<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><?xml-stylesheet type="text/xsl" href="https://dailypakistanonline.com/wp-content/themes/dailypakistan/assets/feed.xsl?v=1.30.2"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>پاکستان_خبریں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<atom:link href="https://dailypakistanonline.com/tag/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86_%d8%ae%d8%a8%d8%b1%db%8c%da%ba/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<description>سچ کی آواز، سب سے پہلے — تازہ ترین اردو خبریں</description>
	<lastBuildDate>Sun, 01 Nov 2026 22:26:29 +0000</lastBuildDate>
	<language>ur</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	3	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.1.4</generator>

<image>
	<url>https://dailypakistanonline.com/wp-content/uploads/2026/10/icon-512-150x150.png</url>
	<title>پاکستان_خبریں &#8211; ڈیلی پاکستان آن لائن</title>
	<link>https://dailypakistanonline.com</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>اسلام آباد میں سعودی سرمایہ کاری سے جدید تھیم پارک بنانے کا معاہدہ طے</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81-%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81-%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 25 Oct 2026 09:56:41 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[تھیم_پارک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[رئیل_اسٹیٹ]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سرمایه_کاری]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_پاکستان_بزنس_کونسل]]></category>
		<category><![CDATA[سعودی_عرب]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81-%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور شہزادہ منصور بن محمد السعود کی موجودگی میں اسلام آباد میں تھیم پارک کے قیام کا معاہدہ طے پا گیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرنے اور شہریوں کو تفریح کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک اور اہم اور انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں اسلام آباد میں جدید ترین تھیم پارک پراجیکٹ کے قیام کے لیے مفاہمتی یادداشت پر باقاعدہ دستخط کیے گئے۔ یہ منصوبہ دارالحکومت کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی حکومتی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے جس سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے دروازے بھی کھلیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر داخلہ اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی تھے جنہوں نے تقریب میں شرکت کی اور اس معاہدے کی تکمیل کا خیرمقدم کیا۔ تاریخی قذافی سٹیڈیم میں منعقدہ اس تقریب میں دونوں برادر ممالک کے اعلیٰ حکام اور شخصیات نے شرکت کی جہاں باضابطہ طور پر اس منصوبے کی بنیاد رکھی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے والی نمایاں شخصیات میں چیئرمین سعودی پاکستان بزنس کونسل شہزادہ منصور بن محمد السعود اور چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی سہیل اشرف شامل تھے۔ دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر دستاویزات کا تبادلہ کیا اور اس منصوبے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اور سنگِ میل قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس طے پانے والے معاہدے کے تحت سعودی عرب کے سرمایہ کار پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک وسیع اور جدید ترین تھیم پارک پراجیکٹ کے لیے بھرپور سرمایہ کاری فراہم کریں گے۔ یہ سرمایہ کاری ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح مظہر ہے جو معیشت کے استحکام میں مددگار ثابت ہوگی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کی بروقت تکمیل اور عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے موزوں اراضی فراہم کی جائے گی تاکہ تعمیراتی امور میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ سی ڈی اے حکام اس پراجیکٹ کو جلد از جلد عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام ضروری قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کر رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تقریب سے اپنے خطاب کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سعودی عرب سے تشریف لانے والے معزز مہمانوں کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور ان کی آمد کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلام آباد کے انفراسٹرکچر کو دنیا کے جدید ترین شہروں کی طرز پر استوار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ یہ تھیم پارک پراجیکٹ وفاقی دارالحکومت کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا جو نہ صرف تفریحی شعبے کو انقلاب سے روشناس کرائے گا بلکہ سیاحت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اس سے شہریوں کو بین الاقوامی معیار کی تفریحی سہولیات میسر آئیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محسن نقوی نے تقریب میں ایک اور اہم بات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اگلے چند ماہ کے دوران سعودی عرب میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے متعلق ایک بڑے روڈ شو کا بھی ارادہ کیا گیا ہے۔ اس روڈ شو کا مقصد پاکستانی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سعودی سرمایہ کاری کو مزید فروغ دینا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سعودی پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین شہزادہ منصور بن محمد السعود نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بالخصوص اسلام آباد کے اندر کاروبار اور سرمایہ کاری کے بے شمار بہترین مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی منڈی غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے انتہائی پرکشش ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">شہزادہ منصور بن محمد السعود نے مزید کہا کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی وسعت موجود ہے اور ایسے منصوبے اس سمت میں ایک مستحکم قدم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان میں مزید شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ تفریحی اور تجارتی منصوبہ نہ صرف اسلام آباد کے شہریوں کے لیے تفریح کا ایک بہترین مرکز بنے گا بلکہ اس سے تعمیراتی اور سیاحتی شعبے سے جڑے دیگر لوگوں کو بھی روزگار کے وسیع مواقع ملیں گے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے اس پیشرفت کو معاشی بہتری کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومتِ پاکستان ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مسلسل کوشاں ہے اور اس قسم کے اقدامات سے بین الاقوامی سطح پر ملک کا مثبت تشخص اجاگر ہوتا ہے۔ دونوںممالک کے درمیان طے پانے والا یہ سمجھوتہ دوطرفہ برادرانہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا باعث بنے گا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af%db%8c-%d8%b3%d8%b1%d9%85%d8%a7%db%8c%db%81-%da%a9%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%b3%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بچے پر تشدد کرنے والے ٹیچر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d8%a8%da%86%db%92-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d9%b9%db%8c%da%86%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%b3%d8%ae%d8%aa/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d8%a8%da%86%db%92-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d9%b9%db%8c%da%86%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%b3%d8%ae%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Oct 2026 09:38:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسکول_ٹیچر]]></category>
		<category><![CDATA[بچوں_پر_تشدد]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیم_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تعلیمی_ادارے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a8%da%86%db%92-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d9%b9%db%8c%da%86%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%b3%d8%ae%d8%aa/</guid>

					<description><![CDATA[وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کمسن طالب علم کو تشدد کا نشانہ بنانے والے استاد کی گرفتاری پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">لاہور میں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور ان پر ہونے والے تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے مؤثر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اس تناظر میں حالیہ دنوں میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ سامنے آیا جس نے والدین اور سول سوسائٹی کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معصوم طالب علم کو اسکول کے اندر بے دردی سے تشدد کا نشانہ بنانے والے استاد کی گھناؤنی حرکت پر ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ اس قسم کے واقعات تعلیمی اداروں کے بنیادی مقاصد اور ماحول پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر ابھرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے بروقت کارروائی عمل میں لائی اور بچے پر تشدد کرنے والے اسکول ٹیچر کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے لیے تمام ضروری مراحل شروع کر دیے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس اندوہناک واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ملزم استاد کی گرفتاری کی تصویر اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی۔ انہوں نے اس موقع پر اپنے پیغام میں بچوں پر تشدد کرنے والے عناصر کے خلاف انتہائی سخت موقف اپناتے ہوئے اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی دارالحکومت میں بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں حکومتی سطح پر یہ عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ معصوم بچوں کے خلاف اس قسم کی بربریت کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے پیغام میں سختی سے ہدایت جاری کی کہ اس نوعیت کے مجرموں کے ساتھ کوئی نرمی نہ برتی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز نے اپنے جاری کردہ پیغام میں اسکول ٹیچر کی اس سفاکانہ حرکت پر کڑے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ بچے پر تشدد کرنے والے ایسے افراد عبرت کا نشان بننے چاہیے۔ انہوں نے یہاں تک ہدایت دی کہ اس کے چہرے پر جوتے مارے جائیں تاکہ اس پر واضح نشان پڑ جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ماہرین تعلیم اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کو خوف اور تشدد سے پاک کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اساتذہ کا کام بچوں کی تربیت کرنا اور انہیں زیور علم سے آراستہ کرنا ہے نہ کہ انہیں جسمانی یا ذہنی اذیت دینا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">والدین نے بھی حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے درندہ صفت اساتذہ کو ملازمت سے ہمیشہ کے لیے فارغ کیا جائے تاکہ وہ کسی اور معصوم کی زندگی تباہ نہ کر سکیں۔ تعلیمی اداروں میں اس طرح کے عناصر کی موجودگی معاشرے کے لیے ایک ناسور کی حیثیت رکھتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ تعلیم پنجاب کو بھی اس واقعے کے بعد مزید فعال کر دیا گیا ہے تاکہ وہ تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں اساتذہ کے رویوں کی کڑی مانیٹرنگ کریں۔ اس حوالے سے ایک نیا لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت اسکولوں میں جسمانی سزا پر مکمل پابندی کو سختی سے نافذ کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم استاد کے خلاف درج کی جانے والی ایف آئی آر کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا رہے ہیں اور عدالت میں مضبوط چالان پیش کیا جائے گا۔ تفتیشی ٹیمیں اس بات کو یقینی بنا رہی ہیں کہ کیس میں کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے تاکہ ملزم کو اس کے مکروہ فعل کی کڑی سزا مل سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">سوشل میڈیا پر بھی عوام کی بڑی تعداد نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس سخت بیان اور فوری کارروائی کی بھرپور تائید کی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بچوں پر تشدد کرنے والوں کے ساتھ ایسا ہی عبرت ناک سلوک ہونا چاہیے تاکہ معاشرے میں قانون کا خوف پیدا ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور ریاست ان کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹے گی۔ امن و امان کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایسے فیصلے معاشرے میں ایک مثبت پیغام دیتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/lahore/%d8%a8%da%86%db%92-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%da%a9%d8%b1%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%92-%d9%b9%db%8c%da%86%d8%b1-%da%a9%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%d8%b3%d8%ae%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں امن کے لیے وفاقی تعاون ناگزیر ہے: فیصل کریم کنڈی</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Oct 2026 19:16:58 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اپیکس_کمیٹی]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[امن_و_امان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_آرمی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[ترقی_اور_خوشحالی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[گورنر خیبر پختونخوا نے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ اور صوبے میں پائیدار ترقی اولین ترجیح ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اپیکس کمیٹی کے اہم اجلاس میں خیبر پختونخوا کے امور اور امن و امان کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا جس میں ملکی سیاسی و عسکری قیادت نے شرکت کی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی اور صوبے میں امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون کی اہمیت پر زور دیا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر خیبر پختونخوا نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے میں پائیدار اور دیرپا امن کے حصول کے لیے وفاق کا بھرپور تعاون انتہائی ضروری ہے تاکہ عوام کو پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج، فرنٹئیر کور اور پولیس کے جوانوں نے صوبے میں امن و امان کی بحالی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں اور بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام ادارے اگر ایک ہی صفحے پر موجود ہوں تو کوئی بھی طاقت امن اور ترقی کے اس سفر کو روک نہیں سکتی اور قومی اہداف باآسانی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبے کے اندر سے دہشت گردوں، ان کے تمام سہولت کاروں اور ان کو ملنے والی مالی معاونت کے نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ ہماری حکومت کی اولین اور بنیادی ترجیح ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا بنیادی مقصد خیبر پختونخوا میں درپیش تمام مسائل کے حل کے لیے ایک قابلِ عمل، جامع اور مؤثر حکمتِ عملی وضع کرنا ہے تاکہ بہتری لائی جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے صوبے میں امن و استحکام کی بحالی کے سلسلے میں وفاقی حکومت کی طرف سے فراہم کیے جانے والے تعاون اور امداد پر شکریہ ادا کیا اور اسے خوش آئند قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ صوبے میں ایسا سازگار ماحول پروان چڑھانا چاہتے ہیں جہاں کا ہر ایک شہری خود کو مکمل طور پر محفوظ سمجھے اور ترقیاتی عمل میں شریک ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے زور دیا کہ خیبر پختونخوا کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کا ایک مثالی صوبہ بنانے کے لیے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو مل کر مشترکہ لائحہ عمل کے تحت کام کرنا ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گورنر کا یہ بھی ماننا تھا کہ عامتہ الناس کے تحفظ اور علاقائی خوشحالی کے حصول کے لیے وفاقی اکائیوں اور صوبائی حکومت کے درمیان قریبی اور مربوط تعاون ناگزیر حیثیت رکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">موجودہ سکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے اس نوعیت کے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے جو قومی یکجہتی کا مظہر ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%85%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%84%db%8c%db%92-%d9%88%d9%81%d8%a7%d9%82%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b2%d9%88-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b2%d9%88-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Oct 2026 18:38:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_ایس_پی_آر]]></category>
		<category><![CDATA[پاک_فوج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_مالدیپ_تعلقات]]></category>
		<category><![CDATA[خارجہ_پالیسی]]></category>
		<category><![CDATA[دفاعی_تعاون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر_محمد_معیزو]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سفارتکاری]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b2%d9%88-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9/</guid>

					<description><![CDATA[صدر مالدیپ نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان کے دورے کے دوران پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارتوں اور صلاحیتوں کی بھرپور تعریف کی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے مسلسل اور فعال کردار ادا کر رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، صدر مالدیپ کی جانب سے یہ اظہار خیال ایک اہم ملاقات کے دوران کیا گیا۔ انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اسے خطے کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران پاکستان اور مالدیپ کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باہمی دوستانہ روابط کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ مشترکہ مفادات کے شعبوں میں تعاون بڑھ سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دفاعی تعاون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس شعبے میں روابط کو مزید مستحکم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ دفاعی شراکت داری کو فروغ دینے سے دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹجک تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان کی جانب سے مالدیپ کے ساتھ تعاون کے جذبے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات مالدیپ کی خارجہ پالیسی میں خاص اہمیت رکھتے ہیں اور وہ ان تعلقات کو مزید مضبوط دیکھنے کے خواہاں ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق، ملاقات میں علاقائی صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔ پاکستان نے خطے میں امن کے لیے اپنی پرعزم پالیسی کا اعادہ کیا، جسے مالدیپ کے صدر نے سراہتے ہوئے پاکستان کی کوششوں کو خطے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے ورکنگ گروپس کے قیام پر بھی غور کیا گیا۔ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان مختلف سطحوں پر روابط رہے ہیں، تاہم موجودہ دورہ ان تعلقات میں ایک نیا باب ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان اور مالدیپ کے مابین ثقافتی اور اقتصادی شعبوں میں بھی تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی سطح پر روابط بڑھانے سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان قربتیں مزید بڑھیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صدر مالدیپ نے پاکستان کی میزبانی کا شکریہ ادا کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دورہ ان کے لیے انتہائی مفید رہا اور وہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کے حوالے سے پرامید ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی جانب سے بھی مالدیپ کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان یہ ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں سیکیورٹی اور استحکام کے حوالے سے پاکستان کا کردار انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف کیا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مستقبل میں پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دفاعی اور اقتصادی شعبوں میں مزید معاہدوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ باہمی مفادات کے تحفظ کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%b5%d8%af%d8%b1-%da%88%d8%a7%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%b2%d9%88-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پنجاب کے دیہات کی ترقی کا منصوبہ، پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2026 10:17:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[پائلٹ_پراجیکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_دیہات]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب_نیوز]]></category>
		<category><![CDATA[ترقیاتی_منصوبے]]></category>
		<category><![CDATA[خوشحال_دیہات_ایکٹ]]></category>
		<category><![CDATA[دیہی_ترقی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دیہات کو مثالی بنانے کے منصوبے کی منظوری دے دی۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت نے صوبے کے دیہات میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اور سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی دارالحکومت میں ایک اعلیٰ سطح کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کی۔ اس موقع پر دیہات کو مثالی گاؤں بنانے کے منصوبے پر تفصیلی غور کیا گیا اور متعلقہ حکام نے بریفنگ دی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس کے دوران پنجاب میں خوشحال دیہات ایکٹ دو ہزار چھبیس متعارف کرانے پر اتفاق کیا گیا۔ حکومت نے فوری طور پر ابتدائی مرحلے میں ایک سو بیس دیہات میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ مریم نواز نے منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ہر گاؤں میں عوامی نمائندوں کی مشاورت سے فوری طور پر ویلج کمیٹی تشکیل دی جائے۔ انہوں نے اس حوالے سے مکمل پلان جلد از جلد پیش کرنے کا حکم دیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہر ویلج کمیٹی آٹھ ارکان پر مشتمل ہوگی۔ اس میں چار عوامی نمائندے اور چار سرکاری افسران شامل ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کمیٹیوں کے انتظامی امور کے حوالے سے طے پایا ہے کہ متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر ویلج کمیٹی کی سربراہی کریں گے۔ اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنر تمام کمیٹیوں اور اس پورے منصوبے کی مجموعی نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">منصوبے کے تحت دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ ہر گاؤں میں سیوریج اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا جبکہ گلیاں بھی پختہ کی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت نے دیہات میں جاری رہنے والے ترقیاتی کاموں کی کڑی نگرانی کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ارکان اسمبلی اور پارٹی ٹکٹ ہولڈرز کو بھی متعلقہ دیہات میں اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ پنجاب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ترقی اب صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہے گی۔ دیہات کو بھی ترقی کے عمل میں برابر کا شریک بنایا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام دیہات کو مثالی گاؤں بنانے کا عزم غیر متزلزل ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات اب نچلی سطح تک پہنچائے جائیں گے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مریم نواز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ دیہات کی ترقی کے منصوبوں میں مقامی آبادی کی مشاورت کو لازمی شامل کیا جائے۔ عوام کی آراء سے فلاحی کاموں میں بہتری آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی کاموں میں معیار اور شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ فنڈز کے درست استعمال اور کام کی رفتار پر خصوصی توجہ دی جائے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکام کا کہنا ہے کہ پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد اس دائرہ کار کو پنجاب بھر کے دیگر دیہات تک پھیلایا جائے گا۔ اس جامع پروگرام سے دیہی علاقوں کا نقشہ بدل جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پنجاب حکومت کے اس اقدام سے دیہی علاقوں میں روزمرہ زندگی کی بنیادی سہولیات میسر آئیں گی۔ اس سے دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت کا رجحان بھی کم ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d9%be%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%af%db%8c%db%81%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%d8%b5%d9%88%d8%a8%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خیبر پختونخوا میں گندم کی یومیہ فراہمی کا کوٹہ چار ہزار ٹن کر دیا گیا</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%da%a9%db%8c-%db%8c%d9%88%d9%85%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%da%a9%db%8c-%db%8c%d9%88%d9%85%db%8c%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 19 Oct 2026 15:18:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آٹا_بحران]]></category>
		<category><![CDATA[ازاخیل]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور_ہائی_کورٹ]]></category>
		<category><![CDATA[خیبرپختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[سیلاب_متاثرہ_گندم]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%da%a9%db%8c-%db%8c%d9%88%d9%85%db%8c%db%81/</guid>

					<description><![CDATA[محکمہ خوراک نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے اور کابینہ کمیٹی کی ہدایات پر کوٹہ بڑھا دیا۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">خیبر پختونخوا کے محکمہ خوراک نے صوبے میں گندم کی یومیہ فراہمی کا کوٹہ تین ہزار میٹرک ٹن سے بڑھا کر چار ہزار میٹرک ٹن کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم اقدام پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے اور کابینہ کی نگراں کمیٹی کی ہدایات کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے تاکہ صوبے بھر میں آٹے کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اضافی ایک ہزار میٹرک ٹن گندم کو ازاخیل میں قائم نیشنل ریزرو سینٹر کے گوداموں سے فعال فلور ملز تک پہنچایا جائے گا۔ اس حکمت عملی کا مقصد ذخیرہ شدہ گندم کا بروقت استعمال ممکن بنانا اور کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ خوراک کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت تمام اضلاع میں آبادی کے تناسب سے گندم کی تقسیم کی جائے گی۔ اس اقدام سے صوبے کے تمام اضلاع میں آٹے کے بحران پر قابو پانے اور قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ڈائریکٹر فوڈ نے نظرثانی شدہ کوٹے پر فوری عمل درآمد کے لیے صوبے بھر کے تمام ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز اور راشننگ کنٹرولرز کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ گندم کی منصفانہ تقسیم اور فلور ملز کو اس کی بروقت ترسیل کو ہر صورت یقینی بنائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نئے جاری کردہ انتظام کے مطابق صوبائی دارالحکومت پشاور کو روزانہ کی بنیاد پر ایک سو سولہ میٹرک ٹن اضافی گندم فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ مردان کے حصے میں سڑسٹھ میٹرک ٹن جبکہ صوابی کے لیے چھہاس میٹرک ٹن اضافی گندم مختص کی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح چارسدہ کو پینتالیس میٹرک ٹن، نوشہرہ کو تینتالیس میٹرک ٹن اور لوئر دیر کے اضلاع کو چالیس میٹرک ٹن اضافی گندم دی جائے گی۔ محکمہ خوراک کے اعداد و شمار کے مطابق دیگر اضلاع کے کوٹے میں بھی اسی تناسب سے اضافہ کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">لوئر سوات کے لیے انتالیس میٹرک ٹن، ایبٹ آباد کے لیے پینتیس میٹرک ٹن اور مانسہرہ کے لیے چوالیس میٹرک ٹن گندم مختص کی گئی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کو پینتالیس میٹرک ٹن اور بنوں کو تینتیس میٹرک ٹن گندم فراہم کی جائے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ خوراک کی جانب سے باجوڑ کے لیے بتیس میٹرک ٹن اور کوہاٹ کے لیے تیس میٹرک ٹن گندم کا اضافی کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ باقی ماندہ تمام گندم دیگر اضلاع کو ان کے سرکاری حصے اور آبادی کے تناسب کے مطابق تقسیم کر دی گئی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ خوراک کی طرف سے یہ اضافی گندم جاری کرنے کا فیصلہ نیشنل ریزرو سینٹر ازاخیل کے اسٹوریج اینڈ انفورسمنٹ آفیسر کی ایک تفصیلی رپورٹ کے بعد کیا گیا۔ اس رپورٹ میں حکام کو آگاہ کیا گیا تھا کہ گوداموں میں موجود گندم کی کیا صورتحال ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ حالیہ سیلابی ریلوں کے باعث گوداموں میں پانی داخل ہو گیا تھا جس سے ذخیرہ شدہ گندم کو نقصان پہنچا ہے۔ سیلابی پانی کی وجہ سے گندم کی بوریوں کی نچلی تہیں متاثر ہوئی تھیں جن کا فوری استعمال ناگزیر ہو گیا تھا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">نیشنل ریزرو سینٹر ازاخیل میں قائم کل گیارہ گوداموں میں سے چھ گودام سیلابی پانی کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔ البتہ خوش قسمتی سے مرکز کے باقی پانچ گودام اس قدرتی آفت سے مکمل طور پر محفوظ رہے اور ان میں موجود گندم بالکل درست حالت میں ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">محکمہ خوراک کے مطابق گندم کے ضیاع کو روکنے کا بہترین طریقہ یہی تھا کہ متاثرہ گوداموں کا ذخیرہ فوری طور پر فلور ملز کو جاری کر دیا جائے۔ اس بروقت فیصلے سے نہ صرف قومی سرمائے کو بچایا جا رہا ہے بلکہ عوام کو بھی ریلیف مل رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">صوبائی حکومت اور متعلقہ ادارے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ فلور ملز کو گندم کی فراہمی کے اس نئے نظام پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے اور کسی قسم کی بے ضابطگی سے بچا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%ae%db%8c%d8%a8%d8%b1-%d9%be%d8%ae%d8%aa%d9%88%d9%86%d8%ae%d9%88%d8%a7-%d9%85%db%8c%da%ba-%da%af%d9%86%d8%af%d9%85-%da%a9%db%8c-%db%8c%d9%88%d9%85%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان میں غربت کی شرح کورونا وبا سے قبل کی سطح سے زیادہ، عالمی بینک کی رپورٹ</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%d9%88%d8%a8%d8%a7-%d8%b3%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%d9%88%d8%a8%d8%a7-%d8%b3%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 22:36:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[پیٹرول]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%d9%88%d8%a8%d8%a7-%d8%b3%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[عالمی بینک نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدنی والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ رپورٹ میں پاکستان کی معاشی صورتحال اور غربت کے اعداد و شمار پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان خطے کا واحد ملک ہے جہاں غربت کی شرح اب بھی کورونا وبا سے پہلے کی سطح سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل خطے میں یومیہ 3 ڈالر سے کم کمانے والے انتہائی غریب افراد میں سے 48 فیصد کا تعلق پاکستان سے ہے۔ یہ اعداد و شمار ملک میں معاشی دباؤ کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں یومیہ 3 ڈالر سے کم آمدنی کی بنیاد پر غربت کی شرح میں مالی سال 2018-19 سے 2024-25 کے دوران 64 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ صورتحال عام آدمی کی قوت خرید پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسی طرح یومیہ 4.20 ڈالر سے کم آمدنی والے افراد کی شرح میں بھی 32 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات کے اس تسلسل نے نچلے طبقے کے لیے بنیادی ضروریات زندگی کا حصول بھی مشکل بنا دیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک نے غربت میں اس اضافے کی بنیادی وجوہات میں کورونا وبا کے معاشی اثرات، شدید مہنگائی، روپے کی گرتی ہوئی قدر اور ماضی میں آنے والے تباہ کن سیلاب کو قرار دیا ہے۔ ان عوامل نے روزگار کے مواقع کو بری طرح متاثر کیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح جو 2025 میں 4.5 فیصد تھی، 2026 میں بڑھ کر 7.1 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مزید برآں 2027 میں اس شرح کے 8.2 فیصد تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے غریب خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق کم آمدنی والے گھرانے اپنی آمدنی کا 35 سے 50 فیصد حصہ صرف خوراک پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ خوراک کی شدید قلت یا اس سے ملتے جلتے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ان خاندانوں کے لیے بڑے معاشی بحران کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی یہ صورتحال پورے خطے کے اعداد و شمار پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ یہ واحد خطہ ہے جہاں غربت کی شرح کورونا کے بعد سے اب تک معمول پر نہیں آ سکی اور اس میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ معاشی مشکلات کے باعث لوگوں کی قوت خرید میں کمی آئی ہے، جس سے نجی شعبے اور روزگار کی فراہمی کے عمل پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ صنعتی پیداوار میں کمی بھی ایک اہم چیلنج ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">پاکستان کی معیشت کو درپیش ان چیلنجز کے باوجود حکومتی سطح پر معاشی استحکام کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر معاشی اصلاحات کا عمل جاری ہے تاکہ مہنگائی کی شرح کو قابو میں لایا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کی یہ رپورٹ پالیسی سازوں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ غربت کے خاتمے اور معاشی بحالی کے لیے مزید ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے معاشی پالیسیوں میں توازن لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%ba%d8%b1%d8%a8%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%b4%d8%b1%d8%ad-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%d9%88%d8%a8%d8%a7-%d8%b3%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کراچی: گڈز ٹرانسپورٹرز اور کے پی ٹی کے درمیان اہم معاملات پر اتفاق</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%af%da%88%d8%b2-%d9%b9%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9%d8%b1%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%92/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%af%da%88%d8%b2-%d9%b9%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9%d8%b1%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 17:57:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[تجارتی_سرگرمیاں]]></category>
		<category><![CDATA[ٹرانسپورٹرز]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سونا]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<category><![CDATA[کارگو]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%af%da%88%d8%b2-%d9%b9%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9%d8%b1%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%92/</guid>

					<description><![CDATA[کراچی پورٹ ٹرسٹ اور گڈز ٹرانسپورٹ رہنماؤں کے درمیان ہفتہ وار تعطیلات پر اضافی چارجز نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">کراچی میں گڈز ٹرانسپورٹ کے نمائندوں اور کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کے اعلیٰ حکام کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں کارگو ٹرانسپورٹ کے نرخوں اور آپریشنل امور پر اتفاق رائے پایا گیا ہے۔ اس پیش رفت سے بندرگاہی سرگرمیوں میں بہتری کی توقع ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملاقات کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ ہفتہ اور اتوار کی ہفتہ وار تعطیلات کے دوران کارگو ٹرانسپورٹ پر کسی قسم کے اضافی چارجز وصول نہیں کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد تجارتی سرگرمیوں کو بلا تعطل جاری رکھنا اور ٹرانسپورٹرز کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">گڈز ٹرانسپورٹ کے وفد کی قیادت کرنے والے ملک شہزاد اعوان نے چیئرمین کے پی ٹی کو یقین دہانی کرائی کہ ٹرانسپورٹرز تعطیلات کے دوران اضافی فیسوں کے مطالبے سے گریز کریں گے، جس سے پورٹ پر سامان کی ترسیل کے عمل میں شفافیت آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اجلاس میں آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد، پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس اور سندھ گڈز ٹرک ٹریلر ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے بندرگاہی آپریشنز کو مزید بہتر بنانے اور باہمی رابطہ کاری کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">چیئرمین کے پی ٹی نے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو درپیش چیلنجز پر غور کرنے کے لیے نومبر میں ایک خصوصی سیمینار منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقین کو اس سیمینار میں شرکت کی دعوت دی تاکہ طویل مدتی پالیسیاں مرتب کی جا سکیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس ملاقات کے نتیجے میں کارگو کی بلاتعطل نقل و حرکت کے لیے ایک نیا لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف ٹرانسپورٹرز کو ریلیف ملے گا بلکہ ملکی برآمدات اور درآمدات کے عمل میں بھی تیزی آئے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">کے پی ٹی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کے ساتھ قریبی تعاون سے معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس طرح کے اقدامات سے بندرگاہ پر رش کم کرنے اور مال برداری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ٹرانسپورٹ رہنماؤں نے کے پی ٹی کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے دکھائی گئی دلچسپی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے مذاکرات کے ذریعے باہمی تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کیا جائے گا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ملک میں لاجسٹکس اور سپلائی چین کے نظام میں گڈز ٹرانسپورٹ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ کراچی پورٹ سے ملک بھر میں سامان کی ترسیل کے لیے یہ شعبہ کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جس کی فعالیت معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت اور متعلقہ ادارے بندرگاہی سہولیات کو عالمی معیار کے مطابق بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس ضمن میں ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو تجارتی سہولت کاری میں معاون ثابت ہوگا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">آئندہ دنوں میں اس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک مانیٹرنگ سسٹم بھی فعال کیا جائے گا۔ اس سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ہفتہ وار تعطیلات کے دوران کسی بھی مقام پر اضافی چارجز وصول نہ کیے جائیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس اہم پیش رفت سے کراچی کے کاروباری حلقوں اور تاجر برادری میں اطمینان پایا جاتا ہے۔ توقع ہے کہ اس فیصلے سے کارگو ٹرانسپورٹ کے نرخوں میں استحکام آئے گا اور تجارتی لاگت میں کمی واقع ہوگی۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%af%da%88%d8%b2-%d9%b9%d8%b1%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%be%d9%88%d8%b1%d9%b9%d8%b1%d8%b2-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%92-%d9%be%db%8c-%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کی اسی فیصد کم آمدن والی آبادی دیہی علاقوں کی مکین ہے، عالمی بینک</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d9%81%db%8c%d8%b5%d8%af-%da%a9%d9%85-%d8%a7-%d9%85%d8%af%d9%86-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%a7/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d9%81%db%8c%d8%b5%d8%af-%da%a9%d9%85-%d8%a7-%d9%85%d8%af%d9%86-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[محمد عمران خان]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 18 Oct 2026 12:57:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[کاروبار]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[اسٹاک_ایکسچینج]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_معیشت]]></category>
		<category><![CDATA[خوراک_کے_اخراجات]]></category>
		<category><![CDATA[دیہی_علاقے]]></category>
		<category><![CDATA[ڈالر]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزگار_کے_مواقع]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی_بینک]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d9%81%db%8c%d8%b5%d8%af-%da%a9%d9%85-%d8%a7-%d9%85%d8%af%d9%86-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%a7/</guid>

					<description><![CDATA[عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ملک کے متوسط اور غریب طبقات اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک نے پاکستان میں غربت اور معاشی صورتحال سے متعلق اپنی ایک نئی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کی کم آمدن والی اسی فیصد آبادی کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دیہی علاقوں میں مقیم اس کم آمدن والی آبادی کو روزمرہ زندگی میں مختلف سماجی اور معاشی خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان علاقوں میں بنیادی سہولیات اور وسائل کی کمی غربت کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھی جاتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان خوراک پر ہونے والے اخراجات میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔ ملک کا متمول اور امیر طبقہ اپنی کل آمدنی کا تقریباً بیس سے تیس فیصد حصہ خوراک پر خرچ کرتا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے برعکس، متوسط اور غریب طبقات کی ایک بہت بڑی تعداد اپنی مجموعی آمدن کا ستر سے اسی فیصد حصہ صرف خوراک کی بنیادی ضروریات کی تکمیل پر خرچ کرنے پر مجبور ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے یہ کم آمدنی والے طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ مہنگائی کی لہر غریب خاندانوں کے لیے غذائی تحفظ کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کی اس رپورٹ کے مطابق اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے دوران مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے میں غربت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">تاہم دو ہزار انیس کے بعد یہ مثبت پیش رفت رک گئی اور کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے نتیجے میں خطے میں غربت کی شرح میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دو ہزار چوبیس کے دوران اس خطے کی چودہ اعشاریہ تین فیصد آبادی یومیہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کر رہی تھی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">بین الاقوامی سطح پر یومیہ تین ڈالر سے کم آمدنی والی آبادی کی شرح دس اعشاریہ چار فیصد ہے، جو خطے کی صورتحال کو زیادہ تشویشناک بناتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے ممالک میں چھبیس اعشاریہ نو فیصد آبادی کی یومیہ آمدنی چار اعشاریہ بیس ڈالر ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دنیا بھر میں چار اعشاریہ بیس ڈالر یومیہ آمدنی والی آبادی کی اوسط شرح اٹھارہ اعشاریہ نو فیصد ہے، جو خطے کے اعداد و شمار سے نمایاں طور پر کم ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عالمی بینک کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ غربت کی شرح سے جڑے یہ منفی معاشی رجحانات دو ہزار چھبیس تک برقرار رہ سکتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">معاشی ماہرین کے مطابق ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور زرعی شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب ملک میں غربت کی شرح میں کمی لانے اور عوام کے وسائلِ آمدن کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">حکومت کا مقصد ان اقدامات کے ذریعے معاشرے کے پسماندہ اور کم آمدنی والے طبقات کی مالی حالت بہتر بنانا اور ان کی آمدنی میں اِضافہ کو یقینی بنانا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/business/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d8%a7%d8%b3%db%8c-%d9%81%db%8c%d8%b5%d8%af-%da%a9%d9%85-%d8%a7-%d9%85%d8%af%d9%86-%d9%88%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کیس: آئی جی اسلام آباد طلب، ایس پی اور ڈی ایس پی کو نوٹس</title>
		<link>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%86%da%be%d9%b9%db%81-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%ac%db%8c/</link>
					<comments>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%86%da%be%d9%b9%db%81-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%ac%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نیوز ڈیسک، ڈیلی پاکستان آن لائن]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Oct 2026 12:58:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ImranLohani]]></category>
		<category><![CDATA[آئی_جی_اسلام_آباد]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_پولیس]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام_آباد_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[انسداد_دہشت_گردی_عدالت]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان_مزاری]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان_خبریں]]></category>
		<category><![CDATA[پولیس_ریکارڈ]]></category>
		<category><![CDATA[پی_تی_آی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈیلی_پاکستان_آن_لائن]]></category>
		<category><![CDATA[روزنامہ_پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[عمران_لوہانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://dailypakistanonline.com/pakistan/%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%86%da%be%d9%b9%db%81-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%ac%db%8c/</guid>

					<description><![CDATA[عدالت نے ریکارڈ پیش نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے۔]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف احتجاج اور کار سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس دوران تفتیشی افسر کی مسلسل غیر حاضری پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے کارروائی کے دوران تفتیشی افسر کے عدالت میں پیش نہ ہونے اور مقدمے کا ریکارڈ پیش نہ کیے جانے کا سخت نوٹس لیا۔ اس سلسلے میں عدالت نے ایس پی انویسٹی گیشن اور ڈی ایس پی کو طلب کرتے ہوئے شوکاز نوٹس جاری کر دیے، جبکہ آئندہ تاریخ پر آئی جی اسلام آباد کو بھی طلب کیا گیا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">مقدمے کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کی۔ سماعت کے آغاز پر جب ملزمان کے وکلا اور سرکاری وکیل کمرہ عدالت میں موجود تھے، تو جج نے استفسار کیا کہ تفتیشی افسر کہاں ہے اور وہ کیوں غائب ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">ناپ کورٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تفتیشی افسر اس وقت گلگت بلتستان کے علاقے خپلو گئے ہوئے ہیں اور تاحال واپس نہیں لوٹے۔ اس جواب پر عدالت نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ پولیس حکام کو فوری طور پر طلب کرنے کا حکم صادر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وائس چیئرمین اسلام آباد بار کونسل آصف عرفان اور دیگر وکلا نے عدالت کے روبرو مؤقف اپنایا کہ ضمانت کی درخواست دائر کیے ہوئے کافی دن گزر چکے ہیں لیکن تفتیشی افسر کی عدم دستیابی اور ریکارڈ پیش نہ ہونے کے باعث معاملہ لٹکا ہوا ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">وکلا نے عدالت کو بتایا کہ اس نوعیت کے مقدمات میں اگر تفتیشی افسر موجود نہ بھی ہو تو کوئی دوسرا ذمہ دار اہلکار ریکارڈ لے کر پیش ہو جاتا ہے، لیکن اس کیس میں جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں جس سے عدالتی نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت میں وقفے کے بعد ایس پی خرم اور ڈی ایس پی نعیم یوسف پیش ہوئے۔ ڈی ایس پی نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر کی واپسی میں مزید دس سے پندرہ دن کا وقت لگ سکتا ہے، جس پر عدالت نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ریمارکس دیے کہ یہ کیا طریقہ کار ہے کہ عدالت کے تمام فریقین اور خود جج صاحب انتظار کرتے رہیں اور تفتیشی افسر چھٹیوں پر یا باہر موجود ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ سماعت تک مقدمے کا مکمل ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو متعلقہ پولیس افسران کے خلاف جیل بھیجنے کی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے واضح کیا کہ پولیس کی اس سستی اور عدم توجہی کی وجہ سے عام شہریوں اور کارکنان کو طویل عرصے تک غیر ضروری قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی تناظر میں عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران گرفتار کیے گئے اور شناخت پریڈ کے لیے جوڈیشل کیے گئے کارکنان کو بھی متعلقہ مقدمات سے ڈسچارج کرنے کا حکم صادر کیا۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">دوسری جانب عدالت نے اس کارروائی کے دوران جموں کشمیر ڈیموکریٹک پارٹی کی چیئرپرسن نبیلہ ارشاد ایڈووکیٹ کی ضمانت پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی۔ وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ اپنے اختیارات کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کرے تاکہ انصاف کی فراہمی میں مزید تاخیر نہ ہو۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف زیرِ سماعت مقدمے کی مزید کارروائی آئندہ ماہ کی تین تاریخ تک کے لیے ملتوی کر دی۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قانون کے مطابق تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے اور آئندہ تاریخ پر آئی جی اسلام آباد کی پیشی لازمی ہوگی تاکہ اس تاخیر کا مؤثر جواب حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">اسلام آباد ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں اس نوعیت کے کیسز کی سماعت کے دوران اکثر پولیس افسران کی عدم حاضری کا مسئلہ سامنے آتا رہا ہے، جس پر وکلا برادری کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق ریکارڈ کی عدم فراہمی سے عدالتی امور بری طرح متاثر ہوتے ہیں اور ملزمان کے آئینی حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں۔</p>
<p class="wp-block-paragraph">عدالتی احکامات کی روشنی میں اب تمام نظریں آئندہ ہونے والی سماعت پر مرکوز ہیں جہاں اسلام آباد پولیس کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ حکام کو اس غفلت کی وضاحت کرنا ہوگی۔ مقدمے میں شامل دفعات اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ہونے والی کارروائی پر بھی قانونی حلقوں کی گہری نظر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://dailypakistanonline.com/courts/%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%d9%85%d8%b2%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d8%a7%d8%af%db%8c-%da%86%da%be%d9%b9%db%81-%da%a9%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%ac%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
