائے۔ کسی بھی حکومتی فیصلے کی افادیت اس کے اعلان سے نہیں بلکہ اس کے عملی نتائج سے ثابت ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اگر عوام کی زندگیوں میں بہتری آتی ہے اور دہشت گردی میں کمی واقع ہوتی ہے، تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ یہ عمل قومی یکجہتی اور اجتماعی رویوں کے درست تعین کا متقاضی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو قیامِ پاکستان کا مقصد مسلمانوں کو ایک آزاد اور خودمختار ریاست فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنے مذہبی، سیاسی اور سماجی حقوق کا تحفظ کر سکیں۔ آج بھی قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ ہم ان اصولوں پر کاربند رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/politics/507/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
