<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.34.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پاکستان_عدلیہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86_%d8%b9%d8%af%d9%84%db%8c%db%81/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 12:26:31 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پاکستان_عدلیہ &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ایمان مزاری اور ہادی علی کی اسلام آباد ہائیکورٹ حکمنامے کیخلاف اپیل</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/2450/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/2450/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 10:17:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_انعام_امین_منہاس]]></category>
		<category><![CDATA[جیل_ٹرائل]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریاست_علی_آزاد]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%b9%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[ایمان مزاری اور ہادی علی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 19 اکتوبر کے حکمنامے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد میں سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے اور اس سے متعلقہ قانونی امور کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں معروف وکیل کے توسط سے اعلیٰ ترین عدالت میں قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے، اور اس سلسلے میں باضابطہ طور پر اپیل دائر کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مذکورہ اپیل نامور قانون دان ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کی و توسط سے دائر کی گئی ہے جس میں عدالت عظمیٰ سے ہائیکورٹ کے متنازع احکامات کے خلاف فوری اور مناسب قانونی اقدامات اٹھانے کی استدعا کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزاروں کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیل میں بنیادی طور پر یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے انیس اکتوبر کے اپنے جاری کردہ حکمنامے میں ٹرائل کے خلاف کسی قسم کا عبوری ریلیف فراہم نہیں کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اپیل کے متن کے مطابق اس کیس میں عدالت کی جانب سے جرح کا مناسب موقع فراہم کیے بغیر ہی استغاثہ کے دو گواہان کے بیانات ریکارڈ کر لیے گئے تھے جو ضابطے کی کارروائی کے برعکس ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس قانونی چارہ جوئی میں سپریم کورٹ سے باضابطہ استدعا کی گئی ہے کہ وہ ہائیکورٹ کے انیس اکتوبر کے حکمنامے کو کالعدم قرار دے اور ٹرائل کورٹ کو اس ضمن میں مزید کارروائی سے فوری طور پر روک دے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی اسی نوعیت کے ایک اور کیس کی سماعت عمل میں آئی ہے جس میں بیرئیر ہٹانے کے خلاف درخواست پر کارروائی کی گئی اور مختلف قانونی نکات پر بحث ہوئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ہائیکورٹ میں ہونے والی اس اہم سماعت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے جیل ٹرائل اور اسٹیٹ کونسل کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواستوں پر عدالت کے جج صاحبان نے کارروائی کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس اور جسٹس شاہ رخ ارجمند نے اس کیس کی سماعت کی جبکہ اس موقع پر ملزمان کی قانونی نمائندگی کے لیے ریاست علی آزاد اور زینب جنجوعہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کے روبرو پیش ہونے والے وکلاء نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے جیل ٹرائل کے فیصلے کو باضابطہ طور پر عدالت کے سامنے چیلنج کر رکھا ہے جس پر تفصیلی غور کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل صفائی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کسی بھی ملزم کے خلاف جیل ٹرائل کا حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے قانون کے مطابق اس کا مؤقف سننا اور اسے اعتماد میں لینا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے اپنے دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ان کا جیل ٹرائل ایک مخصوص پنجرے کی مانند ماحول میں کیا جا رہا ہے اور انہیں روزانہ کی بنیاد پر جیل سے عدالت کے احاطے میں لایا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوران سماعت جسٹس انعام امین منہاس نے اس معاملے پر استفسار کیا کہ اس پورے قانونی تنازع میں اصل ای شو کیا ہے اور اس کا اختیار کس کے پاس ہے، کیا کوئی ملزم خود یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کا ٹرائل کہاں ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس پر وکیل نے جواب دیا کہ ملزم کو یہ حق حاصل ہے کہ اس نوعیت کے اہم فیصلے سے قبل اسے سنا جائے لیکن اس معاملے میں متعلقہ فریقین کو سنے بغیر ہی یکطرفہ نوعیت کے اقدامات اٹھا لیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل ریاست علی آزاد نے عدالت کو مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جیل ٹرائل سے متعلق یہ سمری اسلام آباد پولیس کے ایک ایس پی کی جانب سے شروع کی گئی تھی اور اس کی حتمی منظوری چیف کمشنر نے دی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے عدالت کے روبرو یہ مؤقف بھی اپنایا کہ پولیس کے ایس پی کے پاس اس نوعیت کی سمری شروع کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں تھا کیونکہ یہ اختیار دراصل وفاقی حکومت کے پاس ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس انعام امین منہاس نے اس نکتہ پر مزید استفسار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا جیل سے متعلقہ کوئی بھی سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں جائے گی اور قانون کے تحت اوپن کورٹ کا اصل تصور کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکیل نے عدالت کو جواب دیا کہ اس پورے عمل میں انہیں باضابطہ طور پر سنا نہیں گیا جبکہ قانونی تقاضوں کے مطابق ان کا مؤقف سننا ناگزیر اور انتہائی ضروری تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس کیس کی سماعت کے دوران فریقین کے دلائل غور سے سنے اور اس قانونی تنازع کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جبکہ اس حوالے سے مزید کارروائی آئندہ کی تاریخوں تک جاری رکھی جائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/2450/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عدالتی حکم کے باوجود پی سی ایل سے نام نہ نکالنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی سخت سرزنش</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/2440/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/2440/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 26 Oct 2026 09:18:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائیکورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[بیوروکریسی]]></category>
		<category><![CDATA[پاسپورٹ_اینڈ_امیگریشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاسپورٹ_کنٹرول_لسٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پی_سی_ایل]]></category>
		<category><![CDATA[توہین_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b9%d8%af%d8%a7%d9%84%d8%aa%db%8c-%d8%ad%da%a9%d9%85-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%a7%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d9%be%db%8c-%d8%b3%db%8c-%d8%a7%db%8c%d9%84-%d8%b3%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85/</guid>

					<description><![CDATA[اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نام خارج نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو آج ہی نام نکالنے کا حکم دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائیکورٹ میں عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی اور پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے ایک شہری کا نام خارج نہ کرنے کے اہم معاملے پر سماعت ہوئی۔ اس عدالتی کارروائی کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج نے متعلقہ حکام کے غیر ذمہ دارانہ رویے پر شدید غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ آخر عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد سے جان بوجھ کر گریز کیوں کیا جاتا ہے اور ہمیشہ توہینِ عدالت کی درخواست دائر ہونے کا انتظار کیوں کیا جاتا ہے۔ فاضل جج نے برہم ہو کر ریمارکس دیے کہ کیا اب بیوروکریسی اس ملک کو چلائے گی اور کیا عدالتی احکامات کی جانچ پڑتال کے لیے کوئی الگ کمیٹی بنائی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اگر کوئی بھی عدالتی فیصلہ قانونی طور پر غلط محسوس ہو تو اسے متعلقہ فورم یا اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے مگر حتمی حکم پر عملدرآمد بہرحال لازمی ہے۔ حکام کی جانب سے دائر کی جانے والی غیر مشروط معافی کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے موقف اپنایا کہ اب اس طرح کی معافیاں قبول نہیں کی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس اعظم خان نے اس بات پر بھی گہرا زور دیا کہ عدالتوں کو غیر مؤثر یا بے توقیر کرنے کی اس روش کو اب مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ غریب اور بے بس شہری ہی امید کی کرن لے کر عدالتوں کا رخ کرتے ہیں اور اگر انہیں ریلیف نہ ملا تو سسٹم بالکل بیٹھ جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے دوران حکام پر یہ امر بھی واضح کیا گیا کہ حساس رپورٹس یا کسی بھی قسم کی اندرونی میٹنگز کی آڑ میں عدالتی فیصلوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی نہیں کی جا سکتیں۔ عدالت نے اس تشویش کا بھی اظہار کیا کہ اس نوعیت کے انتظامی اقدامات سے عام آدمی کا ریاست پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">درخواست گزار کے معزز وکیل نے عدالت کے روبرو اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ اگر متعلقہ فریق یا شہری کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا تخریب کاری میں ملوث ہے تو عدالت کو واضح طور پر آگاہ کیا جائے۔ وکیل نے مزید کہا کہ درست حقائق کی روشنی میں ہی عدالت میں دلائل دیے جاتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاسپورٹ اور امیگریشن کے ذمہ دار حکام نے عدالت کو صفائی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ مصروفات اور اہم میٹنگز ملتوی ہونے کی وجہ سے عملدرآمد کے عمل میں تاخیر ہوئی۔ حکام نے کھل کر تسلیم کیا کہ اس پورے انتظامی معاملے میں کچھ خامیاں اور بہتری کی گنجائش موجود تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے حکام کی تمام تر توجیہات کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے یہ واضح حکم جاری کیا کہ شہری وجاہت حسین کا نام فوری طور پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کیا جائے۔ عدالت نے متعلقہ امیگریشن حکام کو ہدایت دی کہ وہ اس عدالتی فیصلے پر فوراً عمل کرکے کل تک اپنی رپورٹ جمع کرائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائیکورٹ نے انتہائی سخت الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر آج کے روز عدالتی حکم نامے پر مکمل عملدرآمد نہ کیا گیا تو اگلے روز سے توہینِ عدالت کی باضابطہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا جائے گا۔ عدالت نے کہا کہ اس مقدمے میں ذمہ دار قرار پانے والے افسران کو قید کی سزاؤں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم پیشرفت کے بعد عدالت نے اس کیس کی مزید کارروائی کو آئندہ روز تک کے لیے باضابطہ طور پر ملتوی کر دیا۔ قانونی حلقوں اور مبصرین میں اس فیصلے کو عدالتی رٹ کی بحالی اور بیوروکریٹک تاخیر کے خلاف ایک انتہائی اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی احکامات کی پاسداری کو یقینی بنانا تمام ریاستی اداروں کی بنیادی اور آئینی ذمہ داری ہے تاکہ ملک کے اندر شہریوں کے تمام بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جا سکے۔ اس قسم کے کھردرے عدالتی ریمارکس انتظامی اداروں میں نظم و ضبط اور قانون کی بالادستی قائم کرنے میں ہمیشہ معاون ثابت ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہری وجاہت حسین کے اس زیرِ بحث معاملے میں آنے والے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کی تازہ رپورٹ کل عدالت میں پیش کی جائے گی، جس کے بعد اس توہینِ عدالت کیس کا اگلا رخ پوری طرح طے ہوگا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس سخت فیصلے سے متعلقہ انتظامی مشینری میں شدید ہلچل مچ گئی ہے اور تمام حکام عدالتی احکامات پر عمل کے لیے متحرک ہو گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/2440/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سول سروسز اکیڈمی میں جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے بلاک کا افتتاح</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2356/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2356/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 12:37:26 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اعظم_نذیر_تارڑ]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_تقریب]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_پولیٹکس]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_خدمات]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_خلیل_الرحمان_رمدے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سول_سروسز_اکیڈمی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d9%88%d9%84-%d8%b3%d8%b1%d9%88%d8%b3%d8%b2-%d8%a7%da%a9%db%8c%da%88%d9%85%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%d8%b1-%d8%ae%d9%84%db%8c%d9%84/</guid>

					<description><![CDATA[لاہور میں سول سروسز اکیڈمی کے اندر جسٹس (ر) خلیل الرحمان رمدے کے نام سے منسوب بلاک کا افتتاح کر دیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">صوبائی دارالحکومت لاہور کے علمی اور انتظامی حلقوں میں اس وقت ایک انتہائی خوش گوار اور پروقار تقریب کا انعقاد دیکھنے میں آیا جب سول سروسز اکیڈمی کے احاطے میں ایک نئے تعمیر شدہ بلاک کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ اس تقریب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس نئی عمارت کو ملک کے ممتاز اور معروف قانون دان اور جج جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس اہم افتتاحی تقریب میں ملک بھر سے نامور قانونی ماہرین، حکومتی شخصیات اور سول سروس کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا جس کے بعد شرکاء نے جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کی ملکی تاریخ، عدلیہ اور تعلیم کے شعبے میں گراں قدر خدمات کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ اکیڈمی کے اس نئے بلاک کا مقصد زیرِ تربیت سول سروسز کے افسران کو بہترین تعلیمی اور انتظامی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں ملک کی بہتر انداز میں خدمت سر انجام دے سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مایاں ناز شخصیات کی موجودگی میں ہونے والی اس تقریب کے دوران مقررین نے سابق جج کے شاندار کیریئر کے مختلف اور روشن پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین کا کہنا تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کا شمار پاکستان کے ان ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ اپنے فیصلوں میں انصاف کے تقاضوں کو سب سے مقدم رکھا اور کسی بھی قسم کے دباؤ کو خاطر میں نہیں لائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف شخصیت میاں عامر محمود نے جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کے ساتھ اپنے کئی دہائیوں پر محیط گہرے اور پرانے تعلق کا خاص طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ ان دونوں کا رشتہ کئی سال پرانا ہے اور اس طویل عرصے کے دوران انہوں نے معزز سابق جج کو ہمیشہ اصولوں پر کاربند پایا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میاں عامر محمود کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے نے زندگی کے ہر موڑ پر اور ہر مشکل مرحلے پر انہیں انتہائی بہترین اور مثبت رہنمائی فراہم کی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ممدوح شخصیت نے ہمیشہ میرٹ کو تمام دوسری مصلحتوں پر فوقیت دی اور کبھی بھی انصاف کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">میاں عامر محمود نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کے میرٹ پر مبنی فیصلے اور ان کی دی گئی راہیں آنے والی نسلوں اور خاص طور پر شعبہ قانون سے وابستہ افراد کے لیے ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دیانت دار افراد معاشرے کا اصل اثاثہ ہوتے ہیں جن کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بھی مائیک سنبھالا اور شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ معزز سابق جج اس ملک کا ایک ایسا روشن حوالہ ہیں جن پر پورا معاشرہ بجا طور پر فخر محسوس کر سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے نے جب بھی منصف کی مسند پر بیٹھ کر فیصلے صادر کیے، انہوں نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ انصاف کے تقاضے پوری روح کے ساتھ پورے کیے جائیں۔ ان کے فیصلوں نے ہمیشہ قانونی کتابوں میں ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی اور قانونی خدمات کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر قانون نے جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے کی تعلیمی خدمات کو بھی انتہائی لائق تحسین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی میدان میں بھی سابق جج کا کردار بہت نمایاں ہے جس سے ملک کے نوجوانوں نے بھرپور استفادہ کیا اور اپنے کیریئر کو بہتر بنایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے اختتامی مراحل میں خود جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمان رمدے اسٹیج پر تشریف لائے اور انہوں نے تمام شرکاء، تقریب کے منتظمین اور معزز مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اس قدر عزت افزائی کی گئی ہے اور ان کے نام سے منسوب بلاک کی تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے جس پر وہ دلی خوشی محسوس کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سول سروسز اکیڈمی میں اس نئے بلاک کا قیام اور پھر اس کی اتنی شاندار افتتاحی تقریب ملکی انتظامی اور قانونی حلقوں میں ایک اہم اور خوش آئند موضوعِ بحث بنی رہی۔ ماہرین کا اس موقع پر ماننا تھا کہ سول سروس کے زیرِ تربیت نوجوانوں کے لیے ایسے نامور اور بااصول ججوں کی زندگیوں سے سیکھنے کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے اختتام پر پاکستان کی ترقی، سلامتی اور اداروں کی مضبوطی کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں جبکہ شرکاء نے باہمی طور پر خوشگوار ماحول میں یادگار تصاویر بھی بنوائیں۔ اس پُروشہت تقریب نے ایک بار پھر اس بات کو ثابت کیا کہ اچھے اور دیانت دار لوگ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عوام کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2356/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنشن ملازم کا قانونی اور آئینی حق ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/2114/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/2114/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 10:16:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_ہائی_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پنشن_حق]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_شاہ_رخ_ارجمند]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ریٹائرمنٹ_مراعات]]></category>
		<category><![CDATA[سرکاری_ملازمین]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%b4%d9%86-%d9%85%d9%84%d8%a7%d8%b2%d9%85-%da%a9%d8%a7-%d9%82%d8%a7%d9%86%d9%88%d9%86%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a2%d8%a6%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%ad%d9%82-%db%81%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے وزارتِ خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام کو قومی بچت مرکز کے افسر کی پنشن فوری جاری کرنے کا حکم دے دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پنشن کوئی خیرات، رعایت یا عطیہ نہیں بلکہ ملازم کا بنیادی قانونی اور آئینی حق ہے۔ عدالت عالیہ نے وزارتِ خزانہ اور متعلقہ حکام کو قومی بچت مرکز میں تعینات افسر نوید اللّٰہ کو ریٹائرمنٹ پر پنشن اور دیگر مالی مراعات فوری طور پر ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس شاہ رخ ارجمند کی جانب سے جاری کردہ اس تفصیلی فیصلے میں سرکاری ملازمین کے حقوق اور مالی بقایا جات کے حوالے سے اہم قانونی نکتہ اٹھایا گیا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ ملازمین کی فلاح و بہبود اور ان کے قانونی فوائد کے تحفظ کی سمت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی سماعت کے دوران وزارتِ خزانہ کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا تھا کہ متعلقہ ملازم کی کنٹریکٹ پر تعیناتی وفاقی پبلک سروس کمیشن کے طریقہ کار کے ذریعے عمل میں نہیں آئی تھی۔ اسی مؤقف کو بنیاد بناتے ہوئے محکمہ کی جانب سے پنشن اور دیگر مراعات کی ادائیگی میں تاخیر یا رکاوٹ ڈالی جا رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی ریکارڈ اور دستاویزات کے جائزے سے معلوم ہوا کہ نوید اللّٰہ نے اٹھائیس مئی انیس سو پچانوے کو وزارتِ خوراک میں گریڈنگ انسپکٹر کے طور پر سرکاری کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد سولہ اگست انیس سو ستانوے کو ان کی ملازمت کو باضابطہ طور پر مستقل کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہ مسلسل فرائض انجام دیتے رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ریکارڈ کے مطابق قومی بچت مرکز میں منتقلی کے بعد موصوف کو دو ہزار بارہ میں ریگولرائز کیا گیا اور پھر دو ہزار پندرہ میں انہیں مکمل طور پر مستقل کر دیا گیا۔ تمام دفتری مراحل طے کرنے کے باوجود جب ریٹائرمنٹ پر پنشن کی ادائیگی نہ ہوئی تو ملازم نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائی کورٹ نے تمام فریقین کے دلائل سننے اور ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد وزارتِ خزانہ کا اعتراض مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ طویل عرصے تک سرکاری خدمات سرانجام دینے والے ملازم کو اس کے قانونی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ جب ایک ملازم نے اپنی زندگی کے قیمتی سال سرکاری محکمے کی خدمت میں صرف کر دیے ہوں تو اسے ریٹائرمنٹ کے بعد کسمپرسی میں چھوڑنا اور جائز حقوق سے محروم رکھنا سراسر ناانصافی ہے۔ قانون ہر محنت کش اور ملازم کو اس کی محنت کا صلہ اور ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی بچت مرکز اور وزارتِ خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ عدالتی احکامات کی روشنی میں فوری طور پر تمام واجبات کا حساب لگایا جائے۔ اس عمل میں مزید تاخیر کرنے سے گریز کیا جائے تاکہ ملازم کو کسی قسم کی مزید ذہنی اور مالی پریشانی کا سامنا نہ کرناپڑے اور اس کے حقوق کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے پاکستان کے سرکاری ملازمین کے لیے ایک بڑی قانونی فتح قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ملک بھر کے ان تمام ملازمین کو قانونی مدد ملے گی جن کے پنشن کیسز مختلف محکموں میں تاخیر کا شکار ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنشن کے حوالے سے اس نوعیت کے عدالتی فیصلے ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں جو انتظامیہ کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ ملازمین کے ساتھ ہونے والے معاہدوں اور سروس رولز کی پاسداری کی جائے۔ سرکاری اداروں کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے معاملات کو بروقت حل کریں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ وزارتِ خزانہ اور دیگر متعلقہ سرکاری ادارے نوید اللّٰہ کے تمام واجبات کی جلد ادائیگی کو یقینی بنائیں گے۔ عدالتی حکم نامے کی کاپی متعلقہ حکام کو ارسال کر دی گئی ہے تاکہ اس پر فوری عمل درآمد کا آغاز کیا جا سکے اور مزید کسی تاخیر کے بغیر معاملات کو طے کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلاحی ریاست میں ملازمین کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر سرکاری اداروں کی طرف سے اس قسم کے عذر پیش کیے جائیں گے تو ملازمین کبھی بھی اپنے فرائض منصبی اطمینان کے ساتھ انجام نہیں دے سکیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">متاثرہ افسر نے عدالت کے اس فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو سراہا ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد سرکاری اداروں میں کام کرنے والے دیگر ملازمین کو بھی ایک قانونی مثال مل گئی ہے جس کی روشنی وہ اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/2114/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>انسانی ذہن کا کیمرے کی طرح کام کرنا ناممکن ہے: سپریم کورٹ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1523/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1523/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 22:58:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_تفتیش]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_اشتیاق_إبراہیم]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمر_قید]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%b0%db%81%d9%86-%da%a9%d8%a7-%da%a9%db%8c%d9%85%d8%b1%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d8%a7%d9%85-%da%a9%d8%b1%d9%86%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[سپریم کورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں عینی شاہدین کے بیانات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی عدالت عظمیٰ نے فوجداری مقدمات میں عینی شاہدین کی گواه اور انسانی نفسیات کے حوالے سے ایک اہم اور جامع تحریری فیصلہ جاری کیا ہے جس میں قانونی تقاضوں کو واضح کیا گیا ہے۔ اس فیصلے میں عدالت نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ اچانک پیش آنے والے پرتشدد اور ہنگامہ خیز واقعات کے دوران گواہوں سے غیر معمولی اور روبوٹک کارکردگی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر قرار دیا ہے کہ کسی بھی عینی شاہد کے لیے یہ بالکل ناممکن امر ہے کہ وہ فضا میں انتہائی تیزی سے سفر کرنے والی گولی کی حرکت کا تعاقب کرے اور یقین کے ساتھ عدالت کو بتا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ گولی مقتول کے جسم کے کس مخصوص مقام پر لگی، اس کی ٹھیک اور حتمی نشاندہی کرنا ایک عام انسان کے لیے ممکن نہیں ہوتا کیونکہ ایسا مطالبہ زمینی حقائق کے منافی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس مقدمے کی مثال دیتے ہوئے لکھا کہ ایک غمزدہ بیٹا جس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی والدہ کو قتل ہوتے دیکھا ہو، اس سے یہ امید نہیں لگائی جا سکتی کہ وہ پولیس کو اطلاع دینے سے قبل جائے وقوعہ پر کھڑا ہو کر معائنہ کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ایسے المناک اور صدمے کے شکار شخص کا بنیادی مقصد مجرم کو پکڑانا یا فوری مدد حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ لاش یا زخمی کے جسم کا تفصیلی طبی معائنہ کرنا تاکہ عدالت میں ایک ایک گولی کا حساب کتاب پیش کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریری فیصلے میں اس قانونی نکتہ کو بھی اجاگر کیا گیا ہے کہ فوجداری قانون کے تحت کسی بھی انسان کے فطری رویے اور ردعمل کو کسی ایک مقررہ یا سخت فارمولے میں محدود نہیں کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کا ماننا ہے کہ ہر واقعے پر مختلف افراد کا ردعمل مختلف ہوتا ہے اور قانون تمام گواہوں سے ایک جیسے یا مشینی رویے کی توقع نہیں رکھتا، بلکہ حالات کے تناظر میں گواہی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کے پس منظر کے مطابق ملزم اظہر اور اس کے ایک شریک ملزم پر ایک خاتون کو قتل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا جس پر ماتحت عدالت نے کارروائی کی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرائل کورٹ نے اس قتل کیس کی سماعت مکمل کرنے کے بعد مرکزی ملزم اظہر کو سزائے موت کی سزا سنائی تھی جبکہ نامزد شریک ملزم کو اس مقدمے سے بری کر دیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بعد ازاں اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی جہاں عدالت نے تمام قانونی پہلوؤں، عینی شاہدین کے بیانات اور شواہد کا از سر نو باریک بینی سے جائزہ لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت عظمیٰ نے مرکزی ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کے بعد اپیل خارج کر دی اور ماتحت عدالت کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے ملزم کی سزا کو برقرار رکھا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام اور فوجداری مقدمات میں شہادتوں کی جانچ پڑتال کے حوالے سے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے جو مستقبل میں دیگر مقدمات میں بھی رہنمائی فراہم کرے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کا یہ موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انصاف کی فراہمی کے دوران زمینی حقائق، انسانی نفسیات اور صدمے کے اثرات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے سے یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ عدالتیں گواہوں کے معمولی اور فطری تضادات کو نظر انداز کرتی ہیں اگر بنیادی واقعہ معتبر گواہوں اور مضبوط شواہد کے ذریعے ثابت ہو جائے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1523/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمر قید کا ملزم سات سال بعد بری کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1060/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1060/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 09:37:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[ایف_آر_تاخیر]]></category>
		<category><![CDATA[ایکسپریس_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_فاروق_حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمر_قید_بری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قانونی_کارروائی]]></category>
		<category><![CDATA[قتل_مقدمہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92-%d9%82%d8%aa%d9%84-%da%a9%db%92-%d9%85%d9%82%d8%af%d9%85%db%92-%d9%85%db%8c%da%ba/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے ایف آئی آر میں تاخیر اور گواہوں کا قیامِ موقع ثابت نہ ہونے پر محمد اشرف کی اپیل منظور کر لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم کو سات سال کے طویل عرصے کے بعد تمام الزامات سے بری کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کے معزز جج جسٹس فاروق حیدر نے ملزم محمد اشرف کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیل پر سماعت مکمل کرنے کے بعد یہ فیصلہ صادر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم عدالتی فیصلے کا تحریری متن جاری کر دیا گیا ہے جس میں مقدمے سے متعلق تمام قانونی پہلوؤں اور شواہد کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ منڈی بہاوالدین کے علاقے میں پیش آنے والے اس واقعہ کا مقدمہ دو ہزار انیس میں مقامی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرائل کورٹ نے اس مقدمے کی سماعت کے بعد دو ہزار اکیس میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ماتحت عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ملزم کے وکلا نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور سزا کو چیلنج کیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملزم محمد اشرف پر سکندر فردوس نامی شخص کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا جس کے خلاف استغاثہ نے عدالت میں گواہ پیش کیے تھے۔ تاہم دفاعی وکلا نے مقدمے کی ابتدائی کارروائی اور دستاویزات میں موجود خامیوں کو عدالت کے سامنے نمایاں کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ استغاثہ اس بات کا کوئی بھی ٹھوس اور قابلِ قبول ثبوت پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا کہ مقدمہ درج کرنے میں ساڈھے چار گھنٹے کی تاخیر کیوں ہوئی۔ پولیس کی جانب سے ابتدائی اطلاعی رپورٹ کے اندراج میں تاخیر کے اسباب غیر واضح رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تحریری فیصلے میں مزید اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے کہ مقتول کا پوسٹ مارٹم بھی کافی تاخیر سے کیا گیا جو استغاثہ کے پورے مؤقف پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔ پولیس کی طرف سے عدالتی کارروائی کے لیے تیار کردہ بنیادی دستاویزات کی تیاری میں بھی تاخیر برتی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے وقوعے کے مقام اور مدعیہ کے بیان میں موجود تضادات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا اور شواہد کا قانونی معیار پر پرکھا۔ مقدمے کی مدعیہ نے اپنے ابتدائی بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ واقعہ کے روز اپنے بیٹے کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر بیٹی کے گھر جا رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مدعیہ کے بیان کے مطابق ملزم نے اپنے گھر کے باہر انہیں موٹر سائیکل روکنے کا اشارہ کیا اور بیٹے کو زبردستی گھر کے اندر لے جا کر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ عدالت نے اس موقع پر وقوعے کے جغرافیائی محل وقوع اور راستے کا خصوصی طور پر جائزہ لیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اپنے فیصلے میں اس اہم نکتے کو اجاگر کیا کہ وقوعہ والے گاؤں میں مدعیہ کی بیٹی کا گھر پہلے آتا ہے جبکہ ملزم کا گھر اس کے بعد آتا ہے۔ فیصلے میں یہ بنیادی سوال اٹھایا گیا کہ مدعیہ اپنی بیٹی کا گھر پیچھے چھوڑ کر آگے ملزم کے گھر کی طرف کیوں گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے موقع پر گواہوں کی موجودگی کے دعوے کو بھی انتہائی مشکوک قرار دیا کیونکہ استغاثہ وقوعے کے وقت گواہوں کی وہاں موجودگی کو قانونی طور پر ثابت نہیں کرا سکا۔ ان تمام قانونی نقائص، ابہام اور شواہد کی کمزوری کو بنیاد بناتے ہوئے عدالت نے ملزم کے خلاف سنائی گئی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لاہور ہائیکورٹ نے ملزم محمد اشرف کی جانب سے دائر کردہ اپیل کو منظور کرتے ہوئے اسے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے بشرطیکہ وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مدعیہ کی جانب سے عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل کو بھی مسترد کرتے ہوئے خارج کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کے اس فیصلے سے منڈی بہاوالدین کے اس پرانے قتل کیس میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے جہاں سات سال تک قانونی لڑائی جاری رہی۔ یہ فیصلہ پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف میں تفتیش کے معیار اور تاخیر سے ایف آئی آر درج ہونے کے قانونی اثرات کے حوالے سے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانونی ماہرین کے مطابق عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں کے دوران استغاثہ کا اپنے مؤقف کو بغیر کسی شک کے ثابت کرنا اور بروقت کارروائی عمل میں لانا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اس فیصلے میں بھی انہی بنیادی قانونی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کو شک کا فائدہ دیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1060/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے گوجرانوالہ کے عدالتی مراکز میں ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کر دیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/1027/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/1027/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 00:17:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[ای_لائبریری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_منصوبے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سائلین]]></category>
		<category><![CDATA[سولرائزیشن]]></category>
		<category><![CDATA[عالیہ_نیلم]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%da%86%db%8c%d9%81-%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%d9%84%d8%a7%db%81%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%b9-%d9%86%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[گوجرانوالہ اور تحصیلوں میں خواتین وکلا، عملے اور سائلین کے لیے جدید سہولیات اور سولرائزیشن کے منصوبے ریکارڈ مدت میں مکمل کر لیے گئے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے گوجرانوالہ کے عدالتی مراکز میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ ان منصوبوں کا بنیادی مقصد عدالتی نظام میں بہتری لانا اور وکلا و سائلین کو سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس دورے کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم کے ہمراہ جسٹس سید شہباز رضوی بھی موجود تھے۔ گوجرانوالہ پہنچنے پر ماتحت عدلیہ کے ججز اور بار کے نمائندوں نے چیف جسٹس کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں پھول پیش کیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبوں کے تحت ضلع گوجرانوالہ اور اس کی تحصیلوں میں ریکارڈ مدت میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ ان اقدامات میں خواتین وکلا کے لیے علیحدہ بار رومز اور خواتین عدالتی عملے کے لیے کامن رومز کا قیام شامل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتوں میں آنے والی خواتین سائلین کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے خصوصی ویٹنگ ایریاز بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فیملی میٹنگ اور وزیٹیشن رومز بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ سائلین کو ایک پرسکون اور مناسب ماحول میسر آ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی مراکز میں قانونی تحقیق کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ای لائبریریز کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ یہ اقدام وکلا کو جدید وسائل تک رسائی دے گا جس سے عدالتی کارروائیوں اور قانونی معاونت میں مزید بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">توانائی کے بحران اور لوڈشیڈنگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے عدالتوں اور متعلقہ دفاتر کو سولرائز کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہائبرڈ آف گرڈ سولر سسٹم نصب کیے گئے ہیں تاکہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی ہر وقت ممکن ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیرآباد کے عدالتی مرکز میں بھی خواتین عملے کے لیے کامن روم، خواتین سائلین کے لیے ویٹنگ ایریا اور فیملی میٹنگ و وزیٹیشن روم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یہاں بھی عدالتوں کے لیے ای لائبریری اور سولر سسٹم کے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تمام ترقیاتی منصوبے اے جے ڈی ایف کے تحت مکمل کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں بالخصوص خواتین وکلا، عدالتی عملے اور خواتین سائلین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سہولیات کی فراہمی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ان منصوبوں کی تکمیل کو عدالتی نظام کی بہتری کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ ان سہولیات سے عدالتی مراکز میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور قانونی امور کی انجام دہی میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گوجرانوالہ کی وکلا تنظیموں نے عدالتی مراکز میں سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مس عالیہ نیلم کے اقدامات کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاریخ میں پہلی مرتبہ چیف جسٹس عالیہ نیلم کے حکم پر گوجرانوالہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر میں لیڈیز بار روم اور خواتین عدالتی عملے کے لیے کامن روم قائم کیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/1027/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کی تقرری انکوائری بند</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/955/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/955/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 16 Oct 2026 09:17:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[احتساب_بیورو]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_حسن_اظہر_رضوی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[شہزاد_سلیم]]></category>
		<category><![CDATA[عدالتی_فیصلہ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[نیب_انکوائری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%b3%d8%a7%d8%a8%d9%82-%da%88%db%8c-%d8%ac%db%8c-%d9%86%db%8c%d8%a8-%d8%b4%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%af-%d8%b3%d9%84%db%8c%d9%85-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b1%d8%b1%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے نیب کی کارروائی میں غیر معمولی تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپیل منظور کر لی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی آئینی عدالت نے قومی احتساب بیورو کے سابق ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کرتے ہوئے ان کی تقرری سے متعلق جاری انکوائری کو بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ اس اہم قانونی معاملے پر دو رکنی بنچ نے مختصر فیصلہ سنایا ہے جس میں درخواست گزار کے مؤقف کو مکمل طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس حسن اظہر رضوی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے اس اہم کیس کی سماعت کی جس کے دوران نیب حکام کی کارکردگی، طریقہ کار اور تاخیر پر انتہائی سخت سوالات اٹھائے گئے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں ادارے کی جانب سے اس طویل تاخیر پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سماعت کے دوران سابق عہدیدار شہزاد سلیم کے وکیل نے عدالت کو تمام تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ادارے نے تقرری کے معاملے پر نو سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد انکوائری کا آغاز کیا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلوں میں یہ قانونی امور پہلے ہی طے کیے جا چکے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے اس طویل تاخیر پر سخت استفسار کیا کہ کیا احتساب ادارہ اتنے سال تک غفلت کا شکار سویا رہا تھا اور اتنی طویل مدت گزر جانے کے بعد اس معاملے کو اچانک کیوں یاد رکھا گیا۔ معزز جج کا کہنا تھا کہ تقرری کی جانچ پڑتال کا عمل متعلقہ ادارے کو بروقت اور قانون کے مطابق مکمل کرنا چاہیے تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کے روبرو اس بات کا اعتراف کیا کہ انکوائری کے عمل میں جو تاخیر ہوئی ہے، اس کی تمام تر ذمہ داری ادارے پر ہی عائد ہوتی ہے۔ پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ریکارڈ پر موجود دستاویزات کے مطابق ابتدائی تقرری کے اس عمل میں ضابطے کی خامیاں موجود تھیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس موقع پر عدالت نے استفسار کیا کہ جب سپریم کورٹ کی جانب سے احکامات جاری کیے گئے تھے تو اس وقت ان تمام امور کی جانچ پڑتال کیوں نہیں کی گئی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ صرف پروموشن کے معاملات نہیں بلکہ اصل تعیناتی کے پورے پراسیس کو بھی دیکھا جانا ضروری تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو مزید بتایا کہ اعلیٰ عدالت کے حکم کی روشنی میں شہزاد سلیم کی تمام ترقیوں کے عمل کا باقاعدہ جائزہ لیا گیا تھا۔ عدالت نے فریقین کے تمام دلائل غور سے سننے کے بعد اپیل منظور کرتے ہوئے انکوائری ختم کرنے کا حتمی اعلان کر دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ قانونی کارروائی سابق ڈی جی نیب کی تقرری اور محکمانہ ترقیوں کے تنازع سے جڑی ہوئی تھی جو عدالت میں کافی عرصے سے زیر غور رہی تھی۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد سابق عہدیدار کے خلاف جاری یہ مخصوص تحقیقاتی عمل اب قانون کے مطابق مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">احتساب کے اداروں کے امور اور ان کی کارکردگی پر ملک بھر میں قانونی حلقوں کی جانب سے ہمیشہ سے بحث کی جاتی رہی ہے کہ آیا تحقیقات کا عمل بروقت ہوتا ہے یا نہیں۔ اس کیس میں بھی عدالت نے اسی نکتے کو اٹھایا کہ نو سال بعد کارروائی کا آغاز کرنا اداروں کی اپنی کارکردگی پر سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ اور آئینی عدالتوں کے فیصلوں میں اس بات کو بارہا دہرایا گیا ہے کہ قانون کے تقاضے مقررہ وقت پر پورے ہونے چاہئیں تاکہ کسی بھی شخص کے خلاف غیر ضروری اور طویل قانونی چارہ جوئی کا سلسلہ بند کیا جا سکے۔ شہزاد سلیم کے وکیل نے بھی اسی نکتے پر زور دیا کہ جب سپریم کورٹ نے تمام معاملات پہلے ہی طے کر دیے تھے تو دوبارہ انکوائری کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت کی طرف سے پوچھے گئے سوالات میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ نیب نے اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے وقت پر کارروائی کیوں نہیں کی تھی۔ پراسیکیوٹر کی جانب سے تاخیر کا اعتراف کیے جانے کے بعد عدالت کے لیے فیصلہ کرنا مزید واضح ہو گیا کہ اس نوعیت کے تاخیری حربے عدل و انصاف کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس فیصلے کے بعد سابق ڈی جی نیب کو اس انکوائری کے حوالے سے بڑی قانونی راحت مل گئی ہے جو طویل عرصے سے ان کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی تھی۔ عدالت نے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لینے کے بعد اپنے مختصر فیصلے میں اپیل منظور کرتے ہوئے کیس کو ختم کرنے کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معزز جج نے سماعت کے دوران جس طرح ریمارکس دیے، اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عدالتیں اب اداروں کی جانب سے بلاجواز تاخیر اور سستی کو کسی صورت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تمام متعلقہ قانونی فریقین نے عدالت کے اس فیصلے کو غور سے سنا اور کارروائی اپنے انجام کو پہنچی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/955/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/831/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/831/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 15 Oct 2026 13:18:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_جمال_مندوخیل]]></category>
		<category><![CDATA[جسٹس_منیب_اختر]]></category>
		<category><![CDATA[چیف_جسٹس_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سپریم_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3-%d9%85%d9%86%db%8c%d8%a8-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d8%b1-%d9%86%db%92-%d9%82%d8%a7%d8%a6%d9%85-%d9%85%d9%82%d8%a7%d9%85-%da%86%db%8c%d9%81-%d8%ac%d8%b3%d9%b9%d8%b3/</guid>

					<description><![CDATA[سپریم کورٹ میں ہونے والی ایک پروقار تقریب میں جسٹس جمال مندوخیل نے ان سے حلف لیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ حلف برداری کی یہ اہم تقریب ملک کے اعلیٰ ترین عدلیہ کے مرکز، سپریم کورٹ کے احاطے میں منعقد کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب کے دوران سپریم کورٹ کے دوسرے ججز، عدالتی عملے کے ارکان اور دیگر اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس پروقار موقع پر فضا انتہائی متوازن اور عدلیہ کے وقار کے مطابق تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معزز جج جسٹس جمال مندوخیل نے جسٹس منیب اختر سے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ اس تقریب کی کارروائی باقاعدہ روایات کے مطابق انجام دی گئی جس میں عدالتی روایات کا بھرپور پاس رکھا گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تبدیلی اس وقت عمل میں آئی ہے جب موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان اپنے نجی دورے پر انگلینڈ تشریف لے گئے ہیں۔ ان کی بیرون ملک موجودگی کی وجہ سے عارضی طور پر یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موصولہ اطلاعات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان اکیس اکتوبر کو اپنے نجی دورے سے وطن واپس تشریف لائیں گے۔ ان کی واپسی کے بعد وہ دوبارہ اپنے عہدے کے تمام باضابطہ فرائض سنبھال لیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انگلینڈ سے واپسی اور چارج سنبھالنے تک جسٹس منیب اختر عدالتی امور کی انجام دہی کے لیے قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔ وہ اس مدت کے دوران عدالت عظمیٰ کے انتظامی اور عدلیہ کے معاملات کو دیکھیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سپریم کورٹ کے ترجمان کے مطابق عدلیہ کا نظام معمول کے مطابق رواں دواں ہے اور تمام امور آئین اور قانون کے دائرہ کار میں جاری ہیں۔ قائم مقام چیف جسٹس کی زیر نگرانی بنچوں کی تشکیل اور کیسوں کی سماعت کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جسٹس منیب اختر کا شمار سپریم کورٹ کے سینیئر اور تجربہ کار ججوں میں ہوتا ہے جو آئینی و قانونی امور پر گہری دسترس رکھتے ہیں۔ ان کے اس عارضی منصب سنبھالنے سے عدلیہ کے روزمرہ کے کاموں میں کوئی تعطل نہیں آئے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدلیتی حلقوں میں اس حلف برداری کی تقریب کو معمول کی آئینی اور انتظامی کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کے عدالتی ڈھانچے میں سربراہ کی غیر موجودگی میں قائم مقام تقرر کی یہ روایت آئینی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہر اقتدار میں ہونے والی اس تقریب کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ عوام اور وکلابرادری کو بھی اس عارضی انتظام سے باخبر رکھا گیا ہے تاکہ عدلیہ کا کام بلا تعطل جاری رہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انگلینڈ کا نجی دورہ مکمل کرنے کے بعد چیف جسٹس کی آمد پر معمول کی تمام دفتری اور عدلیہ کی سرگرمیاں بحال ہو جائیں گی۔ اس دوران جسٹس منیب اختر آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے رہیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کی سب سے بڑی عدالت میں حلف برداری کی اس تقریب کا مقصد عدلیہ کے نظام کو کسی بھی قسم کے وقفے سے بچانا ہے۔ آئینی تقاضوں کے تحت یہ عارضی انتظام فوری طور پر کیا گیا تاکہ کوئی بھی دفتری امور التواء کا شکار نہ ہوں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تمام قانونی ماہرین نے اس تقریب اور عارضی تقرر کو آئین پاکستان کے مطابق قرار دیا ہے۔ جسٹس منیب اختر کے پاس طویل عدلیہ کا تجربہ ہے جس کی بدولت وہ ان تمام ذمہ داریوں کو نہایت کامیابی اور احسن انداز میں پورا کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/831/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ذوالقرنین خان مرحوم: دیانت، اصول پسندی اور روشن عدلیہ کی میراث</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/700/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/700/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 14 Oct 2026 16:16:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_عدلیہ]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_سرکار]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_عدلیہ_تاریخ]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_اور_تربیت]]></category>
		<category><![CDATA[دیانت_اور_کردار]]></category>
		<category><![CDATA[ذوالقرنین_خان]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زینب_خان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/zulqarnain-khan-legacy-of-justice-and-integrity/</guid>

					<description><![CDATA[مرحوم جج ذوالقرنین خان کی حیات اور خدمات قانون کی بالادستی، دیانت اور غیر جانب دارانہ عدلیہ کی بہترین مثال ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کچھ شخصیات دنیا سے رخصت ہونے کے باوجود اپنے کردار، دیانت اور اصولوں کی بدولت ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور معاشرے کے لیے ایک روشن راستہ چھوڑ جاتی ہیں۔ ان کی شناخت محض کسی عارضی عہدے یا اختیارات سے نہیں بلکہ ان کی سچی خدمات اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذوالقرنین خان مرحوم کا شمار عدلیہ کی ایسی ہی قابل اور نڈر شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ قانون کی سربلندی اور انصاف کے تقاضوں کو ہر چیز پر مقدم رکھا۔ انہوں نے اپنے طویل عدالتی کیریئر کے دوران انسدادِ دہشت گردی کی عدالت سمیت کئی اہم ترین ذمہ داریاں انتہائی دیانت کے ساتھ نبھائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کی زندگی کا ہر لمحہ اس عزم کا غماز تھا کہ منصب انسان کو عزت نہیں دیتا بلکہ انسان اپنے کردار سے منصب کو باوقار بناتا ہے۔ ایسے بااصول افراد کی یادگاریں معاشرے میں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ اصل کامیابی ضمیر اور قانون سے وفاداری میں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کسی بھی عدالتی نظام میں جج کا عہدہ صرف ایک کرسی نہیں بلکہ ایک بڑی امانت ہوتا ہے جسے مضبوط اعصاب اور غیر جانب دارانہ سوچ کے ساتھ چلانا پڑتا ہے۔ ذوالقرنین خان نے اپنے فیصلوں میں ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا اور ہر قسم کے دباؤ کو مسترد کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت جیسے حساس اداروں میں فرائض سرانجام دینے کے لیے محض قانونی علم کافی نہیں ہوتا بلکہ کڑے وقت میں حق پر قائم رہنے کا حوصلہ بھی درکار ہوتا ہے۔ مرحوم نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ ہر سائل کو بلا تفریق انصاف فراہم کیا جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدلیہ کی تاریخ میں ایسے ایماندار اور اصول پسند ججوں کے تذکرے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں جو عوام کا عدالتوں پر اعتماد بحال رکھتے ہیں۔ ایک اچھے جج کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ طاقتور اور کمزور میں تفریق کیے بغیر صرف شواہد اور قانون کی بنیاد پر فیصلہ کرے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ذوالقرنین خان کی خدا ترسی اور فرض شناسی نے انہیں معاشرے اور عدالتی حلقوں میں ایک امتیازی مقام عطا کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی برسی کا دن محض یاد دہانی نہیں بلکہ عدل و انصاف کی ان اقدار کو دہرانے کا موقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والدین کی اصل میراث صرف مادی وسائل نہیں بلکہ ان کی تربیت ہوتی ہے جو وہ اپنی اولاد کو فراہم کرتے ہیں تاکہ وہ معاشرے کے مفید شہری بنیں۔ ذوالقرنین خان نے اپنی اولاد کو اعلیٰ تعلیم اور خدمتِ خلق کے زیور سے آراستہ کیا جو آج اہم عہدوں پر فائز ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کے صاحبزادے محمد عثمان خان اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں اور آئین و قانون پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ قانون کے میدان میں اپنی مہارت اور علمی قابلیت کے حوالے سے ایک نمایاں پہچان رکھتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محمد عثمان خان تدریسی شعبے سے بھی وابستہ ہیں اور اکیڈمی میں مقابلے کے امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبا کو تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ان کے پڑھائے ہوئے کئی نوجوان آج ملکی بیوروکریسی میں اہم سرکاری ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مرحوم کی صاحبزادی مریم خان لاہور ڈویژن کی پہلی خاتون کمشنر کے طور پر اپنی انتظامی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں، جو صوبے کی انتظامی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے اپنے فرائض کے دوران بہترین انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ ان کی دوسری صاحبزادی زینب خان محکمہ کوآپریٹوز میں بطور سپیشل سیکرٹری اہم انتظامی ذمہ داریوں پر فائز ہیں۔ وہ بھی اپنے دائرہ کار میں شفافیت اور قواعد و ضوابط کے مطابق سرکاری امور کو احسن انداز میں چلا رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خاندان کی یہ تمام کامیابیاں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ گھر کا ماحول اور والدین کی تربیت اولاد کی عملی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ ذوالقرنین خان کی دیانت داری اور اصول پسندی کا اثر ان کی اولاد کے پیشہ ورانہ کردار میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشرے کو ایسے ہی درخشندہ کرداروں کی ضرورت ہے جو محض ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی بہبود اور قانون کی بالادستی کو اپنا نصب العین بنائیں۔ ذوالقرنین خان کا نام ہمیشہ ایک ایسے منصف کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے عدل و انصاف کے چراغ کو روشن رکھا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/700/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
