<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.33.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پاکستان_سعودی_تعلقات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86_%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c_%d8%aa%d8%b9%d9%84%d9%82%d8%a7%d8%aa/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sat, 31 Oct 2026 08:34:51 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پاکستان_سعودی_تعلقات &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>تہران اجلاس کا مرکزی موضوع سعودی عرب کی صورتحال تھا، خواجہ آصف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2505/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2505/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 27 Oct 2026 01:37:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آج_کی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_کوششیں]]></category>
		<category><![CDATA[اہم_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[ایران_امریکہ]]></category>
		<category><![CDATA[بریکنگ_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_زندہ_باد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سعودی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[تہران_اجلاس]]></category>
		<category><![CDATA[حرمین_شریفین]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[خطے_میں_امن]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ_آصف]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[قومی_اسمبلی]]></category>
		<category><![CDATA[وفاقی_حکومت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%aa%db%81%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d8%ac%d9%84%d8%a7%d8%b3-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b1%da%a9%d8%b2%db%8c-%d9%85%d9%88%d8%b6%d9%88%d8%b9-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a8/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے دفاع کا معاہدہ پاکستان کی ذمہ داری ہے اور خطے میں امن کے لیے کوششیں ثمر آور ثابت ہو رہی ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ تہران میں منعقد ہونے والے چار ملکی اجلاس کا بنیادی ایجنڈا سعودی عرب کی موجودہ صورتحال تھا۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدہ موجود ہے جس کے تحت مملکت کا دفاع پاکستان کی اہم ذمہ داری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے تہران اجلاس میں ہونے والی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششیں اب ثمر آور ثابت ہو رہی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے حوثیوں کی جانب سے حرمین شریفین پر حملے کی کوششوں کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے اور کسی بھی معاہداتی ذمہ داری سے انحراف ممکن نہیں۔ پاکستان اپنے برادر ملک کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے حوالے سے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ تہران میں ہونے والی بات چیت میں امریکہ کے ساتھ معاملات اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہوگا۔ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی امن کوششوں کو سراہا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خطے میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ حل کی جانب پیشرفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان نے عالمی امن کے قیام کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے جس کے اثرات اب نمایاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل میں جاری انتخابات کے تناظر میں جنگ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا امکان نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جنگوں کو سیاسی مفادات کے بجائے امن کے قیام کے لیے ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش ہونی چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں استحکام کا خواہاں رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا محور امن کا قیام ہے اور اس مقصد کے لیے تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ رابطے جاری ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی کے حل کے لیے ہونے والی کوششیں اب ایک اہم موڑ پر پہنچ چکی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر یہ کوششیں اسی رفتار سے جاری رہیں تو خطے میں طویل عرصے سے جاری تناؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خواجہ آصف نے اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیاسی قیادت مل کر ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ صرف کاغذی نہیں بلکہ عملی ذمہ داری ہے جسے پاکستان ہر حال میں نبھانے کا پابند ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر دفاع نے پروگرام کے دوران اس بات کی نشاندہی کی کہ عالمی طاقتوں کو بھی چاہیے کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے تعمیری کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ جنگیں کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ تباہی اور انسانی المیے پیدا کرتی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اور ادارے خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے رہیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/2505/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وزیراعلیٰ مریم نواز سے سعودی سفیر ڈاکٹر راجح البقمی کی ملاقات، باہمی تعاون پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1776/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1776/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 01:37:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[برآمدات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سعودی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_راجح_البقمی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[زراعت]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایہ_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%88%d8%b2%db%8c%d8%b1%d8%a7%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%b0-%d9%85%d8%b1%db%8c%d9%85-%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d8%b3%db%92-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b3%d9%81%db%8c%d8%b1/</guid>

					<description><![CDATA[ملاقات میں پنجاب سے سعودی عرب کو زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے سعودی عرب کے نو تعینات سفیر ڈاکٹر راجح البقمی نے لاہور میں ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے سعودی سفیر کو پاکستان میں سفارتی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ سعودی قیادت اور محمد نواز شریف کے درمیان اعتماد کا رشتہ ایک روشن مثال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کی اقتصادی اور مالی معاونت پر سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب تقریباً 9.8 ارب ڈالر کے ساتھ پاکستان کو ترسیلاتِ زر بھیجنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں پنجاب سے لائیو سٹاک، بیف، پولٹری، پھلوں اور سبزیوں کی سعودی عرب برآمدات بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اس ضمن میں 500 ارب روپے سے زائد کی برآمدات کا ہدف مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ تجارتی حجم میں اضافہ ہو سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب سعودی عرب کو حلال سے تصدیق شدہ معیاری خوراک کی فراہمی میں ایک اہم پارٹنر بن سکتا ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ریاض میں پنجاب کے روڈ شو کے انعقاد پر بھی تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے سعودی شہریوں کو پنجاب کے سیاحتی مقامات کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کا ثقافتی ورثہ اور لاہور کی مہمان نوازی عالمی سطح پر مشہور ہے۔ انہوں نے سعودی سفیر کو صوبے کی سیاحتی صلاحیتوں سے بھی آگاہ کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی سفیر ڈاکٹر راجح البقمی نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان سٹریٹجک تعلقات کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت، عوام اور افواجِ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے حمایت پر شکریہ ادا کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ مریم نواز نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی اور انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ملک کے تحفظ اور دفاع کے حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات میں اگست 2026 کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا گیا۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ معاہدہ خود مختاری اور سلامتی کے تحفظ کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی سفیر نے پنجاب کے تاریخی ورثے اور مغلیہ یادگاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کی گرم جوشی اور روایات انہیں بہت پسند ہیں۔ انہوں نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب نے سابق سعودی سفیر کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاک سعودی دوستی وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہو رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے اختتام پر وزیراعلیٰ مریم نواز نے خادمِ حرمین شریفین اور سعودی ولی عہد کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ہر پاکستانی کے دل میں ایک منفرد اور انتہائی محترم مقام رکھتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/1776/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر پاکستان کا مؤقف واضح</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/65/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/65/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 11 Oct 2026 01:38:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسحاق_ڈار]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_سعودی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[حوثی]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_معاہدہ]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[سکیورٹی]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/65/</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کا پابند ہے، تاہم یمن تنازع میں براہ راست شمولیت سے متعلق قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروہ ’انصار اللہ‘ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں پر حکومت نے اپنا مؤقف واضح کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والے دفاعی معاہدوں کا پابند ہے، تاہم کسی بھی غیر ملکی جنگ کا حصہ بننا پاکستان کی پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حال ہی میں مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں سکیورٹی تعاون بڑھانے کے حوالے سے خبریں سامنے آئی تھیں۔ اس حوالے سے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان ایک دفاعی معاہدے کا حصہ ہے اور اس پر عمل درآمد کا پابند ہے، جس کے لیے ان کی ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستانی فوج کے ترجمان نے بھی ایک انٹرویو کے دوران سعودی عرب میں پاکستانی فورسز کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختلف صلاحیتوں کے حامل پاکستانی دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں موجود ہیں اور یہ موجودگی پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان سفارتی، سیاسی اور فوجی تعلق کا تسلسل ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزارت اطلاعات نے ان میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کی ہے جن میں حوثیوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں پاکستانی لڑاکا طیاروں کے استعمال کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ وزارت نے ان خبروں کو ’جھوٹی اور من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کی تعیناتی کے حوالے سے قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کیا جانا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی وزارت دفاع کے مطابق، رواں برس اپریل میں کنگ عبدالعزیز ایئر بیس پر پہنچنے والی پاکستانی فورسز کا مقصد سعودی اور پاکستانی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ فوجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا اور آپریشنل تیاری کی سطح کو بلند کرنا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام کے فروغ میں معاونت فراہم کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفاعی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ سعودی عرب کی سلامتی کو درپیش خطرات کے پیش نظر پاکستان کا کردار اہم ہے۔ تاہم، یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کا روایتی آپریشنل دائرہ کار خطے کی صورتحال تک محدود رہا ہے اور اسلام آباد اپنی خارجہ پالیسی قومی مفادات کے تحت تشکیل دیتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماضی میں بھی پاکستان نے یمن تنازع کے حوالے سے پارلیمانی فیصلوں کو اہمیت دی ہے۔ سابق سفیر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنے قومی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے اور کسی بھی بڑے فیصلے سے قبل پارلیمان میں بحث اور مشاورت کا عمل ناگزیر ہونا چاہیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مبصرین کے مطابق، سنہ 2015 کے بعد سے اب حالات میں کافی تبدیلی آ چکی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دو طرفہ اور سہہ فریقی مکہ معاہدے پاکستان کی سکیورٹی شراکت داری کو ایک نئی جہت دیتے ہیں، جس کا مقصد سعودی عرب کے دفاعی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">امریکی تھنک ٹینک سٹمسن سینٹر سے منسلک باربرا سلاون کا خیال ہے کہ سعودی عرب خود کو ایک مشکل صورتحال میں دیکھ رہا ہے جہاں اسے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے اپنے قریبی اتحادیوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کا کردار ایک سٹریٹجک پارٹنر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان نے ہمیشہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کی حمایت کی ہے۔ حکومت کا یہ مؤقف رہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں ہی واحد راستہ ہیں۔ پاکستان کسی بھی ایسی سرگرمی کا حصہ نہیں بنے گا جو علاقائی امن کے لیے خطرہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک کے اندرونی سکیورٹی چیلنجز اور معاشی صورتحال کے پیش نظر بھی پاکستان محتاط پالیسی پر گامزن ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کسی بھی ایسی مہم جوئی سے گریز کرے گا جو ملک کو غیر ضروری طور پر کسی بیرونی تنازع میں الجھا دے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون جاری رہنے کا امکان ہے، لیکن یہ تعاون طے شدہ معاہدوں کے دائرہ کار تک ہی محدود رہے گا۔ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کے ساتھ رابطے میں رہنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/65/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
