<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.4.0"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پاکستان_سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86_%d8%b3%db%8c%d8%a7%d8%b3%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 11 Oct 2026 00:37:31 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.3</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پاکستان_سیاست &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>فرانس، بھارت اور پاکستان میں عوامی مظاہرے، جمہوریت اور شہری حقوق پر بحث چھڑ گئی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/57/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/57/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 00:37:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن_کمیشن_بھارت]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابی_شفافیت]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[بھارت_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_اصلاحات]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوری_حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[راہول_گاندھی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[فرانس_احتجاج]]></category>
		<category><![CDATA[فرانس_طلبہ]]></category>
		<category><![CDATA[گیانیش_کمار]]></category>
		<category><![CDATA[لانگ_مارچ]]></category>
		<category><![CDATA[ووٹر_لسٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/57/</guid>

					<description><![CDATA[مختلف ممالک میں تعلیمی مسائل، انتخابی فہرستوں میں ترمیمی عمل اور سیاسی مطالبات پر جاری احتجاج نے ریاست اور شہریوں کے تعلق پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">دنیا کے مختلف ممالک میں بنیادی حقوق، تعلیمی اصلاحات اور انتخابی شفافیت کے لیے عوام اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، جن کے باعث ریاستی ترجیحات اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں پر عالمی سطح پر اہم بحث چھڑ گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں گزشتہ چند ہفتوں سے ہائی اسکول کے طلبہ اپنے تعلیمی مستقبل اور اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے سڑکوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کی عمارتیں خستہ حال ہیں اور کلاس رومز میں اساتذہ کی شدید کمی کا سامنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں جاری طلبہ کے اس احتجاج نے چھ اکتوبر کو اس وقت شدید پرتشدد نوعیت اختیار کر لی جب پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں کے دوران پولیس کے اسٹن گرینیڈ کا نشانہ بن کر ایک پندرہ سالہ طالب علم کا ہاتھ شدید زخمی ہو گیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس افسوسناک واقعے کے بعد فرانسیسی حکومت نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے اسٹن گرینیڈز کے استعمال کو تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ حکومت نے اس کے ساتھ طلبہ کے مطالبات اور خدشات کو تسلیم کرنے کا اشارہ بھی دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فرانس میں طلبہ کے اس احتجاج نے تعلیمی نظام میں موجود طبقاتی عدم مساوات کو بھی واضح کر دیا ہے۔ ایک طرف بہترین سہولتوں سے آراستہ تعلیمی ادارے موجود ہیں تو دوسری طرف سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں اور اساتذہ کے انتظار میں بچوں کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب بھارت میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے عمل کے خلاف اپوزیشن جماعتوں اور مختلف شہری گروہوں کا احتجاج جاری ہے، جس نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ایک نئی اور شدید کشمکش کو جنم دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارتی اپوزیشن اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوں اور انتخابی فہرستوں میں نظرثانی کے اس عمل کو روکا جائے، تاکہ مبینہ طور پر فہرستوں سے خارج کیے گئے اہل ووٹرز کے نام دوبارہ بحال ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس احتجاجی تحریک کے دوران سات اکتوبر کو بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی سمیت متعدد اہم سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو مظاہرے کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا تھا، جس کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بھارت کے الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کے تمام الزامات کو رد کرتے ہوئے اپنا موقف بیان کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں نظرثانی کا بنیادی مقصد ووٹر لسٹوں کو درست اور شفاف بنانا ہے، اور تمام اہل شہریوں کو اپنی اہلیت ثابت کرنے کا پورا موقع دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">الیکشن کمیشن کی اس وضاحت کے باوجود جمہوری حلقوں کی جانب سے انتخابی عمل کی شفافیت اور ووٹر لسٹوں کی درستگی کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ ہر جمہوری نظام میں ووٹرز کے اعتماد کی بحالی ہی انتخابات کی شفافیت کی اصل ضامن ہوتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان میں بھی اس وقت سیاسی احتجاجی ماحول قائم ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مختلف مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاجی مظاہرے اور لانگ مارچ کی تیاریوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی اپنا سخت موقف برقرار رکھا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ ریاست کو کسی بھی سیاسی دباؤ کے ذریعے یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ دوسری جانب احتجاج کرنے والی اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ پرامن سیاسی احتجاج ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے جسے دبایا نہیں جا سکتا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی اور قانون دان ماہرین کا ماننا ہے کہ جمہوریت میں حکومت کو احتجاج سے اختلاف کا پورا حق حاصل ہے، لیکن ساتھ ہی شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے پرامن احتجاج کے حق کا احترام بھی ضروری ہے، بشرطیکہ قانون شکنی اور عمومی املاک کی توڑ پھوڑ نہ کی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین کے مطابق ایک طاقتور اور جدید جمہوری ریاست کا وقار صرف بلند و بالا عمارتوں اور پولیس فورس کی طاقت سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ اس کا اصل حسن اس کے اسکولوں، اسپتالوں، عدالتوں اور عام شہریوں کو ملنے والے بنیادی حقوق اور انصاف کی فراہمی میں نظر آتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/57/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گورنر راج: سیاسی اتفاق رائے کا فقدان اور جمہوری تقاضے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/columns/26/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/columns/26/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ادارتی تجزیہ]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 10 Oct 2026 21:48:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کالم]]></category>
		<category><![CDATA[آئینی_ماہرین]]></category>
		<category><![CDATA[اداریہ]]></category>
		<category><![CDATA[اردو_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[ایمل_ولی_خان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[پی_ٹی_آئی]]></category>
		<category><![CDATA[تازہ_ترین]]></category>
		<category><![CDATA[تجزیہ]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوری_عمل]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر_پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رائے]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی_مذاکرات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[گورنر_راج]]></category>
		<category><![CDATA[محسن_نقوی]]></category>
		<category><![CDATA[مولانا_فضل_الرحمان]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/columns/26/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی کوششوں کو اتحادی جماعتوں کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد سیاسی بحران گہرا ہو گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کی موجودہ سیاسی و سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بازگشت نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے اس حساس معاملے پر اہم سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے گئے ہیں تاکہ کسی متفقہ لائحہ عمل تک پہنچا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان سے وفاقی حکام کی ملاقات انتہائی اہمیت کی حامل رہی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے لیے اے این پی کی حمایت مانگی تھی، تاہم ایمل ولی خان نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے جمہوری عمل کے تسلسل پر زور دیا اور اسے صوبائی حکومت کے لیے غیر مناسب قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران وزیر داخلہ کی جانب سے اے این پی کے رہنما امیر حیدر ہوتی کو گورنر بنانے کی پیشکش بھی سامنے آئی، جسے سیاسی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم، ایمل ولی خان کا دو ٹوک موقف یہ رہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان بھی خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ انتظامی اقدامات کے بجائے سیاسی مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہیں۔ اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے اس مخالفت نے وفاقی حکومت کے لیے فیصلہ سازی کا عمل مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئینی ماہرین کے مطابق گورنر راج کا نفاذ ایک انتہائی قدم ہے جو صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب صوبائی حکومت آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہو جائے یا امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو۔ اس اقدام کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری اور پارلیمانی نگرانی کا عمل بھی ناگزیر ہوتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ بیانات میں صوبے کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا موقف ہے کہ حکومت نے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے، تاہم حالات کے پیش نظر سخت فیصلے ناگزیر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت کے کسی بھی ممکنہ اقدام کی سخت مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت کو ہٹانے کا کوئی بھی غیر آئینی اقدام عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوگا۔ یہ محاذ آرائی صوبے میں سیاسی عدم استحکام کے خدشات کو مزید بڑھا رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی اس معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے گورنر راج کو جمہوری طور پر ناپسندیدہ قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں اسے ایک آئینی آپشن کے طور پر دیکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو دہشت گردی کے خلاف اپنا موقف واضح کرنا چاہیے تاکہ معاملات بہتر ہو سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت وفاقی حکومت کو صوبائی معاملات میں مداخلت کے اختیارات حاصل ہیں، لیکن سپریم کورٹ ماضی میں یہ اصول طے کر چکی ہے کہ بدنیتی یا آئینی حدود سے تجاوز کی صورت میں عدالتی مداخلت ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت ہر قدم انتہائی احتیاط اور قانونی مشاورت کے ساتھ اٹھانا چاہتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں گورنر راج کا نفاذ دور رس سیاسی نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ اے این پی اور جے یو آئی (ف) کی مخالفت کے بعد وفاقی حکومت کے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اب تمام تر نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ حکومت سیاسی مذاکرات کا راستہ اپناتی ہے یا کوئی اور لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کے مابین مشاورت اور اتفاق رائے ہی استحکام کی ضمانت ہے۔ خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ امید ہے کہ تمام فریقین ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کسی ایسے نتیجے تک پہنچیں گے جو جمہوری اقدار کے منافی نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ خیبر پختونخوا کا مستقبل سیاسی تدبر اور آئینی پاسداری سے جڑا ہے۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر ایسے اقدامات کرے جس سے صوبے میں امن بھی قائم ہو اور جمہوری عمل بھی متاثر نہ ہو۔ آنے والے چند روز ملکی سیاست کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/columns/26/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
